| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
مسئلہ ۲۹۸: ازریاست رامپور محلہ گھیرزبیرخاں مرسلہ مرزامحمدفاروق بیگ صاحب ۱۰/شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ حقوق پیربغرض تصحیح وترمیم: (۱) یہ اعتقادکرے کہ میرامطلب اسی مرشد سے حاصل ہوگا اوراگردوسری طرف توجہ کرے گا تومرشد کے فیوض وبرکات سے محروم رہے گا۔ (۲) ہرطرح مرشد کامطیع ہو اورجان ومال سے اس کی خدمت کرے کیونکہ بغیر محبت پیرکے کچھ نہیں ہوتا اورمحبت کی پہچان یہی ہے۔ (۳) مرشدجوکچھ کہے اس کوفوراً بجالائے اوربغیراجازت اس کے فعل کی اقتدانہ کرے کیونکہ بعض اوقات وہ اپنے حال ومقام کے مناسب ایک کام کرتاہے کہ مرید کواس کاکرنازہرقاتل ہے۔ (۴) جووِرد وطیفہ مرشد تعلیم کرے اس کوپڑھے اورتمام وظیفے چھوڑدے خواہ اس نے اپنی طرف سے پڑھنا شروع کیا ہو یاکسی دوسرے نے بتایاہو۔ (۵) مرشد کی موجودگی میں ہمہ تن اسی کی طرف متوجہ رہناچاہئے یہاں تک کہ سوائے فرض وسنت کے نمازنفل اورکوئی وظیفہ ا س کی اجازت کے بغیرنہ پڑھے۔ (۶) حتی الامکان ایسی جگہ نہ کھڑاہوکہ اس کاسایہ مرشد کے سایہ پریا اس کے کپڑے پرپڑے۔
(۷) اس کے مصلے پرپَیر نہ رکھے۔ (۸) اس کی طہارت یاوضو کی جگہ طہارت یاوضونہ کرے۔ (۹) مرشد کے برتنوں کواستعمال میں نہ لائے۔ (۱۰) اس کے سامنے نہ کھاناکھائے نہ پانی پیئے اورنہ وضوکرے، ہاں اجازت کے بعد مضائقہ نہیں۔ (۱۱) اس کے روبرو کسی سے بات نہ کرے،بلکہ کسی کی طرف متوجہ بھی نہ ہو۔ (۱۲) جس جگہ مرشدبیٹھتاہو اس طرف پَیرنہ پھیلائے اگرچہ سامنے نہ ہو۔ (۱۳) اوراس طرف تھوکے بھی نہیں۔ (۱۴) جوکچھ مرشد کہے اورکرے اس پراعتراض نہ کرے کیونکہ جوکچھ وہ کرتاہے اورکہتاہے اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئے توحضرت موسٰی وخضرعلیہماالسلام کاقصہ یادکرے۔ (۱۵) اپنے مرشد سے کرامت کی خواہش نہ کرے۔ (۱۶) اگرکوئی شبہہ دل میں گزرے توفوراً عرض کرے اوراگروہ شبہہ حل نہ ہوتا تواپنے فہم کانقصان سمجھے اوراگراس کاکچھ جواب نہ دے توجان لے کہ میں اس کے جواب کے لائق نہ تھا۔ (۱۷) خواب میں جوکچھ دیکھے وہ مرشد سے عرض کرے اوراگراس کی تعبیر ذہن میں آئے تو اسے بھی عرض کردے۔ (۱۸) بے ضرورت اوربے اذن مرشد سے علیحدہ نہ ہو۔ (۱۹) مرشد کی آوازپراپنی آوازبلندنہ کرے اوربآوازاس سے بات نہ کرے اوربقدرضرورت مختصرکلام کرے اورنہایت توجہ سے جواب کامنتظررہے۔ (۲۰) اورمرشد کے کلام کودوسرے سے اس قدربیان کرے جس قدرلوگ سمجھ سکیں اورجس بات کویہ سمجھے کہ لوگ نہ سمجھیں گے تواسے بیان نہ کرے۔ (۲۱) اورمرشد کے کلام کورَد نہ کرے اگرچہ حق مریدہی کی جانب ہو بلکہ اعتقادکرے کہ شیخ کی خطا میرے صواب سے بہترہے۔ (۲۲) اورکسی دوسرے کاسلام وپیام شیخ سے نہ کہے۔ (۲۳) جوکچھ اس کاحال ہوبرایابھلا اسے مرشد سے عرض کرے کیونکہ مرشد طبیب قلبی ہے اطلاع کے بعد اس کی اصلاح کرے گا مرشد کے کشف پراعتماد کرکے سکوت نہ کرے۔
(۲۴) اس کے پاس بیٹھ کر وظیفہ میں مشغول نہ ہو اگرکچھ پڑھنا ہوتو اس کی نظر سے پوشیدہ بیٹھ کر پڑھے۔ (۲۵) جوکچھ فیض باطنی اسے پہنچے اسے مرشد کاطفیل سمجھے اگرچہ خواب میں یامراقبہ میں دیکھے کہ دوسرے بزرگ سے پہنچاہے تب بھی یہ جانے کہ مرشد کاکوئی لطیفہ اس بزرگ کی صورت میں ظاہرہواہے
(کذافی ارشاد رحمانی) قال العارف الرومی
(عارف رومی علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ت): ؎
چوں گرفتی پیربین تسلیم شو ہمچوموسٰی زیرحکم خضررو صبرکن برکار خضراے بے نفاق تانگوید خضر روہذافراق۱؎
جب تونے پیربنالیا توخبردار اب سرتسلیم خم کرلے، موسٰی علیہ السلام کی طرح خضرعلیہ السلام کے حکم کے ماتحت چل اے نفاق سے پاک شخص حضرت خضرعلیہ السلام کے کام پرصبرکرتاکہ خضرعلیہ السلام یہ نہ فرمادیں کہ جایہ جدائی ہے۔ت)
(۱؎ مثنوی معنوی وصیت کردن بررسول خدامرعلی مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور ۱/ ۳۱۱)
قال العطار
(شیخ عطارعلیہ الرحمۃ نے فرمایا۔ت): ؎
(۱) گرہواے ایں سفرداری دلا دامن رہبربگیروپس بیا (۲) درارادت باش صادق اے مرید تابیانی گنج عرفاں راکلید (۳) دامن رہبربگیراے راہ جو ہرچہ داری کن نثارراہ او (۴) گرروی صدسال درراہ طلب راہبرنبودچہ حاصل زان تعب (۵) بے رفیقے ہرکہ شد درراہ عشق عمربگذشت ونشدآگاہی عشق (۶) پیرخودراحکم مطلق شناس تابراہ فقرگردی حق شناس (۷) ہرچہ فرماید مطیع امرباش طوطیائے دیدہ کن ازخاک پاش (۸) آنچہ میگوید سخن توگوش باش تانگویدا وبگوخاموش باش ۱؎
(۱) اے دل! اگرتواس سفرکی خواہش رکھتاہے توکسی راہنما کادامن پکڑ، پھرآ۔ (۲) اے مرید! ارادت میں صادق ہو، تاکہ تومعرفت کے خزانے کی چابی پائے۔ (۳) اے راہ طریقت کے متلاشی! کسی راہنما کادامن پکڑ، جوکچھ تورکھتاہے اس کی راہ میں قربان کردے۔ (۴) اگرتوطلب کی راہ میں سوسال چلتارہے، راہنما اگرنہیں ہے تو اس مشقت کاکیافائدہ ہے! (۵) کسی رفیق کے بغیرجوکوئی عشق کے راستے پرچلا اس کی عمرگزرگئی اوروہ عشق سے آگاہ نہ ہوا۔ (۶) اپنے پِیرکوحاکم مطلق سمجھ، تاکہ فقیری کی راہ میں تو حق کوپہچاننے والاہوجائے۔ (۷) جوکچھ پیرفرمائے اس کے حکم کی اطاعت کرنے والا ہوجا، اس کی خاک پاکوآنکھوں کاسرمہ بنا۔ (۸) پیرجوبات کرے توہمہ تن گوش ہوجا، جب تک وہ نہ کہے کہ بولوتوچپ رہ۔ت)
(۱؎)
الجواب : یہ تمام حقوق صحیح ہیں، ان میں بعض قرآن عظیم اوربعض احادیث شریفہ اوربعض کلمات علماء اوربعض ارشادات اولیاء سے ثابت ہیں اور اس پرخود واضح ہیں جومعنی بیعت سمجھاہواہے، اکابرنے اس سے بھی زیادہ آداب لکھے ہیں،اتنوں پرعمل نہ کریں گے مگربڑی توفیق والے، اورنمبر۱۷سے شیطانی خواب پریشان مہمل مستثنٰی ہے کہ اسے بیان کرنے کوحدیث میں منع فرمایاہے۔ اورنمبر ۲۲عوام مریدین کے لئے ہے جن کو بارگاہ شیخ میں بھی منصب عرض معروض دیگران حاصل نہ ہوایسوں سے اگرکوئی عرض سلام کے لئے کہے عذرکردے کہ میں حضورشیخ میں دوسرے کی بات عرض کرنے کے ابھی قابل نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم