فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
142 - 145
شعرسوم:
مخفی میں کیونکہ تھا وہ سری میں کس طرح تھا پھرروح کیوں ہوا ہے دل کاخصال بولو
الجواب: وہ نورپاک اپنی ذات میں نہایت ظہور پرظاہرہے اور اپنے بے نہایت ظہور کے سبب باطن کہ نورجس قدرتابندہ ترہوگانظراس پرکام کم کرے گی، جب نوراحدیت کی تابش غیرمحدودہے چشم جسم وچشم عقل دونوں وہاں نابیناہیں تو وہ اپنے کمال ظہورکے سبب کمال خفاوبطون میں ہے پھراپنے مظاہروتجلیات میں تو اس کاظہور ذی عقل پرظاہرہے اوراسی نورکے متعدد پرتووں نے روح وقلب وغیرہ وغیرہ بے حساب نام پائے ہیں جس طرح ہم ابھی مثال میں واضح کرآئے قلب وروح کی معرفت بے معرفت الٰہی نہیں ہوتی۔
من عرف نفسہ فقد عرف ربّہ،۲؎ من عرف نفسہ کلّ لسانہ۔۳؎
جس نے اپنے نفس کوپہچانا اس نے اپنے رب کوپہچانا جس نے اپنے نفس کوپہچان لیا اس کی زبان بند ہوگئی۔(ت)
قل الروح من امر ربّی ومااوتیتم من العلم الا قلیلا۔۴؎
توفرماروح میرے رب کے امر سے ایک چیزہے اورتمہیں علم نہ ملامگرتھوڑا۔
(۴؎ القرآن الکریم ۱۷/ ۸۵)
عالم دوہیں: عالم امروعالم خلق،
الالہ الخلق والامر تبارک اﷲ ربّ العٰلمین۔۱؎
سن لو اسی کے ہاتھ ہے پیداکرنا اورحکم دینا بڑی برکت والاہے رب سارے جہان کا۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۷/ ۵۴)
عالم خلق وہ چیزیں جومادہ سے پیداہوتی ہیں جیسے انسان، حیوان، نباتات، جمادات، زمین وآسمان وغیرہاکہ نطفہ وتخم وعناصر سے بنے عالم امروہ جوصرف امرکن سے بنا، اس کے لئے کوئی مادہ نہیں جیسے ملائکہ وارواح وعرش ولوح وقلم وجنت وناروغیرہ۔ توفرمایا روح عالم امرسے ایک چیزہے، عقل کاحصہ اسی قدرہے، آگے اس کی ماہیت اکابراہل باطن جانتے ہیں، سبحان اﷲ! آدمی خود اسی روح کانام ہے اوریہ اپنے ہی نفس کے جاننے میں اس قدرناکام ؎
تنت زندہ بجاں جان نہانی توازجاں زندہ وجاں رانہ دانی
(تیرابدن مخفی جان کی وجہ سے زندہ ہے، توجان کے سبب زندہ ہے، اورجان کونہیں جانتاہے۔ت)
اورسِرّوخفی وروح وقلب لطائف حضرات نقشبندیہ قدست اسرارہم سے ہیں جن میں تجلیات حق کے رنگارنگ ذوق کاادراک کارعیاں ہے نہ کاربیان ع
ذوق ایں مے نہ شناسی بخداتانہ چشی
اﷲ کی قسم تواس شراب کامزہ نہیں پہچان سکتا جب تک اسے چکھ نہ لے۔ت)
شعرچہارم:
اربع عناصراب یوں نکلے کہوکہاں سے مرتاسوکون اس میں کس کو وصال بولو
الجواب: نوراحدیت کے پرتوسے نورمحمدی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بنااور اس کے پرتوسے تمام عالم ظاہرہوا، اول پانی پیداہوا، پھراس میں دھواں اٹھااس سے آسمان بنا، پھرپانی کاایک حصہ منجمد ہوکرزمین ہوگیا اسے خالق عزوجل نے پھیلاکر سات پرت کردیا پھر اسی طرح آسمان کے سات طبقے کئے، یونہی پانی سے آگ بنی، ممکن ہے کہ پانی کسی قسم کی حرارت پاکرہَواہُوا ہواورہَوَاگرم ہوکرآگ، یاجس طرح مولٰی سبحانہ وتعالٰی نے چاہا، غرض پانی مادہ تمام مخلوق کاہے۔ امام احمد وابن حبان وحاکم کی حدیث میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل شیئ خلق من الماء۱؎
