Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
127 - 145
نکتہ ۱۱ (ف): امام علامہ احمدبن محمد قسطلانی شارح صحیح بخاری مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں:
الفعل یدل علی الجواز وعدم الفعل لایدل علی المنع۱؎۔
کرنے سے توجوازسمجھاجاتاہے اورنہ کرنے سے ممانعت نہیں سمجھی جاتی ہے۔
ف: نکتہ۱۱: نہ کرنا اورہے اورمنع کرنااور۔
 (۱؎ المواہب اللدنیہ )
شاہ عبدالعزیز صاحب تحفہ اثناء عشریہ میں فرماتے ہیں:
نہ کردن چیزے دیگرست ومنع فرمودن چیزے دیگر۱؎ اھ ملخصًا۔
نہ کرنا اورچیزہے اورمنع کرنا اورچیزہے اھ ملخصًا۔(ت)
 (۱؎ تحفہ اثناعشریہ     باب دہم درمطاعن خلفائے ثلٰثہ     طعن ہفتم     سہیل اکیڈمی لاہور    ص۲۶۹)
تمہاری جہالت کہ تم نے کسی فعل کے نہ کرنے کواس فعل سے ممانعت سمجھ رکھاہے۔
نکتہ ۱۲( ف): سخن شناس نہ دلبراخطا اینجاست،
ف: نکتہ ۱۲ اصل بات اوراگلے لوگوں میں نہ ہونے کی وجہ۔
حقیقت الامریہ ہے کہ صحابہ وتابعین کواعلاء کلمۃ اﷲ وحفظ بیضاء اسلام ونشردین متین وقتل قہرکافرین واصلاح بلادوعباد واطفائے آتش فسادواشاعت فرائض وحدودالٰہیہ واصلاح ذات البین ومحافظت اصول ایمان وحفظ روایت حدیث وغیرہا امورکلیہ مہمہ سے فرصت نہ تھی لہٰذایہ امرجزئیہ مستحبہ توکیامعنی بلکہ تاسیس قواعد واصول وتفریع جزئیات وفروع وتصنیف وتدوین علوم ونظم دلائل حق وردشبہات اہل بدعت وغیرہا امورعظیمہ کی طرف بھی توجہ کامل نہ فرماسکے۔ جب بفضل اﷲ تعالٰی ان کے زوربازونے دین الٰہی کی بنیاد مستحکم کردی اورمشارق ومغارب میں ملت حنفیہ کی جڑجم گئی۔ اس وقت ائمہ وعلمائے مابعد نے تخت وبخت سازگار پاکر بیخ وبن جمانے والوں کی ہمت بلند کے قدم   اورباغبان حقیقی کے فضل پرتکیہ کرکے اہم فالاہم کاموں میں مشغول ہوئے اب توبے خلش صرصرواندیشہ سموم اورہی آبیاریاں ہونے لگیں۔ فکرصائب نے زمین تدقیق میں نہریں کھودیں۔ ذہن رواں نے زلال تحقیقی کی ندیاں بہائیں۔ علماء واولیاء کی آنکھیں ان پاک مبارک نونہالوں کے لئے تھالے بنیں ہواخواہان دین وملت کی نسیم انفاس متبرکہ نے عطرباریاں فرمائیں یہاں تک کہ یہ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاباغ ہرابھرا پھلاپھولا لہلہایااوراس کے بھینے پھولوں سہانے پتّوں نے چشم وکام ودماغ پرعجب ناز سے احسان فرمایا،
الحمدﷲ رب العالمین،
اب اگرکوئی جاہل اعتراض کرے یہ کنچھیاں جواَب پھوٹیں جب کہاں تھیں، یہ پتیاں جواب نکلیں پہلے کیوں نہاں تھیں یہ پتلی پتلی ڈالیاں جواَب جھومتی ہیں نوپیدا ہیں یہ ننھی ننھی کلیاں جواَب مہکتی ہیں تازہ جلوہ نماہیں اگران میں کوئی خوبی پاتے تواگلے کیوں چھوڑجاتے تواس کی حماقت پر اس الٰہی باغ کا ایک ایک پھول قہقہہ لگائے گا کہ، اوجاہل! اگلوں کوجڑ جمانے کی فکرتھی وہ فرصت پاتے تو یہ سب کچھ کردکھاتے آخر اس سفاہت کانتیجہ یہی نکلے گا کہ وہ نادان اس باغ کے پھل پھول سے محروم رہے گا۔ بھلاغورکرنے کی بات ہے ایک حکیم فرزانہ کے گھرآگ لگی اس کے چھوٹے چھوٹے بچے بھولے بھالے اندرمکان کے گھِرگئے اورلاکھوں روپوں کامال واسباب بھی تھا اس دانشمند نے مال کی طرف مطلق خیال نہ کیا اپنی جان پرکھیل کر بچوں کوسلامت نکال لیا، یہ واقعہ چندبے خرد بھی دیکھ رہے تھے اتفاقاً ان کے یہاں بھی آگ لگی یہاں نرامال ہی مال تھا۔ کھڑے ہوئے دیکھتے رہے اورسارامال خاکسترہوگیا۔ کسی نے اعتراض کیاتوبولے تم احمق ہو ہم اس حکیم دانشور کی آنکھیں دیکھے ہوئے ہیں اس کے گھر آگ لگی تھی تواس نے مال کب نکالاتھا جو ہم نکالتے مگربیوقوف اتنا نہ سمجھے کہ اس اولوالعزم حکیم کوبچوں کے بچانے سے فرصت کہاں تھی کہ مال نکالتا نہ یہ کہ اس نے مال نکالنا براجان کرچھوڑاتھا۔ اﷲ تعالٰی کسی کو اوندھی سمجھ نہ دے۔آمین!
نکتہ ۱۳( ف): ہم نے ماناکہ جوکچھ قرون ثلٰثہ میں نہ تھا سب منع ہے۔ اب ذرا حضرات مانعین اپنی خبرلیں۔ یہ مدرسے جاری کرنااورلوگوں سے چندہ لینا اورطلباء کے لئے مطبع نولکشور سے فیصدی دس روپیہ کمیشن لے کرکتابیں منگانااوربہ تخصیص روزجمعہ بعد نمازجمعہ وعظ کاالتزام کرنا، جہاں وعظ کہنے جائیں نذرانہ لینا، دعوتیں اڑانا، مناظروں کے لئے جلسے اورپنچ مقررکرنا، مخالفین کی رَد میں کتابیں لکھوانا چھپوانا، واعظوں کاشہربشہر گشت لگانا، صحاح کے دودوورق پڑھ کرمحدثی کی سندلینا اور ان کے سواہزاروں باتیں کہ اکابر واصاغر طائفہ میں بلانکیر رائج ہیں قرون ثلٰثہ میں کب تھی اوران پیشوایان فرقہ جدیدہ کاتوذکرہی کیاہے جودودوروپے نذرانہ لے کر مسئلوں پر مہرثبت کریں، مدعی مدعا علیہ دونوں کے ہاتھ میں حضرت کافتوی، حج کوجائیں توکمشنر دہلی وبمبئی کی چٹھیاں ضرور ہوں، شاید یہ تین باتیں قرون ثلٰثہ میں تھیں یاتمہارے لئے پروانہ معافی آگیا ہے کہ جوچاہو کروتم پرکچھ مواخذہ نہیں یایہ نکتہ چینیاں انہی باتوں میں ہیں جنہیں تعظیم ومحبت حضورسرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے علاقہ ہوباقی سب حلال وشیرمادر،
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی الاکبر۔
ف۱: نکتہ ۱۳مسئلہ قرون کاچھٹا جواب وہابیہ کی ہٹ دھرمی۔
نکتہ۱۴(ف): واجب الحفظ۔افسوس! کیاالٹازمانہ ہے اورامورتعظیم وادب میں سلف صالحین سے آج تک برابرائمہ دین کایہی داب رہاکہ ورودوعدم ورودخصوصیات پرنظرنہ کی بلکہ صریحاً قاعدہ کلیہ بنایا:
کل ماکان ادخل فی الادب والاجلال کان حسنا۔ کما صرح بہ الامام المحقق علی الاطلاق فقیہ النفس سیدی کمال الملّۃ والدین محمد فی فتح القدیر۱؎ وتلمیذہ الشیخ رحمہ اﷲ السندی فی المنسک المتوسط واقرہ الفاضل القاری فی المسلک المتقسط واثرہ فی العالمگیریۃ وغیرھا۔
جس بات کو نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ادب وتعظیم میں زیادہ دخل ہو وہ بہترہے (جیساکہ امام، محقق علی الاطلاق، فقیہ النفس، میرے آقا، کمال الملۃ والدین محمدنے فتح القدیرمیں تصریح فرمائی اوران کے شاگرد شیخ سندی علیہ الرحمۃ نے منسک المتوسط میں وضاحت فرمائی اور فاضل قاری علیہ الرحمۃ نے اس کوبرقراررکھا اورعالمگیریہ وغیرہ میں اس کوترجیح دی ہے۔ت)
 (۱؎ فتح القدیر     کتاب الحج     مسائل منثورہ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۹۴)
اورامام ابن حجر کاقول گزراکہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم ہرطرح بہترہے جب تک کہ الوہیت اﷲ میں شریک نہ ہو، اسی لئے سلفاء وخلفاء جس مسلمان نے کسی نئے طریقے سے حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاادب کیا اس ایجاد کو علماء نے اس کے مدائح میں شمار کیانہ یہ کہ معاذاﷲ بدعتی گمراہ ٹھہرایا یہ بلاانہی مدعیان دین وادب میں پھیلی کہ ہربات پرپوچھتے ہیں فلاں نے کب کیں فلاں نے کب کیں حالانکہ خود ہزاروں باتیں کرتے ہیں جوفلاں نے کیں نہ فلاں نے کیں مگریہ بھی طرفہ کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے گھٹانے مٹانے کے لئے ایک حیلہ نکال کرزبان سے کہتے جائیں ع
بعدازخدابزرگ توئی قصہ مختصر
(قصہ مختصریہ کہ اﷲ تعالٰی کے بعد سے زیادہ بزرگی والے آپ ہیں۔ت)

اوربلطائف الحیل جہاں تک بن پڑے اورمحبت وتعظیم میں کلام کرتے جائیں آخران کا امام اکبر تفویۃ الایمان ۲؂ میں تصریح کرچکاکہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعریف ایسے کروجیسے آپس میں ایک دوسرے کی کرتے ہو بلکہ اس میں سے کمی کرویہ ایمان ہے یہ دین ہے اوردعوٰی ہے،
 لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم،
ف۲: نکتہ ۱۴  تعظیم محبوبان خدامیں قاعدہ یہ ہے کہ جس قدرچاہو نئے طریقے نکالو سب حسن ہیں جب تک کسی خاص طریقے کی شرع میں ممانعت نہ ہو۔
(۲؎ تقویۃ الایمان     الفصل الخامس     مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۴۲)
Flag Counter