Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
143 - 145
شعرششم: 

    دِکھتاہے جوکہ خاکی آنکھوں سے سب فناہے    دِکھتاہے کِس نظرسے وہ جگ اُجال بولو
الجواب: ظاہرہے یہ آنکھیں فانی ہیں اورفانی باقی کونہیں دیکھ سکتا، لہٰذادنیا میں دیدارالٰہی سواحضرت سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے کسی نبی مقرب کوبھی نصیب نہ ہوا ہاں چشم روح باقی ہے ہم ابھی ذکرکرآئے کہ روح کے لئے تواولیاءنظردل سے اُس جمال جہاں آرا کامشاہدہ کرتے ہیں اورروزحشروہ آنکھیں ملیں گی جنہیں پھرکبھی موت وفنانہیں تواس دن چشم جسم سے بھی مسلمان دیدارالٰہی تبارک وتعالٰی سے مشرف ہوں گے۔
اللّٰھم ارزقنا اٰمین!
شعرہفتم: 

    ہرچیزذات حق سے معمورہے ولیکن     ملتاہے کس محل میں ابروہلال بولو
الجواب: اس کاجواب وہ ہے کہ سیدنااسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مروی ہواانہوں نے اپنے رب عزوجل سے عرض کی: الٰہی! میں تجھے کہاں تلاش کروں؟ فرمایا:
عندالمنکسرۃ قلوبھم لاجلی۱؎
اُن کے پاس جن کے دل میرے لئے ٹوٹے ہوئے ہیں۔ ایک شخص حضرت سیدنابایزیدبسطامی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی خدمت میں حاضرہوا، دیکھاپنجوں کے بل گھٹنے ٹیکے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جگہ خون رواں ہے، عرض کی حضرت! یہ کیاحال ہے؟ فرمایا: میں ایک قدم میں یہاں سے عرش تک گیاعرش کودیکھا کہ رب عزوجل کی طلب میں پیاسے بھیڑیے کی طرح منہ کھولے ہوئے ہے بانگے برعرش زدم کہ ایں چہ ماجراست ہمیں نشان دیتے ہیں
الرحمٰن علٰی العرش استوٰی
 (رحمن نے عرش پراپنی شان کے مطابق استوا فرمایا۔ت) میں رحمن کی تلاش میں تجھ تک آیا تیرایہ حال پایا، عرش نے جواب دیا: مجھے ارشاد کرتے ہیں کہ اے عرش! اگرہمیں ڈھونڈنا چاہے توبایزیدکے دل میں تلاش کر۔۲؎
 (۱؎ اتحاف السادۃ المتقین     کتاب آداب الاخوۃ والصحبۃ     الباب الثالث     دارالفکربیروت    ۶/ ۲۹۰)

(۲؎ تذکرۃ الاولیاء     باب ۱۴ذکربایزیدبسطامی رحمہ اﷲ             مطبع اسلامیہ لاہور    ص۱۰۰)
شعرہشتم:

     سب جسم ہے محمدموجودذات حق ہے     اسلام اورکفرکا پردہ سنبھال بولو
الجواب: حدیثوں سے ثابت ہے کہ اﷲ عزوجل نے تمام عالم نورحضرت سیدالعالمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے پیداکیا تواصل ہرچیز کی نورسراپاحضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے پس مرتبہ ایجادمیں بس وہی وہ ہیں۔ فقیرغفراﷲ تعالٰی نے اپنے قصیدہ نونیہ نعتیہ میں بحمداﷲ تعالٰی اس نفیس مضمون میں بہت ابیات رائقہ لکھے ہیں،
ھٰھُنا قولی ؎

خالق کل الورٰی ربک لاغیرہ     نورک کل الورٰی غیرک لم، لیس، لن ۳؎
(کل کائنات کاخالق تیرارب ہے نہ کہ اس کاغیر، تیرانورہی کل کائنات ہے اورتیرے سوالم، لیس ،لن ہے۔ت)
ای لم یوجد ولیس موجودًا ولن یوجدابدًا
 (یعنی کہیں نہیں پایاگیا، نہ موجود ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا۔ت) اورمرتبہ وجودمیں صرف حق عزوجل ہے کہ ہستی حقیقۃً اسی کی ذات پاک سے خاص ہے وحدت وجود کے جس قدرمعنے عقل میں آسکتے ہیں یہی ہیں کہ وجودواحد موجود واحد باقی سب مظاہرہیں کہ اپنی حدذات میں اصلاً وجودہستی سے بہرہ نہیں رکھتے
کل شیئ ھالک الا وجھہ۱؎
 (ہرچیزفانی ہے سوا اس کی ذات کے۔ت) اورحاشا یہ معنی ہرگزنہیں کہ من وتو زیدوعمرو ہرشَے خداہے، یہ اہل اتحاد کاقول ہے جوایک فرقہ کافروں کا ہے اورپہلی بات اہل توحید کا مذہب جواہل اسلام وایمان حقیقی ہیں۔ یہی کفرواسلام کاپردہ سنبھالناہے۔
 (۳؎ بساتین الغفران منظومہ نونیۃ فی مدح سیدالانبیاء                 رضادارالاشاعت لاہور    ص۲۲۳)

(۱؎ القرآن الکریم     ۲۸/۲۸)
شعرنہم:

     نکتہ نہیں علم کاقرآن میں سمایا    معنی علم کے نکتہ کے اب محال بولو
الجواب: علم کانکتہ وہ باریک بات سمجھ میں نہ آئی یہاں اس سے مراد ذات پاک باری عزوجل ہے کہ ہرگز اس کی کُنہ نہ فہم تصورمیں آسکے نہ بیان وکلام میں سماسکے ادراک اس کامحال اورخوض اس میں ضلال، والعیاذباﷲ ذی الجلال، قرآن اﷲ عزوجل کاکلام اوراس کی صفت ہے۔ صفت ذات میں ہوتی ہے ذات صفت میں نہیں آسکتی     ؎
کس نہ دانست کہ منزل گہ آں یارکجاست     ایں قدرہست کہ بانگِ جرسے می آید
 (کسی کومعلوم نہیں کہ اس دوست کی منزل گاہ کہاں ہے، بس اتناجانتاہے کہ کسی گھنٹی کی آوازآتی ہے۔ت)
ھذاواﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیّدنا ومولانا محمد واٰلہٖ وصحبہ وسلم۔اٰمین!
رسالہ

کشف حقائق واسرار ودقائق

ختم ہوا
Flag Counter