Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
62 - 145
مسئلہ ۱۳۴ : ازمحل مذکور مرسلہ مولوی ظفرالدین صاحب سلخ جمادی الاولٰی ۱۳۳۰ھ

بحضورپرنور آقائے نعمت دریائے رحمت متع اﷲ المسلمین بطول بقائکم السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،، خادم بارگاہ مع الخیررہ کر خواہان عوافی مزاج اقدس ہیں مع متعلقین کرام ہے تقریر پرتنویر نے شرف ورودفرماکر معزز ومشرف فرمایاقول مبارک بل التحقیق ان لیس ھناک الاقسمان پر ایک بات سمجھ میں آئی گزارش کرتاہوں :
قولہ مدظلہ بل التحقیق ان لیس ھناک الاقسمان، اقول بل فی ظنی ان لاتعددھنا اصلالافی التقسم ولافی الحکم بل شیئ واحد ولہ حکم واحد لان العددین لابد ان یعدھما ثالث والواحد عدد لانہ نصف مجموع حاشیتیہ فان فی اعلاہ اثنین وفی تحتہ صفرمجموعھما اثنان فقط اذلا اثر لحط الصفر من عدد ولالزیادتہ فیہ ونصفھما واحد فامّا ان یعدھما واحد فھما متبائنان اوعدد مثلھما فمتماثلان اومثل الاصغر فمتداخلان اولامثل احد فمتوافقان ویسمی ذٰلک العاد مابہ التوافق والحکم فی الکل الضرب فی الوفق لکن لماکان وفق المتباینین ھما العدد ان بانفسھما فانھما حاصل قسمتھا علی مابہ التوافق ای الواحد لان کل عدد یقسم علٰی واحد یحصل ذٰلک العدد بعینہٖ یضرب کل التصحیح فی کل التصحیح وکل مافی الید فی کل السھم لکل من الورثۃ ولان الوفق فی التماثل من الجانبین وفی التداخل من الاصغر لیس الا واحد او لایظھر اثر الضرب فی واحد لان کل عدد اذا ضرب فی واحد یحصل ذٰلک العدد بنفسہٖ اشتھر عند الناس انہ لایضرب فی التماثل وفی جانب الاصغر من التداخل وفی المتوافقین وفی جہۃ الاکبر من التداخل الضرب بالوفق کما ھو المشھور والعلم بالحق عند العلیم الغفور۔
مصنف مدظلہ، کاقول ''تحقیق یہ ہے کہ یہاں فقط دو ہی قسمیں ہیں'' میں کہتاہوں بلکہ میرے گمان کے مطابق یہاں بالکل تعددنہیں ہے۔ نہ تقسیم میں اورنہ ہی حکم میں بلکہ یہاں ایک ہی چیز ہے اوراس کاایک ہی حکم ہے کیونکہ دوعددوں کے لئے کسی ایسے تیسرے عددکاہونا ضروری ہے جوان کوفناکرے اورایک بھی عدد ہے کیونکہ وہ اپنی دونوں طرفوں کے مجموعے کانصف ہے اس لئے کہ اس کے اوپردواورنیچے صفرہے جن کامجموعہ فقط دوہے کیونکہ صفرکوکسی عدد سے گھٹانے یا اسے کسی عدد میں جمع کرنے سے کوئی اثرنہیں ہوتا، اوردوکانصف ایک ہے، چنانچہ دوعددوں کوفناکرنے والا یاتو ایک ہوگا اس صورت میں وہ متبائنان ہوں گے یاایساعدد ہوگا جوان دونوں عددوں کی مثل ہے۔اس صورت میں وہ متماثلان ہوں گے یاچھوٹے عدد کی مثل ہوگا، اس صورت میں وہ متداخلان ہوں گے یا ان دونوں میں سے کسی کی مثل نہ ہوگا تو اس صورت میں وہ متوافقان ہوں گے۔ اس فناکرنے والے عدد کو مابہ التوافق کہاجاتاہے ان سب صورتوں کاحکم وفق میں ضرب دیناہے لیکن جب متبائنین کاوفق بذات خود وہی دونوں عدد ہیں کیونکہ انہیں جب مابہ التوافق یعنی ایک پرتقسیم کیاجائے توخود وہی حاصل ہوتے ہیں  لہٰذا کل تصحیح کوکل تصحیح کو میں اور کل مافی الید کوہروارث کے کل حصے میں ضرب دی جائے گی۔ اور اس لئے کہ بصورت تماثل دونوں جانبوں میں اور بصورت تداخل چھوٹے عدد کی جانب میں وفق صرف ایک ہی ہوتاہے اورایک ہی ضرب کاکوئی اثرنہیں ہوتاکیونکہ کسی بھی عدد کو جب ایک میں ضرب دی جائے توحاصل ضرب خود وہی عدد ہوتاہے لہٰذا لوگوں میں مشہورہوگیاکہ بصورت تماثل بالکل ضرب نہیں ہوتی اوربصورت تداخل چھوٹے عدد کی جانب ضرب نہیں ہوتی جبکہ بصورت توافق دونوں جانب اور بصورت تداخل بڑے عدد کی جانب وفق میں ضرب دی جاتی ہے جیساکہ مشہورہے اورحق کاعلم اس ذات کے پاس ہے جوعلم والی اورمغفرت فرمانے والی ہے(ت)
اوریہیں سے صورت تربیع کی ایک اورتقریر بھی ظاہرہوئی ،
لان العددین ان عدھما اواحد فتباین اوعدد مثلہما فتماثل او مثل الاصغر فتداخل والا فتوافق، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس لئے کہ دوعددوں کویاتوایک فناکرے گا اس صورت میں ان کے درمیان تباین ہوگا یاایساعدد فناکرے گا جودونوں کی مثل ہے تو یہ تماثل ہوایاوہ چھوٹے عدد کی مثل ہوگا تو یہ تداخل ہوا، اوراگرمذکورہ تینوں صورتیں نہ ہوئیں تو توافق ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) اس کی صحت وسقم سے مطلع فرمایاجائے۔
والسلام بالوف التعظیم ولاکرام
 (آپ پرہزاروں تعظیم وتکریم کے ساتھ سلام ہو۔ت)
Flag Counter