Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
71 - 145
مسئلہ ۱۵۴:  ازانولہ گھیرانوخاں مرسلہ حاجی اﷲ بخش صاحب ۸ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ہندہ نے انتقال کیا اوراس قدروارث چھوڑے: شوہر، ماں، دوبہنیں، ایک لڑکا، ایک لڑکی۔ اورجومال کہ ہندہ کے پاس تھا اس میں بعض مال توایساتھاکہ اس کوجہیزمیں ملاتھا اوربعض مال اس کوبوقت شادی شوہرکی جانب سے بطورچھڑاوے کے ملاتھا اوربعض مال بعد شادی کے شوہرنے اس کوپہنادیاتھا اوربعض مال انتظام خانگی سے پس انداز کرکے اس نے جمع کیاتھا اب ان اموال مذکورہ سے کون سامال ہندہ کی ملکیت میں شرعاً متحقق ہے اورکون ساہندہ کی ملکیت سے خارج ہے اور درصورت ہندہ کے مالکہ نہ ہونے کے اس مال کاکون مالک ہے اورہندہ کی قوم میں رواج ایسابھی ہے کہ بعد انتقال کے لڑکی والے جہیزاپنا دیاہواجوکہ اس وقت موجودہوتاہے واپس کرلیتے ہیں اورلڑکے والے اپناچڑھاوا موجودلے لیتے ہیں بعد معافی دین مہرکے، اوردَین مہرشوہرپراگرباقی ہے وہ کس کوملناچاہئے، اورجس مال کی ہندہ شرعاً مالکہ ہے اس کی تقسیم وارثوں مذکورہ بالا پرکتنے سہام کے منقسم ہوناچاہئے اورنابالغوں کا  ورثہ باپ کے پاس رہناچاہئے یانانی کے پاس اولٰی مستحق کون ہے اوربچوں کی پرورش وخدمت کا حق کس کے ذمہ ہے اورمیت کی قضانمازوں اورروزوں کاکفارہ کس کے ذمہ ہوناچاہئے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب: جہیز میں عام عرف یہ ہے کہ عورت اس کی مالک ہوتی ہے۔ ردالمحتارباب النفقہ میں ہے:
کل احدیعلم ان الجھازملک المرأۃ وانہ اذا طلقھا تاخذہ کلہ واذا ماتت یورث عنھا۱؎۔
ہرکوئی جانتاہے کہ جہیزعورت کی ملک ہوتاہے، جب خاوند اس کوطلاق دے دے توساراجہیزلے لیتی ہے اورجب وہ مرجائے توبطورمیراث (عورت کے وارثوں میں) تقسیم کیاجاتاہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب النکاح     باب المہر    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۳۶۸)
ہندہ کی قوم میں بھی اگریہی عرف ہے اوربعد موت جہیزموجودکاواپس لینااس گمان پرہے کہ لڑکی کوتاحین حیات اس کامالک کرتے ہیں بعد موت جوباقی رہا ااپنی ملک سجھ کرواپس لیتے ہیں تویہ سخت غلطی ہے جوچیزتاحین حیات کسی کی ملک کرکے اس کے قبضہ میں دے دی گئی وہ اس کا مالک مستقل ہوجاتاہے بعد موت اس کاواپس لیناناممکن وحرام ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
العمری میراث لاھلھا۔ رواہ مسلم۲؎ عن جابر۔
عمرٰی (تاحیات ہبہ) اس کی میراث ہے جس کو وہ دیاگیاہے۔ اس کوامام مسلم نے حضرت جابر سے روایت کیاہے۔(ت)
 (۲؎ صحیح مسلم    کتاب الہبات    باب العمرٰی    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۳۸)
دوسری روایت میں  فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
العمری لمن وھبت لہ۔ رواہ عن جابر وابوداؤد۳؎والنسائی۔
عمرٰی (تاحیات ہبہ) اس کے لئے ہے جس کو ہبہ کیاگیا۔ اس کوامام مسلم نے جابررضی اﷲ عنہ سے نیزابوداؤد اورنسائی نے روایت کیاہے(ت)
 (۳؎صحیح مسلم    کتاب الہبات    باب العمرٰی    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۳۸)

