فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
64 - 145
مسئلہ ۱۳۵ : ۸/جمادی الآخرہ ۱۳۳۰ھ
جب زید کی بی بی کاانتقال ہواتو اس کے زیور یعنی جہیزمیں سے اس کی تجہیزوتکفین کی اس واسطے کہ زیدخوددست نگردوسرے کاہے صرفہ میت اورفاتحہ وغیرہ کااس کے جہیز سے کیاگیا، اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ اس کے جہیزواپس کرنے میں یہ صرفہ مجراہویانہیں؟
الجواب : فاتحہ کاصرف اصلاًمجرانہ ہوگا وہ ایک ثواب کی بات ہے جوکرے گا اس کے ذمہ ہوگا اور عورت کا کفن دفن شوہرپرواجب ہے اسے عورت کے ترکہ سے نہیں کرسکتا،
درمختارمیں ہے :
الفتوی علٰی وجوب کفنھا علیہ وان ترکت مالا۔۱؎۔
فتوی اس پر ہے کہ عورت کاکفن اس کے شوہر پرواجب ہے اگرچہ وہ مال چھوڑ کرفوت ہوئی ہو۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۲۱)
ردالمحتار میں ہے:
الواجب علیہ تکفینہا وتجہیزھا الشرعیان من کفن السنۃ اوالکفایۃ وحنوط واجرۃ غسل وحمل و دفن۲؎الخ۔
شوہر پربیوی کی شرعی تجہیزوتکفین واجب ہے چاہے کفن سنت ہویاکفن کفایت۔ خوشبو، غسل کی اجرت، جنازہ اٹھانے کی اجرت اور دفن کی اجرت بھی شوہر پرواجب ہے الخ(ت) تویہ جس قدرشوہرنے صرف کیاہے سب شوہر پرپڑے گا، نصف جہیزتمام وکمال اسے واپس کردینا ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۲؎ ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجنائز داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۵۸۱)
مسئلہ ۱۳۶ : ۱۰/ماہ محرم الحرام ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ ذیل میں، زیدنے عمروکے پاس انتقال کیا اورعمروہی زیدکاکھاتایازیدکوکھلاتارہا، اب زیدنے انتقال کیاتوزیدکے مال کو زید کے وارث پائیں گے یاعمروکودلایاجائے گا؟
الجواب : عمرو کے پاس رہنے یاانتقال کرنے یازیدکاکھانے یازیدکوکھلانے سے نہ عمرو زیدکاوارث ہوگیا نہ زید کے وارث اس کے مال سے محروم ہوگئے،
ان اﷲ اعطی کل ذی حق حقہ۳؎۔
بیشک اﷲ تعالٰی نے ہرحقدار کو اس کاحق عطافرمادیا۔(ت)
ہاں اگرزید عمروکاکھایاکرتا ہو اورحسب قرارداد وہ کھانا اسے بطور قرض دیتاہو تو زید اس مقدار میں عمرو کامدیون ہوگا اورادائے دین تقسیم ترکہ پرمقدم ہے پہلے وہ اورجواور دین ہو اداکرکے باقی میں میراث جاری ہوگی مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ عمروبلاوجہ شرعی زید کی جائدادپرقابض ہ وجائے اسے اپنے دین کامطالبہ پہنچتاہے اگرواقع میں دین ہواوراگرعمرو اس کے پاس یابطور مہمان غرض قرضاً کہلانے کاقراردادنہ تھا توعمرو ایک حبہ کامطالبہ نہیں کرسکتا اورجائداد سے وارثان شرعی کومحروم کرناظلم وغصب ہے
والظلم ظلمات یوم القٰیمۃ۱؎
(اورظلم قیامت کے دن تاریکیوں کاباعث بنے گا۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۷ : ازکانپور چوک صرافہ بردکان محمدعمر محمدقمرسوداگر مسئولہ عبدالکریم صاحب ۱۹صفر۱۳۳۱ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ خاندان طوائف میں جولڑکے کے نکاح پربیوی اس کو اس کی والدہ اور والد اور ماموں وغیرہ کاحق متروکہ میں ملے گا یا خالد کی لڑکی کے لڑکے کوبوجہ کمائی پیشہ طوائفی کے حق ملے گاخلاصہ یہ کہ خاندان طوائف میں نکاح کرنے سے حق زائل ہوجاتا ہے یاشرع شریف کے مطابق حق ملتاہے بیّنواتوجروا (بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب : نکاح کرنے سے حق زائل نہیں ہوتا ہے خصوصاً اس فرقہ کانکاح کہ وہ توگناہ عظیم سے توبہ ہے مگرطوائف کے لئے بے نکاحی اولاد صرف اپنی ماں اورمادری رشتہ والوں کاحصہ پائیں گے شرعاً اس کے لئے کوئی باپ نہیں کہ اس سے یاپدری رشتہ والوں سے حصہ پائیں۔ واﷲ تعالٰی تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۸ : ازاحمدآباد گجرات مرسلہ مولوی علاؤالدین صاحب زیدمجدہ ۵ ربیع الآخر۱۳۳۱ھ