ہرچیزپانی سے بنی ہے۔ موت بدن کے لئے ہے جس کے معنی روح کااس سے جداہوجانا۔ روح پہلے نہ تھی جب بنی توپھراس کے لئے فنانہیں، یہی مذہب اہلسنت کاہے۔ ولہٰذا بعد مرگ سمع وبصر، علم وفہم وغیرہ تمام افعال کہ حقیقۃً روح کے تھے برقراررہتے ہیں بلکہ اورزیادہ ترقی پاتے ہیں، جن کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک پرندقفس میں محبوس ہے اس کی پَرافشانی اسی پنجرے کے لائق ہوگی جب اسے نکال دیجئے تو اس کی پروازیں دیکھئے۔ فقیرنے اپنی کتاب
''حیات الاموات فی بیان سماع الاموات''
میں اس مسئلہ کوبحمداﷲ تعالٰی نہایت شرح وبسط سے ثابت کیاہے یہ روح اپنے معدن اصلی سے غریب الوطن ہوکرقفس بدن میں بحکم الٰہی ایک مدت معین تک محبوس ہے جب وقت آئے گا اپنی اصل کی طرف رجوع کرے گی
(اے اطمینان والی جان اپنے رب کی طرف واپس ہویوں کہ تواس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ت) اس کانام وصال ہے۔ت)
(۱؎ کنزالعمال حدیث ۱۵۲۱۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۱۵۶)
(۲؎ القرآن الکریم ۸۹/ ۲۷ و ۲۸ )
شعرپنجم :
اول ہے روح علوی دوسری کانام سفلی ایک روح دوصفت کیوں پکڑاکمال بولو
الجواب: اس شعرکے دومعنے ہیں: ایک یہ روح مجرد ہے یعنی جسم اورجسم کی سب آلائشوں سے پاک ومنزہ، یہ صفت اس کی علوی ہے، پھروہی روح اس جسم پرعاشق اوراس سے متعلق اورحیات دنیوی میں اس کی عادی کام اس جسم کے آلات پرموقوف، یہ صفت اس کی سفلی ہے مگر اس بلندی سے اس تنزّل میں آنے کے بعد ہی وہ اپنے کمالات کوپہنچتی ہے
قلنا اھبطوامنھا۳؎
(ہم نے فرمایا تم جنت سے اُترجاؤ۔ت) آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے باعث ہزاراں برکات وخیرات ہوا۔
(۳؎ القرآن الکریم ۲/ ۳۸)
دوسرے یہ کہ انسان میں صفت ملکوتی وصفت بہیمی وصفت شیطانی سب جمع ہیں، اگرصفت ملکوتی پرعمل کرے مَلک سے بہترہو اوراگردوسری صفت کی طرف گرے بہائم سے بدترہو۔
حدیث میں آیاہے:
قال اﷲ تعالٰی عبدی المومن احب الیّ من بعض ملٰئکتی۱؎
اﷲ تعالٰی فرماتاہے میرابندہ مومن مجھے اپنے بعض ملائکہ سے زیادہ پیاراہے۔
(۱؎ اتحاف السادۃ المتقین کتاب اسرارالصوم دارالفکربیروت ۴/ ۱۹۳)
اورکفّار کے حق میں فرمایا:
اولٰئک کالانعام بل ھم اضل۔۲؎
وہ چوپایوں کی مانندہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے۔
(۲؎ القرآن الکریم ۷/ ۱۷۹)
اوراس کاکمال انہیں دوصفت کے اجتماع سے کہ جب وہ باوجودموانع کہ صفت بہیمی اسے شہوات کی طرف بلاتی ہے اورصفت شیطانی خیرات سے روکتی ہے پھر ان کاکہنا نہ مانے اوراپنے رب کی عبادت وطاعت میں مصروف ہوتواس کی بندگی نے وہ کمال پایا جوعبادت ملائکہ کوحاصل نہیں کہ ملائکہ بے مانع وبے مزاحم مصروف عبادت ہیں اوریہ ہزارجالوں میں پھنساہواان سب سے بچ کر بندگی بجالاتاہے ؎
فرشتہ گربہ بیند جوھر تو دگررہ سجدہ آرد بردرتو
(فرشتہ اگرتیرے جوہرکودیکھ لے توپھرتیرے درپرسجدہ کرے۔ت)