| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
مسئلہ ۱۱۱ : ازمحلہ بیچ ناتھ پاڑا مرزاعادل بیگ شہررائے پور کیافرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ مرقومۃ الذیل میں کہ زیدکاانتقال ہوا اس کے بعد اس کی بیوی اوردوبھائی ہیں عورت حاملہ ہے۔ پس عند الشرع تقسیم مال کیسے ہوگا؟
26_30.jpg
الجواب : عورت کے حمل تک انتظارہوتوبہتر ہے ورنہ ترکہ خالصہ (یعنی ادائے دیون ومہرووصایا کے بعد جوبچے) اس کے بعد سولہ حصہ کرکے دوحصہ عورت کوبالفعل دے دیں باقی کسی کوکچھ نہ ملے یہاں تک کہ وضع حمل ہو اگرلڑکا پیداہو باقی چودہ حصے سب اس لڑکے کودے دئیے جائیں اور بھائیوں کوکچھ نہ ملے اوراگرلڑکی پیدا ہو تو باقی چودہ میں سے آٹھ حصے اس دخترکودیں اورتین تین دونوں بھائیوں کواوراگربچہ زندہ نہ پیداہویاموت مورث کودوسال کامل گزرجائیں اورکچھ پیدانہ ہوتوباقی چودہ میں سے دوحصہ زوجہ کو اوردے دئیے جائیں اور چھ چھ دونوں بھائیوں کو۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ مسئلہ ۱۱۲ تا ۱۲۷ : کیافرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہائے ذیل میں کہ سائل بحوالہ کتب فقہ حنفی جواب چاہتاہے بیّنواتوجروا۔ (۱) عورت نے وقت وفات ایک زوج، ایک پسر، ایک دختر وارث چھوڑے۔ پسرنے بہ نظر ثواب یابغرض نام آوری خود بصرف مبلغ دوہزار سات سوبلامشورت دیگر ورثاء تجہیزوتکفین وفاتحہ، چہلم وغیرہ مورث کاکیا، ورثاء کس قدرادائے اصرافات کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں؟
الجواب : بقدرسنت غسل وکفن ودفن میں جس قدرصرف ہوتاہے بقیہ ورثاء صرف اسی قدر کے حصہ رسد ذمہ دار ہوسکتے ہیں۔ فاتحہ وصدقات وسوم وچہلم میں جوصرف ہوایاقبر کوپختہ کیایا اورمصارف قدرسنت سے زائد کئے وہ سب ذمہ پسرپڑیں گے باقی وارثوں کو اس سے سروکارنہیں۔
طحطاوی کے حاشیہ میں ہے :
(تتمہ) التجھیز لایدخل فیہ السبح والصمدیۃ والجمع والموائد لان ذٰلک لیس من الامور الازمۃ فالفاعل لذٰلک ان کان من الورثۃ یحسب علی من نصیبہ ویکون متبرعاً وکذا ان کان اجنبیا۱؎ الخ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(تتمہ) میت کی تجہیزمیں دعا وفاتحہ (سوم، چہلم وغیرہ) لوگوں کوجمع کرنا اوردعوت طعام وغیرہ داخل نہیں ہیں کیونکہ یہ چیزیں لازمی امورسے نہیں ہیں۔ چنانچہ ایساکرنے والا اگروارثوں میں سے ہے تواس کے حصے میں سے شمارہوگا اور وہ متبرع ٹھہرے گا۔ یونہی اگراجنبی نے ایساکیا تو وہ بھی متبرع قرارپائے گا الخ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۴ /۳۶۷)
(۲) صرف تجہیزوتکفین وفاتحہ وسوم وچہلم وعرس وغیرہ شرعاً کس قدرتبلیغ وراثت پرمقدم رکھاگیاہے؟ الجواب : اس کاجواب جواب سوال اوّل میں ہوگیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم (۳) شرعاً زمانہ حال میں اہل اﷲ کے تجہیزوتکفین وفاتحہ وعرس وغیرہ کے لئے کس قدر روپیہ کافی ہوسکتاہے؟ الجواب : تجہیزوتکفین میں اسی قدر جوعام مسلمانوں کے لئے صرف ہوسکتاہے فاتحہ وعرس کے لئے شرع سے کوئی مطالبہ نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم (۴) شرعاً لباس قیمتی اہل اﷲ کامریدان ومتعتقدین کوتبرکاً ومساکین کوثواباً ایک وارث بلااسترضا دیگر ورثا تقسیم کرسکتاہے؟ الجواب : قیمتی ہویاکم قیمت، بلاوصیت مورث وبلارضائے دیگرورثاء نہیں دے سکتا، جوکچھ دے گا وہ خاص دینے والے کے حصہ میں محسوب ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۵) شرعاً صاحب سجادہ کس کوکہتے ہیں اوردیگرورثاء پرسجادہ نشین مذکور کیاکیا حق فائق رکھتاہے؟ الجواب : سجادہ نشین وہ صاحب ہدایت (عہ) ہے کہ پہلے صاحب ہدایت کی وصیت یامسلمانان ذی رائے کی تجویز سے اس کاجانشین بغرض ہدایت ہواہو دربارہ وراثت اس کوکسی وارث پرکوئی حق فائق نہیں یہ محض بے اصل ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
عہ : اقول : شرط اجازت ضروری ہے آج کل بہت لوگ صاحب سجادہ بطور وراثت بنادئیے جاتے ہیں اور وہ بیعت کرنے لگتے ہیں یہ حرام ہے۔۱۲
(۶) شرعاً عرس سالانہ مورث ونذرونیاز شہدائے کربلاوعرس بزرگان جن کومورث نے اپنی حیات میں جاری رکھاتھا بعد وفات مورث کے ورثاء بھی اس کے اجراء رکھنے پرمجبورہوسکتے ہیں یانہیں؟ الجواب : یہ امور اگربطور شرع شریف ہوں تو صرف مستحبات ہیں اورمستحب پرجبرنہیں ہوسکتا، ہاں اگر مورث کوئی جائداد کسی مصرف خیر کے لئے وقف کردیتا تواس کا اتباع ہوتا۔ و اﷲ تعالٰی اعلم (۷) شرعاً خانقاہ کس کوکہتے ہیں؟ الجواب : یہ کوئی اصطلاح شرعاً مطہرنہیں عرف میں مکان مسند افاضہ اولیاء کوخانقاہ کہتے ہیں واﷲ تعالٰی اعلم۔ (۸) جس مکان میں اہل اﷲ قیام پذیرہوں یاجس مکان میں لوگ مرید ہواکرتے ہوں یاجس مکان میں اہل اﷲ ذکر الٰہی کیاکرتے ہوں یاعرس یاجلسہ سماع ہوتاہو یا اس مکان میں پائخانہ یاباورچی خانہ خانقاہ ہو یا آئندگان عرس اس میں قیام کرتے ہوں وہ ترکہ مورث ہے یانہیں اورقابل تقسیم ہے یانہیں؟ الجواب : اگریہ مکانات مملوکہ مورث تھے توضرور تقسیم کئے جائیں گے جب تک کہ مورث نے ان میں کسی کو وقف صحیح شرعی نہ کردیاہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم (۹) جس مکان کے گوشہ صحن میں قبوراہل اﷲ یاقبور مورث واقع ہوں وہ مکان مع صحن بعد مستثنٰی کرنے اراضی قبور کے شرعاً قابل تقسیم ہے یانہیں؟ الجواب : ہاں جبکہ وقف نہ ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱۰) جس مکان میں مورث کی ہمیشہ نشست گاہ رہی ہو اور اس نے اس کی اصلاح ومرمت اپنے اصراف سے کی ہو اوربلاشرکت غیرے اپناقبضہ خالص اہنی حیات تک رکھا ہے بلکہ اپنی ضرورت میں اس مکان کو مکفول کرکے قبضہ بھی مورث نے لیاہے وہ مکان بعد وفات مورث بوجہ اصراف کثیر تعمیرات مقبرہ وغیرہ تقسیم باہم شرکاء سے محفوظ رہ سکتاہے یانہیں؟ اور ایسامکان وقف قراردیاجاسکتاہے یانہیں؟ الجواب : جبکہ مورث اپنی ضروریات میں اس مکان کومکفول کرچکاتھا تو اس کے فعل سے صراحۃً اس کاوقف نہ ہونا ثابت ہے اور جب وہ مملوک مورث ہے توتقسیم برورثا سے محفوظی کی کوئی وجہ نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