Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
132 - 145
مسئلہ ۲۷۴:  ازمقام موضع سرنیا ں ضلع بریلی بتاریخ ۱۸شوال ۱۳۳۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سائل دریافت کرتاہے پیرومرشد کاکیاحق ہے مرید کے روپیہ واسباب میں کتنا مرشد کو دے اورکتنا مریداپنے خرچ میں لائے۔ وہ بات تحریرفرمائی جائے جس سبب سے پیرکے حق سے چھوٹے، تاکہ قیامت میں مواخذہ نہ ہو، اوراگرپیرومرشد کی عدولی کرے، اورجیساکہ مریدکو حکم ہوا اس پرعمل نہ کرے، ایسے مرید کے لئے کیاحکم ہے اورقیامت میں مواخذہ ہوگا؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب: پیرواجبی پیرہو، چاروں شرائط کاجامع ہو، وہ حضورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کانائب ہے۔ اس کے حقوق حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حقوق کے پرتوہیں جس سے پورے طورپر عہدہ برا ہونا محال ہے، مگراتنافرض ولازم ہے کہ اپنی حدقدرت تک ان کے اداکرنے میں عمربھر ساعی رہے۔ پیرکی جوتقصیررہے گی اﷲ ورسول معاف فرماتے ہیں پیرصادق کہ ان کانائب ہے یہ بھی معاف کرے گاکہ یہ تو ان کی رحمت کے ساتھ ہے۔ ائمہ دین نے تصریح فرمائی ہے کہ مرشد کے حق باپ کے حق سے زائد ہیں۔ اورفرمایا ہے کہ باپ مٹی کے جسم کاباپ ہے اورپیرروح کاباپ ہے، اورفرمایاہے کہ کوئی کام اس کے خلاف مرضی کرنا مریدکوجائزنہیں۔ اس کے سامنے ہنسنامنع ہے، اس کی غیبت میں اس کے بیٹھنے کی جگہ بیٹھنامنع ہے، اس کی اولاد کی تعظیم فرض ہے اگرچہ بے جاحال پرہوں، اس کے کپڑوں کی تعظیم فرض ہے، اس کے بچھونے کی تعظیم فرض ہے، اس کی چوکھٹ کی تعظیم فرض ہے، اس سے اپنا کوئی حال چھپانے کی اجازت نہیں، اپنے جان ومال کو اسی کاسمجھے۔
پیرکونہ چاہئے کہ بلاضرورت شرعی مریدوں کومالی تکلیف دے، انہیں جائزنہیں کہ اگر اسے حاجت میں دیکھیں تو اس سے اپنامال دریغ رکھیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اپنے آپ کو اس کی ملک اوربندہ بے دام سمجھے، اس کے احکام کوجہاں تک بلاتاویل صریح خلاف حکم خدانہ ہوں حکم خداورسول جانے۔
وباﷲ التوفیق، واﷲ تعالٰی اعلم
 (اورتوفیق اﷲ تعالٰی ہی کی طرف سے ہے اور اﷲ خوب جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۲۷۵:  ازموضع نیشٹھ ضلع امرتسر ڈاک خانہ خاص متصل اسٹیشن اٹاری 

مسئولہ سید رشید الدین صاحب عرف سیدمحمدعبدالرشید بریلوی ۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ صاحب ارشاد مرفوع الاجازت شیخ کااپنی زوجہ کوبیعت کرناجائزہے یانہیں؟ اورجوشخص کہے کہ اپنی منکوحہ کوبیعت کرناجائزنہیں، بلکہ حرام بتاتاہے، کیونکہ زوجہ بیٹی بن جاتی ہے اورنکاح نہیں رہتا بلکہ فسخ ہوجاتاہے اورنیزیہ دلیل بھی بیان کرتاہے کہ یہ فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ اورنہ کسی نے خلفائے راشدین میں سے ایساکیا اورنہ کسی سلف صالحین میں سے اپنی زوجہ کو بیعت کیا ہے۔ پس یہ قول اس شخص کاصحیح ہے یاغلط ومردود؟
بیّنوابالکتاب توجروا یوم الحساب
 (کتاب اﷲ سے بیان کرو۔ حساب والے دن اجرپاؤگے۔ت)
الجواب : زوجہ کومریدکرنا جائزہے، تمام امت انبیائے کرام علیہم الصلوٰہ والسلام کی مریدہی ہوتی ہے پھروہ انہیں میں سے تزوّج فرماتے ہیں۔ مریدحقیقۃً اولادنہیں ہوتا، وہ ایک دینی علاقہ ہے جو صرف پیربلکہ استاذعلم دین کوبھی شاگرد پرحاصل ہے۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انما انالکم بمنزلۃ الوالد اعلمکم۔۱؎
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے لئے والد کی طرح ہوں تمہیں تعلیم دیتاہوں۔(ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب الطہارۃ     باب کراہیۃ استقبال القبلہ الخ     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/ ۳)
اورزوجہ کومسائل دینی تعلیم کرنے کازوج کوحکم ہے ۔
قال تعالٰی قواانفسکم واھلیکم نارا۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ خود اپنی ذاتوں کواور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچاؤ۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم    ۶۶/ ۶)
مسئلہ ۲۷۶: مسئولہ محمدتقی صاحب از راندیر ضلع خاندیس شرقی برمکان قاضی صاحب ۲جمادی الاولٰی ۱۳۳۳ھ

کرامت اورفیض میں کچھ فرق ہے یانہیں؟

الجواب : کرامت خرق عادت ہے کہ ولی سے صادرہو، اورفیض وبرکات اورنورانیت کادوسرے پرالقافرمانا ہے۔ یہ القاء اگربرخلاف عادت ہو توفیض بھی ہے اورکرامت بھی۔ جیسے حضورسیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ایک نصرانی کے گھرتشریف لے جاکر اسے سوتے سے جگاکر کلمہ پڑھنے کاحکم دیا اس نے فوراً پڑھ لیا۔ فرمایا: فلاں جگہ کاقطب مرگیا ہے ہم نے تجھے قطب کیا۔ نیزایک بارایک نصرانی کوکلمہ پڑھاکراسی وقت ابدال میں سے کردیا۔ اوراگرموافق عادت تربیت وریاضات ومجاہدات سے ہوتوفیض ہے، کرامت نہیں۔ اوراگرخلاف عادت غیرالقائے مذکورہو جیسے حضوررضی اﷲ تعالٰی عنہ نے بارہارمردے کوزندہ، زندہ کومردہ فرمادیا۔ توکرامت ہے فیض نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۷:  ازکوہ شملہ لکڑبازار    کوٹھی دورلی مرسلہ عبدالرحیم خاں ۱۸/ذیقعدہ ۱۳۳۲ھ

مخدوم ومکرم اعلٰی حضرت مولانا مولوی احمدرضاخاں صاحب زادمجدہ، سلام مسنون نیازمندانہ کے بعد عرض خدمت ہے زیدکہتاہے بیعت غائبانہ کوئی شیئ نہیں، اورزیدجناب والا کامعتقد ہے۔ لہٰذا بیعت غائبانہ جس حدیث شریف سے ثابت ہو جناب والا تحریرفرماکر اورمہرسے مزیّن فرماکر مشکورفرمائیں تاکہ زید کی تسلی کردی جائے۔ اوروہ اگرحاضری سے معذورہے تو آنحضرت سے غائبانہ بیعت کاشرف حاصل کرے۔ اس کاجواب اس پتہ پر روانہ فرمائیے۔

کوہ شملہ بمعرفت امام جامع مسجد عبدالرحیم کوملے۔
الجواب :
ان الذین یبایعونک انما یبایعون اﷲ یداﷲ فوق ایدیھم۔۱؎
وہ جوتم سے بیعت کرتے ہیں تووہ اﷲ سے بیعت کرتے ہیں اﷲ کاہاتھ ان کے ہاتھ پرہے۔اورفرماتاہے:
لقد رضی اﷲ عن المؤمنین اذیبایعونک تحت الشجرۃ۔۲؎
بے شک اﷲ راضی ہوامسلمانوں سے جب وہ تم سے بیعت کرتے ہیں درخت کے نیچے۔
 (۱؎ القرآن الکریم    ۴۸/ ۱۰)	 (۲؎القرآن الکریم     ۴۸/ ۱۸)
صحیح بخاری شریف میں عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے جب یہ بیعت ہوئی ہے امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ غائب تھے، بیعت حدیبیہ میں ہوئی اوروہ مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ کوفرمایا یہ عثمان کاہاتھ ہے، پھراسے اپنے دوسرے دست مبارک پرمارکر ان کی طرف سے بیعت فرمائی اورفرمایا یہ عثمان کی بیعت ہے، لفظ حدیث یہ ہیں:
واما تغییبہ عن بیعت الرضوان فانہ لوکان احد اعز ببطن مکۃ من عثمان بن عفّان لبعثہ مکانہ فبعث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عثمان وکانت بیعت الرضوان بعد ماذھب عثمان الٰی مکۃ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بیدہ الیمنی ھذہ یدعثمان فضرب بھا علٰی یدہ وقال ھٰذہ لعثمان۔۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ صحیح البخاری کتاب المغازی  باب قول اﷲ تعالٰی ان الذین تولوامنکم الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۵۸۲)
Flag Counter