Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
65 - 145
مسئلہ ۱۴۰ :    ۵/ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ مسئولہ حکیم ضمیراحمدصاحب ازشاہجہانپور محلہ متالی 

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ زید نے انتقال کی اورکچھ جائداد چھوڑی، زید کے کوئی اولادنہیں ہوئی، زیدنے اپنی زوجہ کامہربھی نہیں اداکیا اور نہ اس بارہ میں کوئی وصیت کی، بعدانتقال زید کے اس کی زوجہ ۳۶ سال سے اس کی ملکیت پر قابض ہے، تو اب یہ اس ملک میں بیع وہبہ وغیرہ کاپوراتصرف اپنی مرضی کے موافق کرسکتی ہے یانہیں؟ اوربعد انتقال اس زوجہ زید کے اس کی ملکیت کے وارث اورمالک زیدکے رشتہ دار ہوں گے یازوجہ کے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : مسئلہ بہت کثیر الشقوق والمباحث ہے بقیہ ورثہ کی رضا سے کل متروکہ پربعوض مہرقابض ہوئی، اور  وہ سب عاقل بالغ تھے جب تو بالاتفاق وہ کل متروکہ کی مالک ہوگئی اوراگر  بے ان کی اجازت کے ہے تو اب یہ دیکھنا ہوگاکہ مہرمقدار جائداد سے کم ہے یانہیں، اگرکم ہے تو بے ان کی رضا کے زرمہر کے عوض جائداد بطورخود لے لینااصل مذہب میں جائزنہ ہوگا کہ دین غیرمستغرق مانع ملک ورثہ نہیں ہوتا، اوراگر ان میں بعض نابالغ ہیں تو  ان کی اجازت بھی کافی نہ ہوگی، اوراگرمہر برابر یا زائد ہے تواگرچہ ورثہ کے لئے جائداد میں ملک نہیں مگر ان کوحق استخلاص حاصل ہے
کمانص علیہ فی جامع الفصولین والاصباح وغیرھا
 (جیساکہ جامع الفصولین اوراصباح وغیرہ میں اس پرنص کی گئی ہے۔ت) اور اب وہ مسئلہ وارد ہوگا کہ غیرجنس سے استیفائے حق مثلاً روپے کے عوض اورمال کہ اس سے زائد کی حیثیت کا نہ ہولے لینا جائز ہے یانہیں، ہمارا مذہب عدم جواز ہے اور اب بوجہ فساد زمان متأخرین نے جواز پر فتوٰی دیا
کما ذکرہ فی ردالمحتار
 (جیساکہ ردالمحتارمیں اس کوذکرکیاہے۔ت) پھر یہ بحث پیش آئے گی کہ جائداد سے استیفائے مہرعورت کومطلقاً جائز ہے اگرچہ وہ میت کی وصی ہو
کما فی الخانیۃ
 (جیساکہ خانیہ میں ہے۔ت) مگران سب مباحث سے قطع نظر کرکے جب چھتیس سال گزرگئے اورکوئی مدعی نہ ہوا اور وہ تصرفات مالکانہ رکھتی ہے اور ورثاء دیکھاکئے اورمعترض نہ ہوئے تو اسی پرحمل کیاجائے گا کہ عورت بروجہ صحیح مالک کل جائداد ہے
کما بینہ فی مواضع کثیرۃ من عقود الدریۃ و فصلناہ فی فتاوانا
 (جیساکہ عقود الدریۃکے متعدد مقامات پر اس کو ذکرکیاگیاہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کو تفصیل سے بیان کیاہے۔ت) لہٰذا بعدموت زن وراثت صرف ورثہ زن کوپہنچے گی نہ کہ ورثہ زیدکو۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۱ : مرسلہ احمدخان صاحب صابری قادری ازتلونڈی رائے ڈاک خانہ خاص ضلع لدھیانہ ملک پنجاب ۸ربیع الاول ۱۳۳۲ھ

