Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
69 - 145
مسئلہ ۱۴۹ تا ۱۵۲ : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ مسماۃ عائشہ بیگم بنت نامدارخاں(زوجہ غلام احمدخاں ساکن بریلی محلہ قلعہ) نے بسبب لاولدہونے کے اپنے حقیقی بھائی وزیرخاں ولدنامدار خاں ساکن بدایون کےبیٹے مولوی یعقوب علی خاں کوبحالت شیرخواری بطور اپنے بیٹے کے پرورش کرکے تعلیم وتربیت میں کماحقہ کوشش کی اورشادی بیاہ وغیرہ کے تمام رسومات مثل اولاد خودانجام دئیے۔ مولوی یعقوب علی خاں کے زوجہ اولٰی سے علی مظفرخاں پیداہوئے، علی مظفرخاں کی ماں کاانتقال ہوگیا جبکہ مولوی یعقوب علی خاں نے دوسری شادی کاقصدکیا تو ان کی پھوپھی مسماۃ عائشہ بیگم نے بنظردوراندیشی اپنی نصف جائداد بنام مولوی یعقوب علی خاں (بلفظ مولوی یعقوب علی خاں خلف غلام احمدخاں) اورنصف جائداد بنام علی مظفرخاں پسرمولوی یعقوب علی خاں منتقل کردی بموجب اس کے سرکاری کاغذات میں عملدرآمدہوکر اس جائداد پرقبضہ مالکانہ مولوی یعقوب علی خاں اور علی مظفرخاں پسرمولوی یعقوب علی خاں کاہوگیا، مولوی یعقوب علی خاں پسرمحمدوزیرخاں اپنے پھوپھا نواب غلام احمدخاں کوبطور اپنے باپ کے مانتے تھے اوراپنے نام کومولوی یعقوب علی خاں خلف نواب غلام احمدخاں جیسا کہ ان کی پھوپھی نے کہلایاتھا تحریرکرتے تھے مولوی یعقو ب علی خاں کی وفات کے بعد ان کی دوبیویاں مسماۃ الطاف بیگم اورمسماۃ نادرالنساء اور ایک لڑکاعلی مظفرخاں باقی تھے۔ علی مظفرخاں اپنی اوراپنے باپ مولوی یعقوب علی خاں کی تمام جائداد کے مالک وقابض ہوگئے۔ مولوی یعقوب علی خاں کی ایک بیوی مسماۃ الطاف بیگم کاانتقال ہوگیا دوسری بیوی مسماۃ نادرالنساء موجودہے۔ علی مظفرخاں پسرمولوی یعقوب علی خاں کے کوئی اولادنہیں ہوئی، علی مظفرخاں نے اپنی زندگی میں اپنی بیوی مسماۃ حسینی بیگم کادین مہراداکردیا۔ اب علی مظفرخاں کاانتقال ہوگیا مسماۃ حسینی بیگم بیوہ علی مظفر خاں کی موجودہے۔ مسماۃ حسینی بیگم بیوہ علی مظفرخاں نے بحق زوجیت اورنواب عبدالقادر خاں نے بدعوٰی اس کے کہ نواب غلام احمدخاں میرے دادا کے بھائی تھے جائداد متروکہ علی مظفرخاں کونصف نصف کرکے آپس میں تقسیم کرلیا اوراپنے اپنے حصوں پرقابض ہوگئے۔
سوال اول: اس صورت میں مولوی یعقوب علی خاں پسر وزیرخاں متصورہوں گے یانواب غلام احمدخاں کے اور(الف) لفظ خلف سے کیامرادہے؟
الجواب: اگریہ بیان صحیح ہے تومولوی یعقوب علی خاں صاحب وزیرخاں کے پسرہیں نواب غلام احمدخاں سے کوئی تعلق نہیں، متبنّٰی بنانے کامسئلہ ہنودکے یہاں ہے شریعت مطہرہ نے اسے باطل فرمادیاہے۔
قال اﷲ تعالٰی ادعوھم لاٰبائھم ھو اقسط عنداﷲ فان لم تعلموا اٰبائھم فاخوانکم فی الدین وموالیکم۱؎۔ وقال اﷲ تعالٰی ماکان محمد ابااحد من رجالکم ولٰکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین ۱؎۔ وقال تعالٰی لکیلا یکون علی المؤمنین حرج فی ازواج ادعیائھم۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایاکہ انہیں ان کے باپ ہی کاکہہ کرپکارو یہ اﷲ تعالٰی کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے پھراگرتمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اوربشریت میں تمہارے چچازاد۔ اوراﷲ تعالٰی نے فرمایا: محمد(صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، ہاں اﷲ تعالٰی کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔ اوراﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ مسلمانوں پرکچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں کی بیویوں میں۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۳۳/ ۵) (۱؎ القرآن الکریم    ۳۳/ ۴۰) (۲؎القرآن الکریم    ۳۳/ ۳۷)
خلف بمعنی جانشین ہے، اوربیٹے کوبھی کہتے ہیں جبکہ اپنے باپ کے بعد رہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
سوال دوم: اگرکوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اپناباپ کہے تووہی شخص اس کااصلی باپ سمجھاجائے گایانہیں؟

الجواب: ہرگزنہیں مگر اس صورت میں کہ یہ شخص مجہول النسب ہو اوربلحاظ عمراس کابیٹاہوسکتاہو اوراسے اپناباپ بتائے اوروہ قبول کرے کہ واقعی یہ میرے نطفہ سے ہے تو وہ اس کااصلی باپ سمجھاجائے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم
سوال سوم: متروکہ علی مظفرخاں کے وارث شرعی خاندان وزیرخاں ساکن بدایوں کے سمجھے جائیں گے یاخاندان نواب غلام احمدخاں ساکن بریلی کے؟

الجواب: جب کہ علی مظفرخاں لاولدتھے اورکوئی بھائی بھتیجابھی نہ تھا توان کے وارث وزیرخاں کے بیٹے پوتے ہوں گے نہ کہ خاندان نواب غلام احمدخاں۔
قال اﷲ تعالٰی واولوالارحام بعضھم اولٰی ببعض فی کتاب اﷲ۳؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اوررشتے والے ایک سے دوسرے زیادہ نزدیک ہیں اﷲ کی کتاب میں۔(ت)
 (۳؎القرآن الکریم   ۸/ ۷۵)
حدیث میں ہے:
الحقواالفرائض باھلھا فما بقی فھو لاولی رجل۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
فرائض اہل فرائض کودو، جوباقی بچے وہ قریبی مرد کے لئے ہے۔ اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری    کتاب الفرائض    باب میراث الولد من ابیہ وامہ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۹۹۷)

(صحیح مسلم        کتاب الفرائض     ۲/ ۳۴    وجامع الترمذی        کتاب الفرائض    ۲/ ۳۱     مسنداحمدبن حنبل    ۱/ ۳۲۵)
سوال چہارم: اگرعلی مظفرعلی خاں پسرمولوی یعقوب علی خاں کے وارث شرعی خاندان وزیرخاں ساکن بدایوں سے متصور ہوں توجائداد متروکہ علی مظفرخاں حسب تفصیل مندرجہ شجرہ آپس میں کس طرح تقسیم ہوگی؟ امیدکہ جواب باصواب بآیات قرآن وحدیث مرفوعہ موافق مذہب حنفیہ مع عبارات وحوالہ کتاب صحیح صحیح طورپرصاف صاف لفظوں میں بمصداق آیہ کریمہ:
ولاتلبسواالحق بالباطل وتکتموا الحق وانتم تعلمون۲؎۔
اور حق سے باطل کونہ ملاؤ اوردیدہ دانستہ حق کو نہ چھپاؤ۔(ت) مرحمت فریایاجائے۔ بیّنواتوجروا۔
 (۲؎ القرآن الکریم     ۲/ ۴۲)
الجواب: سائل نے نہ لکھاکہ علی مظفرخاں کے بعد ان کے پانچوں چچوں میں کوئی زندہ تھایانہیں۔ علی مظفرخاں کے ترکہ سے حسب شرائط فرائض چہارم حسینی بیگم کاہے باقی حسین علی خاں کاہے اگروہ زندہ رہاہو تو سوتیلے چاروں چچوں میں ایک یازائد جتنے علی مظفرخاں کے بعد زندہ رہے ہوں وہ باقی ان سب کابحصہ مساوی ہے اوراگرکوئی زندہ نہ تھا توباقی ان دسوں چچازادبھائیوں کاہے ولایتی بیگم واولاد افرادبیگم کابہرحال کچھ نہیں۔ اسی طرح باقی آٹھوں دختران اعمام علاتی کچھ نہ پائیں گی۔ یہ سب جواب اس تقدیر پرہے کہ سائل نے پوری صحیح بات لکھی ہو، حق نہ چھپایاہو، نہ سچ میں جھوٹ ملایاہو، ورنہ وبال اس پرہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter