Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
145 - 145
مسئلہ ۳۲۰ : ازکیلاسپور ضلع سہارنپور مرسلہ عبداﷲصاحب امام مسجدمنہاران    ۸محرم الحرام ۱۳۳۶ھ

میں سورہ واقعۃ کی زکوٰۃ اداکرناچاہتاہوں جس کاطریقہ یوں لکھاہے کہ شروع چاند میں جوپہلی جمعرات کے دن بعدنمازمغرب، اول آخردرودشریف کے بعد چھ مرتبہ سورہ مذکورہ کی تلاوت کرے اورپھر دوسرے روزپانچ بارپڑھے اسی طرح دوسری جمعرات آنے تک پانچ بارپڑھتارہے دوسری جمعرات کوسورہ شریف پانچ بارپڑھ کرمع دروودشریف کے اس ہفتہ کی تلاوت خداکی نذرکر۔ اس کے بعد فوراً پھر مع درودشریف چھ بارسورہ شریف کی تلاوت کرے اوربعدہ روزمرہ بدستور تیسری جمعرات آنے تک پانچ بارپڑھے اس ہفتہ کاثواب حضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کوبخشے۔اورپھرفوراً ازسرنو شروع کرے اورترکیب بالاجمعرات تک کرے اس ہفتہ کاثواب جمیع ارواح مومنین کوہدیہ، عمل تمام ہو۔ لہٰذا حضورباجازت اس عمل کی مجھے دیں اس میں جوکچھ غلطی ہوتواصلاح فرمادیں، اورایک شخص نے مجھ سے سوال کیاہے کہ سورہ ٰیسین میں اﷲ تعالٰی کے اسماء میں سے ایک اسم رکھاگیاہے اور وہ اسم سورہ یسین کے وسط میں ہے اس کے پانچ کلمے اور سولہ حرف ہیں چارحرف منقوطہ ہیں اوردوحرفوں پراوپرنقطے ہیں اوردوحرفوں کے نیچے ہیں لہٰذا میں نے بہت تلاش کیالیکن مجھے پتہ نہ چلا،امیدکہ آپ اس مشکل کوحل کریں۔
الجواب

کسی عمل کاثواب مولٰی تعالٰی کی نذرکرنا محض جہالت ہے وہ غنی مطلق ہے اورحضوراقدس علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام خواہ اورنبی یاولی کوثواب بخشنا کہنابے ادبی ہے بخشنابڑے کی طرف سے چھوٹے کوہوتاہے بلکہ نذر کرنایاہدیہ کرناکہے، پہلے ہفتہ کی تلاوت کاثواب نذرحضوراقدس علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام کرے، دوسرے کی تلاوت کاثواب نذرباقی انبیاء واولیاء، تیسرے کاثواب ہدیہ ارواح جملہ مومنین ومومنات کرے، اس طرح کیجئے میں نے آپ کواجازت دی، وہ سورہ مبارکہ کی ایک پوری آیت ہے کارڈ میں آیت نہیں لکھی جاسکتی اس کااول س ل م اورآخر ر ح ی م۔ اس سائل نے ۱۶حرف یوں بتائے کہ سلام میں چار حرف سمجھے یہ غلط ہے مصحف کریم میں یہ لفظ بے الف ہے توپندرہ ہی حرف ہیں  اس میں چار حرف منقوط ہیں ق ن ب ی، مگرنون کے اوپرنقطہ کہنانہ چاہئے کہ وہ جوف میں ہے فقط۔
مسئلہ ۳۲۱ : ازچوہرکوٹ بارکھان ملک بلوچستان     مرسلہ قادربخش صاحب ۱۴ربیع الاول ۱۳۳۷ھ

یکے ملامیگویدکہ دردعا گنج العرش ودردعاعکاشہ وغیرہ ادعیات عربی وفارسی ودرنورنامہ ہندی کہ درآن ذکرتولدآنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بالتفصیل است ثواب چنداں نوشتہ است کہ چہل شہیدوحج وغیرہ امورات ثواب حاصل آیدکہ بخواند، آں ملامیگویدہرچہ ثواب نوشتہ است آں حاصل نباشد وغلط نوشتند برائے فروختگی کتاب نوشتہ وہیچ اصل نیست آیاگفتہ ملابموجب شرع شریف است یامخالف اگرثواب ہمچناں ست کہ نوشتہ است براہ مہربانی سندوحوالہ کتاب کہ درذکر تولد آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم چنداں ثواب ست  تحریرفرمایند بلاحیثیت۔
ایک ملاکہتا ہے کہ دعاء گنج العرش اوردعاء عکاشہ وغیرہ عربی وفارسی دعاؤں پراوراسی طرح نورنامہ ہندی جومیلاد مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے تفصیلی ذکرپر مشتمل ہے، کوپڑھنے پرثواب اس قدرلکھاہے کہ چالیس شہیدوں اورحج وغیرہ نیک امورکے برابر ثواب حاصل ہوتاہے۔ ملامذکورکہتاہے یہ ثواب جولکھاہواہے حاصل نہیں ہوتا یہ غلط لکھاہواہے صرف کتابیں فروخت کرنے کے لئے لکھاگیاہے جس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ کیاملا کاقول شرع شریف کے مطابق ہے یامخالف؟ اگرثواب ایساہی جیساکہ لکھاہواہے توبراہ مہربانی سنداورحوالہ کتاب کے ساتھ تحریرفرمائیں کہ میلادمصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاذکرکرنے پراس قدرثواب ہے؟(ت)
الجواب : رسالہ منظومہ ہندیہ کہ بنام نورنامہ مشہوراست روایتش بے اصل است خواندنش روانیست چہ جائے ثواب وبرادعیہ درمطابع انچہ روایتہائے اسنادی نویسند اکثربے اصل است وثواب بدست رب الارباب، یکبار سبحان اﷲ میزان راپُر میکند و لاالٰہ الااﷲ پسترازعرش نمی ایستد، یک کلمہ ازینہا اگرمقبول شود جزائے اوجزجنت نیست وثواب اﷲ اطیب واکثر۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہندی زبان میں لکھاہوارسالہ جونورنامہ کے نام سے مشہورہے، اس کی روایت بے اصل ہے اس کوپڑھنا جائزنہیں ہے، اس لئے کہ اس میں ثواب کی جگہ پر اوردعاؤں پرمطبعوں میں جواسنادی روایتیں لکھتے ہیں وہ اکثر بے اصل ہیں۔ اورثواب تواﷲ تعالٰی کے دست قدرت میں ہے، ایک مرتبہ سبحان اﷲ کہنا نیکیوں کے ترازو کوبھردیتاہے اور لاالٰہ الا اﷲ کہنا عرش سے نیچے نہیں رکتا، ان میں سے اگرایک کلمہ بھی قبول ہوجائے تواس کاثواب جنت کے ماسوانہیں ہوتا اوراﷲ تعالٰی کاعطاکردہ ثواب بہت پاکیزہ اوربہت زیادہ ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۲:  ازبریلی مدرسہ منظرالاسلام اہلسنت وجماعت مسئولہ مولوی حشمت علی صاحب لکھنوی رضوی متعلم مدرسہ ۱۳جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ماقولکم یاحماۃ السنۃ السنیۃ البیضاء ویامحاۃ البدعۃ القبیحۃ الظلماء نصرکم اﷲ تعالٰی بتائیدات الرحمانیۃ وایدکم بالنصر السبحانیۃ فی ھذہ المسئلۃ ان اشرفعلی التھانوی الذی تفوّہ بالکفر الجلی فی کتابہ حفظ الایمان وماھو واﷲ الاحبط الایمان قد کتب عملا للامساک فی ص۱۰۹ فی کتابہ المسمی باٰثارتبیانی الجزء الثالث من اعمال قرآنی المطبوع فی برقی پریس الواقع فی دھلی ۱۳۳۵ھ؁ فقال ماترجمتہ عمل اٰخر، للامساک، یکتب علی ورقۃ الکرم ویعلق علی الفخذ الایسر بابجد ھوزحطی کلمن سعفص قرشت ثخذ ضظغ وقیل یاارض ابلعی مائک وٰیسماء اقلعی وغیض الماء وقضی الامر، کلما اوقدواناراللحرب اطفأھا اﷲ امسک ایھا الماء النازل من صلب فلان بن فلانۃ بلاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۱؎، ھل فیہ تعریض القراٰن العظیم للاھانۃ وللانجاس والتوھین والتلویث بالارجاس وقولہ ھذا ھل فیہ کفر ام ضلال ام لیس فیہ شیئ من ھذہ الاحوال۔ بینوابالتفصیل توجرواعندالملک الجلیل۔
اﷲکے نام سے شروع جوبہت مہربان رحمت والاہے، آپ کاکیاارشاد ہے اے روشن چمکدار سنتوں کے حامیو، اوراے تاریک قبیح بدعت کومٹانے والو! اس مسئلہ میں کہ اشرفعلی تھانوی جس نے اپنی کتاب حفظ الایمان میں کفرصریح کاقول کیاہے۔ اوراﷲ کی قسم وہ کتاب (دراصل) حبط الایمان (ایمان کی بربادی) ہے۔ اس میں تھانوی نے اپنی کتاب آثارتبیانی جزء ثالث ازاعمال قرآنی کے حوالے سے امساک کے لئے ایک عمل لکھاہے جس کاعنوان یہ ہے ایک اورعمل واسطے امساک کے۔ انگور کے پتے پرلکھ کر بائیں ران پرباندھے ابجد، ہوز، حطی، کلمن، سعفص، قرشت، ثخذ، ضظغ۔ اورحکم فرمایا گیاکہ اے زمین! اپناپانی نگل لے، اوراے آسمان! تھم جا، اورپانی خشک کردیاگیا اورکام تمام ہوا۔ جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اﷲ اسے بجھادیتاہے ۔ اے فلان بن فلانہ کی پشت سے نازل ہونے والے پانی رک جا بسبب ''لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم'' کے۔ کیااس میں قرآن عظیم کی توہین اور اسے گندگی میں ملوث کرنے کی پیشکش ہے؟ اورحفظ الایمان میں اس کاقول مذکورکفرہے یاگمراہی یاان میں سے کچھ نہیں۔ تفصیل کے ساتھ بیان کروجلالت والے بادشاہ کے پاس اجردئیے جاؤگے۔(ت)
 (۱؎ اعمال قرآنی     حصہ سوم     دارالاشاعت کراچی     ص۱۱۶ و ۱۱۷)
الجواب : الامام الاجل سیدی محمدالبوصیری قدس سرہ قال فی قصیدتہ الکریمۃ الھمزیۃ ام القری فی حق ابی جھل اللعین ع

