| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
الجواب : وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ یاولدی حفظک اﷲ الٰی یوم الدین وادام بک ظفرالدین اتیت التدقیق واعملتہ وابیت التحقیق واھملتہ اما اولاً فلان الواحد لیس بعدد عندالمحققین وماقررہ اصحابنا رحمھم اﷲ تعالٰی فی انت طالق کم شئت کما فی الفتح وغیرہ فمبنی علی العرف اقول والدلیل القاطع علیہ ان العدد کم والکم عرض یقبل القسمۃ لذاتہ والواحد لیستحیل ان یفرض فیہ شیئ دون شیئ والالتعدد فلم یکن واحدا، وبعبارۃ اخری انما التحلیل الٰی مامنہ الترکیب فلوانفسھم لکان شیئین لاواحدا وبعبارۃ اظھر ودفع للمقال لا انقسام ھنا الا الی الوحدات والوحدۃ لیستحیل ان تصیروحدتین والا لم تکن وحدۃ بل کثرۃ فیلزم الانقلاب فان صارت فماکانت الاوحدتین اخذنا واحدۃ بالاعتبار فکان اثنین لاواحد، وبعبارۃ اخصرما ثم الاوحدات محضۃ فالواحد وحدۃ والاثنان وحدتان وھکذا ولایعقل للوحدۃ بعض اصلا اما الکسورفلیس معنی ۲ /۱ مثلا جزء من جزئ واحد حقیقی بل اعتباری ای واحد من اثنین فرض واحدا کما حققناہ فی رسالۃ الارثما طیقی،
اورتم پربھی سلام، اﷲ تعالٰی کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں اے میرے بیٹے اﷲ تعالٰی آپ کوروزقیامت تک محفوظ رکھے اور آپ کے ذریعے دین کی کامیابی کوہمیشہ رکھے، آپ نے تدقیق کوپیش نظررکھتے ہوئے اس پرعملدآمدکیااورتحقیق سے منہ موڑتے ہوئے ا س کوچھوڑدیا ہے وجہ اول اس لئے کہ محققین کے نزدیک ایک عدد نہیں ہے اور ہمارے اصحاب علیہم الرحمہ نے ''انت طالق کم شئت'' میں جوتقریر کی ہے جیساکہ فتح وغیرہ میں ہے وہ عرف پرمبنی ہے اقول (میں کہتاہوں) اس پردلیل قطعی یہ ہے کہ عدد کم ہے اورکم ایساعرض ہوتاہے جواپنی ذات کے اعتبار سے تقسیم کوقبول کرتاہے جبکہ واحد میں ایک شیئ کوفرض کرنا سوائے دوسری شیئ کے محال ہے ورنہ وہ متعدد ہوجائے گا اورواحد نہیں رہے گا۔ دوسری عبارت کے ساتھ یوں کہ شیئ کی تحلیل اس کی طرف ہوتی ہے جس سے وہ شیئ مرکب ہے، اگرواحد منقسم ہوجائے تو وہ دوچیزیں بن جائے گا اورواحدنہیں رہے گا، زیادہ ظاہراورگفتگو کازیادہ دفاع کرنے والی عبارت کے ساتھ یوں کہاجائے گا کہ یہاں منقسم ہونانہیں ہے مگر وحدتوں کی طرف اورایک وحدت کادو وحدتیں ہوجانامحال ہے ورنہ وہ وحدۃ نہیں رہے گی بلکہ کثرۃ بن جائے گی تو اس طرح حقیقتوں میں انقلاب لازم آئے گا، اگروہ وحدت ہوبھی توحقیقت میں دو وحدتیں ہی ہوں گی جن کو ایک وحدت اعتبارکرلیاگیاہے تو وہ دوہوئیں نہ کہ ایک۔ زیادہ مختصر عبارت کے ساتھ یوں کہاجائے گا کہ یہاں تومحض وحدتیں ہیں، چنانچہ واحد ایک وحدت اوراثنان دووحدتیں ہوں گی، اوراسی طرح باقی میں ہوگا۔ اوروحدت کے لئے بعض بالکل متصورنہیں۔ لیکن کسریں توان میں مثال کے طورپر۲ /۱کامعنی یہ نہیں ہے کہ واحد حقیقی کی دوجزؤں میں سے ایک بلکہ واحد اعتباری کی دوجزؤں میں سے ایک یعنی ایسے دومیں سے ایک جن کوایک فرض کیاگیاہے جیساکہ ہم نے اس کی تحقیق رسالہ ارثماطیقی میں کردی ہے۔
وامّا ثانیاً فلان الصفر لایمکن ان یکون حاشیۃ عدد فانہ محض سلب اذھو عبارۃ عن خلو المرتبۃ فلیس معناہ ان ھناک شیئا یسمی صفرا بل معناہ ان لاشیئ ھناک اصلا ولھذا لا اثر لحطہ من عدد ولاضمہ الیہ کما ذکرت ولوکان شیئا لاستحال ان یکون شیئ دون شیئ اوشیئ مع شیئ مساویا لشیئ نفسہ فیتساوی الکل والجزء بل کل الکل وجزء الجز کما لایخفی وبہ تبین وجہ ثالث وھو ان الصفر مع اثنین مثلا لیس مجموع شیئین بل الشیئ وحدہ ومعنی جمع الصفر مع عدد ان لم یجمع معہ شیئ فلیس الواحد نصف مجموع حاشیتیہ بل نصف حاشیۃ واحدۃ وامّا رابعاً فلانہ لوسوغ کون العدم حاشیۃ لکان العدم المضاف الٰی شیئ معین مثل او ۲ وغیرھما اولی بذٰلک فکان الصفر ایضا عدد الان احدی حاشیتیہ واحد والاخری۔ اومجموعھما صفرنصفہ صفر وکونہ مثل المجموع لاینفی کونہ نصفہ لانہ معتبر فی الحساب قطعا الاتری ان نصف ۲۰ = ۱۰ ویکفی لصدق المحدود صدق الحد وان صدق علیہ ماسواہ ایضا وعددیۃ الصفر باطلۃ ببداھۃ العقل لان العددشیئ والصفر لاشیئ،
وجہ دوم اس لئے کہ صفرکاکسی عدد کیلئے حاشیہ (طرف) بننامکن نہیں کیونکہ صفرتو محض نفی ہے اس لئے کہ وہ مرتبہ کے خالی ہونے کانام ہے تواس کایہ معنی نہ ہوگا کہ وہاں کوئی ایسی شیئ موجودہے جس کانام صفر ہے بلکہ معنی یہ ہوگا کہ وہاں بالکل کوئی شیئ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صفر کوکسی عدد سے گھٹائیں یا اس کے ساتھ ملائیں کوئی اثرنہیں ہوتاجیساکہ تونے ذکرکیا ہے۔ اگروہ شیئ ہو تو اس کاایک شیئ ہونا سوائے دوسری شیئ کے اورکسی شیئ کے ساتھ اس طرح شیئ ہوناکہ وہ شیئ خود اس کے مساوی ہوجائے محال ہوگاکیونکہ اس طرح تو کل جزء کے بلکہ کل کاکل جزء کے جزء کے برابرہوجائے گا جیساکہ پوشیدہ نہیں، اور اسی سے وجہ سوم واضح ہوگئی اور وہ یہ ہے کہ صفر کادوکے ساتھ اکٹھاہونا دوچیزوں کامجموعہ نہیں بلکہ ایک ہی چیزہے۔ صفرکے عدد کے ساتھ جمع ہونے کامعنی یہ ہے کہ اس عدد کے ساتھ کوئی شیئ جمع نہیں ہوئی تو اس طرح واحد اپنی دونوں طرفوں کانصف نہ ہوابلکہ ایک طرف کانصف ہوا۔ وجہ چہارم اس لئے کہ اگر عدد کوعدد کاحاشیہ (طرف) قرار دے دیاجائے توکسی معین شیئ کی طرف مضاف ہونے والا عدم بدرجہ اولٰی طرف قرارپائے گا جیسے ۱ اور ۲ وغیرہ تو اس طرح صفر بھی عدد بن جائے گی کیونکہ اس کے ایک طرف واحد اور دوسری طرف ۱(ایک) ہے جن کامجموعہ صفرہے اور اس کانصف بھی صفرہے۔ اس کامجموعے کی مثل ہونا اس کے نصف ہونے کی نفی نہیں کرتا کیونکہ حساب میں یہ قطعی طورپرمعتبرہے۔ کیاتونہیں دیکھتاکہ ۲۰ کا نصف ۱۰ ہے، محدود کے صدق کے لئے حدکاصادق آناکافی ہے اگرچہ اس پرحد کاغیربھی صادق آتاہو اورصفرکاعددہونا بداہت عقل کے ساتھ باطل ہے کیونکہ عددشیئ ہے اورصفرکوئی شیئ نہیں ہے۔
واماخامسا لوتنزلنا عن ھذا کلہ وسلمنا ان الصفر ایضا عدد لعاد التدقیق علٰی مقصودہ بالنقض فان المراد نفی القسمۃ وارجاع الکل الی التوافق والآن یستحیل ذٰلک لان الصفر کلما قیس مع واحد اوشیئ من الاعداد لم یمکن ان یعدھما ثالث فان الصفرلا یعدہ الا الصفروالصفرلایعدالاالصفرفالصفر وکل عدد سواہ متباینان وکل باقیین فیما بینھما متوافقان فوجب التقسم وذھب الانکار ولزم الوقوع فیما عنہ الفرار ھذا، وقولک اما ان یعدھما واحد فمتبائنان اوعدد مثلھما فمتماثلان ماتقول فی واحد مع واحد أھمامتبائنان ومتماثلان معا بل قل ان عدھما مثلھما فتماثل اومثل احدھما فتداخل اولاولا فان کان العادفوق الواحد فتوافق اوواحد فتبائن وھذا ھو معنی التربیع الذی ذکرت سابقا واما ماذکرت انت قبل ھذا فی کتاب منک وسألت عن صحتہ ان العددین ان کان احدھما ھو الآخر بعینہ فتماثل والافینقص الاصغر من الاکبر مرۃ اومرارا من جانب اوجانبین فان انتھی الی التماثل فتداخل او الی واحد فتبائن والا فتوافق ففیہ ان النھایۃ فی التداخل الی النفاد لاالی بقاء مثل الاصغر فلیس ان اربعۃ تسقط من عشرین اربع مرات فتبقی اربعۃ مماثلۃ للاصغر بل تسقط خمس مرات فلایبقی شیئ وذٰلک لانہ یتعرف بالتقسیم واذا قسمنا عشرین علی اربعۃ حصل خمسۃ ومابقی شیئ لاانہ یحصل اربعۃ وتبقی اربعۃ بل النھایۃ فی الکل الی النفاد الاتری انک ذکرت فی الکل العد وماالعد الا الانفاد فنسقط ثلثۃ من خمسۃ یبقی اثنان فنسقطھما من ثلثۃ یبقی واحد نسقطہ من اثنین لایبقی شیئ وھنالک یتحقق العدوان ترک العمل بعد خروج الواحد للعلم بانہ یعد کل شیئ بل قل ان تساویا فتماثل والا فینقص الاصغر من الاکبر فان افناہ فتداخل والایسقط الباقی من الاصغر فان بقی فالباقی من الباقی وھکذا الی ان یحصل النفاد فان کان بواحد فتباین اوبعدد فتوافق ثم لیس حاصلہ الا ماقدمت فی التربیع اما ذکر الاسقاطات فبطریق استخراج النسبۃ الصق۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
وجہ پنجم اگرہم اس سب کچھ سے نیچے اترکرمان لیں کہ صفربھی عدد ہے توتدقیق اپنے مقصود پربطور نقض وارد ہوگی کیونکہ تدقیق سے مقصود توتقسیم کی نفی اور سب کوتوافق کی طرف لوٹاناتھا جواس صورت میں محال ہوجائے گا اس لئے کہ صفرکوجب واحد یاکسی عدد کے ساتھ ملایاجائے توممکن نہیں کہ کوئی تیسرا ان دونوں کوفناکردے، کیونکہ صفرکوصرف صفر ہی فناکرتی ہے اور صفرصرف صفرکوہی فناکرتی ہے لہٰذا صفراورہر وہ عدد جوصفرکے ماسواہے متبائنین ہوں گے۔ ان کے علاوہ ہردوعدد آپس میں متوافقین ہوں گے تو اس طرح تقسیم کا انکار گیا اورتقسیم ضروری ہوگئی اور اسی میں گرنالازم آیا جس سے فرار اختیارکیاتھا۔ اس کویادکرلو۔ اورتمہارا یہ کہناکہ ان دونوں عددوں کویا تو واحد فناکرے گا تو وہ متبائنین ہوں گے یاایساعددفناکرے گا جودونوں کی مثل ہے تو وہ متماثلین ہوں گے تو واحد اور واحد جمع ہونے کی صورت میں توکیاکہے گا، کیاوہ دونوں بیک وقت متبائنین اورمتماثلین ہوں گے؟ بلکہ یوں کہوکہ اگردوعددوں کووہ عددفناکرے جوان دونوں کی مثل ہے توتماثل ہے اوراگر ان میں سے ایک کی مثل ہے توتداخل، اوراگر ایسانہیں یعنی نہ تو وہ دونوں کی مثل ہے اورنہ ان میں سے ایک کی مثل ہے توپھراگرفنا کرنے والا عددایک سے اوپرہے توتوافق، اوراگر ایک توتباین ہوگا۔ یہ معنی ہے چارقسمیں بنانے کا جس کا آپ پہلے ذکر کرچکے ہیں۔ رہا وہ جس کاذکر آپ نے اس سے پہلے اپنے خط میں کیا اور اس کے صحیح ہونے کے بارے میں سوال کیاکہ دوعددوں میں سے ایک اگر بعینہٖ دوسرا ہوتوتماثل، ورنہ اگرچھوٹے عدد کو بڑے سے ایک یاکئی بارکم کرنے سے وہ تماثل تک پہنچ جائے توتداخل، اوراگرایک تک پہنچ جائے توتباین، ورنہ توافق ہے۔ اس میں یہ اعتراض ہے کہ تداخل میں انتہا ختم ہونے پر ہے نہ کہ چھوٹے عدد کی مثل باقی رہنے پر۔ ایسانہیں ہے کہ چارکو بیس میں سے چارمرتبہ ساقط کیاجائے گا تو چارباقی بچے جوچھوٹے عدد کی مثل ہے بلکہ چارکو بیس میں سے پانچ مرتبہ ساقط کیاجائے گا تو اس طرح کچھ بھی باقی نہیں بچے گا کیونکہ یہی تقسیم کی پہچان ہے۔ جب ہم بیس کو چار پرتقسیم کریں تو پانچ حاصل ہوگا اور باقی کچھ نہیں بچے گا۔ ایسانہیں ہے کہ چارحاصل ہو اور چارباقی بچے بلکہ کل میں انتہا اس کے ختم ہونے پرہے۔ کیانہیں دیکھتے کہ آپ نے کل میں عدّکوذکرکیا ہے اورعدّنہیں ہے مگرختم کرنا۔ چنانچہ ہم تین کو پانچ سے ساقط کریں گے باقی دوبچے گا پھردوکوتین سے ساقط کریں گے باقی ایک بچے گا پھردوکوتین سے ساقط کریں گے توباقی کچھ نہیں بچے گا تو وہاں پرعدّ(ختم کرنا) متحقق ہوگا۔ اگرچہ ایک کے نکلنے کے بعد عمل کوچھوڑدیاجاتاہے کیونکہ یہ بات معلوم ہے کہ ایک ہرشیئ کوختم کردیتاہے بلکہ یوں کہوکہ اگردوعدد باہم مساوی ہیں توتماثل ہے ورنہ چھوٹے کو بڑے سے کم کیاجائے گا اگرچھوٹا بڑے کوفناکردے توتداخل اوراگرفنانہ کرے تو باقی کوچھوٹے عدد سے کم کیاجائے گا پھر اگرکچھ باقی بچا تو اس کوباقی سے کم کریں گے اسی طرح کرتے رہیں گے یہاں تک ختم ہونا حاصل ہوجائے۔ اگرختم ہونا واحد سے حاصل ہواتوتباین اوراگرکسی عدد سے حاصل ہواتو افق ہے۔ پھر اس کاحاصل نہیں مگر وہی جومیں چارقسمیں بناتے ہوئے ذکر کرچکاہوں ۔ رہااسقاطات کاذکرتو اس کونسبت کے استخراج کے طورپر ملحق کرلے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)