| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
اس میں کس قدر تطویل ہوئی اور وہ ہی ہوا کہ نصف زوج نصف ماں کا، لہٰذا اول ہی سے بھائی بہنوں تینوں کو کان لم یکن(کالعد) کردیناچاہئے،ہمارے اس بیان سے واضح ہواکہ عام کتابوں میں جو کان لم یکن(کالعدم) کے لئے یہ قید لگائی ہے کہ جو وارث مرا اس کے سب ماورا اس کے وارث ہوں یہ قید ہرگز لازم نہیں اور بعض کتابوں میں جو یہ شرط کی کہ وہ ورثہ سب ایک جنس کے ہوں یہ بھی غلط ہے اس کی بھی حاجت نہیں صرف دوباتیں درکار ہیں ایک یہ کہ وارث کاوارث وارثان مورث کے سوا اورنہ ہو۔ دوسرے یہ کہ تقسیم بدلے نہیں بلکہ حقیقۃً صرف یہی شرط ہے پہلی شرط بھی ہرجگہ لازم نہیں مثلاً مثال ثالث میں ام مری اور اپنی ایک بنت اور وارث چھوڑے کہ وہ ورثہ مورث اول کے سوا ہیں لیکن پھر یہ بنت مری اور ابن الاخ مذکور کے سوا وارث نہ چھوڑا تو حاصل وہی ہواکہ ثمن زوجہ کے بعد باقی سب ابن کا۔مناسخہ یوں ہوگا:
26_37.jpg
مآل وہی رہا یہاں اُم کو کان لم یکن(کالعدم) یوں لکھاجائے گا :
26_38.jpg
(وہ کالعدم ہے کیونکہ اس نے ایک پوتاعمرچھوڑا اور ایک بیٹی چھوڑی جومرگئی اورسوائے ایک بھتیجے عمروکے کوئی وارث نہیں چھوڑا)
یہ تمام بیان ہمارے فتاوٰی میں مشرح ہے اور اس میں صورکان لم یکن(کالعدم کی صورتوں) میں عجیب عجیب تصرفات بدیعہ ہیں کہ اس کے غیرمیں نہ ملیں گے ازانجملہ ایک صورت تشحیذاذہان فرائض دانان کے لئے لکھتے ہیں ۲۷جمادی الآخرہ ۱۳۱۸ھ کوسوال آیاتھا کہ محمدیار نے ایک زوجہ حافظ جان اورپانچ بیٹے نیازعلی، محمدعلی، کلن، محمد حسین، امیرعلی اور چاربیٹیاں احمدی، بی جان، بنی جان، حسین وارث چھوڑے، پھرحافظ جان مری اوریہی بیٹے بیٹیاں وارث رہے، پھرنیازعلی مرا اوریہی بہن بھائی وارث ہوئے۔ پھرمحمدعلی نے ایک زوجہ محبوبن اوردوبیٹے وزیرعلی، احمدعلی چھوڑکرانتقال کیا جن میں محبوبن مری اوریہی دوبیٹے چھوڑے۔ پھر وزیرعلی مرا اوریہی بھائی وارث رہا۔ پھرامیرعلی مرااورباقی دوبھائی اورچاروں بہنیں وارث ہوئیں۔ پھر حسین پھربنی جان نے انتقال کیا اوریہی بقیہ بہن بھائی وارث چھوڑے۔ پھراحمدی نے شوہر وپسرودخترمحمدی چھوڑ کرانتقال کیا پھرشوہر کے وارث یہی بیٹا بیٹی ہوئے۔ پھرپسر کی وارثہ یہی ہمشیرہ محمدی رہی۔ پھرمحمدحسین ایک زوجہ آسودہ اوربیٹاعلی حسین اوربیٹیاں بنی، بتولاچھوڑکرمرگیا۔ پھربی جان مری اورصرف کلن اس کاوارث ہوا۔ پھرکلن نے زوجہ مونگا اوردوابن واحد یا روحامدیاراورایک بنت بسم اﷲ چھوڑ کروفات پائی اس مسئلہ کو جس میں پندرہ میت ہیں صرف پانچ بطن سے تقسیم کیاہے تصحیح اخیر۵۷۶ ہے اوربطن اول یوں بانٹاہے :
26_39.jpg
باقی سب
کان لم یکن(کالعدم)
فرائض دان حضرات اس پرغورفرماکر بتائیں ورنہ فتاوائے فقیر کی طرف رجوع فرمائیں کہ اس میں اس کی توضیح کردی ہے۔
مسئلہ ۱۴۴ : ۱۰/جمادی الاولٰی ۱۳۳۲ھ فرائض میں قوانین وہ رکھے گئے ہیں کہ تقسیم چھوٹے سے چھوٹے عدد ممکن سے ہوہرجگہ اس کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ باوصف اس کے تصحیح اخیرمناسخہ کبھی پھرقابل اختصار ہوجاتی ہے اگرہوجاتی ہے تووہاں خلاصہ عمل کہ آخرمناسخہ میں لکھاجاتاہے کس طرح تحریرکیاجائے۔ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب : ہاں بعض وقت یہ ہوتاہے کہ بطون میں تقسیم مسائل جس طرح کی گئی ان سے کمی ناممکن تھی مگرجب زیرمداحیاء ہرایک کے سہام مقبوضہ جمع کرکے لکھے تو ان میں باہم توافق ہوگیا کہ ہرایک کو ایک عدد کاٹ سکتاہے اس عدد کو مابہ التوافق کہتے ہیں اورفرائض میں حتی الامکان عدد اقل ہی لیاجاتا ہے ولہٰذا ہرنسبت میں مقدم علیہ اعظم اورہرتصحیح میں ذواضعاف اقل کالحاظ رہتا ہے توہر بطن میں کم ازکم دو وارثوں کے سہم میں تباین ضرورہوتاہے جس کے سبب اختصار ناممکن مگرتباین متباین مل کربھی متوافق ہوجاتے ہیں ایسی صورت میں مداحیاء کے بعد ایک مداختصار کھینچے اوراسمائے ورثہ ثبت کرکے ہرایک کے سہم مکتوب مداحیاء اس مابہ التوافق مشترک پرتقسیم کرکے درج کرے یونہی مبلغ کو اوپرتقسیم کرکے یہ مبلغ دوم بالائے مداختصار لکھے اورآخر کی معمولی عبارت جولکھی جاتی ہے کہ جب شرائط فرائض ترکہ فلاں ا تنے سہام پرمنقسم ہوکر ہروارث کو اس قدرسہم کہ بمداحیاء اس کے نام لکھے ہیں ملیں گے اس میں بجائے سہام مخرج بالاسہام مبلغ دوم تحریر کرے اور مداحیاء کے عوض مداختصار کانام لے اس کی مختصر مثال دوہی بطن میں اختصار کی ضرورت ہویہ ہے :
26_40.jpg
ان کودیکھا توتمام اعداد توافق بالثلث رکھتے ہیں لہٰذا مبلغ وسہام سب کوتین پرتقسیم کرکے مداختصار یوں لکھا:
26_41.jpg
حسب شرائط فرائض ترکہ زید کابتیس سہام ہوکر ہروارث کو اس قدرسہم کہ بعدا ختصار اس کے نام لکھے ہیں ملیں گے، واﷲ تعالٰی اعلم۔ حسب شرائط فرائض ایک مجمل لفظ ہے تفصیل یوں لکھتے ہیں برتقدیرصدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات وتقدیم امورمقدمہ علی المیراث مثل ادائے مہر ودیگر دیون وانفاذ وصایا
من ثلث الباقی بعدالدین
(قرض کی ادائیگی کے بعد باقی کے تہائی میں سے وصیتوں کونافذکرنا۔ت) ترکہ زیدکا الخ اوراس کا اختصاریہ ہے برتقدیرعدم مانع ارث ووارث آخر وصحت ترتیب اموات وتقدیم مہرودیون ووصایا ترکہ الخ ذکرتجہیز وتکفین کی اس لئے حاجت نہیں کہ سوال غالباً بعد تجہیزوتکفین ہوتاہے تو اس کی تقدیم خودہولی، اوراگر وہ ترکہ پرقرض لے کرکی گئی ہے تودیون میں آگئی مہرکاذکراس وقت چاہئے جب اصل مورث خواہ مناسخہ میں کسی میت نے زوجہ یا زوجات چھوڑی ہوں جیساکہ صحت ترتیب کی قیدصرف مناسخہ میں ہے نہ کہ بطن واحد میں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