| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
مسئلہ ۲۹۹ و ۳۰۰: ازشہرکہنہ بریلی قاضی ٹولہ مرسلہ حکیم حاجی سیدمحمدنوراﷲ شاہ اشرفی الجیلانی کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: (۱) بیعت ہونے میں والدین یاشوہر وغیرہ کی اجازت شرط ہے یانہیں؟ (۲) اپنامرشد انتقال کرگیاہو یاموجودہو مگربوجوہات معقولہ واقعہ اس سے تعلیم محال ہوتوبغرض تعلیم طریقہ کرام دوسرے شیخ سے طالب ہونااولٰی ہے یابے علم رہنابہتر؟
الجواب (۱) جوپیرسنی صحیح العقیدہ عالم غیرفاسق ہو اور اس کاسلسلہ آخرتک متصل ہواس کے ہاتھ پر بیعت کے لئے والدین خواہ شوہر کسی کی اجازت کی حاجت نہیں۔ (۲) جہل سے طلب اولٰی ہے مگرپیرصحیح سے انحراف جائزنہیں، جوفیض ملے اسے شیخ ہی کی عطاجانے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۰۱ تا ۳۰۴: ازشہرغازی پور مرسلہ علی بخش محرررجسٹری ۱۴شوال ۱۳۳۷ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ: (۱)کسی بزرگ سے بذریعہ خط بیعت ہوسکتی ہے یانہیں؟ (۲) اگرکسی شخص کو کسی بزرگ سے عقیدت ہو اوربوجہ دوری وہ شخص اس بزرگ کی خدمت میں حاضرنہ ہوسکے تو وہ شخص اس بزرگ سے کیسے مریدہوسکتاہے یاہوہی نہیں سکتا کسی طرح پر؟ (۳) ایک وظیفہ ایساارشاد فرمائیے اوراجازت دیجئے جس میں صرف محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پڑھناہوچاہے بطرق شغل قادریہ یاچشتیہ وغیرہایاکسی اورطریقہ پرہو۔ (۴) ایک مختصردرودشریف ایساتحریرفرمائیے اور اس کی اجازت دیجئے کہ جوغیرمنقوط ہویعنی جس میں کسی حرف پرنقطہ نہ ہو۔
الجواب (۱) بذریعہ خط بیعت ہوسکتی ہے۔ (۲) بذریعہ قاصدیاخط مریدہوسکتاہے۔ (۳) وظیفہ کے لئے پوراکلمہ طیبہ مناسب ترہے مگراس کے ساتھ درودشریف لاناضرورہے یعنی یوں ورِدکرے
لاالٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
اور صرف جز ثانی مع درودکابھی وردکرسکتاہے مگرمبتدی یاطالب کہ محتاج تصفیہ ہے اسے صرف جزء اول کاذکروشغل بتاتے ہیں کہ اس میں حرارت ہے اوردوسراجز کریم ٹھنڈالطیف اورتزکیہ گرمی پہنچانے کامحتاج، ہاں جب جز اول سے حرارت حد سے متجاوز ہوتوتعدیل کے لئے بتاتے ہیں کہ مثلاً ہرسوبار
لاالٰہ الااﷲ
کے بعد ایک بار
محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
کہہ لے کہ تسکین پائے۔
(۴) اس کی حاجت کیاہے، وہ صیغہ مثلاً یہ ہوسکتاہے
اللّٰھم صلّ وسلّم لرسولک محمد واٰلہٖ،
اس میں لام بمعنی علٰی ہے آپ اس کاورد کریں اجازت ہے۔
مسئلہ ۳۰۵ تا ۳۰۷ : ازعلی گڑھ محلہ دویکاپڑاؤ مرسلہ محمدنصیرالدین صاحب مورخہ ۲۲ذوالحجہ ۱۳۳۷ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ: (۱) زیدکہتاہے کہ بیعت کرنایعنی جوآج کل عرف میں پیری مریدی سے مشہورہے سنت نہیں ہے کیونکہ حدیث شریف میں اس کا ثبوت نہیں ہے۔ اورعمروکہتاہے کہ سنت ہے۔ (۲) زیدمذکور باوجود مسجدمیں بروقت جماعت حاضرہونے کے بلاوجہ شرعی جماعت سے علیحدہ نماز پڑھتاہے محض اسی بنیادپرکہ مسئلہ اول میں عمرو کے ساتھ اتفاق نہیں ورنہ کوئی وجہ نہیں۔ (۳) زیدمذکور اپنے پیش امام سے جوکہ استادبھی ہیں سلام وکلام سے پرہیزکرتاہے اوربجائے احسان ماننے کے غیروں سے کہتاہے وہ کیاجانے ہم سے مقابلہ کرالو، اس کی وجہ بھی مذکورہے ان سب صورتوں میں شرعاً کیاحکم ہے؟
بیّنوابحوالۃ الکتاب وتوجرواعنداﷲ بحرالثواب
(بحوالہ کتاب بیان فرمائیے اﷲ تعالٰی کے بحرثواب سے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب : بیعت بیشک سنت محبوبہ ہے، امام اجل شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ کی عوارف شریف سے شاہ ولی اﷲ دہلوی کی قول الجمیل تک اس کی تصریح اورائمہ واکابر کااس پرعمل ہے، اور رب العزت عزوجل فرماتاہے:
ان الذین یبایعونک انما یبایعون اﷲ۱؎۔
بیشک وہ جوتمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تواﷲ ہی کی بیعت کرتے ہیں۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴۸/ ۱۰ )
اورفرماتاہے:
یداﷲ فوق ایدیھم ۲؎
ان کے ہاتھوں پراﷲ کاہاتھ ہے۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۴۸/ ۱۰)
اورفرماتاہے:
لقدرضی اﷲ عن المؤمنین اذیبایعونک تحت الشجرۃ۔۳؎
بے شک اﷲ تعالٰی راضی ہواایمان والوں سے جب وہ اس پیڑکے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔(ت)
(۳؎القرآن الکریم ۴۸/ ۱۸ )
اوربیعت کوخاص بجہادسمجھنا جہالت ہے، اﷲ عزوجل فرماتاہے:
یاایھا النبی اذا جاءک المؤمنٰت یبایعنک علٰی ان لایشرکن باﷲ شیئا ولایسرقن ولایزنین ولایقتلن اولادھن ولایاتین ببھتان یفترینہ بین ایدیھن وارجلھن ولایعصینک فی معروف فبایعھن واستغفرلھن اﷲ ان اﷲ غفوررحیم۔۴؎
اے نبی! جب تمہارے حضورمسلمان عورتیں حاضرہوں اس پربیعت کرنے کو اﷲ کاکچھ شریک نہ ٹھہرائیں گی اورنہ چوری کریں گی اورنہ بدکاری اورنہ اپنی اولاد کوقتل کریں گی اورنہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اورپاؤں کے درمیان یعنی موضع ولادت میں اٹھائیں اورکسی نیک بات میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی توان سے بیعت لو اوراﷲ سے ان کی مغفرت چاہوبیشک اﷲ بخشنے والامہربان ہے۔(ت)
(۴؎القرآن الکریم ۶۰ /۱۲)
زیدبوجہ ترک جماعت فاسق فاجرمردودالشہادۃ مستوجب عذا ب نارہے۔ زیدبلاوجہ شرعی اپنے باطل خیال کے باعث مسلمان سے ترک سلام وکلام کرکے دوسرے جرم کامرتکب ہوااورجبکہ امام اس کااستادبھی ہے توعاق بھی ہوا، اوراس پر ان حرکات شنیعہ سے توبہ فرض ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