Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
61 - 145
مسئلہ ۱۳۲ : ازشہر مسئولہ جناب سلطان احمدخان صاحب زیدمجدہ، ۴صفرالمظفر۱۳۳۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ آفتاب بیگم کا انتقال ہوا اس کے وارثوں میں ایک حقیقی چچازادبہن مسماۃ عمدہ بیگم کاپوتاوصی احمداورایک علاتی خالہ بنوبیگم اورچاراخیافی بھتیجے جن کے باپ کاانتقال آفتاب بیگم کے سامنے ہوگیاموجودہیں وصی احمد نے تجہیزوتکفین اپنے صرف سے کی اور اس وصی احمد کومتوفیہ نے اس شرط سے اپناوصی بھی کیاکہ بعداخراجات تجہیزوتکفین وفاتحہ ودرود بعد جس قدرروپیہ بچے وہ سب تیراہے اب تقسیم ترکہ ان وارثوں کے مقابلہ میں کیونکر ہوگا اور اخراجات تجہیزوتکفین متروکہ سے نکلے گا یانہیں؟ شجرہ ذیل میں درج ہے۔
26_32.jpg
الجواب : برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم دیون و وصایا آفتاب بیگم کاترکہ چارسہم ہوکر ہراخیافی بھتیجے کو ایک ایک ملے گا اورچچازاد اورخالہ کچھ نہ پائیں گی آفتاب بیگم کی تجہیزوتکفین کہ وصی احمدغیروارث نے اپنے مال سے کی وہ بطوراحسان وسلوک نیک واقع ہوئی اس کامعاوضہ نہ پائے گا کہ وہ نہ وارث ہے نہ وصی ہے اس کہنے سے کہ بعد از ان  مصارف کے جوبچے وہ تیراہے وہ موصی لہ ہوانہ کہ وصی، ہاں اگرآفتاب بیگم نے یوں کہاہوکہ میرے بعد میرے مصارف سے یہ یہ صرف کرنا اور جوبچے تیراہے تو اس صورت میں وہ وصی بھ ہوجائے گا اور اب جوتجہیزوتکفین میں اپنے مال سے صرف کیامجراپائے گا جس قدرکہ اس کے کفن وجہازمثل بقدرسنت میں اٹھایا ہو اس سے زیادہ وصی کو بھی مجرانہ ملے گا۔
درالمختارمیں ہے :
الوصی کفنہ من مال نفسہ اوکفن الوارث المیت من مال نفسہ فانہ یرجع ولایکون متطوعا ۱؎۔
وصی نے اپنے مال سے کفن پہنایا یامیت کے وارث نے اپنے مال سے میت کوکفن دیا تووہ ترکہ میں سے رجوع کرے گا اورمتبرع قرارنہیں پائے گا۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار  کتاب الفرائض   فصل فی شہادۃ الاوصیاء  مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۳۳۹۰)
ردالمحتارمیں ہے:
ای کفن المثل۲؎
 (یعنی کفن مثلی دیا۔ت) بلکہ اگر کفن مثل پرقیمت میں زیا دت فاحشہ کی مثلاً ۸آنے گز کاکپڑا اس کاکفن مثل تھا اس نے بلاوصیت میت روپے گزکالگایا تو کچھ مجرانہ پائے گا۔
 (۲؎ ردالمحتار   کتاب الفرائض  فصل فی شہادۃ الاوصیاء    داراحیاء التراث العربی بیروت  ۵ /۴۵۸)
درمختارمیں ہے :
لوزاد الوصی علٰی کفن مثلہ فی العدد ضمن الزیادۃ وفی القیمۃ وقع الشراء لہ وحینئذ ضمن مادفعہ من مال الیتیم ولوالجیۃ۳؎۔
اگروصی نے میت کے کفن مثلی پر شمار میں زیادتی کی تو وہ زیادتی کاتاوان دے گا اوراگرقیمت میں زیادتی کی توخریداری وصی کی طرف سے واقع ہوگی اوراس وقت وصی پران ثمنوں کاتاوان لازم آئے گا جو اس نے یتیم کے مال سے دئیے،والولجیہ۔(ت)
 (۳؎ الدرالمختار   کتاب الوصایا     باب الوصی     مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۳۳۷)
ردالمحتار میں ہے :
ضمن الزیادۃ الا اذا اوصی بھا وکانت تخرج من الثلث ط، قولہ وقع الشراء لہ لانہ متعد فی الزیادۃ وھی غیرمتمیزۃ فیکون متبرعا بتکفین المیت بہ رحمتی ۱؎۔
وہ زیادتی کاتاوان دے گا مگرجب میت نے اس کی وصیت کی ہو اوروہ ایک تہائی ترکہ سے نکل سکتاہو (توتاوان لازم نہیں ہوگا)(ط) ماتن کاقول کہ خریداری وصی کی طرف سے واقع ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وصی قیمت میں زیادتی کرکے تعدی کرنے والا ہو اس حال میں کہ وہ زیادتی ممتاز اورجدانہیں ہے تو وہ میت کو زیادہ قیمتی کفن پہنانے میں متبرع ٹھہرا، رحمتی۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار     کتاب الوصایا   باب الوصی   داراحیاء التراث العربی بیروت   ۵ /۴۵۴)
رہی وصیت وہ بعدادائے دیون بلااجازت ورثہ تہائی مال میںسے نافذ ہوگی اس ثلث سے جس قدرفاتحہ ودرود بطورجائزومحمود معروف ومعہود میں صرف ہو وہ چاہیں ابھی مساکین پر خرچ کردیاجائے سال بھرکاانتظار ضرورنہیں پھرکچھ باقی بچے تو وہ وصی احمد کاہے ورنہ کچھ نہیں۔
ہندیہ میں ہے :
فی النوازل اوصی بان یتصدق فی عشرۃ ایام فتصدق فی یوم جاز کذا فی الاخلاصۃ۔۲؎
نوازل میں ہے میت نے وصیت کی کہ دس دن صدقہ کیاجائے اوروصی نے ایک ہی دن صدقہ دے دیا توجائز ہے۔ خلاصہ میں یوں ہی ہے۔(ت)
 (۲؎ الفتاوی الھندیۃ  الباب الثامن (مسائل شتی)    نورانی کتب خانہ پشاور    ۶ /۱۳۴)
اسی میں ہے :
فی الجامع مع قال اوصیت بان یتصدق من ثلثی کل سنۃ بمائۃ درھم فالوصی یتصدق بجمیع الثلث فی السنۃ الاولٰی ولایوزع علی السنۃ کذا فی فتاوٰی خانیۃ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جامع میں ہے کہ موصی نے کہا میں نے اپنے تہائی مال سے ہرسال دو درھم صدقہ کرنے کی وصیت کی تو وصی پورے تہائی مال کوپہلے ہی سال صدقہ کردے گا اور اس کوکئی سالوں پرمتفرق نہیں کرے گا، فتاوٰی خانیہ میں یونہی ہے۔(ت)واﷲ تعالٰی اعلم
 (۳؎الفتاوی الھندیۃ     الباب الثامن (مسائل شتی)    نورانی کتب خانہ پشاور    ۶ /۱۳۵)
مسئلہ ۱۳۳ : ازآرہ محلہ تری مطب حکیم عبدالوہاب صاحب مسئولہ مولوی ظفرالدین صاحب زید مجدہ مدرس اول مدرسہ حنفیہ ۱۶جمادی الاولٰی ۱۳۳۰ھ

بشرف ملاحظہ آقائے نعمت دریائے رحمت حضورپرنور متع اﷲ المسلمین بطول بقائہم۔
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،
بدعائے والامع الخیررہ کرخواہان عافیت سرکارکے جملہ خدام ہوں ایک بات دریافت طلب ہے وہ یہ کہ سراجی بیان مناسخہ میں تصحیح مسئلہ اورمافی الید کہ چارنسبتوں میں تین کو بیان کیا اورتداخل کوبالکل چھوڑدیا اگرچہ اس کی وجہ اس کی اظہریت معلوم ہوتی ہے اورصورت اس کی یہی ہوگی کہ اس کی دوصورتیں ہیں یاتصحیح زائدہو اورمافی الید کم یابرعکس، اگراولٰی ہے توجزء تداخل کواوپر کی تصحیح میں ضرب دیں اورورثائے پیشین کے حصوں کو اسی حساب سے زیادہ کردیں اس میت کے ورثاء کے انصباء میں زیادتی کی ضرورت نہیں، اوراگر تسحیح کم اورمافی الید زائد ہے تو جز تداخل کے انصباء وارثین اس میت کوضرب دیں اوپروالوں کے حصوں میں زیادتی نہ ہوگی یا اس کی اورکوئی صورت ہے فرضاً اس کی تقدیر عربی زبان میں تحریر فرمائی جائے توبعیدشان بندہ نوازی سے نہیں۔
الجواب : اعلم ان التداخل لیس الا قسما من التوافق وانما یجعل قسما عندالتفصیل بل التحقیق ان لیس ھٰھنا الاقسمان ولھما حکمان وذٰلک لان العددین ان عدھما ثالث ای عدد ولو مثلا لھما او لاحد ھما والواحد لیس بعدد فمتوافقان والا فمتبائنان ولیسمی ذٰلک الثالث مابہ التوافق وحاصل قسمۃ کل من التوافقین علیہ وفقہ فمن صور التوافق اربعۃ واربعۃ یعدھما اربعۃ وفق کل واحد، وھذا یخص باسم التماثل، ومنھا اربعۃ وثمانیۃ یعدھما اربعۃ  وفق  الاول واحد والثانی اثنان ویخص باسم التداخل، ومنھا اربعۃ وستۃ یعدھما اثنان وفق الاول اثنان والثانی ثلثۃ وھو  التوافق بالمعنی الاخص وحیث ان الوفق فی التماثل لیس الا واحدا ولااثرلضرب شیئ فی واحد فاذا کان فی التصحیح و ما  فی الید تماثل لایحتاج الی الضرب اصلا ولما کان فی التداخل وفق الاصغر واحدا لانہ حاصل قسمۃ الشیئ علٰی نفسہ  ابدا فان کان التصحیح اصغر لم یحتج فی التصحیح العالی والانصباء السابقۃ الی الضرب و ضرب فی انصباء ھذا البطن  بوفق مافی الید الاکبر وان کان مافی الید الاصغر انعکس الحکم وفی صورۃ التوافق الاخص لماکان لکل من المتوافقین وفق فوق الواحد احتیج الی ضربین وھذا ھو التحقیق لان الاقسام انما تعتبر للاحکام وماثم الا حکمان الضرب بکل العدد فی التباین ویوفقہ فی التوافق وان استغنی عنہ عند کون الوفق واحدا کما فی التماثل فی الجانبین و فی التداخل فی جھۃ الاصغر وان شئت ثلثت فقلت العددان ان تساویان فتماثل وان اختلفا فان عدھما ثالث فتوافق والا فتبائن وحکم الاول ان لاضرب والثانی الضرب بالوفق والثالث بالکل، وان شئت ربعت وقلت العددان ان تساویا فتماثل والافان عدالاصغر الاکبر فتداخل والا فان عدھما ثالث فتوافق والا فتبائن وحکم الاول ان لاضرب اصلا والثانی عدم الضرب فی جھۃ الاصغر والضرب بالوفق فی جہۃ الاکبر والثالث الضرب بالوفق فی الجہتین والرابع الضرب بالکل فیھما۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
توجان لےکہ تداخل تومحض ایک قسم ہے توافق کی صرف تفصیل کے وقت اس کو الگ قسم بنادیاجاتاہے بلکہ تحقیق یہ ہے کہ یہاں فقط دو ہی قسمیں ہیں اور ان کے دوحکم ہیں، یہ اس لئے ہے کہ دوعدد دوحال سے خالی نہیں ہوں گے کہ ان دونوں کواگرکوئی تیسرایعنی تیسراعدد فناکردے اگرچہ وہ ان دونوں یا ان میں سے ایک کی مثل ہو اورایک (کاہندسہ) عدد نہیں ہوتا، تو اس صورت میں وہ دونوں عدد متوا فقان کہلاتے ہیں ورنہ (یعنی اگرکوئی تیسرا عدد ان دونوں کوفنانہ کرے تو) تو وہ متبائنان ہوں گے۔ اس تیسرے عدد کو مابہ التوافق(جس کے ذریعے سے باھم موافقت حاصل ہوئی) کہاجاتاہے اورمتوافقین میں سے ہرایک کی مابہ التوافق پرتقسیم سے جوحاصل ہو وہ اس عدد کا وفق ہے۔ توافق کی صورتوں میں سے ایک صورت یہ ہے کہ متوافقین چار اورچارہوں تو ان کوچار فناکرتاہے، چنانچہ ان میں سے ہرایک کاوفق ایک ہوا اوریہ تماثل کے نام کے ساتھ مختص ہے۔ اورایک صورت یہ ہے کہ متوافقین چار اور آٹھ ہوں، ان دونوں کو چارفناکردیتاہے۔ پہلے کاوفق ایک اوردوسرے کادوہے اوریہ تداخل کے نام کے ساتھ مختص ہے۔ ایک صورت یہ ہےکہ متوافقین چاراور چھ ہوں، ان کودوفناکردیتاہے۔ پہلے کاوفق دواوردوسرے کا تین ہے۔  اور یہی توافق بالمعنی الاخص ہے۔ چونکہ تماثل میں وفق سوائے ایک کے نہیں ہوتا اورایک میں کسی شے کوضرب دینے کاکوئی اثرنہیں ہوتا لہٰذا جب تصحیح اورمافی الید (جوکچھ قبضہ میں ہے) میں تماثل ہوتوضرب کی بالکل کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ اورجبکہ تداخل میں چھوٹے عدد ک اوفق ایک ہوتاہے کیونکہ کسی شیئ کواپنے آپ پرتقسیم کرنے سے ہمیشہ ایک ہی حاصل ہوتاہے لہٰذا اگرتصحیح کاعدد (مافی الیدسے) چھوٹاہے تواس کو اوپروالی تصحیح اورپہلے والے وارثوں کے حصوں میں ضرب دینے کی ضرورت نہ ہوگی۔ البتہ اس بطن کے وارثوں کے حصوں کوبڑے مافی الید کے وفق کے ساتھ ضرب دی جائے گی۔ اوراگرمافی الید (تصحیح سے) چھوٹاہواتوحکم اُلٹ جائے گا۔ توافق اخص کی صورت میں چونکہ متوافقین میں سے ہرایک کاوفق ایک سے اوپرہوتاہے لہٰذا دوضربوں کی ضرورت ہوتی ہے اوریہی تحقیق ہے کیونکہ اقسام کا اعتبار احکام کے لئے کیاجاتاہے اوریہاں صرف دوہی حکم ہیں(۱) تباین کی صورت میں کل عدد کے ساتھ ضرب دینا(۲) توافق کی صورت میں عدد کے وفق کے ساتھ ضرب دینا، اگرچہ وفق ایک ہونے کی صورت میں دونوں جانبوں میں ضرب کی ضرورت نہیں ہوتی جیسا کہ تماثل میں ہوتاہے اور تداخل کی صورت میں چھوٹے عدد کی جانب ضرب کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگرتو تین قسمیں بناناچاہے تویوں کہے گا کہ دوعدد اگرآپس میں برابر ہیں توتماثل اوراگرمختلف ہیں پھرتیسرا عدد ان کوفناکردیتاہے توتوافق  ورنہ تباین ہے۔ پہلی قسم کاحکم یہ ہے کہ اس میں کوئی ضرب نہیں ہوگی، دوسری کاحکم وفق میں ضرب اورتیسری کاحکم کل میں ضرب ہے۔ اگر تو چارقسمیں بناناچاہے تویوں کہے گا کہ دوعدد اگرآپس میں برابر ہیں تو تماثل ہے اوراگرایسانہیں تو پھرچھوٹا عدد بڑے کوفناکرتاہے تو تداخل ہے اوراگرنہیں کرتا توپھرکوئی تیسراعدد ان دونوں کوفناکرتاہے یانہیں، اگرکرتاہے توتوافق ورنہ تباین ہے۔ پہلی قسم کاحکم یہ ہے کہ اس میں کوئی ضرب نہ ہوگی۔ دوسری کاحکم یہ ہے کہ چھوٹے عدد کی جانب ضرب نہیں ہوگی اوربڑے کے جانب وفق میں ضرب دی جائے گی۔ تیسری کاحکم یہ ہے کہ دونوں جانبوں میں وفق کے ساتھ ضرب دی جائے گی، اورچوتھی کاحکم یہ ہے کہ دونوں جانبوں میں کل کے ساتھ ضرب دی جائے گی، اور اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت)
Flag Counter