فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
128 - 145
خیربات بڑھتی ہے مطلب پرآئیے۔ ہاں تواگر میں ان امور کااستیعاب کروں جو دربارہ آداب وتعظیم حادث ہوتے گئے اور اس احداث کوعلماء نے موجد کے مدائح سے گناتوایک دفترطویل ہوتاہے، لہٰذاچونکہ مثالوں پراقتصار کررہاہوں:
مثال۱: سیدنا امام مالک صاحب المذہب عالم المدینہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بآنکہ مثل سیدنا عبداﷲ بن عمرو وعبداﷲ بن مغفل رضی اﷲ تعالٰی عنہ اتباع سلف وصحابہ کرام کااحداث میں نہایت ہی اہتمام رکھتے تھے۔ اس پران کے ایمان ومحبت کاتقاضا ہواکہ ادب وحدیث خوانی میں وہ باتیں علماء کے نزدیک امام مالک کے فضائل جلیلہ سے ٹھہرا اوران کی غایت ادب ومحبت پردلیل قرارپایا۔ امام علامہ قاضی عیاض رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ شفاء شریف میں لکھتے ہیں:
قال مطرف کان اذا اتی الناس مالکا خرجت الیھم الجاریۃ فتقول لھم یقول لکم الشیخ تریدون الحدیث اوالمسائل فان قالوا المسائل خرج الیھم، وان قالوا الحدیث دخل مغتسلہ واغتسل وتطیب ولبس ثیابا جُددا ولبس ساجہ وتعمم وضع علی رأسہ ردائہ وتلقی لہ منصّۃ فیخرج ویجلس علیھا وعلیہ الخشوع لایزال یبخربالعود حتی یفرغ من حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال غیرہ ولم یکن یجلس علٰی تلک المنصّۃ الا اذا حدث عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ابن اویس فقیل المٰلک فی ذٰلک فقال احب وان اعظم حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولااحدث بہ الا علٰی طھارۃ متمکنا۱؎۔
مطرف نے کہا جب لوگ مالک بن انس کے پاس علم حاصل کرنے آتے ایک کنیزآکرپوچھتی شیخ تم سے فرماتے ہیں تم حدیث سیکھنے آئے ہویافقہ ومسائل؟ اگرانہوں نے جواب دیافقہ ومسائل، جب توآپ تشریف لاتے اوراگرکہا کہ حدیث، توپہلے غسل فرماتے خوشبولگاتے نئے کپڑے پہنتے طیلسان اوڑھتے اورعمامہ باندھتے چادرسرمبارک پررکھتے ان کے لئے ایک تخت مثل تخت عروس بچھایاجاتا اس وقت باہرتشریف لاتے اوربنہایت خشوع اس پرجلوس فرماتے اور جب تک حدیث بیان کرتے تھے اگربتی سلگاتے اوراس تخت پراسی وقت بیٹھتے تھے جب نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیث بیان کرنا ہوتی۔ حضرت سے اس کاسبب پوچھا، فرمایا میں دوست رکھتاہوں کہ حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم کروں اورمیں حدیث بیان نہیں کرتا جب تک وضوکرکے خوب سکون ووقار کے ساتھ نہ بیٹھوں ۔
(۱؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی القسم الثانی الباب الثالث المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲/ ۳۸،۳۹)
مثال۲: اسی میں ہے:
کان مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ لایرکب بالمدینۃ دابۃ وکان یقول استحی من اﷲ تعالٰی ان اطأتربۃ فیھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بحافردابۃ۱؎۔
امام مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ مدینہ طیبہ میں سواری پرسوارنہ ہوتے اورفرماتے تھے مجھے شرم آتی ہے خدائے تعالٰی سے کہ جس زمین میں حضور سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جلوہ فرماہوں اسے جانور کے سُم سے روندوں۔
(۱؎ الشفاء القسم الثانی الباب الثالث فصل ومن توقیرہ الخ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۲/ ۴۸)
مثال ۳: اسی میں ہے:
قد حکی ابوعبدالرحمٰن السلمی عن احمد بن فضلویۃ الزاھد وکان من الغزاۃ الرماۃ ان عقال مامسست القوس بیدی الاعلٰی طھارۃ منذ بلغنی ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اخذ القوس بیدہ۔۲؎
امام ابوعبدالرحمن سلمی احمدبن فضلویہ زاہدغازی تیراندازسے نقل کرتے ہیں کہ میں نے کبھی کمان بے وضو ہاتھ سے نہ چھوئی جب سے سناکہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کمان دست اقدس میں لی ہے۔
(۲؎الشفاء القسم الثانی الباب الثالث فصل ومن توقیرہ الخ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۲/ ۴۸)
مثال۴: امام ابن حاج مالکی کہ مستندین مانعین سے ہیں اوراحداث کی ممانعت میں نہایت تصلب رکھتے ہیں مدخل میں فرماتے ہیں:
وتقدمت حکایۃ بعضھم انہ جاوربمکۃ اربعین سنۃ ولم یبل فی الحرم ولم یضطجع فمثل ھذا تستحب لہ المجاورۃ اویؤمر بھا۔۳؎
بعض صالحین چالیس برس مکہ معظمہ کے مجاور رہے اورکبھی حرم میں پیشاب نہ کیا اور نہ لیٹے۔ ابن الحاج کہتے ہیں ایسے شخص کومجاورت مستحب یایوں کہئے کہ اسے مجاورت کاحکم دیاجائے گا۔
(۳؎ المدخل فصل فی ذکر بعض مایعتورالحاج فی حجہ الخ دارالکتب العربی بیروت ۴/ ۲۵۳)
مثال ۵: اسی میں ہے:
وقدجاء بعضھم الٰی زیارتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلم یدخل المدینۃ بل زار من خارجہا ادبا منہ رحمہ اﷲ تعالٰی مع نبیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقیل لہ الاتدخل؟ فقال امثلی یدخل بلاد سید الکونین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لااجد نفسی تقدر علٰی ذٰلک اوکماقال۱؎۔
یعنی بعض صالحین زیارت نبی اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے حاضرہوئے توشہرمیں نہ گئے بلکہ باہرسے زیارت کرلی، اوریہ ادب تھا اس مرحوم کا اپنے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ، اس پرکسی نے کہا اندرنہیں چلتے، کہاکیامجھ ساداخل ہوسیدالکونین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے شہرمیں، میں اپنے میں اتنی قدرت نہیں پاتا ہوں۔
قال لی سید ابومحمد رحمہ اﷲ تعالٰی لما ان دخل مسجدالمدینۃ ماجلست فی المسجد الالجلوس فی الصلٰوۃ وکلاماً ھذامعناہ ومازلت واقفا ھناک حتی دخل الرکب۔۲؎
یعنی مجھ سے میرے سردارابومحمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے فرمایا میں جب مسجد مدینہ طیبہ میں داخل ہوا جب تک رہا مسجد شریف میں قعدہ نمازکے سوانہ بیٹھا اوربرابر حضورمیں کھڑارہاجب تک قافلہ نے کوچ کیا۔
ولم اخرج الٰی بقیع ولاغیرہ ولم ازر غیرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وکان قدخطر لی ان اخرج الٰی بقیع الغرقد فقلت الٰی این اذھب، ھذاباب اﷲ تعالٰی المفتوح للسائلین والطالبین والمنکسرین والمضطرین والفقراء والمساکین و لیس ثم من یقصد مثلہ فمن عمل علٰی ھذا ظفر ونجح بالمامول والمطلوب اوکماقال۱؎۔
میں حضوری چھوڑکر نہ بقیع کوگیانہ کہیں اورگیا نہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے سواکسی کی زیارت کی، اورایک دفعہ میرے دل میں آیا تھاکہ زیارت بقیع کوجاؤں پھرمیں نے کہاکہاں جاؤں گایہ ہے اﷲ کادروازہ کھلاہواسائلوں اورمانگنے والوں اوردل شکستہ اوربے چاروں اورمسکینوں کے لئے اور وہاں حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علی وسلم کے سواکون ہے جس کاقصدکیاجائے، فرماتے ہیں پس جوکوئی اس پرعمل کرے گا ظفرپائے گا اورمرادومطلب ہاتھ آئے گا۔
اب فقیر سرکارقادریہ غفراﷲ تعالٰی لہ بھی اس فتوے کوانہیں مبارک لفظوں پرختم کرتاہے کہ جوکوئی اس پرعمل کرے گاظفرپائے گا اورمراد ومطلب ہاتھ آئے گا ان شاء اﷲ تعالٰی۔ اوراپنے رب کریم تباک وتعالٰی کے فضل سے امیدرکھتاہے کہ یہ فتوٰی نہ صرف قیام ہی میں بیان کافی وبرہان شافی ہو بلکہ بحول اﷲ تعالٰی اکثرمسائل نزاعیہ میں قول فیصل پر مشعل ہدایت ہوجائے،