| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
مسئلہ ۳۱۶: ازصاحب گنج گیا مسئولہ چراغ علی صاحب ۲۵ربیع الاول شریف سوال یہ ہے: ''السلام علیکم یاخواجہ عبدالکریم جانب مشرق، السلام علیک یاخواجہ عبدالرحیم جانب شمال، السلام علیک یاخواجہ عبدالرشید ، جانب جنوب،السلام علیک یاخواجہ عبدالجلیل''۔ جانب مغرب بعدہ یہ پڑھنا: اللّھم انت قدیم ازلی تنزیل العلل ولم تزل ولاتزال ارحمنی برحمتک یاارحم الراحمین، اللّٰھم اغفرلامۃ سیدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم، اللّٰھم ارحم امۃ سیّدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم۔
بعدہ پڑھنا درودشریف کابعددِ طاق جائزہے یانہیں؟ اس کوامام غزالی رحمۃ اﷲ علیہ نے احیاء العلوم میں بھی لکھاہے اورنیزکیمیائے سعادت میں ہے۔
الجواب : دعائے مذکورجائزہے اوراس میں بہت برکات ہیں۔ یہ چاروں حضرات جہات اربعہ میں اوتادِاربعہ ہیں۔ یہ اسمائے طیبہ ان کے اشخاص کے نہیں بلکہ عہدہ کے ہیں۔ جس طرح ہرغوث کانام عبداﷲ اور اس کے دونوں وزیروں کے نام عبدالملک اورعبدالرب ہیں۔جو اس عہدہ پرمقرر ہوگاظاہرمیں کچھ نام رکھتاہویاباطن میں اس کایہ نام رکھاجائے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۱۷ : ازسہسوان محلہ مستولی ٹولہ مرسلہ پرورش علی صاحب نسیان کامجرب علاج کیاہے؟ الجواب : دفع نسیان کو ۱۷بار سورہ الم نشرح ہرشب سوتے وقت پڑھ کر سینہ پر دم کرنا، اورصبح ۱۷ بارپانی پردم کرکے قدرے پینا، اورچینی کی رکابی پریہ حروف ا ھ ظ م ف ش ذ لکھ کر پلانانافع ہے۔ اورچالیس روزسفیدچینی پرمشک وزعفران وگلاب سے لکھ کر آب تازہ سے محوکرکے پئیں۔ تسمیہ اس کے بعد
فسھّل یاالٰھی کل صعب ÷ بحرمۃ سیدالابرار سھّل÷ یامحی الدین اجب، یاجبرائیل بحق یابدوح۔ والسلام۔
مسئلہ ۳۱۸ : ازمقام سوروں ضلع ایٹہ۔ اﷲ دیا وچندومنہار روزدوشنبہ ۱۳صفرالمظفر ۱۳۳۴ھ رہنمائے دین متین، مرشد راہ یقین بندہ دام فیضہ۔ بعداظہار لوازم کے یہ عاصی پرمعاصی بندہ خاکسار حضورکی خدمت میں عرض کرتاہے، آج کل مجھ کو اتنی فرصت نہیں ملتی کہ حضورکی خدمت میں حاضرہوں۔ اورحضورمجھ کوذکرقلبی بتلادیجئے، آپ حضور لکھ دیں فوراً خدمت میں حاضرہوں۔ اورحضرت موسٰی علیہ السلام کی والدہ کااسم شریف کیاہے، وہ مجھ کو تحریرکرئیے گا۔ اورایک حافظ آئے تھے ''سرائے ترین'' سوداگرکنگھی والے، وہ مجھ کوایک حاضرات بتلاگئے ہیں، حضوراجازت دیں توعمل میں لاؤں۔ سورہ رحمن کے دوسرے رکوع میں ہے:
یامعشرالجن،
حضور اس کاجواب بہت جلد دیجئے گا اورخان حمیدالدین شاہ صاحب مجھ کوایک عمل ہمزاد تجربہ کادے گئے ہیں وہ اب تک بغیراجازت حضورکے نہیں کیا۔
الجواب : حاضرات جن سے جنوں کوبلانا اوران سے صحبت وملاقات مقصودہو محمودنہیں۔ حضرت شیخ اکبر قدس سرہ فرماتے ہیں: ''کم سے کم وہ ضررکہ جن کی ملاقات سے ہوتاہے یہ کہ آدمی متکبرہوجاتاہے''۔ یہ کتنابڑا ضررہے جسے قرآن عظیم میں فرمایا: ''کیامتکبروں کاٹھکانہ جہنّم نہیں''۔۱؎ ذکرکے طریقے کثیرہیں، تلاوت قرآن وکلمہ طیبہ اوردرودشریف کی کثرت رکھئے۔ اورجواذکار بطریقہ اشغال ہیں وہ بالمشافہ سیکھنے سے خوب آتے ہیں۔ سیدناموسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی والدہ ماجدہ کااسم شریف یُوْحَانِذْ ہے۔ وھوتعالٰی اعلم۔
(۱؎ القرآن الکریم ۳۹/ ۶۰)
مسئلہ۳۱۹: (سوال مذکورنہیں)
اجازت نامہ اورادووظائف واعمال
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم
فقیرغفرلہ المولی القدیر نے جملہ نقوش وتعویذات خاندانی جوفقیرکو اپنے مشائخ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم یاحضرت جناب سیدشاہ ابوالحسین احمدنوری میاں صاحب قبلہ مارہری قدس سرہ العزیز یاارشادات ائمہ کرام واولیائے عظام وعلمائے اعلام سابقین رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین سے پہنچے یافقیرنے بفضلہ تعالٰی مجازوماذون ہوکر خودایجادکئے یاآئندہ ایجادکروں ان سب کی اجازت عامہ تامہ صحیحہ نجیحہ اپنے خواہر زادہ برخوردارحکیم علی احمدخاں سلمہ کودی۔ مولٰی تعالٰی اپنے کرم سے برکت فرمائے شرط یہ ہے کہ کسی کام خلاف شرع کے لئے نہ خود استعمال کریں نہ کسی ایسے کودیں یابتائیں جوکوئی کام خلاف شرع چاہتاہو۔
جس طرح عورتیں اکثرتسخیرشوہرچاہتی ہیں کہ شوہر ہمارے کہنے میں ہوجائے جوہم کہیں وہی کرے، یہ حرام ہے۔ حدیث میں اسے شرک فرمایا اﷲعزوجل نے شوہرکوحاکم بنایانہ کہ محکوم۔ یایہ چاہتی ہیں کہ اپنی ماں بہن سے جداہوجائے یاان کوکچھ نہ دے ہمیں کودے، یہ سب مردودخواہشیں ہیں۔ مقدمات فوجداری میں مسلمانوں کونقوش حفاظت دئیے جائیں۔ دیوانی ومال کے مقدمات میں جب تک معلوم نہ ہو کہ یہ حق پرہے نہ دیں کہ ظالم کی اعانت حرام ہے۔ حب وتسخیرعورت کے لئے نقش وعمل کسی کونہ دیاجائے اس میں اکثر مقاصدفاسد بھی ہوتے ہیں اگرفی الواقع نکاح ہی کاطالب ہو جب بھی صریح اندیشہ معصیت ہے کہ اجنبی کی محبت دلِ عورت میں پیداہونا سمِ قاتل ہے ممکن کہ نکاح میں تعویق ہو یااولیائے زن نہ مانیں اورمحبت طرفین سے پیداہوچکی تواس کانتیجہ براہو۔ یونہی اگرتسخیر زن نہ چاہے بلکہ اولیائے زن کی تسخیرکہ وہ اس سے نکاح کردیں اوریہ ان کاکفونہ ہو یعنی ایساکم ہوکہ اس سے اس کانکاح اولیائے زن کے لئے باعث مطعونی یامعصیت شرعی ہوجب بھی ہرگزنہ دیں کہ یہ مسلمانوں کی مضرت رسانی ہے بلکہ بہتریہ ہے کہ اس مقصد کے لئے مطلقاً دیاہی نہ جائے نکاح خصوصاً ہندوستان میں عمربھرکاساتھ ہوتا ہے اورانجام کاعلم اﷲ عزوجل کو۔ ممکن کہ یہ رشتہ طرفین میں کسی کے لئے شرہوتو شرکاسبب بنانہ چاہئے، یہاں ایسوں کوہمیشہ یہی ہدایت کی جاتی ہے کہ استخارہ شرعی کریں اوردعا کہ اﷲ عزوجل وہ کرے جوبہترہو۔ نہ خود کسی مسلمان کی ضرررسانی کاکوئی عمل کیاجائے نہ کسی کوبتایاجائے اگرچہ وہ اپنی کتنی ہی مظلومی اورا س کاظالم وموذی ہونا ظاہرکرے، ہاں اگرثبوت شرعی سے ثابت ہوجائے کہ وہ عام طورپر موذی وظالم ہے تواس کے لئے اسی قدر ضرر کی خواہش رواہے جس قدرکا شرعاً اسے استحقاق ہے اس سے زیادہ حرام ہے اوراس کاصحیح معیارپراندازہ خصوصاً اپنے معاملہ میں بہت دشوارہوتاہے لہٰذا ہمیشہ یہاں سپرہی ہاتھ میں رکھی تلوار کام میں نہ لائی گئی، اسی پرعمل رہے۔ مسلمانوں کولوجہ اﷲ تعویذات واعمال دئیے جائیں دنیوی نفع کی طمع نہ ہو جیساآج تک بحمداﷲ تعالٰی یہاں کادستورہے۔ کفارکواگرنقوش دئیے جائیں تومضمر، انہیں مظہرکی اجازت نہیں اوروہ بھی اس امرمیں ہوجس سے کسی مسلمان کانقصان نہ ہو اوران سے معاوضہ لینے میں مضائقہ نہیں بلکہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے ثابت ہے۔ جوکافرخصوصاً مرتدجیسے قادیانی، نیچری، وہابی، رافضی، چکڑالوی، غیرمقلد مسلمان کوایذادیاکرتاہواگرچہ رسائل کی تحریریامذہبی تقریرسے اس پرسے دفع بلا خواہ رفع مرض کابھی نقش نہ دیاجائے، اورایسانہ ہواوراس کام میں کسی مسلمان کاذاتی نقصان بھی نہ ہو جب بھی مرتدوں کامبتلائے بلاہی رہنابھلا۔ اوراگردیں توضروربمعاوضہ کہ اس میں دینی نفع توتھاہی نہیں دنیوی بھی نہ ہو توآخرکس لئے۔ یہ بارہ بارتیں بطورنمونہ ہیں، غرض ہرطرح مصلحت شرعیہ ملحوظ رہے اﷲ عزوجل توفیق دے۔آمین!