ماعلی مثلہ یُعَدّ الخطاء ۱؎ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
میرے آقا امام اجل محمدبوصیری قدس سرہ نے اپنے قصیدہ کریمہ ہمزیہ ''ام القری فی مدح خیرالوری'' میں ابوجہل لعین کے بارے میں فرمایا : ''اس جیسے کی خطائیں شمارنہیں کی جاسکتیں''۔ اوراﷲ سبحٰنہ وتعالٰی خوب جانتاہے۔(ت)
 (۱؎ ام القرٰی فی مدح خیرالورٰی    الفصل السادس     حزب القادریۃ لاہور    ص۱۶)
مسئلہ ۳۲۳ و ۳۲۴ : ازشہرکہنہ ۱۶رجب ۱۳۳۵ھ بارہ دری         مسئولہ مصطفی علی خاں 

(۱)کسی شخص کاغصہ بڑھ جائے تواس کے لئے آپ کوئی تعویذدیں اورکچھ پڑھنے کوبتائیں۔

(۲) ماں باپ میں یابہن بھائی ہویامیاں بیوی ہومحبت اوراتفاق پیداہو پڑھنے کوبتائیں یاکوئی تعویذدیجئے۔
الجواب

(۱) دفع غضب کے لئے لاحول شریف کی کثرت کرے اور جس وقت غصہ آئے دل کی طرف متوجہ ہوکرتین بارلاحول پڑھے تین گھونٹ ٹھنڈاپانی پی لے، کھڑاہے توبیٹھ جائے، بیٹھاہے تو لیٹ جائے، لیٹاہوتواُٹھے نہیں۔

(۲) سب گھروالوں میں اتفاق کے لئے بعدنمازجمعہ لاہوری نمک پر ایک ہزارایک باریا ودود پڑھیں، اول آخر دس دس بار درودشریف، اورا س وقت سے اس نمک کابرتن زمین پرنہ رکھیں، وہ نمک سات دن گھر کی ہانڈی میں ڈالیں، سب کھائیں، مولٰی تعالٰی سب میں اتفاق پیداکرے گا۔ ہرجمعہ کوسات دن کے لئے پڑھ لیاکریں۔
مسئلہ ۳۲۵:  ازمدرسہ منظرالاسلام بریلی مسئولہ مولوی عبداﷲ بہاری     ۳شوال ۱۳۳۹ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس شخص کودینی یادنیوی بات یادنہ رہتی ہو وہ کیاپڑھے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب: سپیدچینی کی تشتری پرلکھے
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ا ھ ط م ف ش ذ
اور ا سے ذراسے پانی سے دھوکر اس پر ۹۹۸ بار، اورنہ ہوسکے تو ۴۰۰ یا۱۰۰ ہی بار یاحفیظ پڑھ کر دم کرے اوروہ پانی پی لے۔ روزایساہی کرے، اور سوتے وقت ۱۷بار سورہ الم نشرح شریف پڑھ کر سینے پردم کرلیاکرے اورکلنگ ذبح کرکے ذبح کی گرمی میں اس کامغز نکال کر ۴۰بار اس پر یاحفیظ دم کرکے کھالے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
نوٹ:  ۲۶ویں جلد کتاب الفرائض سے شروع ہوکر کتاب الشتّی کے حصہ اول پراختتام پذیرہوئی، ان شاء اﷲ العزیز ۲۷ویں جلدکتاب الشتّی حصہ دوم سے شروع ہوگی۔
Flag Counter