| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
مسئلہ ۳۱۵ : ازبڑودہ باڑہ نواب صاحب مرسلہ حضرت نواب سیدنورالحسن خاں بہادر ۲۵شعبان ۱۳۰۸ھ بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم الحمدﷲ ربّ العٰلمین والصّٰلٰوۃ والسلام علٰی سیدالمرسلین محمّد واٰلہ وصحبہ واولیاء امّتہ وعلماء ملّتہ وعلینا معھم اجمعین۔ امّابعد ایں پاسخ اشعار وقت اشعار تصوف اشعار حسب الارشاد لازم الانقیاد حضرت عظیم الدرجہ جناب صاحب والامناقب نواب سیدنورالدین حسین خاں بہادررئیس اعظم بڑودہ ادام اﷲ تعالٰی اقبالہم وضاعف اجلالہم۔ بزبان عام اردوومطالب سہل الحصول مطابق عقائد اہل حق ومدارک افہام وعقول بتاریخ بست وپنجم شعبان المعظم روزجاں افروز دوشنبہ ۱۳۰۸ھ ہجریہ قدسیہ علٰی صاحبہا افضل الصلاۃ والتحیۃ دربانس بریلی ملک ہند بخامہ خام نگارفقیرذلیل ذرہ بے مقدار عبدالمصطفٰی احمدرضا محمدی سنی برکاتی آل رسولی غفراﷲ لہ وحقق املہ باوصف قلت بضاعت وجہل صناعت بامدادنورباطن حضورلامع النورسلالۃ الواصلین نقاوۃ الکاملین بحرطریقت بدرحقیقت حضرت سیدناومولانا وشیخنا حضرت سیدشاہ ابوالحسین احمدنوری الملقب بمیاں صاحب قبلہ مارہری ادام اﷲ فیضہم المعنوی والصوری درساعت واحدہ ریخہ ع گرقبول افتدزہے عزّوشرف
یہ جواب ہے تصوف سے متعلق کچھ بلندپایہ اشعارکا۔ ان کے ارشاد کے مطابق جس کی فرمانبرداری لازم ہے یعنی بلندوعظیم درجات ومناقب کے مالک محترم جناب سیدنورالدین حسین خان بہادررئیس اعظم بڑودہ، اﷲ تعالٰی ان کی خوش بختی کوہمیشہ رکھے اوران کی بزرگی کودگناکردے، عام اردوزبان میں کہ مطالب آسانی سے حاصل ہوں، جومطابق ہے اہل حق کے عقائد اورموافق ہے عقول وافہام کے۔ یہ جواب بانس بریلی ہندوستان میں بروزپیر۲۵شعبان المعظم ۱۳۰۸ھ کو اس فقیر حقیر، ذرہ بے مقدار عبدالمصطفٰی احمدرضامحمدی سنی برکاتی، آل رسولی (اﷲ اس کی مغفرت فرمائے اوراس کی امیدبرآری فرمائے) کے قلم سے پونجی کی قلت اورفن میں عدم مہارت کے باوجود صرف ایک گھنٹے میں معرض تحریرمیں آیا۔ یہ ان کے نورباطن کی مدد سے ہواجو روشن نوروالے، واصلین کے خلاصہ، کاملین میں عمدہ، طریقت کے سمندراورحقیقت کے چاند ہیں یعنی ہمارے سردار، ہمارے آقا، ہمارے شیخ حضرت سیدشاہ ابوالحسین احمدنوری ملقب بہ میاں صاحب قبلہ مارہروی، اﷲ تعالٰی ان کے معنوی اورصوری فیض کوہمیشہ رکھے۔ اگرقبول ہوجائے توکیاہی عزت اور شرف ہے(ت)
شعراول: سب پیر اورمشائخ میراسوال بولو صورت جلال کیاہے اورکیاجمال بولو
الجواب: اﷲ جل وعلارحیم بھی ہے اورقہاربھی ہے رحمت شان جمال ہے اورقہرشان جلال۔ دوستوں کوانواع نعمت سے نوازنا ان کے لئے بہشت اوراس کی خوبیاں آراستہ فرمانا انہیں اپنی رضا ودیدارسے بہرہ مندی بخشنا تجلی شان جمال ہے۔ دشمنوں کواقسام عذاب کی سزادینا ان کے لئے دوزخ اور اس کی سختیاں مہیافرمانا انہیں اپنے غضب وحجاب میں مبتلاکرناتجلی شان جلال ہے۔ پھردنیامیں جوکچھ نعمت ونقمت وراحت وآفت ہے انہیں دونوں شانوں کی تجلی سے ہے۔ کبھی یہ شانیں ایک دوسرے کے لباس میں جلوہ گرہوتی ہیں۔ مثلاً دنیامیں اپنے محبوبوں کے لئے بلابھیجنا کہ :
