| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
مسئلہ ۲۶۸: (سوال مفقودہے) الجواب: ''نہ وہ باتیں'' خیال میں ہیں نہ یہی یادکہ میں نے کیابتائے تھے مگر اس وقت جونظرکی اب بھی بہ نگاہ اوّلیں تین ہی مطلب ذہن میں آئے۔ عجب نہیں کہ یہ وہی مطالب ہوں جو اس وقت فکرمیں آئے تھے یاغیرہوں۔ شاعر''ارباب تمکین'' سے نہیں جوایک حال پرمستقیم ومستقررہے بلکہ ''اصحاب تلوین'' میں سے ہے جن پرواردات مختلفہ مقتضٰی قضایائے مختلفہ واردہوتے ہیں وہ اپنے ان احوال گوناگوں کی طرف اشارہ کرتاہے۔ ''میخواہم'' (میں خواہش کرتاہوں۔ت) توظاہر ہے کہ عشق میں ''اہل بدایت'' کی یہی حالت ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواہش کے پابندہوتے ہیں اور ان کی خواہش یہی کہ حبیب کودیکھیں اوررقیب کونہ دیکھیں۔ اور ''نمی خواہم'' (میں خواہش نہیں کرتا۔ت) تین مقامات مختلفہ سے ناشیئ ہے جن میں ایک دوسرے سے اعلٰی ہیں۔
مقام اوّل: ادنٰی مقام ''جوشش عشق ورشک ہے'' یعنی دل کی خواہش تویہی ہے کہ حبیب بے خلش رقیب جلوہ گرہومگر ''حبیب ورقیب'' شدت مصاحبت سے متلازم ہیں کہ ایک کادیکھنا دوسرے کے دیکھنے اورایک کانہ دیکھنا دوسرے کے نہ دیکھنے کومستلزم ہے۔ نظربراں جب رشک جوش کرتاہے، حبیب کو دیکھنانہیں چاہتاکہ اس کی رویت بے رویت رقیب نہ ہوگی۔ اوررویت رقیب ہرگزمنظورنہیں، اورجب عشق جوش زن ہوتاہے، رقیب کودیکھنانہیں چاہتاکہ اس کانہ دیکھنا حبیب کے نہ دیکھنے کومستلزم ہوگا۔ اوردیدارحبیب سے محرومی گوارانہیں۔ مقام دوم: اوسط ''مقام فنائے ارادہ درارادہ محبوب'' یعنی خواہش دل تو وہی کہ حبیب بے رقیب متجلی ہو، مگرحبیب کاارادہ اس کاعکس ہے وہ چاہتاہے کہ میں اسے نہ دیکھوں اوررقیب کودیکھوں کہ غیظ پاؤں اورمرادنہ پاؤں۔ جب فنائے ارادہ فی ارادۃ الحبیب کامقام واردہوتاہے میں اپنی اس خواہش دلی سے درگزرکرتاہوں؎
میل من سوئے وصال وقصداوسوئے فراق ترک کام خود گرفتم تابرآید کام دوست
(میری رغبت وصال کی طرف اوراس کاارادہ فراق کاہے، میں نے اپنامقصد ترک کردیاتاکہ دوست کامقصد پوراہوجائے۔ت)
؎ فراق ووصل چہ خواہی رضائے دوست طلب کہ حیف باشد ازوغیراوتمنائے
فراق ووصل کیاچاہتاہے دوست کی رضامندی طلب کرکیونکہ اس سے اس کے غیر کی تمناکرناافسوسناک ہوگا۔ت)
مقام سوم: ''اعلٰی مقام فناء فی المحبوب'' کہ خود اپنی ذات ہی باقی نہ رہے غیرواضافات ونسبت وتعلقات کہاں سے آئیں۔ رقیب کاغیرہونا ظاہر، اوررویت حبیب کاتصور بھی تصورغیرہے کہ رؤیت تین چیزوں کوچاہتی ہے: رائی، مرئی، اوروہ تعلق کہ ان دونوں میں ہوتاہے ، بلکہ حبیب کوجاننابھی بے تصورنفس ممکن نہیں کہ حبیب وہ جس سے محبت ہو۔ اورمحبت کوہردوحاشیہ محب ومحبوب واضافت بینہما سے چارہ نہیں۔ جب میں ہمہ تن فناء فی المحبوب ہوں تورقیب، حبیب و رویت وعدم رویت کوکون سمجھے، اورارادہ وخواست کدھرسے آئے۔ لاجرم اس وقت ان میں سے کچھ خواہش نہیں رہتی۔
اللھم ارزقنا ھذاالمقام فی رضاک وصل وسلم وبارک علٰی مصطفاک واٰلہ واولیائہ وکل من والاک۔ اٰمین واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
اے اﷲ! ہمیں اپنی رضامیں یہ مقام عطافرما۔ اوراپنے منتخب محبوب، اس کی آل، اصحاب اوراپنے ہرمحب پردرودوسلام وبرکت نازل فرما،آمین۔ اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے اوراس کاعلم اتم واحکم ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۶۹: ازتریا ضلع بریلی مسئولہ امدادحسین صاحب ۹محرم الحرام ۱۳۲۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مدارصاحب کاسلسلہ بیعت کرنے کاہے یانہیں؟ تھایاتوڑدیا، کیاان کے خاندان میں بیعت ہونارواہے یانہیں؟ کل وجہ تسمیہ اس سلسلہ کی تحریرفرمائیے۔ بیّنواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب: حضرت شاہ بدیع الدین مدارقدس سرہ الشریف اکابراولیائے عظام سے ہیں، مگر ولی ہونے کو یہ ضرورنہیں کہ اس سے سلسلہ بیعت بھی جاری ہو۔ ہزاروں صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم میں صرف چندصاحبوں سے سلسلہ بیعت ہے، باقی کسی صحابی سے نہیں۔ پھر ان کی ولایت کو کس کی ولایت پہنچ سکتی ہے۔ اس خاندان کاجوسلسلہ اکابرمیں چلاآیاہے وہ محض تبرک کے لئے ہے۔ جیسے حدیث شریف کاسلسلہ، باقی افاضہ کااجراء اس سے نہ ہوا، جیساکہ حضرت سیدنامیرعبدالواحد بلگرامی قدس سرہ السامی نے سبع سنابل شریف میں فرمایا: توجسے بیعت صحیحہ سلاسل نافذہ منفقہ میں ہو وہ اپنے مشائخ سے تبرکاً اس سلسلہ کی بھی سندلے لے توحرج نہیں، اوراسی پراکتفاء، اورخصوصاً اہل فسق جواکثر اس سلسلہ کاغلط نام بدنام کرنے والے ہیں ان سے رجوع، یہ باطل اورممنوع ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۷۰ ،۲۷۱ : محمدجعفر خاں الملقب بہ عارف ابوالحسینی قادری محلہ چودھری بدایوں ۱۹صفر ۱۳۲۸ھ اس مسئلہ میں علمائے دین وطریقت کیاارشاد فرماتے ہیں کہ مثلاً زید نے خاندان قادریہ میں بیعت کی اورچندروز کے بعد پیر نے خلافت بھی مرحمت فرمائی، پھربعد چندروز کے جامہ طریقت بھی پہنایا یعنی فقیربنایا، مگر اس کے بزرگ خاندان مداریہ سے بیعت کرتے چلے آئے ہیں اورنیز زیدکاباپ سرگروہ بھی تھا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ زید کوخاندان مداریہ کاطالب ہونا ضروری ہے۔ دریافت طلب یہ ہے کہ زیدکو اپنے بزرگوں کے خاندان کے طالب ہونے کی ضرورت ہے یانہیں؟ دوم طالب اورمرید میں کیافرق ہے:
الجواب : اول، ان سے طالب ہونا ہرگز کچھ ضرورنہیں، بلکہ جب افضل السلاسل سلسلہ علیہ، عالیہ، صحیحہ، متصلہ، قادریہ، طیبہ میں شیخ جامع شرائط کے ہاتھ پرفخربیعت نصیب ہوچکاہے تو اسے دوسری طرف اصلاً توجہ وپریشان نظرہی نہ چاہئے۔
دوم، مریدغلام ہے، اورطالب وہ کہ غیبت شیخ میں بضرورت یا باوجودشیخ کسی مصلحت سے، جسے شیخ جانتاہے یامریدشیخ غیرشیخ سے استفادہ کرے۔ اسے جوکچھ اس سے حاصل ہووہ بھی فیض شیخ ہی جانے، ورنہ دودِرَ کبھی فلاح نہیں پاتا۔ اولیائے کرام فرماتے ہیں:
لایفلح مریدبین شیخین۔۱؎
جومریددوپیروں کے درمیان ہو وہ کامیاب نہیں ہوتا۔(ت)
(۱؎ )
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
ضرب اﷲ مثلا رجلا فیہ شرکاء متشاکسون ورجلا سلمًا لرجل ھل یستویان مثلاً الحمدﷲ بل اکثرھم لایعلمون۲؎۔ نسأل اﷲ العفووالعافیۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی ایک مثال بیان فرماتاہے، ایک غلام میں کئی بدخوآقاشریک ہوں اورایک نرے ایک مولٰی کا۔ کیاان دونوں کاحال ایک ساہے۔ سب خوبیاں اﷲ کوہیں بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے۔ ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اورعافیت کاسوال کرتے ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۳۹/ ۲۹)