| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
مسئلہ ۳۰۸ : ازضلع چاندہ ممالک متوسط نزول سرورآفس مسئولہ رحیم بخش خاں محمد شہزادخاں ۲۳محرم ۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کمترین ایک مولوی وحیدصاحب نامی کے ہاتھ پربیعت ہواتھا دس بارہ برس تک برابرخدمت کرتارہا جہاں تک ہوسکتااپنی برادری کے لوگوں کوبھی آپ کی بیعت میں داخل کرایا، جب مولوی صاحب کارسوخ ہماری برادری میں اچھی طرح اثرپذیرہوگیاتو مولوی صاحب لگے ہماری برائی کرنے، جب مجھے اس کی خبرہوئی توحاضرخدمت ہوکرعرض کیاکہ خاکسارخادم قدیم سے کچھ قصورہواہے توحضورمجھ کوسزادیتے عام لوگوں میں بلاسبب رسواکرناکیامصلحت ہے، اس پرجھوٹی قسم کھاگئے کہ ہم نے کچھ کسی سے نہ کہا، اتفاق سے وہ لوگ بھی موجودتھے اس وقت مولوی صاحب بہت نادم ہوئے، میں خاموش ہوگیا، وقت گذشت کیا، کیونکہ ہرطرح سے اپنی برائی ہوتی تھی اگرچہ مولوی صاحب کی ہی غلطی کیوں نہ ہو۔
دوسرے آپ نے ایک شادی بھی اس بستی کی ایک ایسی عورت سے کرلی جومریدبھی نہیں اورجس کاشوہرمفقودالخبرہوگیاہے، اس سے تمام بستی کے لوگ بدگمان وبدعقیدہ ہوگئے یہاں تک کہ نمازبھی ان کے پیچھے نہ پڑھتے تھے، تابعدارنے اپناپیربنالیاتھا، اس لئے بہت ہی کوشش وبستی کے لوگوں کی خوشامد کرکے فساد کورفع دفع کرایا مگرچندروزکے بعد آپ نے اپنی منکوحہ صاحب کوعلانیہ مسجدمیں بلاپردہ آنے پرکچھ روک ٹوک نہ کیا یہاں تک کہ مسجد کے پابندنمازی لوگوں نے بھی کہامگرجواب یہ ملاکہ لونڈی ہے کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ لوگوں نے کہا ہماری پٹھان برادری کی لڑکی ہے لونڈی کیسے ہوسکتی ہے۔ غرضیکہ بہت شرپیداہوگیا۔ نہ بی بی صاحبہ پردہ میں رہتی ہیں نہ مولوی صاحب تنبیہ کرسکتے ہیں۔ ایسی حالت میں تین بچے بھی ہوگئے مگرحالت ہنوز روزاول ہے اب یہ ہوگیاہے کہ نئے نئے لُچّے لفنگے روزمریدہوتے ہیں۔ غریب پابندصوم وصلاۃ کے قدیم خدمت گزار مردودعلانیہ بنائے جاتے ہیں۔ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ ہمارامردودکیاہوا خداورسول اورپیروں کامردودہے ہماری بی بی امہات المومنین ہیں مریدوں کے لئے۔ ہرروزنئے نئے جھگڑے فساد برپاہوتے رہتے ہیں۔ آج ایک مرید کومقبول بنایا کل دوسرے کومردودکیا، یہ سب باتیں توظاہرہیں، علاوہ اس کے ایسے حالات ہیں جن کااظہار کرنازبان گوارانہیں کرتی۔ یہ خاکسار عجیب پریشانی میں ہے۔ خداکے واسطے رسول کے واسطے اوراپنے طریقت کے بزرگوں کے واسطے مجھے کوئی راہ نجات کی بتائیں، یہ کہ ایسی حالت میں کسی دوسرے صاحب شریعت وطریقت کے ہاتھ پربیعت کرسکتاہوں یانہیں؟ اورایسے شخص کی بیعت فسخ ہے یانہیں؟
الجواب : پِیرمیں چارشرطیں لازم ہیں: اول سنی صحیح العقیدہ مطابق عقائد علماء حرمین شریفین ہو۔ دوسرے اتناعلم رکھتاہو کہ اپنی ضرورت کے مسائل کتاب سے خود نکال سکے۔ تیسرے فاسق معلن نہ ہو۔ چوتھے اس کاسلسلہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تک متصل ہو۔
جس میں یہ چاروں شرطیں جمع ہیں اس کے ہاتھ پربیعت جائزہے اورایسے پیرکے افعال واقوال پراعتراض سخت حرام اورموجب محرومی برکات دارین ہے، اس کی جوبات اپنے ذہن میں خلاف معلوم ہو واجب ہے کہ اچھی تاویل کرے اورتاویل میں سمجھ نہ آئے تویہ سمجھے کہ اس کاکوئی عمدہ منشاہوگا جومیری سمجھ میں نہ آیا،اب آپ اپنے پیرکودیکھئے ان چارشرطوں میں سے اگرکسی شرط کی کمی ہے توبیعت ناجائزہوئی، آپ کوچاہئے کہ کسی پیرجامع شرائط پربیعت کریں، کمی شرط کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ اس کی منکوحہ باریک کپڑے پہنے جن سے بدن یابال چمکتے ہوں، یابالوں یاگلے یاکلائی یاپنڈلی کاکوئی حصہ ظاہرہو یاکپڑے اتنے چست ہوں کہ بدن کی ہیأت بتاتے ہوں اوروہ یوں علانیہ مجمع مرداں میں آتی ہے اور شوہر جائزرکھے تو دیّوث فاسق معلن ہے قابل پیری نہیں، اوراگرایسانہیں اورچاروں شرطیں جمع ہیں تواس پراعتراض جائزنہیں اوراس کی بیعت سے روگردانی منع ہے، وہ قسم جواس نے کھائی اس میں تاویل یہ سمجھے کہ ہم نے خود کسی سے کچھ نہ کہا بلکہ ہم سے کہلوایاگیا اس طرح حضرت سیدتنا کلثوم بنت حضرت خاتون جنت رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے اپنے شوہرسیدناعمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے جنازے پرجوفضائل ان کے بیان کئے ان کے والد امیرالمومنین علی کرم اﷲتعالٰی وجہہ الکریم نے فرمایا:
واﷲ ماقالت ولکن قولت۱؎
خدا کی قسم یہ انہوں نے نہ کہے بلکہ ان سے کہلوائے گئے،اوراس کاکہناکہ مریدوں کے لئے میری بیوی امہات المومنین ہیں اگرچہ سخت معیوب وناشائستہ ہے مگرنہ اس قابل کہ چاروں شرطیں ہوتے ہوئے اس کی بیعت فسخ کی جائے۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ تاریخ الامم والملوک للطبری من ندب عمرورثاہ رضی اﷲ عنہ دارالقلم بیروت ۵/ ۲۸)
مسئلہ ۳۰۹ : ازشہرمحلہ سوداگراں مسئولہ احسان علی طالب علم مدرسہ منظرالاسلام ۱۸صفر۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت بغیراجازت شوہرکے مریدہوسکتی ہے یانہیں؟ اگربغیراجازت ہوگئی تو کیاحکم ہے؟ الجواب : ہوسکتی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۱۰ : ازکھنڈیا ضلع ریاست رامپور مسئولہ عزیزاحمد ۲جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چندلوگ سنبھل مکن پورکے اس طرح بیعت کرتے ہیں کہ پیالہ پلاتے ہیں اوربندگان خدا کوکسی قسم کی تعلیم نہیں کرتے یہی لوگ موضع کھنڈیاعلاقہ ریاست رامپورمیں جمع ہوئے اوربیان کیاکہ طریقہ بیعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یہی ہے۔ ایک صاحب خاندان قادریہ کے وہاں موجودتھے انہوں نے کہاکہ چارطریق سے بیعت شرعاً جائزہے ایک بذریعہ خواب کے دوسرے قبرسے تیسرے پیالہ پلاکرچوتھے اس شخص سے جوصاحب اجازت نہ ہو۔ ان دونوں بیانوں میں کون ساصحیح ہے؟بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب : اس شخص نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرافتراء کیاکہ حضورکاطریقہ بیعت پیالہ پلاناتھا حاش ﷲ بلکہ ہاتھ پرہاتھ مارنا، اوریہی طریقہ آج تک مشائخ میں ہے پیالہ پلانا بھنگڑوں بیقیدوں کے یہاں ہے، اﷲ عزوجل فرماتاہے:
ان الذین یبایعونک انما یبایعون اﷲ یداﷲ فوق ایدیھم۱؎۔
اے نبی ! یہ جوتم سے بیعت کررہے ہیں یہ تو اﷲ سے بیعت کرتے ہیں یہ تمہارا ہاتھ ان کے ہاتھوں پرنہیں اﷲ کادست قدرت ان کے ہاتھوں پرہے۔ معلوم ہواکہ طریقہ بیعت ہاتھ پرہاتھ رکھناتھانہ کہ پیالہ پلاناتھا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ القرآن الکریم ۴۸/ ۱۰)
مسئلہ۳۱۱ : ازمدرسہ منظرالاسلام بریلی مسئولہ محمدثناء اﷲ طالب علم ۲۸جمادی الآخر۱۳۳۹ھ کیافرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدعلم دین حاصل کررہاہے اس کاارادہ یہ ہے کہ جب میں فارغ التحصیل ہوجاؤں گا تومیں جہاں جہاں بزرگ لوگ ہیں وہاں جاکر ان سے ملاقات کروں گا اور جس سے دل گواہی دے گا اس ہی سے مریدہوجاؤں گا۔ علم کے حاصل کرنے کے زمانہ میں چندلوگ اہل وطن اورغیروطن ایک بزرگ کے مریدہوئے اورزیدسے بھی اصرارکیا کہ تم بھی مریدہوجاؤ، بعداصرار کے زیدبھی مریدہوگیا، آیا شرعاً مریدہوایانہیں؟ الجواب : اگران کے اصرار کے بعد اس کے دل میں عقیدت آگئی اوربالقصدمریدہوا مریدہوگیا، اورصرف ان کے اصرار کے سبب بے دلی سے بیعت کی مریدنہ ہواکہ ارادت قلب سے ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم