Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
135 - 145
حضرت سیدنا سیدشاہ حمزہ قدس سرہ الکریم نے فص الکلمات شریف میں خلافت کی سات قسمیں بعض مقبول بعض مردودبیان فرمائیں ازانجملہ اقسام مردودہ میں فرمایا:
شیخ ازیں عالم نقل کردوکسے راخلیفہ نگرفت قوم وقبیلہ وارثے یامریدے رابخلافت وے تجویز نمایند ایں خلافت نزدیک مشائخ روانیست وایں نوع خلافت راافترائی گویند۔۲؎
شیخ نے اس جہاں سے انتقال فرمایا اور کسی کواپناخلیفہ نہیں بنایا۔ قوم اورقبیلہ نے کسی وارث یامرید کو اس کی خلافت کے لئے تجویزکردیا، مشائخ کے نزدیک یہ خلافت درست نہیں۔ خلافت کی اس قسم کوخلافت افترائی کہاجاتاہے(ت)
 (۲؎ فص الکلمات )
رہاعمرو اگرچہ نصیرکی جانب سے ماذون ہوکر اس کی خلافت ضرورصحیح اوراسے مرید کرنے کی اجازت ہوگی، مگرمحل نظریہ ہے کہ اس نے اپنے والد زیدکے ہاتھ پربیعت بھی کی تھی یامرید بھی نصیر ہی کاہے، صورت ثانیہ بہت سخت ہے، اوراصل الزامات کاورود اولٰی میں بھی نقدوقت ہے، شجرہ کہ مریدین کو دیاجاتاہے اس میں اتصال سلسلہ اجازت ہی متعارف، اوریہی اس سے مفہوم ہے تو اس میں تدلیس ہوئی تلبیس ہوئی پیراجازت کی نعمت کاکفران ہوا مریدین کوفریب دیناہوا بلاواسطے جانب پدر سے اپنے مجاز وماذون ہونے کااظہارہوا،
اوررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
المتشبع بمالم یعط کلابس ثوبی زور۔ رواہ الشیخان۳؎ عن اسماء ومسلم عن الصدیقۃ بنتی الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔
نعمت نایافتہ کااظہار کرنے والا اسی طرح ہے جوسرسے پاؤں تک جھوٹ کاجامہ پہنے ہوئے ہے(اسے امام بخاری وامام مسلم نے اسماء بنت صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے اورامام مسلم نے سیدہ عائشہ صدیقہ بنت صدیق اکبرسے روایت کیارضی اﷲ تعالٰی عنہم۔ت)
 (۳؎ صحیح البخاری     کتاب النکاح     باب المتشبع بمالم ینل الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۷۸۵)

(صحیح مسلم     کتاب اللباس والزینۃ    باب النہی عن التزویر الخ        قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۲۰۶)
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
یحبون ان یحمدوابمالم یفعلوا فلاتحسبنّھم بمفازۃ من العذاب۔۱؎
وہ جوایسی بات سے اپنی تعریف چاہتے ہیں جو انہوں نے نہ کی ہرگز انہیں عذاب سے چھٹکارے کی جگہ خیال نہ کرنا۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۳/ ۱۸۸)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من غشنا فلیس منّا۔۲؎ نسأل اﷲ العفووالعافیۃ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
دھوکا دینے والاہمارے گروہ سے نہیں۔ ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اورسلامتی کاسوال کرتے ہیں، اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت)
 (۲؎ صحیح مسلم     کتاب الایمان     باب قول النبی من غشا فلیس منّا     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۷۰)
مسئلہ ۲۸۷: ازفرخ آباد شمس الدین احمد    شنبہ ۱۸شوال ۱۳۳۴ھ

جس حالت میں کہ پیرکامل میسرنہ ہوتوطالب خداکوکیاکرناچاہئے؟ فقط

الجواب: درودشریف کی کثرت کرے یہاں تک کہ درودکے رنگ میں رنگ جائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۸:  مرسلہ عبدالکریم شہرکانپور محلہ بنگام گنج ۱۵ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی مسلمان طریقہ معرفت میں کسی کامریدنہ ہوتو کیاحشرمیں اس کاپیرشیطان ہوگا؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب : ایک حدیث روایت کی جاتی ہے:
من لاشیخ لہ فشیخہ الشیطٰن۔۱؎
جس کاکوئی پیرنہیں شیطان اس کاپیرہے۔
 (۱؎ عوارف المعارف     الباب الثانی عشرۃ     مطبعۃ المشہد الحسینی ص۷۸        والرسالۃ القشیریۃ باب الوصیۃ للمریدین ص۱۸۱)
اس کے پورے مصداق وہ لوگ ہیں کہ مشائخ کرام کے قائل ہی نہیں، جیسے روافض ووہابیہ وغیرمقلدین۔ اورشرف وبرکت اتصال بمحبوب ذوالجلال علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے شیخ جامع شرائط کے ہاتھ پربیعت سنت متوارثہ مسلمین ہے، اور اس میں بے شمار منافع وبرکت دین ودنیاوآخرت ہیں بلکہ وہ
وابتغوا الیہ الوسیلۃ۲؎
(اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ت) کے طرق جلیلہ سے ہے۔ وھو تعالٰی اعلم۔
(۲؎ القرآن الکریم     ۵/ ۳۵)
مسئلہ ۲۸۹ و ۲۹۰:  مقام گڈہوا ضلع پلامون     مرسلہ حکیم محمدعبدالحق صاحب

(۱) جوشخص کسی پیرسے مریدہوا ہو اورقبل اس کے کہ وہ طریقت کی تعلیم پورے طورسے پائے اس کے پیرنے انتقال کیاتو بعد مرجانے اول پیرکے وہ شخص کسی دوسرے عالم سے جو علم قرآن وحدیث وفقہ میں کامل وسندیافتہ ہو اورپیرکامل سے اس کو اجازت مرید کرنے کی اورخلافت حاصل ہو مریدہوسکتاہے یانہیں؟ اورمریدہونا اس کاشرعاً ازروئے شریعت جائزودرست ہوگا یانہیں؟
(۲) پیرہونے کے لئے سیداورآل رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہوناضرور ہے دوسری قوم کاعالم وطریقت سے واقف وپیرسے اجازت وخلافت پایاہوا پیرہونے اورمریدکرنے کے قابل نہیں ہوسکتاہے یاکیا تحقیق اس مسئلہ کی ہے مع سند جواب درکارہے۔
بیّنواایّھا العلماء الکرام جزاکم اﷲ یوم القیام
(اے علماء کرام! بیان فرمائیے اﷲ تعالٰی روزقیامت آپ کوجزادے۔ت)
الجواب :

(۱) جائزہے، اس پرشرع سے کوئی ممانعت نہیں جبکہ وہ عالم چاروں شرائط پیری کاجامع ہواگرایک شرط بھی کم ہے تو اس سے بیعت جائزنہیں۔ سب سے اہم واعظم شرط مذہب کاسنی صحیح العقیدہ مطابق عقائد علماء حرمین شریفین ہونا۔

دوسری شرط فقہ کااتنا علم کہ اپنی حاجت کے سب مسائل جانتاہو اورحاجت جدید پیش آئے تواس کاحکم کتاب سے نکال سکے۔ بغیر اس کے اورفنون کاکتناہی بڑا عالم ہو عالم نہیں۔

تیسری شرط اس کاسلسلہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تک صحیح ومتصل ہو۔

