فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
134 - 145
مسئلہ ۲۸۴: ازکانپور مرسلہ مولوی آصف علی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جوپتہ یادرخت بوجہ غفلت تسبیح گرجاتاہے یاجانور ذبح کردیاجاتاہے توپھربعدازسزائے غفلت اس کاتسبیح میں مشغول ہوناثابت ہے یانہیں؟
الجواب : رب عزوجل فرماتاہے:
تسبح لہ السمٰوٰت السبع والارض ومن فیھن وان من شیئ الایسبح بحمدہ ولکن لاتفقھون تسبیحھم۔۱؎
اس کی تسبیح کرتے ہیں آسمان اورزمین اورجوکوئی ان میں ہے اورکوئی چیز ایسی نہیں جواس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو مگرتم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۱۷/ ۴۴)
یہ کلیہ عامہ جمیع اشیائے عالم کوشامل ہے، ذی روح ہویابے روح۔ اجسام محضہ جن کے ساتھ کوئی روح نباتی بھی متعلق نہیں،کہ دائم التسبیح ہیں کہ ''ان من شیئ'' کے دائرے سے خارج نہیں۔ مگر ان کی تسبیح بے منصب ولایت نامسموع نہ مفہوم۔ اوروہ اجسام جن سے روح انسی یاملکی یاجنی یا حیوانی یانباتی متعلق ہے ان کی دوتسبیحیں ہیں: ایک تسبیح جسم، کہ ا س روح متعلق کے اختیارمیں نہیں وہ اسی "ان من شیئ" کے عموم میں اس کی اپنی ذاتی تسبیح ہے۔ دوسری تسبیح روح، یہ ارادی اختیاری ہے اوربرزخ میں ہرمسلمان کومسموع ومفہوم۔ اس تسبیح ارادی میں غفلت کی سزاحیوان ونبات کوقتل وقطع سے دی جاتی ہے۔ اوراس کے بعد جب جانور مرجائے یانبات خشک ہوجائے منقطع ہوجاتی ہے ولہٰذا ائمہ دین نے فرمایاکہ ترگھاس مقابر سے نہ اکھیڑیں
فانہ مادام رطبا یسبح ﷲ فیؤنس المیت۲؎
کہ جب تک وہ ترہے اﷲ تعالٰی کی تسبیح کرتی ہے تومیت کادل بہلتاہے۔ مگرقتل و قطع وموت ویبس کے بعد بھی وہ تسبیح کہ نفس جسم کی تھی جب تک اس کاایک جزو لایتجزی باقی رہے گا منقطع نہ ہوگی کہ
''ان من شیئ الا یسبّح بحمدہ۳؎''
(اورکوئی چیزنہیں جواسے سراہتی ہوئی اس کی پاکی نہ بولے۔ت) اسے روح سے تعلق نہ تھاکہ تعلق روح نہ رہنے سے منقطع ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۲؎ ردالمحتار باب صلوٰۃ الجنائز مطلب فی وضع الجدید ونحوالآس علی القبور داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۰۶)
(۳؎ القرآن الکریم ۱۷/ ۴۴)
مسئلہ ۲۸۵ : مرسلہ عبدالستاربن اسمٰعیل شہرگونڈل علاقہ کاٹھیاواڑ یکشنبہ ۹شعبان ۱۳۳۵ھ
مریدہونا واجب ہے یاسنت؟ نیزمریدکیوں ہواکرتے ہیں؟ مرشد کی کیوں ضرورت ہے اور اس سے کیاکیافوائدحاصل ہوتے ہیں؟
الجواب الملفوظ
مریدہونا سنت ہے اور اس سے فائدہ حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اتصال مسلسل۔
تفسیرعزیزی دیکھو آیہ کریمہ:
صراط الذین انعمت علیھم۔۱؎
راستہ ان کاجن پرتونے انعام کیا۔(ت)میں اس کی طرف ہدایت ہے، یہاں تک فرمایاگیا:
من لاشیخ لہ فشیخہ الشیطٰن۔۲؎
جس کاکوئی پیرنہیں اس کاپیرشیطان ہے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱/ ۷)
(۲؎ عوارف المعارف الباب الثانی عشرۃ مطبعۃ الحسینی ص۷۸ والرسالۃ القشیریۃ باب الوصیۃ للمریدین ص۱۸۱)
صحت عقیدت کے ساتھ سلسلہ صحیح متصلہ میں اگرانتساب باقی رہا تونظروالے تو اس کے برکات ابھی دیکھتے ہیں جنہیں نظرنہیں وہ نزع میں قبر میں حشرمیں اس کے فوائد دیکھیں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۸۶ : مسئولہ عبدالعزیز انصاری ازاٹاوہ شنبہ ۲۹شعبان ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وعرفائے اہل یقین اس مسئلہ میں کہ زیدشیخ وقت نے اپنے بیٹے عمرو کوامورفقرمیں اپنا خلیفہ نہیں کیا اورنہ اجازت مرید کرنے کی دی، عمرونے بعد وفات اپنے والد زیدکے بوجہ نہ پانے خرقہ فقرواجازت کے ان کے ایک خلیفہ نصیرسے اجازت خلافت حاصل کی تھی مگرجب کسی کو مریدکیا تواپنے باپ زیدکے نام سے کیا، اپنے پیر اجازت کانام شجرہ لکھنا نہیں معمول رکھا۔ یہ طریقہ عمروکامطا بق کتب اہل طریقت وطریقہ مشائخ عظام جائزہوایانہیں؟ پھرعمرو نے اپنے بیٹے خالد کو اپنے حین حیات خرقہ دیا جس کوخالدنے کچھ عرصہ کے بعد یہ کہہ کرواپس کیاکہ میں نہیں لوں گا، اورنہ کبھی خالد نے عمروکی زندگی بھرتجدید اجازت وخلافت کی بابت کچھ تذکرہ کیاالبتہ عمرو نے اپنے مرض وصال میں قریب انتقال اپنی تسبیح وکتب وظائف وغیرہ ایک دوسرے شخص بکرکوجواس کااہل تھامع اجازت و خلافت دے دی اوراپنے مریدین کوبھی اسی کے سپردکیا مگراپنے بیٹے خالد کوبوجہ اس کے نااہل ہونے وخرقہ واپس کرنے کے کچھ نہیں دیا، لیکن بعد وفات عمرو کے خالد نے خودبخود اس کے خرقہ کو پہن کراپنے والد کے نام سے مریدکرنا شروع کردیا، اور اسی پرعامل رہے۔ یہ عمل خالد کابلحاظ کتب معتبرہ اہل تصوف درست تھایانہیں جیساکہ اس کامعمول تھا، موافق کتب مع اہل طریقت جواب ہوناچاہئے۔ خالدنے اپنے بیٹے نذیرکواپنی زندگی میں اپنا خرقہ دیا(جوبمطابق تحریربالاناجائزہوناچاہئے تھا) اب نذیراپنے مریدین کواپنے باپ خالد اورداداعمرو کے نام سے مریدکرنے کامعمول رکھتاہے اورشجرہ میں بھی انہیں دونوں کانام لکھاجاتاہے حالانکہ دونوں غیرمجازتھے، آیا یہ طریقہ نذیرکاجائزہے یاناجائز جبکہ عمرو کوخلافت واجازت اپنے باپ زیدسے نہ تھی توعمرو وخالد ونذیران سب کایہ فعل وعمل بروئے طریقت نارواہوناچاہئے یانہیں؟ امید کہ کتب معتبرہ سے تحقیق فرماکران تینوں امورکاجواب مفصل عنایت ہو۔ اﷲ تعالٰی آپ کوجزائے خیردے۔
الجواب المکتوب
صورت مستفسرہ میں خالد ونذیردونوں محض باطل پرہیں اوران کے ہاتھ پربیعت ناجائز، اورنادانستہ کی ہوتواس سے رجوع واجب۔ حضرت قدسی منزلت سیدنا میرعبدالواحدصاحب بلگرامی قدس سرہ السامی کتاب مستطاب سبع سنابل شریف میں فرماتے ہیں:
اے برادر! ازپیری ومریدی رسمے واسمے بیش نماندہ است وآں رسم واسم نیزمبنی بچند شرائط می داں کہ بے آں شرائط اصلا پیری ومریدی درست نیست۔ امانخست ازشرائط پیری یکے آنست کہ پیرمسلک صحیح داشتہ باشد، دوم ازشرائط پیری آنست کہ پیردرادائے حق شریعت قاصرومتہاون نباشد۔ سوم ازشرائط پیری آنست کہ پیرراعقائد درست بودموافق مذہب سنت وجماعت پس ایں رسمے کہ ازپیری ومریدی ماندہ است بے ایں سہ شرائط اصلاً درست نیست
اے بھائی! پیری ومریدی کی محض رسم اورنام باقی رہا گیاہے، اس سے زائد کچھ نہیں، اس نام اوررسم کوبھی چندشرائط پرمبنی سمجھ کر ان شرائط کے بغیرپیری ومریدی بالکل درست نہیں۔ پیری کی اولیں شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ پیرکامسلک صحیح ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ پیر حقوق شرع کی ادائیگی میں کوتاہی اورسستی کرنے والا نہ ہو۔ تیسری شرط یہ ہے کہ پیرکاعقیدہ صحیح اور مذہب اہل سنت وجماعت کے مطابق ہو۔ چنانچہ یہ رسمی پیری ومریدی ان تین شرائط کے بغیر ہرگز درست نہیں۔
وایں ہرسہ شرائط رابیان مختصر واضح کنم اما شرط اول کہ مسلک صحیح است مریدصادق راتفحص سلسلہ درست بایدکرد دراکثر جاہا خلط وخبط گشتہ است نوعے ازاں آنست درویشے کہ درحالت حیات بسبب غفلت ویابہ سبب دیگر فرزند خودرا خلافت نمی دہد ومردماں راوصیت ہم نمی کند کہ بعدازمن باید کہ خرقہ من فرزند مرابپوشانید واورابجائے من بنشانند فامامردماں آں مقام روزسوم خرقہ پدرپسررامی پوشانند واورابجائے پدرمے نشانند ازصحت وغیرصحت ایں کارنمی دانند خلقے بہ بیعت اواسیری گرددوادبے رخصت واجازت پدرپیرمی شودہمہ ضلالت درضلالت است چہ اگرچہ خرقہ متروکہ پدربسبب ارث ملک پسرشدولیکن شرط صحت بیعت رخصت و اجازت پدراست نہ مجرد خرقہ پدرمؤلف راست قطعہ ؎
اے پسر شرط صحت بیعت درطریقت اجازت سلف است
بدغل سکہ بہرہ مزن کاں رہ کاسداں ناخلف است
نوع دیگرانست اولیاء اسلاف کہ قطب وغوث بودند فرزندان ایشاں بے صحت اسناد وبے رخصت واجازت بمجرد نسبت فرزندی خلقے رامریدمی کنندوخلق می دانند کہ مابخانوادہ فلاں قطب وغوث پیوند درست کردیم وانابت آوردیم سربسرگمراہی است۔۱؎
ان تینوں شرطوں کی مختصر بیان کے ساتھ وضاحت کرتاہوں۔ پہلی شرط کہ پیرکامسلک صحیح ہو۔ سچے مریدکوصحیح سلسلہ کی چھان بین کرنی چاہئے اکثرجگہ اس میں خلط ملط ہوجاتاہے۔ اس کی ایک قسم یہ ہے کہ کوئی درویش اپنی زندگی میں غفلت یاکسی اوروجہ سے اپنے بیٹے کوخلافت نہیں دیتا اورلوگوں کووصیت بھی نہیں کرتا کہ میرے بعد میراخرقہ میرے بیٹے کوپہنانا اوراس کو میری گدّی پربٹھانا۔ لیکن اس علاقے کے لوگ وصال کے تیسرے روز اس کے بیٹے کوخرقہ پہناکر باپ کی گدی پربٹھادیتے ہیں اوراس کام کے صحیح یاغلط ہونے کاانہیں کوئی علم نہیں۔ لوگ اس کی بیعت کے پابند ہوجاتے ہیں اوروہ باپ کی اجازت ورخصت کے بغیرپیربن جاتاہے۔ یہ سب گمراہی درگمراہی ہے، اس لئے کہ اگرچہ باپ کاخرقہ متروکہ بطورمیراث بیٹے کی ملکیت ہوتاہے مگرصحت بیعت کی شرط باپ کی رخصت واجازت ہے نہ کہ محض باپ کے خرقہ کاحاصل ہوجانا، قطعہ:
''اے بیٹے! بیعت کے صحیح ہونے کی شرط طریقت میں اسلاف کی اجازت ہے۔ فریب کے ساتھ مٹی کے برتن پرمہرمت لگاکہ یہ طریقہ کھوٹے نااہلوں کاہے''۔
دوسری قسم یہ ہے اولیائے اسلاف جوکہ غوث وقطب تھے ان کے بیٹے صحیح سند اوران کی رخصت واجازت کے بغیر محض بزرگوں سے نسبت فرزندی رکھنے کی وجہ سے لوگوں کومرید بناتے ہیں لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے فلاں غوث اورقطب کے خانوادہ کے ساتھ تعلق قائم کرلیاہے اوران کی طرف رجوع کرلیاہے۔ یہ مکمل طورپرگمراہی ہے۔(ت)
(۱؎ سبع سنابل سنبلہ دوم دربیان پیری ومریدی مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۴۰،۳۹)