Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
131 - 145
مسئلہ ۲۷۲:  ازکیمپ صدربازار بریلی مسئولہ امام علی شاہ صاحب ۲ربیع الاول شریف ۱۳۳۱ھ

بخدمت شریف جناب مخدوم ومکرم بندہ مولوی صاحب مدظلہ العالی، السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ بعدادائے آداب وتسلیمات کے عرض رساہوں، گزارش یہ ہے کہ ایک جگہ ایساجھگڑا آپڑا ہواہے وہ یہ ہے کہ خاندان غوثیہ والے ایک صاحب یعنی خاندان محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے صاحب نے مداریہ خاندان والوں سے کہاکہ ہماراخاندان بڑاہے، تم لوگ ہمارے یہاں بیعت ہو۔ انہوں نے کہایعنی مداریہ والوں نے جواب دیاکہ ہماراخاندان تمہارے خاندان سے اچھانہیں ہے، اوراچھابھی ہے توخدا کے یہاں خاندان نہ پوچھاجائے گا بلکہ عمل پوچھاجائے گا۔ خاندان غوثیہ والوں نے ثبوت پیش کیاکہ حضرت غوث پاک کے بارے میں جناب رسول مقبول صلی اﷲعلیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میراقدم تیری گردن پراورتیرا قدم کل اولیاء اﷲ کی گردن پر ہوگا۔ مداریوں نے دریافت کیاکہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی گردن پربھی اورحضرات حسنین علیہما السلام خواجہ حسن کی گردن پربھی رحمۃ اﷲ علیہ وحضرت خواجہ حبیب عجمی اورمدارصاحب کی گردن پرتھایانہیں؟ خاندان غوثیہ والوں نے جواب دیاکہ مدارصاحب کی گردن پرقدم تھا۔ اورجوصاحبان پہلے گزرچکے ہیں ان پرنہیں خاندان مداریہ والوں نے جواب دیا: ہماراخانوادہ طیفوریہ دوئم اورتمہارا خانوادہ طوسیہ ہفتم ہے، ہمارے خاندان سے تمہاراخاندان بعد میں ہوا۔ اورمداریہ کہتے ہیں کہ مدارکارتبہ غوث سے اعلٰی ہے۔ جناب کو تکلیف دے کرعرض ہے کہ مدارکے کیامعنی ہیں؟ اورجو درجہ مداریہ ہے اس کی کیاتشریح ہے؟ اوران دونوں خاندان والے صاحبان میں کون حق پرہیں اورکون سے نہیں؟ سوآپ کے اورکوئی عالم صاحب اس مرحلہ کوطے نہیں کرسکتے بلکہ یہاں تک نوبت ہوگئی ہردوجانب سے آمادہ فساد پرہوجائیں توعجب نہیں۔ ماشاء اﷲ آپ عالم باعمل ہیں اورجملہ خاندان عالیہ سے سندیافتہ ہیں۔ اہل علم میں فساد ہونا موجب سبکی کاہے۔ اوردونوں خاندان والے جناب کے قول کوصادق ہونے پرمضبوط ہیں اورکہتے ہیں کہ جومولوی صاحب فرمائیں گے وہ ہم دونوں صاحبان کومنظورہے۔ اﷲ پاک جناب کوہم سیہ کاروں پرہمیشہ ہمیشہ سلامت اورقائم رکھے۔ حضورکے ہونے سے جملہ صاحبان اہل آلام کوہرطرح کی تقویت حاصل ہے۔ زیادہ حد ادب!
الجواب: عوام کوایسے امورمیں بحث کرناسخت مضرت کاباعث ہوتاہے۔ مبادا کسی طرف گستاخی ہوجائے توعیاذاً باﷲ سخت تباہی وبربادی، بلکہ اس کی شامت سے زوال ایمان کااندیشہ ہے، حضرت شاہ بدیع الدین مدارقدس اﷲ سرہ العزیز ضروراکابر اولیاء سے ہیں مگر اس میں شک نہیں کہ حضورپرنور سیدناغوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کامرتبہ بہت اعلٰی وافضل ہے۔ غوث اپنے دَورمیں تمام اولیائے عالم کاسردارہوتاہے۔ اورہمارے حضورامام حسن عسکری رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے بعد سے سیدنا امام مہدی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی تشریف آوری تک تمام عالم کے غوث اورسب غوثوں کے غوث اور سب اولیاء اﷲ کے سردارہیں اور ان سب کی گردن پران کاقدم پاک ہے۔
امام ابوالحسن علی بن یوسف بن حمریر لخمی بن شطنوفی قدس سرہ العزیز نے کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار شریف میں بسند مسلسل دواکابر اولیاء اﷲ معاصرین حضورغوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ حضرت سیدی احمد ابن ابی بکرحریمی وحضرت ابوعمروعثمان ابن صریفینی قدس اﷲ اسرارہما سے دوحدیثیں روایت فرمائیں۔
پہلی کی سندیہ ہے:
اخبرنا ابوالمعالی صالح ابن احمد بن علی البغدادی المالکی سنۃ احدی وسبعین وستمائۃ قال اخبرنا الشیخ ابوالحسن البغدادی المعروف بالخفاف قال اخبرنا شیخنا الشیخ ابوالسعود احمدبن ابی بکرن الحریمی بہ سنۃ ثمانین وخمسامئۃ۔۱؎ اوردوسری سندیہ ہے: اخبرنا ابوالمعالی قال اخبرنا شیخ ابومحمد عبداللطیف البغدادی المعروف الصریفینی۲؎۔ اور ان دونوں حدیثوں کامتن یہ ہے کہ دونوں حضرات کرام نے فرمایا: واﷲ مااظھر اﷲ تعالٰی ولایظھر الی الوجود مثل الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔۳
یعنی خدا کی قسم اﷲ تعالٰی نے حضورسیدنا غوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مانندنہ کوئی ولی عالم میں ظاہرکیانہ ظاہرکرے۔
 (۱؎ بہجۃ الاسرار        ذکرفصول من کلام بشیئ من عجائب احوالہ الخ     مصطفی البابی مصر    ص۲۵)

(۲؎بہجۃ الاسرار        ذکرفصول من کلام بشیئ من عجائب احوالہ الخ     مصطفی البابی مصر    ص۲۵)

(۳؎بہجۃ الاسرار        ذکرفصول من کلام بشیئ من عجائب احوالہ الخ     مصطفی البابی مصر    ص۲۵)
نیزامام ممدوح کتاب موصوف میں حضرت سیدی ابومحمدبن عبدبصری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت سیدنا خضرعلیہ السلام کوفرماتے سنا:
مااوصل اﷲ تعالٰی ولیا الٰی مقام الاوکان الشیخ عبدالقادر اعلاہ ولاسقی اﷲ حبیبا کاساً من حبہ الاوکان الشیخ عبدالقادر اھناہ، ولاوھب اﷲ لمقرب حالاالاوکان الشیخ عبدالقادر اجلہ، وقد اودعہ اﷲ تعالٰی سرّا من اسرارہ سبق بہ جمہور الاولیاء ومااتخذ اﷲ ولیا کان اویکون الاوھو متادب معہ الٰی یوم القٰیمۃ۔۱؎
یعنی اﷲ تعالٰی نے جس ولی کوکسی مقام تک پہنچایا شیخ عبدالقادر کامقام اس سے اعلٰی ہے، اور جس پیارے کو اپنی محبت کاجام پلایاشیخ عبدالقادر کے لئے اس سے بڑھ کرخوشگوار جام ہے اور جس مقرب کوکوئی حال عطافرمایا شیخ عبدالقادر کاحال اس سے اعظم ہے۔ اﷲ تعالٰی نے اپنے اسرار سے وہ راز ان میں رکھاہے جس کے سبب ان کوجمہور اولیاء پرسبقت ہے۔ اوراﷲ تعالٰی کے جتنے ولی ہوگئے یاہوں گے قیامت تک سب شیخ عبدالقادر کا ادب کریں گے۔
 (۱؎ بہجۃ الاسرار         ذکرابومحمد القاسم بن عبدالبصری    مصطفی البابی مصر    ص۱۷۳)
یہ شہادتیں ہیں حضرت خضراور حضرات اولیاء کرام کی، علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والسلام ؎
بقسم کہتے ہیں شاہان صریفین وحریم         کہ ہواہے نہ ولی ہو کوئی ہمتا تیرا

جوولی قبل تھے یابعد ہوئے یاہوں گے    سب ادب رکھتے ہیں دل میں مرے آقا تیرا۲؎
واﷲ تعالٰی اعلم علمہ احکم۔
 (۲؎ حدائق بخشش  وصل سوم درحسن مفاخرت ازسرکار قادریت رضی اﷲ عنہ   مطبوعہ آرام باغ کراچی حصہ اول ص۶)
مسئلہ ۲۷۳: ازکانپور محلہ پرانی سبزی منڈی کی مسجد متصل چوک مرسلہ عبدالرشید ۸شعبان ۱۳۳۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی درویش کہتاہے کہ پیرکی شکل پرمتشکل ہوکرخداوند تعالٰی مریدسے ملاقات کرتاہے اوردلیل کتاب ''انتباہ'' شاہ ولی اﷲ صاحب کی لاتاہے۔ مضمون کتاب ہذا یہ ہے کہ:
حضرت سلطان الموحدین وبرہان العاشقین حجۃ المتکلمین شیخ جلال الحق مخدوم مولانا قاضیخاں صاحب یوسف ناصحی قدس سرہ العزیز چنین می فرمودن کہ صورت مرشد کہ ظاہراً دیدہ می شود مشاہدہ حق سبحانہ وتعالٰی است بے پردہ آب وگل کہ ان اﷲ خلق اٰدم علٰی صورۃ الرحمٰن ومن راٰنی فقدرأی الحق ؎

گرتجلی ذات خواہی صورت انساں ببیں		ذات حق راآشکارا اندروخنداں ببیں۳؎

اکثرعلماء دریں عبارت مذبورا مخالف ہستند، بادلیل معتبرہ عندالشرع شریفہ ہرچہ حق باشد۔ بیّنواتوجروا۔
حضرات گرامی مرتبت، موحدوں کے بادشاہ، عاشقوں کی برہان، متکلمین کی حجت، شیخ جلال الحق مخدوم مولانا قاضی خاں، صاحب یوسف ناصحی قدس سرہ العزیزیوں فرماتے ہیں کہ مرشد کی صورت جوظاہری طورپردیکھی جاتی ہے وہ حق سبحانہ وتعالٰی کامشاہدہ ہے۔ آب وگل کے پردہ کے بغیر، کیونکہ اﷲ تعالٰی نے آدم کو رحمن کی صورت پرپیدافرمایا ہے جس نے مجھے دیکھا بیشک اس نے حق کودیکھا۔ ''اگرتو تجلی ذات کاخواستگار ہے توانسان کی صورت دیکھ۔ ذات حق کو اس میں واضح طورپر ہنستاہوا دیکھ''۔ اکثرعلمائے کرام عبارت مذکورہ کے مخالف ہیں، جوکچھ حق ہے معتبردلیل شرعی کے ساتھ بیان فرمائیں، اجردئیے جاؤگے۔(ت)
(۳؎ انتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ     آرمی برقی پریس دہلی     ص۹۲ و۹۳)
الجواب : قول مذکور گستاخی اوردریددہنی ہے، اورعبارت انتباہ سے اس پر استدلال غلط فہمی، عبارت کامطلب یہ ہے کہ
لم یقضہ(عہ) وقضیضہ،
مظاہرومجالی حضرت خالق عزوجل جلالہ ہے۔
عہ: کل کاکل (المنجد)     عبدالمنان اعظمی
فی الاٰفاق وانفسکم افلاتبصرونo مارأیت شیئا الاورأیت اﷲ فیہ۔۱؎
آفاق میں اورخودتم میں نشانیاں ہیں توکیاتم دیکھتے نہیں، میں کسی شیئ کونہیں دیکھتا مگر اس کے ساتھ میں اﷲ کودیکھتاہوں۔(ت)
(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ    الاستخفاف بالشریعۃ کفر    مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد     ۱/ ۳۱۳)
مظہراول واعظم واجل واتم واکمل کہ مظہر ذات ہے ذات اقدس حضورانورسیدالکائنات علیہ افضل الصلوات واکمل التحیات ہے،باقی تمام عالم حسب استعداد اس پرتواصلی کا پرتو درپرتو بواسطہ ووسائط ہے۔ شیخ جس میں حضور پرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کانوربصفت ہدایت وارشاد وتربیت متجلی ہے اور عالم ملکوت عالم ملک سے ازکٰی واصطفٰی واجلی وابہٰی واحلٰی ہے، تو اس سے مشاہدہ ایک زیادہ صاف ومجلی آئینہ سے مشاہدہ ہے ورنہ متجلی شکل وتشکل سے منزہ ومتعالٰی ہے۔
واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
Flag Counter