چوتھی شرط علانیہ کسی کبیرہ کامرتکب یاکسی صغیرہ پرمصرنہ ہو۔
ان شرائط کے ساتھ اس سے ارادت کرسکتاہے، مگریہ ارادت ارادت استفاضہ ہوگی نہ کہ ارادت استعاضہ، یعنی پیرکوچھوڑکر اس کے عوض پیربنانا کہ جوایساکرے گا دونوں طرف سے محروم رہے گا بشرطیکہ اس کاپہلاپیران چاروں شرائط کاجامع تھا، اوراگراس میں وہ شرطیں نہ تھیں تووہ پیربنانے کے قابل ہی نہ تھا آپ ہی کسی دوسرے جامع شرائط کے ہاتھ پربیعت چاہئے۔
(۲) یہ محض باطل ہے، پیرہونے کے لئے وہی چارشرطیں درکارہیں، سادات کرام سے ہونا کچھ ضرورنہیں، ہاں ان شرطوں کے ساتھ سیدبھی ہوتو نور علٰی نور۔ باقی اسے شرط ضروری ٹھہرانا تمام سلاسل طریقت کاباطل کرناہے۔ سلسلہ عالیہ قادریہ سلسلۃ الذہب میں سیدنا امام علی رضا اورحضورسیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے درمیان جتنے حضرات ہیں کوئی سادات کرام سے نہیں اورسلسلہ عالیہ چشتیہ میں تو امیرالمومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کے بعد ہی سے امام حسن بصری ہیں کہ نہ سیدنہ قریشی نہ عربی، اورسلسلہ عالیہ نقشبندیہ کاخاص آغاز ہی حضورسیدناصدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے، اسی طرح دیگرسلاسل
رضوان اﷲ تعالٰی علٰی مشائخہا اجمعین۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۹۱:  ازایلٹا کاٹھیاواڑ مرسلہ سیدقاسم علی قادری مورخہ ۴/ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ

مخدومی ومطاعی بندہ قبلہ مولانا مولوی احمدرضاخاں صاحب مدظلہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ میں قادریہ خاندان میں مریدتھا مگرچونکہ اب حضرات نقشبند کے بزرگ سرہند شریف سے یہاں آتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ خاندان نقشبند میں اب بیعت ہوتے جاتے ہیں اور سلسلہ عالیہ قادریہ روزبروزگھٹتاچلاہے۔ مجھے بھی لوگوں نے مجبورکیاہے کہ میں بھی بیعت اس خاندان میں کروں۔ مجھے مکتوبات امام ربّانی الف ثانی کی اردوتینوں جلدیں دی گئی ہیں ان کوپڑھ کر میں ان کاخلاصہ آپ سے طلب کرتاہوں کہ اس خاندان میں بیعت ہوناچاہئے یانہیں؟ اورمکتوبات اوردیگرکتب خاندان نقشبندیہ پراہل سنت والجماعت کااتفاق ہے یانہیں؟
الجواب : ہمارے نزدیک خاندان عالیشان قادری سب خاندانوں سے اعلٰی وافضل ہے اور  تبدیل شیخ بلاضرورت شرعیہ جائزنہیں۔ حدیث میں ارشادہوا:
من رزق فی شیئ فلیلزمہ۱؎۔
جسے کسی شَے میں رزق دیاجائے تو وہ اس کولازم پکڑے۔(ت)
(۱؎ شعب الایمان     حدیث ۱۲۴۱        دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲/ ۸۹)
مکتوبات مثل اورکتب مشائخ کے ہے اورتفصیل عقائداہلسنت وبیان مسائل نفیسہ فقہ وکلام کے سبب بہت کتب پرمزیت ہے البتہ سیدنا امام مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ وغیرہ ائمہ دین کاارشاد
کل ماخوذ من قولہ۲؎ الخ
 (ہرایک اپنے قول سے پکڑاجاتاہے الخ۔ت) سوائے قرآن عظیم سب کتب کوشامل ہے نہ اس سے ہدایہ، درمختارمستثنٰی، نہ فتوحات ومکتوبات وملفوظات۔ اس مسئلہ کی زیادہ تفصیل فتاوٰی فقیرمیں ہے۔
 (۲؎ الیواقیت والجواہر    بحوالہ الامام مالک     المبحث التاسع والاربعون     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۴۷۸)
Flag Counter