اشدالناس بلاء الانبیاء ثم الامثل فالامثل۔۱؎
تمام لوگوں سے بڑھ کر تکلیفیں نبیوں پرآئیں پھر ان سے کم درجہ والوں پرپھران سے کم درجہ والوں پر۔(ت)
(۱؎ کنزالعمال حدیث ۶۷۸۰ و ۶۷۸۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۳/ ۳۲۸ و۳۲۹)
بظاہرشان جلال ہے اورحقیقۃً شان جمال کہ اس کے باعث وہ اﷲ تعالٰی کی بڑی بڑی نعمتیں پاتے ہیں،
قال اﷲ تعالٰی: لاتحسبوہ شرًا لکم بل ھو خیر لکم۔۱؎
اسے اپنے لئے برانہ جانوبلکہ وہ تمہارے حق میں بہترہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲۴/ ۱۱)
کفارکوکثرت مال وغیرہ دنیاکی راحتیں دینا بظاہرشان جمال ہے اوردرحقیقت شان جلال ہے کہ اس کے سبب وہ اپنی غفلت وگمراہی کے نشے میں پڑے رہتے ہیں اورہدایت کی توفیق نہیں پاتے ۔
قال اﷲ تعالٰی: ولایحسبن الذین کفروا انما نملی لھم خیرلانفسھم انما نملی لھم لیزدادوا اثما ولھم عذاب مھین۔۲؎
کافرکاخیال کہ یہ ڈھیل جوہم انہیں دے رہے ہیں کچھ ان کے لئے بھلی ہے یہ ڈھیل توہم اس لئے دیتے ہیں کہ وہ اورگناہ میں پڑیں اور ان کے لئے ذلت کی مارہے۔
(۲؎ القرآن الکریم ۳/ ۱۷۸)
تجلی وجمال کے آثار سے لطف ونرمی وراحت وسکون ونشاط وانبساط ہے جب یہ قلب عارف پرواقع ہوتی ہے دل خودبخود ایساکھل جاتاہے جیسے ٹھنڈی نسیم سے تازی کلیاں یابہار کے مینہ سے درختوں کی کنچھیاں، اورتجلی جلال کے آثارسے قہروگرمی وخوف وتعب جب اس کاورودہوتاہے قلب بے اختیارمرجھاجاتاہے بلکہ بدن گھلنے لگتاہے بلکہ اگرطاقت سے زیادہ واقع ہوتی ہے فناکردیتی ہے۔ انہیں دونوں تجلیوں کااثرتھا کہ ایک روز وعظ میں برسرمنبرحضورپرنورسیدناغوث اعظم قطب عالم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کودیکھاگیاکہ حضورکاجسم اقدس سمٹ کرایک چڑیاکے برابرہوگیااوراسی وقت یہ بھی مشاہدہ ہواکہ تن مبارک پھیل کرایک بُرج کی مثل ہوگیااوردیکھاگیاکہ حضور(رضی اﷲتعالٰی عنہ) منبرسے گرنے لگے یہاں تک کہ حضورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دست اقدس کے سہارے روک لیا، یہ وہ عظیم تجلی تھی جس کاتحمل بے قوت نبوت ناممکن تھا، لہٰذاحضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے قوت مصطفویہ سے مددفرماکر اس کاتحمل کرادیا، اسی شان جلال کااثرہے جوحضور پرنورسیدناغوث اعظم صلی اﷲتعالٰی علٰی جدہ الکریم وعلیہ وسلم کے ایک مرید پرحضورکے پیچھے نمازمیں واقع ہوئی کہ سجدہ میں جاتے ہی جسم گھلنے لگاگوشت پوست، استخواں سب فناہوگیا صرف ایک قطرہ آب باقی رہا۔ حضرت غوثیت رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے بعد نمازروئی کے پارہ میں اٹھاکر دفن کردیا اورفرمایا سبحان اﷲ ایک تجلی میں ساعت قیامت ہے یہ آسمان وزمین اورجوکچھ ان کے درمیان ہے سب کوفناکردے گی اسی لئے باری عزوجل اس دن یوں ارشاد فرمائے گا:
لمن الملک الیوم۱؎
کل تک سب کہتے تھے یہ ملک میری ہے یہ ملک میراہے آج بتاؤ کس کی بادشاہی ہے۔ پھرخودہی فرمائے گا
للّٰہ الواحد القہار۲؎
ایک اﷲ قہروالے کی۔ اس وقت باسم قہاراپناوصف بیان فرمائے گا کہ وہ تجلی شان قہرکی ہوگی،
وحسبنااﷲ۔
(۱؎ القرآن الکریم ۴۰/ ۱۶)(۲؎القرآن الکریم ۴۰/ ۱۶ )
شعردوم : خاکی بدن مقیدکیونکر جمال حق کا مطلق کی شان کیا ہے اس کی مثال بولو
الجواب: اس کی ایک ظاہری مثال یوں سمجھنی چاہئے کہ جیسے آفتاب کانوراپنی ذات میں ایک ہے، نہ اس میں صورتوں کااختلاف ہے نہ قوت وضعف کافرق ہے، نہ جداجدارنگ ہیں، نہ متعدد نام ہیں، وہی نورواحد پہلی شب کے چاندپرپڑا اوریہاں یہ صورت پیداکی کہ اس کانام ہلال ہوا، پھر ہرروزنئی صورت اورزیادہ ترقی وقوت ہوتی رہی، شب چہاردہم اسی نورسے بدرکی صورت پیداہوئی، پھراس میں ضعف آتاگیا یہاں تک کہ فناہوگیا۔ وہی نورواحد آئینہ مصفّاپرپڑے توکیسی جھلک دیتاہے کہ نگاہ خیرہ وحیران اوردیواروں پرعکس نمایاں ہوا، اورصفائی آئینہ میں کمی ہے تونورمیں کمی اورزمین پرپڑنے میں وہ بات کوسوں نہیں کولوں وغیرہ سیاہ بے تابش چیزوں میں ایک ظہورکے سوا اورکچھ اثرنہیں ہوتاوہی ایک نورہے کہ جب قریب اُفق جانب شرق سے طولانی شکل پرچمکتاہے اس کاصبح اول نام رکھتے ہیں پھرجب پھیلتاہے وہی صبح صادق ہوتی ہے پھرجب سرخی لاتاہے وہی شفق ہے جب دن نکل آتاہے وہی دھوپ ہے یونہی بعد غروب اس کے ظہور کے تفاوت ہیں تودیکھوایک آفتاب کی تجلی اوراتنے اختلاف، اورہرحالت کے اعتبارسے اس کے جدانام ہیں اور جدا اوصاف، باایں ہمہ وہ نوراپنی ذات میں ایک ہے، اس میں کوئی تغیر نہیں، نہ وہ صبح اول کے وقت طویل ہوگیاتھا نہ صبح ثانی کے وقت چوڑا، نہ شفق کے وقت اس نے لباس سرخ پہنانہ دن نکلتے زردیاسفید، نہ ہلال پرچمکتے وقت کمان ہوگیاتھا نہ بدرپرپڑتے بشکل دائرہ، نہ آئینہ پرچمکتے وقت قوت پائی تھی نہ زمین پرآتے ہوئے ضعف، مگریہ سب اختلاف تغیرمظاہرمیں ہیں جن کے باعث اس شے واحد کی اتنی تعبیریں اور اس قدرحالتیں ہوگئیں۔ پس یہ مثال نورمطلق ذات باری عزوجل کی سمجھناچاہئے کہ واحد حقیقی ہے تغیر واختلاف کواصلاً اس کے سراپردہ عزت کے گردبارنہیں، پرمظاہر کے تعدد سے یہ مختلف صورتیں بے شمارنام بے حساب آثارپیداہیں جنہیں ہم عالم نام رکھتے ہیں یہ ظاہری تفہیم کے لئے ایک بہت ناقص وناکارہ وناتمام مثال ہے
وﷲ المثل الاعلٰی۱؎
(اوران کی شان سب سے بلند ہے۔ت) اس سے زائد بیان سے باہراورمرتبہ عقل سے وراء ہے۔ تاکرابخشند وبکہ روزی دارند(یہاں تک کہ کس کوبخشیں گے اور کس کو روزی دیں گے۔ت)
(۱؎ القرآن ۱۶/ ۶۰)