(سنن ابی داؤد    کتاب البیوع    باب العمرٰی    آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۱۴۴)
درمختارمیں ہے:
جازالعمرٰی للمعمرلہ ولورثتہ بعدہ لبطلان الشرط۱؎۔
عمرٰی (تاحیات ہبہ) جائزہے اس کے لئے جس کے لئے ہبہ کیاگیا اور اس کے بعد اس کے وارثوں کے لئے، کیونکہ اس میں شرط باطل ہے۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار    کتاب الہبۃ     فصل فی مسائل متفرقہ    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۱۶۵)
ہاں اگرقوم ہندہ میں یہ رواج ہے کہ جہیزعاریۃً دیاجاتاہے عورت کو اس کامالک نہیں سمجھاجاتا توبیشک وہ مِلک ہندہ نہ ہوگا اورجس نے دیاتھا اس کوواپس ملے گا،
فان العاریۃ مودّاۃ وعلی الید مااخذت حتی تردّھا۲؎۔
عاریت پر لی ہوئی چیزواپس کی جائے گی اورہاتھ کے ذمے ہے جو اس نے لیایہاں تک کہ اس کو لوٹادے۔(ت)
 (۲؎ جامع الترمذی    ابواب البیوع     باب ماجاء ان العاریۃ موداۃ    امین کمپنی دہلی         ۱/ ۱۵۲)
یوں ہی چڑھاوے میں اگر اس قوم کاعرف دلہن کومالک کردیناہے اگرچہ تاحین حیات تو چڑھاوا بھی ہندہ کی ملک ہے ورنہ جس نے چڑھایاتھا اس کاہے
فان العادۃ محکمۃ
 (کیونکہ عادت مستحکم ہے۔ت) بعد شادی جوزیورشوھرنے پہنایاوہ شوہرکی ملک ہے مگریہ کہ صراحۃً یاعرفاً ہندہ کومالک کردینامفہوم ہواہو۔
فی احکام الصغاروالہندیۃ عن الملتقط وفی ردالمحتار عن العلامۃ بیری عن خزانۃ الفتاوٰی اذا دفع لابنہ مالافتصرف فیہ الابن یکون للاب الا اذا دلت دلالۃ التملیک۔۳؎
احکام الصغار اورہندیہ میں ملتقط سے اور ردالمحتار میں علامہ بیری سے بحوالہ خزانۃ الفتاوٰی منقول ہے جب کسی نے اپنے بیٹے کوکچھ مال دیا اوربیٹے نے اس میں تصرف کردیاتووہ باپ کاہی ہوگا سوائے اس کے کہ وہاں کوئی تملیک پردلالت کرنے والی دلیل پائی جائے۔(ت)
 (۳؂احکام الصغار      مسائل الہبۃ    دارالکتب العلمیۃ بیروت    ص۱۷۴)

(الفتاوی الہندیۃ     کتاب الہبۃ    الباب السادس     نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/ ۳۹۲)

(ردالمحتار    کتاب الہبۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۵۰۸)
جومال ہندہ نے خرچ خانگی سے پس اندازکرکے جمع کیا اس کی دوصورتیں ہیں اگرشوہر انتظامات خانگی کے لئے اسے روپیہ دیتاہے جس سے سارے گھرکاخوردونوش ہوتاہے جس میں خودشوہر بھی داخل، اس میں نوکروں کی تنخواہیں وغیرہ بھی شامل۔ جیساکہ غالب رواج یہی ہے جب تو اس مال کامالک شوہرہے اورعورتیں جو اس میں سے خفیہ بچاکرجمع کرلیتی ہیں یہ جائزنہیں، اوراگرشوہر نے نفقہ زن میں کوئی مقدار مثلاً دس بیس یاسودوسوروپے ماہوار مقررکردی ہے کہ وہ خاص عورت کو دی جاتی ہے اس میں سے عورت نے پس اندازکیاتووہ عورت کی ملک ہے۔
درمختارمیں ہے:
وقالوا مابقی من النفقۃ لھا فیقضی باخرٰی۱؎۔
مشائخ نے کہاجونفقہ سے بچ جائے وہ عورت کی ملکیت ہے اورقاضی مزید نفقہ اس کو دلائے گا۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار    کتاب الطلاق     باب النفقہ    مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۲۶۹)
طحاوی میں ہے:
ویتفرع علیہ مالوقررلہا کل یوم مثلا قدرامعینا من الفضۃ فامرتہ بانفاق البعض وارادت ان تمسک الباقی فمقتضی التملیک ان لھا ذٰلک وقدمناہ۲؎۔
اسی پرمتفرع ہے کہ اگرعورت کے لئے یومیہ چاندی کی ایک خاص مقدارمعین کی گئی عورت نے اس میں سے بعض کوخرچ کرنے کاکہا اور ارادہ کیا کہ باقی کو روک رکھے توتملیک کا تقاضایہ ہے کہ وہ ایساکرسکتی ہے اورہم اس کو پہلے ذکرکرچکے ہیں۔(ت)
(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار  کتاب الطلاق باب النفقہ  المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۲/ ۲۶۰)
پس ان سب باتوں سے حسب تفصیل بالاجومال کی ملک ہندہ سمجھاجائے مع مہرہندہ حسب شرائط فرائض سب کے چھتیس سہام ہوکرنوسہم شوہراورچھ سہم مادر اورچودہ پسراورسات دخترکوملیں گے، بہنوں کا کچھ نہیں، نابالغوں کاحصہ ان کے باپ کے قبضہ میں رہے گا، نانی سے کچھ تعلق نہیں، لڑکاسات برس اورلڑکی نوبرس کی عمرتک نانی کے پاس رہیں گے پھرباپ لے لے گا۔ نمازروزوں کے کفارہ کی اگرہندہ نے وصیت کی ہے تووہ قبل تقسیم ترکہ بعدادائے دین اگرذمہ ہندہ تھا تہائی مال تک وجوباً جاری کی جائے گی اوراگروصیت نہ کی تو وہ کسی وارث پرواجب نہیں جو اپنی طرف سے کرے گا ثواب پائے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter