Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
72 - 145
مسئلہ ۱۵۵: مسئولہ محمدحسین ازجودہ پورملک مارواڑہ امام مسجدمحلہ نائکان متصل جونی بال زیرقلعہ بروزچہارشنبہ بتاریخ ۴ذوالقعدہ ۱۳۳۲ھ

السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،۔ ازراہ عنایت مندرجہ ذیل کے استفتاء کاجواب مدلل تحریرفرماکر مشکورکریں۔ چونکہ اس مسئلہ کی اشدضرورت ہے لہٰذابہت ممنون فرمائیں۔

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دخترہندہ کو اپنی زندگی میں کل جائداد منقولہ اورغیرمنقولہ ہبہ کرکے اس کا قبضہ کردیا جواب تک قابض ہے کیونکہ سوائے ہندہ کے اورکوئی اولاد زید کے نہیں ہے، زیدکاانتقال ہوئے قریباً آٹھ دس برس کاعرصہ گزرچکاہے، اب زیدکے ایک چچااورچچیرے بھائیوں نے اس کی اوردخترہندہ پرمکان سکنی کے بابت عدالت میں دعوٰی کیا ہے اورمحض اپنے فائدے کے واسطے خلاف واقعہ اپنے بیان میں یہ لکھایاہے کہ یہ خاندان ہندودھرم شاستری ہے اسی حق بازگشت کاپابندہے، جومسلمان اپنے فائدہ کی غرض سے شرع شریف کے احکامات سے انحراف کرکے ہندوشاسترکاپابند بنے تواس کے واسطے شرع شریف میں کیاحکم ہے؟ مع حوالہ کتب کے جواب دیں۔
الجواب : اپنے دنیوی فائدے مال حرام خلاف شرع ملنے کے لئے اپنے آپ کو برخلاف احکام قرآن مجید ہندودھرم شاسترکاپابندبنانامعاذاﷲ اپنے کفرکااقرارکرنا ہے اوراپنے سارے خاندان کی طرف اسے نسبت کرناسارے خاندان کوکافربناناہے، ایسے لوگوں کو تجدیدِاسلام کاحکم ہے، پھراپنی عورتوں سے نکاح کریں۔
قال اﷲ تعالٰی ومن لم یحکم بماانزل اﷲ فاولٰئک ھم الکٰفرون۔۱؎، والعیاذباﷲ تعالٰی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اورجواﷲ کے اتارے پرحکم نہ کرے وہی لوگ کافرہیں۔ والعیاذباﷲ تعالٰی۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم    ۵/ ۴۴)
مسئلہ ۱۵۶:  بروزیکشنبہ بتاریخ ۱۲محرم ۱۳۳۴ھ

کیاحکم ہے شرع متین کا اس مسئلہ میں، زید نے انتقال کیا، ایک زوجہ، ایک دادی حقیقی کابھائی، ایک والد کی سوتیلی ہمشیرہ کالڑکا یعنی حقیقی دادا کاحقیقی نواسہ اوردو والد کے پھوپھیرے بھائی یعنی دادا کی بہن کے لڑکے۔ ترکہ زید کا اس صورت میں کس طرح تقسیم ہوگا؟ مذکورین کے سوا کوئی غیر وارث نہیں ہے۔
الجواب :صورت مستفسرہ میں حسب شرائط فرائض بعدادائے مہروغیرہ ترکہ چارحصے ہوگا ایک حصہ زوجہ اورتین زیدکی سوتیلی پھوپھی کے پسرکوملیں گے، باپ کاماموں اورباپ کے پھوپھی زاد بھائی اس کے آگے محجوب ہیں کہ وہ خود زید کی پھوپھی کابیٹاہے، توپدرزید کے ماموں، پھوپھی اور ان کی اولاد پرمقدم ہے۔
درمختارمیں ہے:
ثم جزء جدیہ اوجدتیہ وھم الاخوال والخالات ثم عمّات الاباء والامھات واخوالھم وخالاتہم واولادھٰؤلاء۱؎۔ (ملتقطاً)
پھرمیت کے دونوں دادوں (دادا اورنانا) کی جزء یا اس کی دونوں دادیوں (دادی اورنانی) کی جزء جوکہ ماموں اورخالائیں ہیں۔ پھرمیت کے باپوں اورماؤوں کی پھوپھیاں، ان کے ماموں اوران کی خالائیں اوران کی اولادیں ہیں بالالتقاط(ت)
 (۱؎ الدرالمختار    کتاب الفرائض    باب توریث ذوی الارحام    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۶۴۔۳۶۳)
ردالمحتار میں ہے:
حاصلہ انہ اذالم یوجد عمومۃ المیت وخؤولتہ واولادھم انتقل حکمھم المذکور الٰی ھٰؤلاء ثم اولادھم۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس کاخلاصہ یہ ہے کہ جب میت کے چچے، ماموں اوران کی اولادیں موجودنہ ہوں تو مذکورہ بالا حکم ان لوگوں (میّت کے آباء وامّہات کی پھوپیوں، مامؤوں اورخالاؤں) کی طرف پھر ان کی اولاد کی طرف منتقل ہوجاتاہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ ردالمحتار     کتاب الفرائض    باب توریث ذوی الارحام    داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۵۰۸)
مسئلہ ۱۵۷ ، ۱۵۸: مسئولہ حاجی لعل خان صاحب یکم ٖصفر۱۳۳۴ھ بروزپنجشنبہ

