فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
68 - 145
مسئلہ ۱۴۵ : ازقصبہ بڑاودہ علاقہ ریاست مالوہ جاورہ مسئولہ محمدیٰسین خاں صاحب ۱۴جمادی الاولٰی ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ہندو تھا اس کے مادراورایک زوجہ دودختران ودوپسران تھے عرصہ چارسال کاہوا کہ زید مذہب ہندو میں بقضائے الٰہی فوت ہویا وراس کی مادر وزوجہ ودو دختران ودوپسران بقیدحیات رہے ، زیدکی زوجہ مسلمان ہوگئی اوردوپسران بھی کہ جن کی عمر ۸ و۴ سال کی ہے ان کوبھی مسلمان کیا اور دو دختران ومادر زید نے اسلام ناقبول کرکے زوجہ زید سے علیحدگی اختیار کی بعدانتقال زید کے زوجہ مال منقولہ وغیرمنقولہ پرقابض ومتصرف رہی اوراب بھی قابض ہے مادر زید نے زوجہ زید کے مسلمان ہوجانے کی وجہ سے عدالت مجازمیں دعوٰی کیاہے کہ مال منقولہ وغیرمنقولہ اوردونوں پسر میرے سپردکئے جائیں کیونکہ زوجہ زیدمسلمان ہوچکی جب کہ زوجہ زیدودونوں پسران مسلمان ہوکر اسلام قبول کرچکے ہیں توایسی حالت میں کیازوجہ زید شوہر کی جائداد سے محروم ہوسکتی ہے اوردونوں پسران جواسلام لاچکے ہیں وہ سپرد زید کی مادرجوہندوہے ہوسکتے ہیں اوران پسران کی پرورش کااب اہل اسلام کوحق ہے یااہل ہنودکو؟ اورکیامسلمان ہونے کے بعد ہندوپسران کے حقدارہوسکتے ہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب : تقریرسوال سے صراحۃً ظاہرہے کہ عورت بعدمرگ زید مسلمان ہوئی ہے اس لئے وہ اور اس کی اولاد ترکہ سے محروم نہیں ہوسکتی اگرچہ اس کے بعد مسلمان ہوگئے،
درمختارمیں ہے :
الکافر یرث بالنسب والسبب کالمسلم۱؎۔
کافرمسلمان کی طرح نسب اورسبب کی وجہ سے وارث ہوتاہے۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الفرائض فصل فی الغرقٰی والحرقٰی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۵)
ردالمحتارمیں ہے :
معلوم انہ حین موت مورث لم یکن مسلما فلم یوجد المانع حین استحقاقہ الارث وانما وجد بعدہ فکان کمن اسلم بعد موت مورثہ الکافر فلم یکن فی الحقیقۃ ارث مسلم من کافر بل ھو ارث کافر من کافر۲؎۔
یہ معلوم ہے کہ وہ مورث کی موت کے وقت مسلمان نہیں تھاتومیراث کامستحق ہونے کے وقت مانع نہیں پایاگیابلکہ بعد میں پایاگیا تو گویا وہ اس شخص کی طرح ہوگیا جوکافرمورث کے مرنے کے بعد مسلمان ہوا، تو یہ درحقیقت مسلمان کاکافر کی میراث پانانہ ہوا بلکہ کافر کاکافر کی میراث پاناہوا۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۸۹)
ماں کے مسلمان ہونے دونوں نابالغ بچے مسلمان ہوگئے، ہدایہ ودرمختاروغیرہما میں ہے:
الولد یتبع خیرالابوین دینا۱؎۔
بچہ والدین میں سے بہتردین والے کے تابع ہوتاہے۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب النکاح باب نکاح الکافر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۱۰)
زید کی ماں یا کسی ہندوکاان میں کچھ حق نہیں، قرآن عظیم میں ہے:
لن یجعل اﷲ للکٰفرین علی المؤمنین سبیلا۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔
اوراﷲ تعالٰی ہرگزکافروں کومومنین پرکوئی راہ نہیں دے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۴ /۱۴۱)
مسئلہ ۱۴۶ : ازریاست رامپور مرسلہ مولوی قاری محمدنورصاحب معرفت مولوی فضل حسن صاحب نائب ایڈیٹر دبدبہ سکندری ۲۹جمادی الآخر۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی زوجہ مسماۃ ہندہ نے وفات کی، وارثان دوپسرایک دخترمادر چھوڑی کچھ عرصہ کے بعد ہندہ سے ہندہ کے پسر خوردنے وفات کی، اس نے اپنے وارثان میں زید مذکور اورنانی اورایک بھائی ایک بہن چھوڑی، بعد گزرنے عرصہ آٹھ سال ہندہ متوفیہ سے ہندہ کی مادر اورہندہ کے پسرمتوفی کی نانی ہوتی تھی وفات پائی اس نے اپناوارث ایک پسریعنی عمروچھوڑا، بعدگزرنے دوسال ہندہ متوفیہ کے زید نے اپناعقدنکاح ثانی بدین مہرپچیس ہزارروپیہ زبیدہ سے کیا اوراسی قدرمہر زوجہ اولٰی ہندہ متوفیہ تھا عرصہ سہ ماہ کاہواکہ زیدنے وفات کی، زوجہ ثانیہ زبیدہ اوردوپسر جوزبیدہ سے ہوئے ہیں چھوڑے، آیاشرعاً ترکہ زیدمکان واثاثہ تقریباً آٹھ سوروپے کی مالیت کا ہے وارثانب ہندہ متوفیہ وپسر ہندہ متوفی ہرایک کوحصہ کس قدرپہنچے گا اورزید کے زوجہ انی یعنی زبیدہ مع ہردوپسران کومتروکہ زیددین مہرمیں کس قدرپہنچے گا تشریحاً وتفصیلاً ارشاد فرمائیے۔ بیّنواتوجروا۔ فقط
الجواب : صورت مستفسرہ میں کہ مہروترکہ سے زائد اوردونوں مہروں کی مقدار مساوی ہے اگرزیدپر کوئی اوردین نہ ہو توکل متروکہ زید دوسواسی سہم ہوکر حسب شرائط فرائض یوں تقسیم ہو :
26_43.jpg
اوراگر زیدپراوردین بھی ہوتو دین مہرزبیدہ پچیس ہزار، اوردین مہرہندہ تیرہ ہزار آٹھ سو اٹھاسی (۱۳۸۸۸) روپیہ چودہ آنے ۲۔ ۳/ ۲ پائی، اوردین جوکچھ ہو ان سب پرمتروکہ زید کوحصہ رسد تقسیم کریں پھرجوحصہ مہرہندہ ہو وارثان ہندہ پر اسی طرح سوحصے ہوکربٹے، ۳۷ برادر اور ۴۲ پسر ۲۱ دخترکو۔ اوربہرحال پسران زبیدہ کہ وارثان ہندہ نہیں اورزبیدہ خود زندہ ہے کچھ نہ پائیں گے۔ یہ مسئلہ وہاں اکثر علمائے زماں کی سمجھ میں سہل آنے کانہیں اگرچہ ہمارے یہاں سے طریقہ مسلوکہ واضح ہے۔ ذراغورکوکام فرمائیں جلدی نہ کریں۔
حدیث میں ہے حضورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :
من استعجل اخطأ ۱؎
جوجلدی کرتاہے خطاء میں پڑتا ہے، والعیاذباﷲ۔ اوراب بھی سمجھ میں نہ آئے توفتاوائے فقیرمیں اس کاایضاح ہے اس کی طرف رجوع لائیں
توضیح اس کی یہ ہے کہ جب ہندہ نے انتقال کیا اس کے وارث شوہر زید اورماں سلمٰی اور وپسربکروخالد اور ایک دخترلیلٰی ہوئے، ربع کہ حق زیدتھا اوپرسے ساقط ہوگیاتوبقیہ کی تقسیم یوں رہی :
26_44.jpg
پھرخالدکا انتقال ہوا اس کاسدس اُم الاُم نے پایا اورباقی زیدنے توسہم خالد کے پانچ سدس زیدپرسے اورساقط ہوگئے، ۱۴کو۶ سے توافق بثلث تھا لہٰذا بقیہ کامسئلہ یوں ہوا :
26_45.jpg
خالدکے ۴۲ سے ۳۵ بحق زیدساقط ہوئے اورسات سلمٰی کوگئے جواس کی موت پراس کے بیٹے عمروکو ملے اور حاصل یہ ہوا :
26_46.jpg
تومسئلہ ہندہ کہ ۱۸۰ سے ہو تو ۱۰۰ سے رہ گیا۱۸۰ /۸۰ یعنی چار تسع بحق زیدساقط ہوئے توپچیس ہزار سے تیرہ ہزار آٹھ سواٹھاسی دوآنے ۲۔۳ /۲ پائی کامطالبہ رہا۔
قنیہ میں ہے :
قال استاذنا سئلت عمن ماتت عن زوج وبنتین واخ لاب وام ولامال لھا سوی مھرعلی زوجھا مائۃ دینارثم مات الزوج ولم یترک الاخمسین دینارا فقلت یقسم بین الابنتین والخ اتساعا بقدرسھامھم لانہ ذکرفی کتاب العین والدین اذاکان علٰی بعض الورثۃ دین من جنس عین الترکۃ یحسب ماعلیہ من الدین کانہ عین ویترک حصتہ علیہ وتترک العین لانصباء غیرہ من الورثۃ فحسبنا علی الزوج من المھر خمسۃ وعشرین دینارا کانہ عین وبقی الخمسون دینارا فی نصیب البنتین والاخ فتکون بینھم علٰی سھامھم من اصل المسئلۃ وقد افتی بہ کثیر من مفتی زماننا انہ یقسم الخمسون بینھم اثلاثا وانہ غلط فاحش۱؎ اھ اقول معنی حسبان ماعلیہ عینا وترک حصتہ علیہ ان یجعل کانہ وجد ھذا بسھمہ فیضرج من البین علی رسم التخارج فتصحح المسئلۃ معہ ثم یسقط سھمہ ویقسم الباقی علی الباقی بقدر سھامھم من اصل التصحیح لاان یجعل کأن لم یکن وتصحح المسئلۃ بدونہ کما فعل اولٰئک وکما غلط مثلہ بعض الکبراء فی مسئلۃ التخارج کما ذکرہ فی الدرالمختار وبہ ظھر ان ماسقط منہ لایورث عنہ لان الساقط غیرمملوک و لامتروک فلاموروث الا ترٰی ان لو ورث الربع من الزوج لکانت المسئلۃ من ۲۴ لکل بنت ۱۱ وللاخ ۲ ولیس ھٰکذا بل ھو من ۹ لکل بنت ۴ وللاخ واحد فھذا ھوالفقہ فی المسئلۃ و باﷲ التوفیق، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
ہمارے استاذ نے فرمایا کہ مجھ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیاگیا جوخاوند، دوبیٹیاں اور ایک حقیقی بھائی چھوڑکرفوت ہوگئی جبکہ سوائے سو دینار کے جوبطورمہراس کے خاوند پرقرض ہیں اس نے کوئی اورشیئ ترکہ میں نہیں چھوڑی، پھر اس کاخاوند صرف پچاس دینارچھوڑ کرمرگیا۔ تومیں نے جواب میں کہاکہ دونوں بیٹیوں اوربھائی پران کے سہام کے مطابق نوحصے بناکرمال کوتقسیم کیاجائے گا کیونکہ کتاب العین والدین میں مذکورہے کہ جب کسی وارث پرترکہ کی جنس سے قرض ہو تو وہ قرض اس کے حصہ میں شمارہوگا گویاکہ وہ عین ہے۔ مقروض وارث کاحصہ اس قرض پرچھوڑدیاجائے گا اورعین دیگر وارثوں کے حصوں کے لئے چھوڑدیاجائے گا چنانچہ ہم نے شوہر پر مہر میں سے پچیس دینار شمارکرلئے گویاکہ وہ عین ہیں اوربیٹیوں اوربھائی کے حصے کے لئے پچاس دینار باقی بچے تووہ اصل مسئلہ میں سے ان کے حصوں کے مطابق ان کے درمیان تقسیم کئے جائیں گے۔ ہمارے زمانے کے بہت سے مفتیوں نے فتوٰی دیاہے کہ پچاس دیناران میں تین حصے بناکر تقسیم کئے جائیں گے حالانکہ یہ فاحش غلطی ہے اھ ، اقول (میں کہتاہوں کہ) وارث پرجوقرض ہے اس کوعین شمارکرنے اورمقروض وارث کے حصہ کواس پرچھوڑنے کامعنٰی یہ ہے کہ اس وارث کے بارے میں یہ فرض کیاجائے گاگویاکہ وہ اپناحصہ لے کرتخارج کے طریقہ پردرمیان سے نکل گیا۔ لہٰذامسئلہ کی تصحیح اس وارث سمیت کی جائے گی پھراس کے حصہ کوتصحیح میں سے ساقط کیاجائے گا اورباقی کوباقی وارثوں پرتقسیم کیاجائے گا ان حصوں کے مطاق جوان کو اصل تصحیح میں سے ملے ہیں یوں نہیں ہے کہ اس وارث کوکالعدم قراردے کر اس کے بغیر مسئلہ کی تصحیح کی جائے جیساکہ ان مفتیوں نے کیااورجیساکہ بعض اکابرنے مسئلہ تخارج میں ایسی ہی غلطی کی ہے جیساکہ درمختارمیں مذکور ہے۔ اسی سے ظاہرہوگیاکہ جوکچھ ساقط ہوجائے اس کاکوئی وارث نہیں ہوتا کیونکہ ساقط نہ تومملوک ہے اورنہ ہی متروک (ترکہ میت) ہے لہٰذا اس کومیراث نہیں بنایاجائے گا۔ کیا تونہیں دیکھتاکہ اگر(صورت مذکورہ میں) خاوند کوچوتھے حصے کاوارث بنایاجاتا تومسئلہ ۲۴ سے بنتاگیارہ گیارہ ہربیٹی کواوردو بھائی ملتے حالانکہ ایسانہیں ہے بلکہ مسئلہ نوسے بناکر چارچار ہربیٹی کو اورایک حصہ بھائی کو دیں گے۔ چنانچہ مسئلہ میں یہی فقہ ہے، اوراﷲ تعالٰی ہی کی طرف سے توفیق ہے۔ واﷲ سبحانہ، وتعالٰی اعلم(ت)
کیافرماتے ہیں علمائے دین اورمفتیان شرع متین کہ ترکہ سسر میں بموجودگی دیگرورثاء بلاواسطہ براہ مستقیم داماد کاکیاحق ہے یانہیں ہے؟بیّنواتوجروا۔
امیدکہ جواب سے بغورملاحظہ بصیغہ بیرنگ مشرف فرمائے۔والسلام
الجواب: داماد یاخسرہونا اصلاً کوئی حق وراثت ثابت نہیں کرسکتا خواہ دیگر ورثاء موجود ہوں یانہ ہوں ہاں اگر اوررشتہ ہے تواس کے ذریعہ سے وراثت ممکن ہے مثلاًداماد بھتیجا ہے خسرچچاہے تواس وجہ سے باہم وراثت ممکن ہے ایک شخص مرے اوردووارث چھوڑے ایک دختراورایک بھتیجا کہ وہی اس کاداماد ہے توداماد بوجہ برادرزادگی نصف مال پائے گا اوراگراجنبی ہے توکل مال دخترکوملے گا داماد کاکچھ نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
متبنّی کرنااوروارث بنانااسلام میں جائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب: متبنّی کرنااسلام میں کچھ اصل نہیں رکھتانہ وہ وارث ہوسکے۔
قال اﷲ تعالٰی ادعوھم لاٰبائھم ھو اقسط عنداﷲ فان لم تعلموا اٰبائھم فاخوانکم فی الدین وموالیکم۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: انہیں ان کے باپ ہی کاکہہ کرپکارویہ اﷲ تعالٰی کے نزدیک ٹھیک ہے پھراگرتمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تودین میں تمہارے بھائی ہیں اوربشریت میں تمہارے چچازاد۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۵)
وارث بنانے کی دوصورتیں ہیں، ایک حقیقۃً، وہ یہ کہ مثلاً کوئی نومسلم عاقل بالغ جس کاکوئی وارث نسبی نہیں اپنے مسلمان کرنے والے خواہ کسی دوسرے شخص سے کہے کہ تومیرامولٰی ہے میں مرجاؤں توتومیراوارث ہو اورمیں جرم کروں توتومیری طرف سے جرمانہ دے اور وہ قبول کرلے تویہ قبول کرنے والا اس کاشرعاً وارث ہوجاتاہے کہ اس کاکوئی رشتہ دار نہ ہوتو یہ اس کاترکہ پاتاہے۔
دوم حکماً وہ یہ کہ زیدکسی کی نسبت اپنے ایسے رشتہ کااقرارکرے جس سے وہ اس مقرکے کسی عزیز کی اولاد قرارپاتا ہوخود اپنی اولاد نہ بتائے مثلاًکہے میرابھائی ہے یابھتیجاہے یاچچاہے یاچچاکابیٹاہے اورجس سے اس کانسب قراردیاہے اس سے نسب ثابت ہوجائے مثلاًبھائی کہااورباپ نے تسلیم کیاکہ واقعی یہ میرابیٹاہے، تووہ حقیقی بھائی ہوگیا اوریہ مقراپنے اس اقرارسے کبھی پھرے نہیں تو اس صورت میں یہ شخص اس مقرکاترکہ پائے گا جبکہ اس کانہ کوئی رشتہ دارہو نہ پہلی صورت کاحقیقی وارث بنایاہوا۔ بس یہ دوصورتیں وارث بنانے کی ہیں اورکوئی نہیں۔
والمسائل مصرح بھا فی الکتاب
(اوران مسائل کی کتاب میں تصریح کردی گئی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم