| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
(۱۱) فرش وشیشہ آلات ودیگراسباب، منقولہ جوعرس اہل اﷲ کے کارآمد ہوتاہے قابل تبلیغ وراثت ہے یانہیں؟ الجواب : یہ مال اگرملک خاص مورث ہے تقسیم ہوگا اوراگروقف ہے یامریدوں نے اس کام کے لئے لاکردیا اورمورث کومالک نہ کردایاتھا توتقسیم نہ ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱۲) جس مکان کومتعلق خانقاہ، مہمان خانہ یالنگرخانہ موسومل کیاجائے یاجس مکان میں سجادہ نشین رہتے چلے آئے ہوں یاجس مکان میں مہمان عرس کے شریک ہونے والے یاتعلیم ذکرالٰہی پانے والے قیام پذیر ہواکرتے ہوں وہ مکان شرعاً قابل تقسیم ہے یانہیں؟ الجواب : اگرملک مورث ہے تقسیم ہوگا اوراگر اس کاوقف ہونا بہ ثبوت شرعی ثابت ہو تومنقسم نہ ہوسکے گا صرف اتنی بات سے کہ اس کانام مہمان خانہ یالنگرخانہ ہے یااس میں سجادہ نشین رہتے یااشخاص مذکورین قیام کرتے تھے وقف ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱۳) اگرکسی مکان کوخانقاہ کے نام سے موسوم کیاہوتو وہ شرعاً اس بناء پر وقف ہوسکتاہے یانہیں؟ الجواب : نہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱۴) قرآن وحدیث جس سے استخراج فتاوٰی کاہوتاہے اس میں کوئی تفصیل ایسی پائی جاتی ہے کہ احکام طریقت اوراحکام شریعت میں اختلاف یاکچھ تفاوت ہو۔ الجواب : یہ محض جھوٹ ہے اوربددینوں کامذہب ہے، اہل اسلام کے نزدیک جوطریقت شریعت کے خلاف ہومردود ہے۔ حضرت سیدالطائفہ جنیدبغدادی وغیرہ اکابراولیاء رضی اﷲ تعالٰی عنہم فرماتے ہیں : ''
کل حقیقۃ ردتہ الشریعۃ فھی زندقۃ''۱ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
''جس حقیقت کوشریعت رَ د فرمائے وہ بے دینی ودہریت ہے''۔ اﷲ تعالٰی خوب جاننے والاہے۔(ت)
(۱؎ الرسالہ القشیریۃ ومن ذلک الشریعۃ والحقیقۃ مصطفی البابی مصر ص۴۳) (الحدیقۃ الندیۃ الباب الاول الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۱۶۹)
(۱۵) ورثاء کی ناقابلیت ان کوکسی ترکہ مورث سے محروم رکھ سکتی ہے؟ الجواب : وراثت سے محرومی کے صرف چار سبب ہیں کہ وارث غلام ہویامورث کاقاتل یاکافر ہو یادارالحرب میں رہتاہو باقی کوئی ناقابلیت اسے اس کے حق شرعی سے محروم نہ کرے گی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ (۱۶) کیاعورت بوجہ ناقابلیت فطرتی کے کسی ترکہ مورث سے محروم رہ سکتی ہے؟ الجواب : دربارہ حرمان وراثت مردوعورت کا ایک ہی حکم ہے، عورت فطرتی طورپر صرف اس وجہ سے کہ عورت ہے ہرگز قابل محرومی نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۸ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت کاخاص اس کاروپیہ تھا اس کے سواکسی کاایک حبہ نہیں تھا اس کے خاوند (زید) نے اس روپیہ سے ایک مکان اپنے نام خرید کیا اور وہ فوت ہوگیا اوراس کاگوروکفن اس کی بیوی نے سب اپنے پاس سے کیا اورمبلغ ۵۰ روپیہ اس کے خاوند نے مکان پرقرض لئے تھے وہ قرض ادا نہیں ہوئے وہ کس کس کو اداکرناچاہئے اور اس کے خاوند نے اپنی بیوی کوچھوڑا ہے اور دوبیٹی ہیں اور ایک ہمشیرہ اورپانچ بھتیجے ہیں اب کس کس کوپہنچتاہے؟
الجواب : شوہرنے جوقرض لیاتھا وہ زید کے مال سے اداہوگا اس کے بعد وارثوں پرتقسیم ہوگا، اورمکان کہ زید نے اپنی بیوی کے روپے سے اپنے لئے خریدا اس کامالک زیدہوا پھراگر وہ روپیہ بے اجازت عورت سے لے کر دیا تھا یاعورت نے قرضاً دیاتھا تواتنا روپیہ عورت کاذمہ شوہر قرض رہا اوراگرگواہان شرعی سے ثابت ہوکہ عورت نے وہ روپیہ شوہرکو ہبہ کردیاتھا توہبہ ہوگیا اس کامطالبہ نہیں اور گوروکفن جوبیوی نے بقدرسنت کیا اس قدرترکہ میں سے مجرا پائے گی اس سے زائد جوفاتحہ ودرود وغیرہ میں اٹھایا وہ کسی سے مجرانہ ملے گا، بالجملہ جوکچھ اس مکان وغیرہ تمام ترکہ شوہر رپردَین ثابت ہومثلاً عورت کامہر اور وہ پچاس روپیہ اوربقدر سنت گوروکفن کاصرف اورمکان کی قیمت کاروپیہ جب کہ عورت کاشوہر کوہبہ کردینا نہ ہو اور ان کے سوا اورجوکچھ شوہر پردین ہوسب ترکہ سے اداکرکے اگرکچھ بچے توباقی کے تہائی میں شوہرنے اگرکوئی وصیت کی ہونافذ کریں اس کے بعد جوباقی بچے اس کے چوبیس حصہ حسب شرائط فرائض ہوکر تین حصے زوجہ اور آٹھ آٹھ ہربیٹی اورپانچ بہن کوپہنچیں گے اوربھتیجے کچھ نہ پائیں گے۔
واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب۔
مسئلہ ۱۲۹ : ۲۹ذیقعدہ ۱۳۲۷ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نیازاحمد کے دو زوجہ زینب، ننھی، دونوں کا مہر۵۰۰ /۵۰۰، جائداد ۲۰۰ روپے کی۔ پہلی بیوی شوھر سے پہلے مروی جس کے وارث زوج نیازاحمد، باپ جیون بخش، چاردختر، آمنہ، فضلو، نورالنساء، بیگما ۔ ان میں بیگما نے انتقال کیا۔ زوج عبدالرزاق، باپ نیازاحمد، دخترشہربانو وارث چھوڑے، عبدالرزاق کی وارث یہی دخترہی۔ نیازاحمد نے وفات پائی توزوجہ ثانیہ اور اس کے بطن سے ایک پسرنتھو، ایک دخترمتین، اور تین دخترزوجہ اولٰی سے وارث رہے۔ ورثہ سب بالگ ہیں اورمہروں میں مکان دینے پرراضی ہیں اور ان مہروں کے سوا نیازاحمد پرکوئی قرض نہیں۔ اس صورت میں ہروارث کتناپائے گا؟ بیّنواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب : صورت مستفسرہ میں مکان کے پینتالیس حصے کئے جائیں، ازاں جملہ چھبیس حصہ زوجہ ثانیہ ننھی کواس کے مہر میں دے دیں اورانیس حصوں سے چارچار جیون بخش، آمنہ، فضلو، نورالنساء کو اور تین شہربانو کواس لئے کہ جب دونوں زوجہ کومکان نصف نصف ملناچاہئے تھا مگرزوجہ اولٰی کاانتقال شوہر سے پہلے ہواتو اس کے مہر سے ۱۳ /۳ خودنیاز احمد کوپہنچے یعنی اس پرسے ساقط ہوگئے اور۱۳ /۲ جیون بخش اورہرچہار دخترزینب کوملے۔ ان میں سے بیگمامرگئی اور اسے جوپہنچتا تھا اس کاچہارم پھرنیازاحمد کوپہنچا یعنی اس پرسے ساقط ہوگیا۔ توحاصل یہ ہواکہ مہرزینب سے ۲۶ /۷ نیازاحمد سے ساقط ہوگیا ۲۶ /۱۹ باقی رہا اورمہرننھی پورباقی ہے بوجہ مساوات سابقہ اسے بھی ۲۶ سہم فرض کیجئے تومکان دونوں زوجہ پر اسی ۲۶ و۱۹ کی نسبت سے بٹناچاہئے کہ دیون جب ترکہ سے زائدہوں تودائنوں کو حصہ رسد دیاجاتاہے لہٰذا مکان کے ۴۵ حصہ کرکے ۲۶حصے ننھی کودئیے جائیں اور۱۹بحساب مذکور وارثان زینب پرتقسیم ہوں۔
فی القنیۃ قال استاذنا سئلت عمن ماتت عن زوج وبنتین واخ لاب و ام ولامال لہاسوی مھرعلٰی زوجھا مائۃ دینار ثم مات الزوج ولم یترک الاخمسین دینارا فقلت یقسم بین البنتین والاخ اتساعا بقدر سھامھم لانہ ذکر فی کتاب العین والدین اذا کان علی بعض الورثۃ دین من جنس الترکۃ یحسب ماعلیہ من الدین کانہ عین وبقی الخمسون دینارا فی نصیب البنتین والاخ فتکون بینھم علی سھامھم من اصل المسئلۃ وقد افتی کثیر من مفتی زماننا انہ یقسم الخمسون بینھم اثلاثا وانہ غلط فاحش ۱؎ اھ اقول ونظیرہ الغلط الواقع فی مسئلۃ زوج وام وعم وقد تخارج الزوج علی مافی ذمتہ من المھر فقسموا البقیۃ اثلاثا للام سھم وللعم سھمان والصواب العکس للعم سھم وللام سھمان کما حررہ فی الدرالمختار۲؎۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
قنیہ میں ہے ہمارے استاذنے فرمایا کہ مجھ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیاگیاجوخاوند، دوبیٹیاں اور ایک حقیقی بھائی چھوڑکرمرگئی جبکہ سوائے سودینار کے جوبطورمہراس کے خاوند پرقرض ہیں اس نے کوئی اورشیئ ترکہ میں نہیں چھوڑی، پھر اس کاشوہر صرف پچاس دینار چھوڑ کر مرگیا تو میں نے جواب میں کہا کہ دونوں بیٹیوں اور بھائی پران کے سہام کے مطابق نوحصے بناکر مال کوتقسیم کیاجائے گا کیونکہ کتاب العین والدین میں مذکورہے کہ جب کسی وارث پر ترکہ کی جنس سے قرض ہوتو وہ قرض اس کے حصہ میں شمارہوگا گویا کہ وہ عین ہے اب چونکہ دونوں بیٹیوں اوربھائی کے حصے میں پچاس دینار باقی بچے ہیں لہٰذا وہ ان پراصل مسئلہ میں سے ان کے سہام کے مطابق تقسیم ہوں گے۔ ہمارے زمانے کے بہت سے مفتیوں نے فتوٰی دیاہے کہ پچاس دیناران میں تین حصے بناکر تقسیم کئے جائیں گے حالانکہ یہ فاحش غلطی ہے اھ ۔میں کہتاہوں اس کی نظیر وہ غلطی ہے جوخاوند، ماں اورچچا کے مسئلے میں واقع ہوئی جبکہ خاونداپنے مہرکے بدلے میں ترکہ سے دستبردار ہوگیا توعلماء نے باقی کوتین حصے بناکر ایک ماں اوردوچچا کودینے کافتوٰی دیا حالانکہ صحیح اس کے برعکس ہے یعنی ماں کودو اورچچا کوایک حصہ ملے گا جیسا کہ درمختارمیں اس کوتحریر فرمایاہے۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
(۱؎ القنیۃ المنیۃ لتتمیم الغنیۃ کتاب الفرائض مطبوعہ کلکتہ بھارت ص۳۹۴) (۲؎ الدرالمختار کتاب الفرائض باب المخارج مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۷۰)
26_31.jpg