کرکے مسئلہ صرف دو سے تقسیم کردیں گے اس شکل پر :
اس کی صورت یہ ہے کہ زیدنے ایک زوجہ اورماں اورایک حقیقی بھائی چھوڑ کرانتقال کیا پھر قبل تقسیم ترکہ اس بھائی نے انتقال کیا اور اس کے وارث یہی ماں رہی توازانجاکہ اس کی موت وحیات سے صورت تقسیم نہیں بدلتی کہ حی مان کردوسرا بطن قائم کریں جب بھی حاصل وہی ہوگا کہ زوجہ کو ربع اورباقی ماں کو، سدس پہلی میت سے اورباقی دوسری میت سے، اور دوسرے سے
مانیں جب بھی حاصل یہی ہوگا اس لئے کہ زوجہ اہل رَد سے نہیں اس کا حصہ ربع سے نہ بڑھے گا اورباقی ماں ہی کوملے گا لہٰذا
اس کی صورت یہ ہے کہ اول ہندہ نے شوہر زید اورماں لیلٰی اورایک بھائی حقیقی عمرو اور دوبہنیں حقیقی سلمٰی، سعاد چھوڑ کر وفات پائی پھر عمرومرا اور اس کے ورثہ یہی ماں اوردونوں بہنیں رہیں پھرسلمٰی مری اور اس کے وارث یہی ماں اوربہن ہوئی پھرسعاد مری اور اس کی وارث صرف ماں رہی، اب اگر اس طریقہ پر مناسخہ کرتے جولوگوں میں رائج ہے تو اس کی صورت یہ ہوتی :