اس ملک گجرات میں ایک قوم ہے جومیمن وبورے کرکے مشہورہیں ان میں بعض لوگ ایسے ہیں کہ وہ اپنے مال متروکہ سے اپنی لڑکی کو محروم رکھتے ہیں اور جس قدرمال واسباب ہوتاہے وہ کل لڑکوں کاحصہ مقررکرکے جاتے ہیں بلکہ وہ لوگ ہوں کہتے ہیں، اورسرکاری دفتروں میں دستخط کرچکے ہیں کہ ہم ہنودلوگوں کے طریق میراث تقسیم کرنے میں راضی ہیں اسلام وشریعت کے موافق راضی نہیں ہیں وہ لوگ لڑکیوں کومیراث نہیں دیتے ہیں کل مال لڑکے کودیتے ہیں اور وہ لوگ مسلمان ہیں حج وزکوٰۃ ونماز وروزہ ودیگرکل احکام کوحق جانتے ہیں اورمانتے ہیں ان کاکیاحکم ہے؟
الجواب : لڑکیوں کوحصہ نہ دینا حرام قطعی ہے اور قرآن مجید کی صریح مخالفت ہے۔
قال اﷲ تعالٰی یوصیکم اﷲ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین۱؎۔
اﷲ تعالٰی کافرمان ہے : اﷲ تعالٰی تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ بیٹے کاحصہ دوبیٹیوں کے برابرہے۔(ت)
(۱؎ ۱لقرآن الکریم ۴ /۱۱)
ابن ماجہ وغیرہ کی حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من فرمن میراثہ وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ۲؎۔
جواپنے وارث کومیراث پہنچنے سے بھاگے گا اﷲ تعالٰی جنت سے اس کی میراث قطع فرمادے گا۔
(۲؎ سنن ابن ماجۃ کتاب الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۹۸)
اورجنہوں نے یہ لفظ کہے یالکھے ہیں کہ وہ رسم ہنود پرراضی ہیں اورحکم شریعت پرراضی نہیں ہوہ نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھیں اوراپنی عورتوں سے نکاح کریں۔
غمزالعیون والبصائر میں ہے :
من استحسن فعلا من افعال الکفار کفر باتفاق المشائخ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جس نے کافروں کے افعال میں سے کسی فعل کو اچھا قراردیا ا سکی تکفیر پرمشائخ کااتفاق ہے واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۹۵)
مسئلہ ۱۳۹ : مسئولہ محمدعبدالحلیم خان صاحب مدرس ومہتمم مدرسہ انجمن ظفرالاسلام ضلع بھنڈارہ ۲۷صفر۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اہلسنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مسلمان حنفی نے اپنی دختر کا نکاح مع کل لوازمات شادی کے کرادیا، بعد چندعرصہ کے داماد شخص مذکور کافوت ہوگیا دخترنے اپنا نکاح ثانی کاارادہ غیرکفو سے کرنے کاکیا، باپ نے دخترمذکور کوکہاکہ میں تمہارا نکاح ثانی کسی عمدہ جگہ کفو میں کرادیتاہوں مگردختر مذکورنے نہیں سنا اورنکاح ثانی غیرکفو میں کرلیا۔ باپ نے ناراض ہوکرلڑکی کوعاق کردیا او کہا کہ اب تجھ سے کوئی واسطہ نہیں رہا، کیونکہ تم نے غیرکفو میں اپنا نکاح بغیرمیری اجازت کے کیا اور تحریر کردیا کہ بعد میرے مرنے کے لڑکی کومیرے مال سے کوئی حق نہ دیا جائے اس کاجوحق تھا وہ میں نے شادی کرکے اداکردیا ہے، اب بعد مرنے کے شخص مذکورکی دخترمذکور کومع دیگر ورثاء کے حق ملے گا یانہیں؟بیّنواتوجروا۔
الجواب : اولاد کاعاق ہونا یہ ہے کہ ماں باپ کی ناحق نافرمانی کریں یا انہیں ایذادیں ماں باپ کے عاق کرنے سے کوئی اثرنہیں پیداہوتا عوام کے خیال میں یہ ہے کہ جس طرح عورت کوطلاق دینے سے عورت نکاح سے نکل جاتی ہے یونہی اولاد عاق کئے سے اولاد ہونے سے خارج ہوجاتی ہے یہ محض غلط ہے، نہ اس کے سبب اولاد ترکہ سے محروم ہوسکے، ہاں لڑکی نے باپ کی نافرمانی کی اس سے وہ گنہگار ہوئی، پھراگرغیرکفوکے معنی یہ ہیں کہ جس سے نکاح ہوا وہ مذہب یانسب یاچال چلن یا پیشہ میں ایساکم ہے کہ اس کے ساتھ اس عورت کا نکاح اس کے باپ کے لئے باعث ننگ وعارہو تو وہ نکاح سے سے ہوا ہی نہیں محض باطل ہے اگرقربت ہوگی زناہوگی ان دونوں مردوعورت پرفوراً جداہوجانا لازم ہے بایں ہمہ لڑکی ترکہ سے محروم نہ ہوگی۔