| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
مسئلہ ۱۳۰ : ازدیورہ ڈاکخانہ مئو ضلع گیا مرسلہ شیخ ولایت حسین صاحب ۲۰جمادی الآخرہ ۱۳۲۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیداپنے ورثاء کو محروم الارث کرکے اپنی جائداد موروثی ومتروکی ومحصولی کواپنے بعض ورثاء کودے دیناچاہتاہے۔ آیابموجب حدیث نعمان بن بشیر رضی اﷲتعالٰی زید کایہ فعل ظلم ہوگا اوروہ شخص ظالم اورگنہ گارہوگا یانہیں؟ اورحق تلفی اس شخص نے بعض ورثاء کے مقابل میں کیایانہیں؟
بیّنواتوجروا بالکتاب والسنۃ۔
الجواب : جس وارث کومحروم کرناچاہتاہے اگر وہ فاسق معاذاﷲ بدمذہب ہوتو اسے محروم کرناہی بہتر وافضل ہے۔ خلاصہ ولسان الحکام وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
لوکان ولدہ فاسقا واراد ا ن یصرف مالہ الٰی وجوہ الخیر ویحرمہ عن المیراث ھذا خیرمن ترکہ ۱؎۔
اگر کسی کی اولاد فاسق ہو اور وہ چاہے کہ اپنے مال کو نیکی کے کاموں پرخرچ کرکے فاسق اولاد کومیراث سے محروم کردے تو ایساکرنا فاسق کے لئے مال چھوڑجانے سے بہترہے۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الھندیۃ کتاب الھبۃ الباب السادس فی الھبۃ للصغیر نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۹۱)
بدمذہب بدترین فساق ہے، فاسق میں یہ خوف تھاکہ مال اعمال بد میں خرچ کرے گا، بدمذہب میں یہ اندیشہ کہ اعانت گمراہی وضلالت میں اٹھائے گا یہ اس سے لاکھ درجے بدترہے۔
غنیہ میں ہے:
الفسق من حیث العقیدۃ اشد من الفسق من حیث العمل۲؎۔
عقیدہ کے اعتبارسے فاسق ہوناعمل کے اعتبارسے فاسق ہونے سے بدتر ہے(ت)
(۲؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۴)
اور اگرایسانہیں بعض ورثاء کومحروم کرناضرورظلم ہے جس کے لئے
حدیث صحیح نعمان بن بشیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما لاتشہد فی علٰی جور۱؎
(مجھے ظلم پرگواہ مت بنا۔ت) کافی۔
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الھبات باب کراھیۃ تفضیل بعض الاولاد فی الھبۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۷)
ابن ماجہ کی حدیث میں انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
من فرمن میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ یوم القٰیمۃ۲؎۔ وھو عند الدیلمی عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بلفظ من زوی میراثا عن وراثہ زوی اﷲ عنہ میراثہ من الجنۃ۳؎۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
جواپنے وارث کی میراث سے بھاگے اﷲ تعالٰی روزقیامت جنت سے اس کی میراث قطع فرمادے۔ (یہ حدیث دیلمی کے نزدیک حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ان لفظوں کے ساتھ مروی ہے کہ جس شخص نے اپنے وارث سے میراث کو سمیت دیا اﷲ تعالٰی جنت سے اس کی میراث کو سمیٹ دے۔ت)
واﷲ سبحانہ، وتعالٰی اعلم۔
(۲؎ سنن ابن ماجہ ابواب الفرائض باب الحیف فی الوصیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹۸) (۳؎ الفردوس بمأثورالخطاب حدیث ۵۷۱۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ /۵۴۸)
مسئلہ ۱۳۱ : مرسلہ عبدالحق برادر حاجی عبدالرزاق ازپیلی بھیت محلہ عنایت گنج ۱۷ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ زیدنے بعد وفات تین بیٹے عبدالقدیر، عبدالحفیظ، عبدالبصیر اوروالدہ مسماۃ فاطمہ بی کووارث چھوڑا، زید اپنی حیات میں بہ شراکت عمروتجارت کرتاتھا زید نے بحالت مرض الموت اپنی وفات سے ایک یا دو روز قبل اپنے شریک عمرو سے کہاتینوں پسراپنے تمہارے سپرد کرتاہوں اور زید نے اپنی حیات میں بڑے بیٹے کی شادی کردی تھی عمرونے بعد وفات زید کے تجارت کوبجنسہٖ جاری رکھااس خیال سے کہ پسران زید خورد سال کی پرورش وشادی تجارت سے ہوجائے گی جوبچے گا وہ کام آئے گا۔ چنانچہ بڑے لڑکے کو بجائے زیددکان پربٹھایا ہرسہ پسران کو تجارت مشترکہ سے تنخواہ ماہانہ دیتا رہا وفات زید کے تخمیناً چھ سات سال بعد متروکہ زید سے عمرو نے دوپسران کی شادی کردی ایک ہزار کے قریب صَرف ہوا اورتیرہ سوکے قریب مصارف خوردونوش میں صَرف ہوا پھراکیس سو روپیہ کے قریب اورچارقطعہ مکانات تخمیناً اکیس سو روپے کے جملہ چارہزار روپے کی مالیت بچی جس کو ہرسہ پسران زید نے باہم متساوی تقسیم کرلیا اورمسماۃ فاطمہ بی کو ترکہ زید سے کچھ نہ دیا پسران زیدمتروکہ سے تجارت کرتے رہے، بعد تقسیم متروکہ تین چارسال بعد مسماۃ فاطمہ بی فوت ہوئی اس نے دو وارث ایک لڑکا عبداﷲ ایک دخترسعیدہ کو چھوڑا، آج تک زید کو فوت ہوئے عرصہ تخمیناً بارہ چودہ سال گزراہوگا پسران زید وقت تقسیم کرلینے متروکہ سے اس وقت تک علیحدہ علیحدہ تجارت کرتے رہے ہیں اور اس وقت ہرسہ پسران زید کے پاس تخمیناً بیس ہزارروپے کے ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ ورثاء فاطمہ بی، عبداﷲ وسعیدہ متروکہ زید سے جوکہ ذمہ پسران زید واجب الادا ہے پانے کے مستحق ہیں یانہیں؟ آیا اس وقت جس قدرتعداد مالیت نزد پسران زید جوقریب بیس ہزار کے ہے اس جملہ مالیت سے کیونکہ ترکہ فاطمہ بی کاجوکچھ تھا کچھ نہ دیاگیا تو متروکہ فاطمہ بی بھی اس وقت تک شامل ہے ہرسہ پسران کے حصول میں اور ترقی پارہاہے یا اس تعداد میں جوبیالیس سورپے کی مالیت بعد پرورش وشادی بچی اورباہم پسران زید نے تقسیم کیا ہے اس میں سے پانے کی مستحق ہوگی یا ایک ہزار مصارف شادی اورتیرہ سومصارف خوردونوش جملہ بیالیس سوتقسیم شدہ شامل کرکے کل چھ ہزار پانچ سو روپے ہوئے اس سے پانے کی مستحق ہے۔ جواب مع عبارات چاہئے۔
الجواب : اگرپسران زید مقرہوں کہ یہ تجارت مملوکہ زید تھی اوروقت وفات زید اس کی والدہ فاطمہ زندہ تھی اور اس کو حصہ نہ دیاگیاتووارثان فاطمہ پسران زید سے اس کل مال کاچھٹاحصہ حسب شرائط فرائض پانے کے مستحق ہیں جو وقت وفات زید موجود تھاخواہ مکانات موجود ہوں یامال تجارت یا زرنقد یا اسباب وغیرہ۔ خوردونوش پسران میں جوصرف ہواوہ انہیں کے حصوں پر پڑے گا حصہ فاطمہ کو اس سے تعلق نہیں دوپسران کی شادی میں جو اٹھا وہ انہیں دوپرپڑے گا حصہ فاطمہ سے مجرانہ ہوگا بعد وفات زید تازمان تقسیم وبعد تقسیم تاحال جوکچھ مال میں تجارت کے ترقیاں ہوئیں ان میں بھی فاطمہ کی ملک نہیں جبکہ وہ تجارت عمرو وصی زید وپسران زید بطورخود کرتے رہے اورفاطمہ اس میں شریک نہ ہوئی ہاں جبکہ حصہ فاطمہ اس میں شامل تھا تو اس کے حصہ سے جوترقی ہوئی پسران زید کے لئے ملک خبیث ہے ان کوحلال نہیں کہ وہ اسے اپنے تصرف میں لائیں بلکہ واجب ہے کہ اس قدرمال تصدیق کردیں یاوارثان فاطمہ کو دے دیں اوریہی بہتر وافضل ہے جومکان متروکہ زید نہ تھا بلکہ مال تجارت سے وصی زید یاپسران زید نے خودخریدا اس مکان میں حصہ فاطمہ نہیں بلکہ اس کاحصہ صرف اس قدر کا چھٹاحصہ ہے جوبوقت وفات زید متروکہ زید تھا۔
والمسائل مبینۃ فی الفتاوی العالمگیریۃ والفتاوی الخیریۃ والعقود الدریۃ وغیرھا وقد اوضحناھا فی فتاوانا غیرمرۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ان مسائل کوفتاوٰی عالمگیریہ، فتاوٰی خیریہ اور عقودالدریہ وغیرہ میں بیان کیاگیاہے اورہم نے اپنے فتاوٰی میں کئی بار ان کوواضح کیاہے۔(ت)واﷲ تعالٰی اعلم