تنقیح سوالات حسب بیان مسماۃ جلیسن بی بی وصحیبن بی بی دختران شیخ امیربخش صاحب مرحوم 

سوال۱: جناب والدصاحب مرحوم نے (یعنی شیخ امیرحسن صاحب مرحوم نے) جومال ومتاع منقولہ یاغیرمنقولہ چھوڑکرقضاکرگئے ان میں حصہ نثارحسین کاہوتا ہے یانہیں؟کیاہمارے بھائیوں کوشرعاً جائزہے کہ ہم بہنوں کاحصہ شرعی ہضم کرکے نثارحسین کومساوی یااپنے سے کم وبیش حصہ دے دیں کاش وہ لوگ غلطی سے اگرایسی کارروائی کرگزرے ہوں تو کیایہ غلط تقسیم خلاف شرع اور قابل استردادنہیں ہے؟ اورکیا اس غلط کارروائی سے شرعاً ہم لوگوں کاشرعی حصہ سوخت ہوسکتاہے؟
الجواب : باپ کے مال میں بیٹیوں کاحق بنص قرآن قطعی قرآن ہے جسے کوئی ردنہیں کرسکتا، بیٹوں نے اگر بیٹیوں کوحصہ نہ دیا کل آپ نے لے لیا یابعض کسی غیروارث کودے دیا تویہ ضرورظلم ہے اوروہ تقسیم واجب الرد۔ نثارحسین اس مسئلہ میں محجوب الارث ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
سوال۲: شیخ امیربخش مرحوم نے جس وقت اپنے فرزند اصغرحسین کوجداکیاتجارتی مال میں پانچواں حصہ دیا، اس عملی کارروائی سے صاف معلوم ہوتاہے کہ شیخ صاحب مرحوم کو اپنے فرزند زادہ یعنی نثارحسین کوباوجودمحجوب ہونے کے حصہ دینامنظورتھا ورنہ اصگرحسین کوپانچواں حصہ نہ دیتے بلکہ چوتھائی حصہ دیتے کیونکہ لڑکے چارہی موجودتھے ونیز بعد وفات امیربخش صاحب کے جب نثارحسین کے چچالوگوں نے ترکہ تقسیم کیاتونثارحسین کابھی ایک حصہ اپنے برابر دے دیا، اس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ شیخ امیربخش مرحوم کے ارادہ کو ان کے لڑکوں نے باوجود خودمختار ہونے کے قبول اورمنظورکرلیا۔ اس صورت میں جوحصہ نثارحسین کے قبضہ میں آگیا وہ اس کے شرعاً مالک ہوگئے یانہیں؟
الجواب : وراثت میں نہ نیت واردہ مورث کودخل ہے نہ بعض ورثہ کے عمل کو،
ان اﷲ اعطی کل ذی حق حقہ۱؎
 (بیشک اﷲ تعالٰی نے ہرحقدار کو اس کاحق عطافرمادیاہے۔ت) بہنوں کے حصہ کا نثارحسین بے ان کی اجازت کے کسی طرح مالک نہیں ہوسکتا، اوربھائیوں کے حصہ کی تفصیل وہ ہے جو ابھی گزری۔ واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ کنزالعمال     حدیث ۴۶۰۵۶ و ۴۶۰۵۷    المؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۶/ ۶۱۴)
مسئلہ ۱۵۹: ازضلع کانپورڈاکخانہ موسٰی نگر موضع چاندپور مسئولہ عبدالحق کاشت کارموروثی بتاریخ ۱۷صفرالمظفر۱۳۳۴ھ

بعد مرجانے عورت کے مہرکاروپیہ کس کودیناچاہئے کس کاحق ہوتاہے اوراگرحق تحریر کیاجائے توافضل کون شخص ہوتاہے جس کومہراداکیاجائے؟
الجواب :ؒ مہرمیراث ہے اورمیراث میں افضل وغیرافضل نہیں دیکھے جاتے جس کاجتنا حق حضرت حق عزوجل جلالہ نے مقررفرمادیاوہ اسے دینالازم ہے اور وہ خود اس کے لینے پرمجبورہے
الارث جبری لایسقط بالاسقاط
 (میراث جبری ہے (اختیاری نہیں) لہٰذا ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتی۔ت) وھو تعالٰی اعلم۔
Flag Counter