ایک شخص ایک متوفی کوچھٹی پشت پرملتاہے اورمتوفی اولادنرینہ نہیں رکھتا ہے صرف اولاد دختری ہے اور  وہ شخص جوکہ متوفی کو چھٹی پشت پرملتاہے اپنے حق کو حق دختری پرفائق بیان کرتاہے، آیا وہ شخص غاصب ہے یاکہ نہیں اورامامت کے لائق ہے؟ دوسرے اس کے گھرکاخوردونو ش کیساہے؟ یہ شخص رشیداحمدگنگوہی کامرید اورہمارے گاؤں میں گروہ وہابیہ کذابیہ کاسرغنہ ہے یوں تونام کومولوی کہلاتاہے لیکن مولوی تودرکنار اس میں جاہلوں سے بھی بڑھ کر برے اوصاف ظہورمیں آتے ہیں جوکہ ایک کافروفاسق میں بھی نہیں پائے جاتے۔
الجواب: جوصرف اولاددختری رکھتاہو اس کے بعد اس کی اولاد ذکور میں جومرد کتنے ہی فاصلہ پرجاکے ملتاہو  وہ اس کاعصبہ ہے کہ اصحاب فرائض سے جوباقی بچے اس کا مستحق ہے جبکہ اس سے قریب تر دوسراعصبہ موجود نہ ہو تو یہ شخص کہ مورث سے چھٹی پشت میں ملتاہے ضرور اس کاوارث اورباقی بعدالفروض کامستحق ہوتاہے جبکہ صالح وراثت ہوتا اوراس سے اقرب اور عصبہ نہ ہوتا اس حالت میں اس کادعوٰی استحقاق باطل نہ ہوتا اگرچہ اپناحق حق بنات پر فائق کہنا بہرحال غلط تھا کہ عصبہ کاحق اہل فرائض کے برابربھی نہیں بلکہ متأخر ہے۔
لانہ لیس لہ الاما ابقتہ اصحاب الفرائض حتی لولم یبق شیئاًلم یکن لہ شیئ۔
کیونکہ عصبہ کوسوائے اس کےکچھ نہیں ملتا جو اصحاب فرائض سے باقی بچاہو یہاں تک کہ اگرکچھ باقی نہ بچا تو اس کے لئے کوئی شیئ نہیں ہوگی ۔ (ت) یہ غلطی ایسی نہ تھی جس کے سبب وہ قابل امامت نہ رہتا یاغاصب ٹھہرتا یا اس کے گھر کاخوردونوش ممنوع ہوتا لیکن یہ سب اس صورت میں تھا کہ وہ مسلمان ہوتا، طائفہ گنگوہیہ کی نسبت علمائے حرمین شریفین کافتوٰی ہے کہ وہ کفارمرتدین ہیں اور اسی میں شفائے امام قاضی عیاض وبزازیہ ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہا کتب معتمدہ کے حوالہ سے فرمایاہے :
من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر۱؎۔
جس نے ا س کے عذاب اورکفرمیں شک کیا کافرہوگیا۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار   کتاب الجہاد   باب المرتد    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۳۵۶)

(حسام الحرمین   مکتبہ نبویہ لاہور    ص۱۳)
جوشخص گنگوہی اور اس کے مثال کے کافرہونے میں شک کرے وہ خود کافرہے نہ کہ جو اس کا مرید اوراس کے گروہ کاسرغنہ ہو ایسے مرید کے نیچے کے نطفے ضرور اوپرہوجائیں گے اورمرتد کسی کاوارث نہیں ہوسکتا اور اس کی امامت کے کیا معنی، جو اس کی اس حالت پرآگاہ ہوکر اسے قابل امامت جانے گا اس کی نمازدرکنا ایمان بھی نہ رہے گا
لان من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر۱؎
 (اس لئے کہ جو اس کے عذاب اورکفرمیں شک کرے وہ خود کافر ہے ۔ت)
 (۱؎ حسام الحرمین  مکتبہ نبویہ لاہور    ص۱۳)

(الدالمختار    کتاب الجہاد   باب المرتد    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۳۵۶)
اور ایسے سے میل جول اوراختلاط بلاشبہہ حرام ہے،
قال اﷲ تعالٰی ولاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا : اورظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم    ۱۱ /۱۱۳)
وقال اﷲ تعالٰی واما ینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظّٰلمین۳؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
اوراﷲ تعالٰی نے فرمایا : اورجوکہیں تجھے شیطان بھلادے تویادآنے پرظالموں کے پاس نہ بیٹھ، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۳؎القرآن الکریم ۶/۶۸)
مسئلہ ۱۴۲ : ۱۰/جمادی الاولٰی ۱۳۳۲ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک دادا کے سامنے سب بہن بھائی بالکل محروم ہیں اورصاحبین رضی اﷲ تعالٰی عنہما سگے سوتیلے بہن بھائیوں کو دادا کے ساتھ ترکہ دلاتے ہیں، شریفیہ میں فرمایا:  مفتی کواختیارہے جیساموقع دیکھے فتوٰی دے۔ اس ''موقع'' کی کیاصورت ہے؟بیّنواتوجروا۔
الجواب : مفتٰی بہ امام ہی کاقول ہے رضی اﷲ تعالٰی عنہ مفتی اسی پرفتوی دے، متون نے قول امام ہی اخذکیا اورعامہ ائمہ فتوٰی نے اسی پرفتوٰی دیا صرف مبسوط شمس الائمہ سرخسی سے قول صاحبین پر فتوٰی منقول ہوا اورزاہدی نے مجتبٰی میں کہ تصنیف ومصنف دونوں نامعتبرہیں اورمصنف سراجیہ نے اپنی شرع میں اس کا اتباع کیاتوفتوٰی احق واقعٰی قول امام ہی پر ہے۔ صاحب شریفیہ نے بیان لحاظ موقع نہ لکھانہ اورکسی معتمد کے کلام سے یہاں ایساخیال میں ہے کہ مفتی جیساموقع دیکھے فتوٰی دے بلکہ صاحب شریفیہ رحمہ اﷲ تعالٰی نے صرف اس پربنائے کار کی ہے کہ جب امام ایک طرف اورصاحبین دوسری جانب ہوں تومفتی کو اختیارہے جس طرف چاہے فتوٰی دے مگرتحقیق یہ کہ یہ صرف اس مفتی کے لئے ہے کہ منصب اجتہاد رکھتاہو، مفتی مقلد پرلازم ہے کہ ہمیشہ قول امام پرفتوٰی دے مگریہ کہ ائمہ فتوٰی نے اس کے خلاف پراختلاف کیاہو،
کما فی البحر الرائق ۱؎ وتنویرالابصار والفتاوی الخیریۃ والدرالمختار وغیرھا من معتمدات الاسفار۔
جیسا کہ البحرالرائق، تنویرالابصار، فتاوٰی خیریہ اوردرمختار وغیرہ کتابوں میں ہے۔(ت)
 (۱؎ البحرالرائق     کتاب القضاء    فصل فی التقلید   ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۲ /۷۰۔۲۶۹)

(الفتاوی الخیریۃ    کتاب الشہادات     دارالمعرفۃ بیروت    ۲ /۳۳)

(الدرالمختار    رسم المفتی     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۴)
تویہاں موقع کی بحث ہی فضول ہے نہ یہاں اختلاف موقع کی کوئی وجہ چنداں معقول ہے ہاں کہہ سکتے ہیں اوّلاً اگردادا مفلس اوربھائی غنی ہوں توقول امام پرفتوٰی اولٰی ہے اورعکس ہوتو مقاسمہ۔

ثانیاً بھائیوں میں کوئی فاسق ومسرف ہوکہ اسے مال دینافسق پراعانت کرناہے اوردادا صالح توقول امام پرفتوٰی اولٰی ہے اورعکس تومقاسمہ۔

ثالثاً اگردادا اپنا حصہ لے کر امورخیر واشاعت علم دین میں وقف کردیناچاہتاہے نہ بھائی توقول امام پرفتوٰی اولٰی ہے کہ نفع دین ہے اور عکس ہوتومقاسمہ۔

رابعاً جد جواد وسخی ہے اور اس کامال اکثر امورخیر میں صرف ہوتاہے اوربھائی ایسے نہیں توقول امام پرفتوٰی اولٰی ہے کہ نفع مساکین مسلمین ہے اور عکس ہوتو مقاسمہ مگر ان میں کوئی وجہ ایسی نہیں کہ مذہب مفتٰی بہ سے عدول چاہے عمل ہمیشہ اسی پرہے جومفتٰی بہ ہو۔
واﷲ التوفیق۔واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter