Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
66 - 145
مسئلہ ۱۴۳  :   ۱۰/جمادی الاولٰی ۱۳۳۲ھ

کسی وارث کے
کان لم یکن (کالعدم)
کرنے کی مثالیں ارشاد ہوں جن سے اس کے مواقع پر روشنی پڑے۔بیّنواتوجروا۔
الجواب : پہلی مثال : زیدتین بھائی حقیقی یاتینوں علاتی چھوڑکر مرگیاپھر ان میں ایک بھائی نے قبل تقسیم ترکہ یہ ہی دوبھائی اپنے وارث چھوڑ کرانتقال کیا اس صورت میں اس میت دوم کو
کان لم یکن (کالعدم)
کرکے مسئلہ صرف دو سے تقسیم کردیں گے اس شکل پر :
26_33.jpg
اس کی صورت یہ ہے کہ زیدنے ایک زوجہ اورماں اورایک حقیقی بھائی چھوڑ کرانتقال کیا پھر قبل تقسیم ترکہ اس بھائی نے انتقال کیا اور اس کے وارث یہی ماں رہی توازانجاکہ اس کی موت وحیات سے صورت تقسیم نہیں بدلتی کہ حی مان کردوسرا بطن قائم کریں جب بھی حاصل وہی ہوگا  کہ زوجہ کو ربع اورباقی ماں کو، سدس پہلی میت سے اورباقی دوسری میت سے، اور دوسرے سے
کان لم یکن(کالعدم)
مانیں جب بھی حاصل یہی ہوگا اس لئے کہ زوجہ  اہل رَد سے نہیں اس کا حصہ ربع سے نہ بڑھے گا اورباقی ماں ہی کوملے گا لہٰذا
کان لم یکن(کالعدم)
ہی کرنا اولٰی ہوا۔
پانچویں مثال:
26_34.jpg
اس کی صورت یہ ہے کہ اول ہندہ نے شوہر زید اورماں لیلٰی اورایک بھائی حقیقی عمرو اور دوبہنیں حقیقی سلمٰی، سعاد چھوڑ کر وفات پائی پھر عمرومرا اور اس کے ورثہ یہی ماں اوردونوں بہنیں رہیں پھرسلمٰی مری اور اس کے وارث یہی ماں اوربہن ہوئی پھرسعاد مری اور اس کی وارث صرف ماں رہی، اب اگر اس طریقہ پر مناسخہ کرتے جولوگوں میں رائج ہے تو اس کی صورت یہ ہوتی :
26_35.jpg
Flag Counter