Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
140 - 145
مسئلہ ۳۱۲ :  ازلاہور مسجدبیگم شاہی ٹولی مولوی احمددین صاحب ۹رجب ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکہتاہے چجرہ خوانی دام تزویرہے اوراس پر بہارستان مولاناجامی سے یہ عبارت نقل کرتاہے:
ازحضرت سیدبہاؤالدین صاحب نقشبندرحمۃ اﷲ علیہ پرسیدندکہ حضرت شجرہ شماچیست، فرمودند کہ کسے ازشجرہ خوانی بجائے نرسد، پس خدائے عزوجل رابیگانگی می شناسیم وبہمہ انبیاء واولیاء ایمان آریم ومقیدسلسلہ نیستیم۔
حضرت سیدبہاؤالدین نقشبند علیہ الرحمہ سے لوگوں نے پوچھاکہ اے حضرت ! آپ کاشجرہ کیاہے؟ فرمایا شجرہ پڑھنے سے کوئی کسی مقام تک نہیں پہنچا، پس ہم اﷲ عزوجل کو وحدہ لاشریک مانتے ہیں اورتمام انبیاء اولیاء پر ایمان لاتے ہیں کسی سلسلہ کے مقیّدنہیں ہیں۔(ت) 

یہ قول صحیح ہے یاغلط؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب: یہ قول محض باطل ہے اوراس میں ہزارہااولیائے کرام پرحملہ ہے اوربہارستان سے جوعبارت نقل کی، ساختہ ہے، اس میں شجرہ خوانی یاشجرہ کالفظ کہیں نہیں اور ''پس خدائے عزوجل'' سے اخیرتک ساری عبارت اپنی طرف سے بڑھائی ہوئی ہے بہارستان میں نہیں۔ شجرہ حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تک بندے کے اتصال کی سندہے جس طرح حدیث کی اسنادیں، امام عبداﷲ بن مبارک رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کہ اولیاء وعلماء ومحدثین وفقہاء سب کے امام ہیں
فرماتے ہیں:
لولاالاسناد لقال فی الدین من شاء ماشاء۔۱؎
اگراسناد نہ ہوتا توجس کاجودل چاہتادین میں کہہ دیتا۔(ت)
 (۱؎ صحیح مسلم     مقدمۃ الکتاب     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۱۲)
شجرہ خوانی سے متعدد فوائد ہیں: اوّل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تک اپنے اتصال کی سند کاحفظ۔

دوم صالحین کاذکرکہ موجب نزول رحمت ہے۔

سوم نام بنام اپنے آقایان نعمت کو ایصال ثواب کہ ان کی بارگاہ سے موجب نظرعنایت ہے۔

چہارم جب یہ اوقات سلامت میں ان کانام لیوارہے گا وہ اوقات مصیبت میں اس کے دستگیرہوں گے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تعرّف الی اﷲ فی الرخاء یعرفک فی الشدۃ۔ رواہ ابوالقاسم ۲؎ بن بشران فی امالیہ عن ابی ھریرۃ وغیرہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھم بسند حسن۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
توخوشحالی میں اﷲ تعالٰی کوپہچان وہ مصیبت میں تجھ پرنظرکرم فرمائے گا۔ اس کو ابوالقاسم بن بشران نے امالی میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اوراسی کے غیرنے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے سندحسن کے ساتھ روایت کیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ کنزالعمال     حدیث ۳۲۲۱        مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۲/ ۷۹)
مسئلہ ۳۱۳ :  ازآنولہ محلہ کٹرہ پختہ کوچہ بنگلہ ضلع بریلی مسئولہ عبدالصمد ۲۰رمضان ۱۳۳۹ھ

علمائے شریعت وہادیان طریقت کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ زیدکی مختلف حالتیں ہوئیں، کبھی فسق وفجورکی طرف مائل رہتاتھا اورکبھی عبادت الٰہی میں مستغرق ہوجاتاتھا، آخرمیں وہ کئی پیروں سے بیعت ہوکرمختلف قسم کی ریاضتیں اوربہت سی عبادتیں کیں اورچلّے کئے، اب وہ ولایت کامدعی ہے اورکہتاہے میں قطب ارشاد ہوں، اب وہ فسق وفجورکی طرف مائل ہونے کی یہ وجہ بتاتاہے کہ پہلے میں اس لئے کرتاتھاکہ لوگ مجھ پربدگمان رہیں اورمیری ولایت ظاہرنہ ہو اوراب چونکہ خدائے تعالٰی نے حکم دیاہے اس لئے اپنی ولایت ظاہرکرتاہوں۔ اورلوگوں سے بیعت بھی لیتاہے حالانکہ اس کو کسی ظاہری پیرسے اجازت نہیں ملی ہے لیکن وہ کہتاہے کہ خداکی طرف سے بذریعہ الہام مجھے اجازت ملی ہے اوراب کسی بندہ کی طرف رجوع کرنامیرے لئے ناجائزہے، اس کے آثاریہ ہیں کہ اس کی توجہ میں بڑازبردست اثرہے اس سے بیعت کرنے کے تھوڑے دنوں بعد لطیفہ قلب روشن ہوکرذکرجاری ہوجاتاہے اس کامجلس پربھی اثرہوجاتاہے اوراس سے بیعت کرنے پربہت سے گمراہ آدمی پابندصوم وصلوٰۃ ہوجاتے ہیں اوران نغ دل میں عشق الٰہی بھرجاتاہے اوردیوانہ وارپھرتے ہیں اس کی سرّی نماز میں بہت شوروغل ہوتاہے اورکبھی جذبہ آتاہے رقص بھی کرتے ہیں، کیامذکورہ بالاصفات کے ساتھ موصوف شخص سے جوکسی ظاہری پیر سے اجازت یافتہ نہ ہو بیعت کرنا اوراسے بیعت لیناجائزہے یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب : ایسے شخص کو بیعت لیناجائزنہیں اور اوراس کے ہاتھ پربیعت ناجائز ؎
اے پسرشرط صحت بیعت         درطریقت اجازت سلف ست

بدغل سکہ نہ بہرہ مزن             کان رہ کاسدان ناخلف ست۱؎
 (اے بیٹے! بیعت کے صحیح ہونے کی شرط، طریقت میں اسلاف کی اجازت ہے۔ فریب کے ساتھ مٹی کے برتن پرمہرمت لگاکہ یہ طریقہ کھوٹے نااہلوں کاہے۔ت)
(۱؎ سبع سنابل     سنبلہ دوم دربیان پیری ومریدی     مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور    ص۴۰)
حضرت سیدی بایزیدبسطامی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ودیگر اکابرکرام قدست اسرارہم فرماتے ہیں:
من لاشیخ لہ فشیخہ الشیطان۔۲؎
بے پیرے کاپیرشیطان ہوتاہے۔
 (۲؎ عوارف المعارف    الباب الثانی عشرۃ مطبعۃ المتشہد الحسینی ص۷۸   والرسالۃ القشیریۃ باب الوصیۃ للمریدین     ص۱۸۱)
یہ جوظاہری ذوق وشوق لوگوں میں دیکھاجاتاہے قابل اعتبارنہیں شیطان کی طرف سے بھی ہوتاہے اوراس پرواضح دلیل نماز میں شوروغل مچانا، اوررقص کرنایہ نہیں مگر شیطان کی طرف سے کہ نمازفاسد کرے، صحابہ کرام واکابراولیاء عظام سے ایساکبھی منقول نہ ہواان سے زیادہ تاثیروبرکت کس کی ہوسکتی ہے مگرصادقین سے برکت ہوتی ہے اورکاذبین سے حرکت۔
قال اﷲ تعالٰی ولاتبطلوااعمالکم۳؎
اپنے عمل باطل نہ کرو۔
وقال تعالٰی وقومواﷲ قٰنتین۴؎
اﷲ کے حضور ادب سے کھڑے رہو۔ اس کااقرارکرناکہ فسق وفجورکرتاتھا اوراس کاعذر بیان کرناکہ اخفاء ولایت کے لئے تھا، عذربدترازگناہ ہے۔ حضرات ملامتیہ قدست اسرارہم کی ریس کرتاہے، وہ کبھی مستحب بھی ترک نہیں کرتے معاذاﷲ فسق وفجورکیامعنی ؎
اوگمان بردہ کہ من کردم چو        اوفرق راکہ بیندآں استیزہ جو
 (اس نے گمان کیاکہ میں نے بھی اس کی مثل کیا، وہ جنگجوفرق کو کب دیکھتاہے۔ت)
 (۳؎ القرآن الکریم     ۴۷/ ۳۳ )          ( ۴؎ القرآن الکریم ۸/ ۲۳۸)
شیطان کے دھوکے اس سے بہت زیادہ سخت ہوتے ہیں، حضرت سیدی ابوالحسن جوسقی خلیفہ حضرت سیدی علی بن ہیتی فیض یافتہ بارگاہ سرکارغوثیت رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اپنے ایک مریدکواعتکاف میں بٹھایاایک شب حجرہ سے زارزاررونے کی آوازآئی، دروازہ پرتشریف لے گئے، حال پوچھا، عرض کی شب قدرمیرے پیش نظرہے آفاق نورسے روشن ہیں درودیوار حجروشجرسجدے میں گرے ہیں میں سجدہ کرناچاہتاہوں سینے میں ایک لوہے کی سلاخ ہے کہ جھکنے نہیں دیتی اس پرروتاہوں۔ فرمایا: اے فرزند! یہ لوہے کی سلاخ وہ سِرہے جومیں نے تیرے سینے میں القاکیاہے وہ تجھے جھکنے نہیں دیتا یہ شب قدرنہیں شیطان کاشعبدہ ہے۔ یہ فرماکردونوں دست مبارک پھیلائے اورآہستہ آہستہ انہیں قریب لاتے گئے جتناہاتھ سمٹتے وہ نورتاریکی سے مبدل ہوتاتھا جب دونوں ہاتھ مل گئے واویلااورفریاد کی آوازآئی۔ فرمایا: اب تومیرے مریدوں کواغوانہ کرے گا۔ یہ فرماکر چھوڑدیا۔ وہ جھوٹاکرشمہ سب باطل ہوگیا۔ اس کے دھوکے اس سے بھی سخت ہیں، والعیاذباﷲ تعالٰی۔ اوراس کاوہ کلمہ کہ ''اب کسی بندہ کی طرف رجوع میرے لئے ناجائزہے'' اگراپنے ظاہرعموم پررکھاجائے توصریح کلمہ کفرہے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بھی بندے ہیں اوران سے کسی وقت بے نیازی کسی نبی مرسل کوبھی نہیں ہوسکتی نہ کہ این وآن۔
والعیاذباﷲ تعالٰی من وساوس الشیطان ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیمo واﷲ تعالٰی اعلم۔
شیطان کے وسوسوں سے اﷲ تعالٰی کی پناہ، بلندی وعظمت والے معبود کی توفیق کے بغیرکوئی طاقت وقوت نہیں، اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۳۱۴:  ازمدرسہ منظراسلام بریلی مسئولہ مولوی عبداﷲ بہاری     ۳شوال ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدخاندان قادریہ میں ایک بزرگ سے بیعت ہوا 

لیکن ان بزرگ صحاحب نے کچھ نصیحت احکام شرعیہ کی نہ کی اورچندہی روز کے بعد ان کاانتقال ہوگیا اب زیدخاندان قادریہ میں کسی دوسرے بزرگ سے بیعت حاصل کرسکتاہے یا نہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)

الجواب : اگروہ پیرجامع شرائط بیعت تھے یعنی عالم، سنی،صحیح العقیدہ، متصل السلسلہ، غیرفاسق، تودوسرے کے ہاتھ پربیعت نہ کرے فیض لے سکتاہے۔ اوران چار شرطوں میں سے کوئی شرط کم تھی تواس کے ہاتھ پربیعت جائزہی نہ تھی، دوسرے سے بیعت کرے جوان شرائط کاجامع ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter