| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
مسئلہ ۲۷۸ ،۲۷۹: ازموضع لچھمی پورڈاکخانہ سگرام پورتحصیل بسولی ضلع بدایوں مسئولہ احمدحسین محرر روزدوشنبہ ۱۵ذوالحجہ ۱۳۳۳ھ جناب فیض مآب، فیض بخش، فیاض زماں، مولانا مولوی احمدرضاخاں صاحب دام افضالہ، بعد سلام علیک دست بستہ کے عرض خدمت میں یہ ہے کہ: (۱) جیسااورخاندانوں میں سلسلہ پیری مریدی جاری ہے اسی طرح سے جناب حضرت ''شاہ مدار'' صاحب کاہے یانہیں؟ (۲) خدام زیارت مکنپوری اپنے تین خاندان خلفاء وجدی ''شاہ مدار'' صاحب سے بتلاتے ہیں۔ لہٰذا ان سے بیعت ہوناجائزہے یانہیں؟ کیونکہ فی زمانہ چارہی خاندان کی بیعت سنی اور خاندان کی نہیں سنی، اورنیزیہ بھی کہتے ہیں کہ مرید حضرت شاہ مدارصاحب مریدحضرت محبوب سبحانی قطب ربانی غوث الاعظم سے زیادہ ہیں، یہ امرتصدیق طلب ہے، لہٰذا تصدیعہ وہ کہ براہ غرباء پروری اوربندہ نوازی حکم سے اطلاع بخشی جائے۔
الجواب : حضورسیدناغوث الاعظم علیہ الرضوان سیدالاولیاء ہیں، حضرت شاہ بدیع الدین مدارقدس سرہ السریر کوان سے افضل کہناجہل وطغیان وافتراء وبہتان ہے۔ بیعت کے لئے لازم ہے کہ پیرچارشرطوں کاجامع ہو: (۱) سنی صحیح العقیدہ (۲) صاحب سلسلہ (۳) غیرفاسق معلن (۴) اتناعلم دین رکھنے والاکہ اپنی ضروریات کاحکم کتاب سے نکال سکے۔ جہان ان شرطوں میں سے کوئی شرط کم ہے بیعت جائزنہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۸۰ : ازبنارس چھاؤنی محلہ ڈیٹوری تھانہ سکرور مسئولہ عبدالوہاب سہ شنبہ ۲۰/صفر۱۳۳۲ھ کسی کوجبراً مریدکرنااورنابالغوں کوبغیر ان کے والدین کی اجازت کے دست بیع کرناجائز ہے کہ نہیں؟ فقط
الجواب : مرید اورجبردونوں متبائن ہیں جمع نہیں ہوسکتے۔ مریدی اپنے دل کی ارادت سے ہے نہ کہ دوسرے کے جبرسے۔ ایساجبروہ کرتے ہیں جنہیں مریدوں سے کچھ تحصیل کرناہوتاہے یاکثرت مریدین سے اپنی شہرت۔ نابالغ اگرناسمجھ ہے توبے اجازت ولی اسے مریدکرنے کے کوئی معنی نہیں۔ ہاں تعلیق ارادت ممکن ہے جس کاقبول اس کے عقل وبلوغ پرموقوف رہے گا۔ اگر کسی میں رشد کے آثار پائے اورگمان کرے کہ اس کے زمانہ عقل تک شاید اپنی عمروفانہ کرے اور اسے شیخ کی حاجت ہو۔ اورزمانہ کی حالت یہ ہے کہ ؎
اے بسا ابلیس آدم روئے ہست پس بہردستے نہ باید داددست
(بہت سے شیطان انسانی شکلوں میں ہیں لہٰذا ہرکسی کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیناچاہئے۔ت)
(۱؎ مثنوی معنوی دفتراول ص۱۲ وگلدسۃ مثنوی معارف نعمانیہ لاہور ص۶۰)
ولہٰذا اسے اپناکرلے، اوروہ زمانہ عقل تک پہنچ کر اسے قبول کرلے توبیعت کی تکمیل ہوجائے گی اوراگر عاقل ہے اور اس کی رغبت دیکھے تو مریدکرسکتاہے، اجازت والدین کی حاجت نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۸۱ و ۲۸۲ : ازکلکتہ بڑابازار سوناپٹی کنیش بھگت کاکڑہ ۲۶جمادی الاولٰی ۱۳۴۰ھ (۱) ایک شخص ایک آدمی سے مریدہے، پہلے وہ کچھ نہیں جانتاتھا اورعلم بھی کچھ نہیں جانتاتھا اب اﷲ تعالٰی نے اس کوکچھ علم بخشا تووہ دیکھتاہے کہ جوپیرہماراہے وہ ہم سے بھی بدتر ہے افعال میں اور صرف اردو قرآن شریف کے سواکچھ نہیں جانتاہے۔ اورقرآن شریف بھی دیکھ کرپڑھتاہے اورکچھ نہیں جانتا۔ اورکھانا کپڑا بھی مانگ کے چلاتاہے اوررات دنیا کے کاموں میں مشغول رہتاہے۔ اب وہ شخص جومریدہواہے اس کاسوال ہے کہ میں دوسرے سے پھر مریدہوجاؤں تواچھا۔ توآپ کی کیارائے ہے؟ اور جس شخص سے پہلے مریدہے وہ خاندانی سیدہے۔ اور اس خط کے شامل شجرہ بھی ان کاجاتاہے۔ (۲) ایک شخص گویاکلکتہ میں ہے اور اس کے دل میں ہے کہ میں مرید ہوجاؤں تواچھا۔ مگروہ جس سے مرید ہوناچاہتاہے وہ دوسرے ملک میں ہے، پھر وہ کس طرح سے مرید ہوسکتاہے؟
الجواب : (۱) حسب تصریح ائمہ کرام پیرمیں چارشرطیں لازم ہیں: اوّل: سنی صحیح العقیدہ۔ دوم: علم دین بقدرکافی رکھتاہو۔ سوم: کوئی فسق علانیہ نہ کرتاہو۔ چہارم: اس کاسلسلہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تک صحیح اتصال سے ملاہو۔ اگرکسی شخص میں ان چاروں میں سے کوئی شرط کم ہے اورناواقفی سے اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا بعدکوظاہرہواکہ وہ بدمذہب یاجاہل یافاسق یامنقطع السلسلہ ہے تووہ بیعت صحیح نہیں، اسے دوسری جگہ مریدہوناچاہئے جہاں یہ چاروں شرطیں جمع ہوں۔
(۲) بیعت بذریعہ خط وکتابت بھی ممکن ہے، یہ اسے درخواست لکھے وہ قبول کرے اوراپنے قبول کی اس درخواست دہندہ کواطلاع دے اور اس کے نام کاشجرہ بھی بھیج دے، مریدہوگیا، کہ اصل ارادت فعل قلب ہے۔
والقلم احد اللسانین، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
(قلم دوزبانوں میں سے ایک زبان ہے۔اوراﷲ سبحانہ وتعالٰی خوب جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۲۸۳: مسئولہ مولانا سیددیدارعلی صاحب الوری اواخر شعبان ۱۳۳۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین دربارہ ایسے شخص کے جوفتوٰی دے ایساکہ جوکوئی خاندان عالیہ قادریہ کواور خاندانوں سے افضل واعلٰی نہ جانے اورباوجود افضلیت کے پھر دوسرے خاندانوں میں بیعت حاصل کرے وہ ضال اورمضل اورذریت شیطان لعین میں سے ہے۔ ایساکہنے والایہ فتوٰی دینے والا کیساہے؟بینواتوجروا۔
الجواب : بلاشبہہ خاندان اقدس قادری تمام خاندانوں سے افضل ہے کہ حضورپرنورسیدناغوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ افضل الاولیاء وامام العرفاء وسیدالافراد وقطب ارشاد ہیں۔ مگرحاشاﷲ کہ دیگرسلاسل حقہ راشدہ باطل ہوں یاان میں بیعت ناجائزوحرام ہو۔ اس کی نظیربعینہٖ مذاہب اربعہ اہل حق ہیں۔ ہمارے نزدیک مذہب مہذب حنفی افضل المذاہب واضح المذاہب واولہا بالحق ہے مگرحاشا کہ متبعان مذہب ثلٰثہ باقیہ عیاذاباﷲ ضال ومضل ہیں۔ ایساکہنا خودصریح باطل وغلوہے۔
والعیاذباﷲ تعالٰی، واﷲ تعالٰی اعلم
(اﷲ تعالٰی کی پناہ۔ اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔ت)