| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
مسئلہ ۲۹۲ : ازشہررجمنٹ اکاکور۶۳ چھاؤنی مسئولہ محمدحسین سہارنپوری ۲۰/ربیع الآخر۱۳۳۶ھ بکرآقاکے کہنے سے ایک شخص کامریدہوگیا، اورنہ بکر واقف تمام مریدہونے کی شرطوں سے، صرف آقا کے حکم سے مریدہوگیا۔ اب بکرملازم بھی نہیں رہا ہے، اب بکرکاخیال ہے کہ میں مریدصادق ہوں یامریدین سے خارج ہوں، کیونکہ پیر کی طرف دل رجوع نہیں کرتا میں چاہتاہوں کوئی پیراورکروں۔ الجواب: اگرپیرسنی صحیح العقیدہ عالم ہے اور اس کاسلسلہ متصل ہے اورفاسق نہیں تو اس سے دل رجوع نہ ہوناشیطانی وسوسہ ہے توبہ کرے اوراس کے ساتھ اپنا اعتقاد درست کرے، اوراگر پیرمیں ان چاروں باتوں سے کوئی بات کم ہے تو وہ پیرنہیں، کوئی اورپیرکہ ان چاروں باتوں کاجامع ہو اس کے ہاتھ پربیعت کرے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۹۳ و ۲۹۴ : موضع رجب پور ڈاک خانہ تحصیل امروہہ ضلع مرادآباد حاجی شبیرعلی ۵جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ (۱)کچھ پیروں نے آج کل پیرامریدی جاری کی ہے کہ جس وقت بچہ پیداہو اس کو گولیاں دی جاتی ہیں وہ گولیاں چھٹی کے دن گھول کر بچہ کے ہونٹوں سے لگادینے سے بیعت ہوگیا۔ یہ پیرامریدی جائزہے یاناجائز؟ جوکچھ حضورحکم صادرفرمائیں عمل کیاجائے۔
(۲) مکنپور کے جوحضرت شاہ بدیع الدین شاہ صاحب جن کاکہ نام دیہات میں مدارصاحب کہتے ہیں سناجاتاہے بزرگوں سے کہ ان کے گھرانے میں پیرامریدی نادرست ہے، علاوہ اس کے سناگیاہے کہ کوئی خلیفہ آپ نے نہیں کیاہے، اوریہ بھی سناہے کہ دوخادم آپ کی خدمت میں رہاکرتے تھے کہ جن کانام یہ ہے، ایک کانام احسن، دوسرے کانام جمّن جتی۔ لہٰذا احسن ندی ہوکر بہہ گیا اورجمن جتی اورکسی سے بیعت ہوگئے، لہٰذا جومکن پور کے پیرجی لوگ ہیں اور یہ پیرامریدی آپ کے نام سے کرتے ہیں یہ پیرامریدی جائزہے یاناجائز؟ جوکچھ حکم حضور صادرفرمائیں عمل کیاجائے۔
الجواب (۱) ایک دن کابچہ بھی اپنے والی کی اجازت سے مریدہوسکتاہے، اورگولیاں بے اصل ہیں، واﷲ تعالٰی اعلم (۲) بہہ جانا وغیرہ بے اصل ہے مگراس فرقہ کے لوگ بے شرع اکثرہیں، اوربے شرع کسی فرقے کاہو اس کے ہاتھ پربیعت ناجائزہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۹۵ و ۲۹۶: ازگلمائزڈاک خانہ ماہی ضلع فریدپورمرسلہ عبدالرحمن صاحب ۲۱ جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ: (۱) زیدطریقہ نقشبندیہ متبرکہ میں بیعت ہوااور اپنے شیخ سے مقامات پوراکیا مگربعض مقام میں قدرے شبہہ رہتی ہے اورخلافت واجازت نہ ملتی ہے،شیخ صاحب کاانتقال ہوگیا، اب زید کے لئے اس شبہہ کودورکرنے اور اجازت وخلافت حاصل کرنے کے واسطے دوسرے مرشدپکڑنا جائزہے یااپنے شیخ سے جوحاصل ہوئی اسی پراکتفا کرناچاہئے؟ اگراسی پراکتفاء کرنے کی کوشش کی توترقی وفیض یاب ہوسکتاہے اورشبہہ باقی ماندہ دورکرسکتاہے یانہیں؟ اگردوسرے مرشدپکڑنا جائزہے تو اسے نقشبندیہ طریقہ کاہوناضروری ہے یادیگر چہارطریقہ میں سے جو ہوکافی ووافی ہوں گے؟ پھراسی نقشبندیہ طریقہ کی جومشائخ زیدکو فی الحال میسرہوتے ہیں اگروہ زیدکے شیخ سے کمالیت واشغال میں کم درجہ کے ہیں ان کومرشد بنائے یاجومشائخ زیدکو مسافت بعیدہ وغیرہ وغیرملکی ہونے کے میسرنہیں ہوتے ہیں حالانکہ وہ سب زیدکے شیخ سے بڑھ کرہے یابرابرہے تواب زید کوفی الحال میسرہوتے ہیں ان سے پوراکرے یاجوغیرمیسرہیں ان کی توقع وامیدپررہے؟
(۲) قادری کوئی شخص دوسرے قادری سے یانقشبنددوسرے نقشبندی سے یاقادری نقشبندی سے یانقشبندی قادری علٰی ہذالبواقی خواہ علی الوفاق ہوئے یاعلی الخلاف بیعت ہونے کو چاہے توازسرنوبیعت ہوناچاہئے یانہیں؟ اوریہ بیعت جدیدہ کہلائے گی یاکیا؟ اورشیخ اول ہی بدستوررہیں گے یادونوں؟ اورمریدکن کاکہلائے گا؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب : جوشخص کسی شیخ جامع شرائط کے ہاتھ پربیعت ہوچکاہوتودوسرے کے ہاتھ پربیعت نہ چاہئے۔ اکابرطریقت فرماتے ہیں:
لایفلح مرید بین شیخین۔۱؎
جومرید دوپیروں کے درمیان مشترک ہووہ کامیاب نہیں ہوتا(ت)
(۱؎ )
خصوصاً جبکہ اس سے کشودکاربھی ہوچکاہو، حدیث میں ارشادہوا:
من رزق فی شیئ فلیلزمہ۔۲؎
جسے اﷲ تعالٰی کسی شیئ میں رزق دے وہ اس کولازم پکڑے۔(ت)
(۲؎ شعب الایمان حدیث ۱۲۴۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۸۹)
دوسرے جامع شرائط سے طلب فیض میں حرج نہیں اگرچہ وہ کسی سلسلہ صریحہ کاہواوراس سے جو فیض حاصل ہواسے بھی اپنے شیخ ہی کافیض جانے،
کما فی سبع ۳؎ سنابل مبارکۃ عن سلطان الاولیاء امام الحق والدین رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جیساکہ سبع سنابل شریف میں سلطان الاولیاء امام الحق والدین رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے۔(ت)
(۳؎ )
شیخ جب نہ رہا اوراس کاسلوک ناقص ہو اس کی تکمیل بطورخودنہ کرے کہ یہ راہ تنہا چلنے کی نہیں،
کما افادہ الامام القشیری فی رسالۃ المبارکۃ والامام السھروردی فی العوارف الشریفۃ وبیناہ فی فتاوٰی افریقۃ۔
جیساکہ امام قشیری علیہ الرحمۃ نے اپنے رسالہ مبارکہ اورامام سہروردی علیہ الرحمۃ نے عوارف شریفہ میں اس کاافادہ فرمایاہے۔ اورہم نے اس کو فتاوٰی افریقہ میں بیان کیاہے۔(ت)
بلکہ کسی لائق تکمیل سے استمداد کرے اس میں حتی الامکان لحاظ قرب رکھے اپنے شیخ کے خلفاء میں سے کوئی اس قابل ہوتووہ اولٰی ہے ورنہ اپنے سلسلے سے اقرب فالاقرب اورنہ ملے توجوملے یہ اس لئے کہ اختلاف راہ اطالت عمل کرنے اوراپنے زمانے میں اپنے حق میں اپنے شیخ صحیح المشیخہ سے کسی کو افضل جانناسوء ادب ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۹۷: ازبانس بریلی محلہ قاضی ٹولہ مرسلہ حکیم حاجی سیدمحمدنوراﷲ شاہ صاحب اشرفی جیلانی سجادہ نشین فتحپور ۱۴رجب المرجب ۱۳۳۷ھ ماقولکم ایھا العلماء الراسخون رحمکم اﷲ تعالٰی فی ھٰذہ المسئلۃ
(اے علماء راسخین! اس مسئلہ کے بارے میں آپ کاکیاارشاد ہے۔ت) کہ جس مریدکو اپنے شیخ سے تعلیم طرق صوفیہ مراتب اذکار واشغال وغیرہ نہ معلوم ہوئے اور وہ شیخ انتقال فرماگئے یابوجوہات معقولہ ان سے تعلیم محال۔ پس اس مرید کوشیخ ثانی سے تجدید بیعت توبہ کرکے طالب ہونا اولٰی ہے یا کہ اسی حال پربے تعلیم رہنامناسب، اورخلفائے راشدین رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کی بیعت ہرخلافت کے وقت کس لئے صادرہوئی۔
الجواب : دوسرے شیخ سے طالب ہومگر اپنی ارادت شیخ اول ہی سے رکھے اور اس سے جوفیض حاصل ہووہ اپنے ہی کی عطا جانے۔ اولیائے کرام فرماتے ہیں ایک شخص کے دوباپ نہیں ہوسکتے، ایک عورت کے دوشوہر نہیں ہوسکتے، ایک مرید کے دوشیخ نہیں ہوسکتے۔ خلفائے راشدین رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے دست اقدس پربیعتیں ان کوامام ماننے اوران کی اطاعت کرنے کی تھیں جیسے ہرجدید بادشاہ کے ہاتھ پرکی جاتی ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم