Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
126 - 145
نکتہ ۸( ف): صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین کے محاورات ومکالمات دیکھئے تو وہ خود صاف صاف ارشادفرمارہے ہیں کہ کچھ ہمارے زمانے میں ہونے پرمدارخیریت نہیں، دیکھئے بہت نئی باتیں کہ زمانہ پاک حضورسرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں نہ تھیں ان کے زمانہ میں پیداہوئیں اور وہ انہیں براکہتے اورنہایت تشددوانکارفرماتے اوربہت تازہ باتیں حادث ہوئیں کہ ان کو بدعت ومحدثات مان کرخود کرتے اورلوگوں کواجازت دیتے اورخیروحسن بتاتے۔
ف: نکتہ۸: حدیث قرن کاچوتھا جواب۔
امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ تراویح کی نسبت ارشادفرماتے ہیں:
نعمت البدعۃ ھذہٖ۔۱؎
کیااچھی بدعت ہے یہ۔
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الصوم     فصل من قام رمضان     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۲۶۹)
سیدنا عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما نمازچاشت کی نسبت فرماتے ہیں:
انھما بدعۃ ونعمت البدعۃ وانھا لمن احسن مااحدث الناس۲؎۔
بے شک وہ بدعت ہے اورکیاہی عمدہ بدعت ہے اوربیشک وہ ان بہترچیزوں میں سے ہے جولوگوں نے نئی نکالیں۔
 (۲؎ المعجم الکبیر        حدیث ۱۳۵۶۳    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۱۲/ ۴۲۴)
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
احدثتم قیام رمضان فدومواعلیہ ولاتترکوہ۔۳؎
تم لوگوں نے قیام رمضان نیانکالاتواب جونکالاہے توہمیشہ کئے جاؤ اوراسے کبھی نہ چھوڑنا۔
 (۳؎ المعجم الاوسط حدیث ۷۴۴۶  ۸/۲۱۸    و    الدرالمنثور    تحت الآیۃ ۵۷/ ۲۷    ۸/ ۶۴)
دیکھو یہاں توصحابہ نے ان افعال کوبدعت کہہ کر حسن کہا، اورانہیں عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما نے مسجدمیں ایک شخص کو تثویب کہتے سن کر اپنے غلام سے فرمایا:
اخرج بنا من عند ھذاالمبتدع۔۴؎
نکل چل ہمارے ساتھ اس بدعتی کے پاس سے۔
 (۴؎ المصنف لعبدالرزاق    باب التثویب فی الاذان والاقامۃ    المکتب الاسلامی بیروت    ۱/ ۴۷۵)
سیدناعبداﷲ بن مغفل رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اپنے صاحبزادے کونمازمیں بسم اﷲ بآوازپڑھتے سنا، فرمایا:
ای بنی محدث ایاک والحدث۔۱؎
اے میرے بیٹے! یہ نوپیدابات ہے، بچ نئی باتوں سے۔
 (۱؎ جامع الترمذی     ابواب الصلوٰۃ     باب ماجاء فی ترک الجہر    امین کمپنی دہلی     ۱/ ۳۳)
یہ فعل بھی اس زمانہ میں واقع ہوئے تھے انہیں بدعت سیئہ مذمومہ ٹھہرایاتو معلوم ہواکہ ان کے نزدیک بھی اپنے زمانہ میں ہونے نہ ہونے پرمدارنہ تھا بلکہ نفس فعل کودیکھتے اگر اس میں کوئی محذورشرعی نہ ہوتا اجازت دیتے ورنہ منع فرماتے اوریہی طریقہ بعینہ زمانہ تابعین وتبع تابعین میں رائج رہاہے۔ اپنے زمانہ کی بعض نوپیداچیزوں کومنع کرتے بعض کوجائزرکھتے اوراس منع واجازت کے لئے آخر کوئی معیارتھااوروہ نہ تھامگرنفس فعل کی بھلائی برائی، توباتفاق صحابہ وتابعین وتبع تابعین قاعدہ شرعیہ وہ قرارپایا کہ حسن حسن ہے اگرچہ نیاہو اورقبیح قبیح ہے اگرچہ پراناہو، پھران کے بعد یہ اصل کیوں کربدل سکتی ہے، ہماری شرع بحمداﷲ ابدی ہے، جوقاعدے اس کے پہلے تھے قیامت تک رہیں گے، معاذاﷲ زیدوعمروکاقانون توہے ہی نہیں کہ تیسرے سال بدل جائے۔
نکتہ۹(ف): یہ اعتراض کہ پیشوائے دین نے تویہ فعل کیاہی نہیں ہم کیونکر کریں زمانہ صحابہ میں پیش ہوکر رَد ہوچکا اوربفرمان جلیل حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ وسیدنا فاروق اعظم وغیرہما صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم قرارپاچکاکہ بات فی نفسہٖ اچھی ہوناچاہئے اگرچہ پیشوائے دین نے نہ کی ہو۔
ف: نکتہ ۹: حدیث قرون کاپانچواں جواب اور اس کارَد کہ پیشواؤں نے نہ کیا تم کیسے کرتے ہو اورزمانہ صدیق میں وہابیت پرصحابہ کبارکااتفاق۔
صحیح بخاری شریف میں ہے:
عن زیدبن ثابت رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال ارسل الٰی ابوبکر مقتل اھل الیمامۃ فاذا عمرابن الخطاب عندہ، قال ابوبکر ان عمر اتانی فقال ان القتل قداستحر یوم الیمامۃ بقراء القراٰن وانی اخشی ان استحر القتل بالقرّاء بالمواطن فیذھب کثیر من القراٰن وانی ارٰی ان تامر بجمع القراٰن قلت لعمر کیف تفعل شیئا لم یفعلہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال عمرھذا واﷲ خیرفلم یزل عمریراجعنی حتی شرح اﷲ صدری لذٰلک ورأیت فی ذٰلک الذی رأی عمر قال زید قال ابوبکر انک رجل شاب عاقل لانتھمک وقد کنت تکتب الوحی لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فتتبع القراٰن واجمعہ فواﷲ لوکلفونی نقل جبل من الجبال ماکان اثقل علیّ مما امرنی بہ من جمع القراٰن قال قلت لابی بکرکیف تفعلون شیئًا لم یفعلہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ھو واﷲ خیر فلم یزل ابوبکر یراجعنی حتی شرح اﷲ صدری للذی شرح لہ صدرابی بکر وعمر فتبعت القراٰن و اجمعہ۱؎ الحدیث۔
حضرت زیدبن ثابت رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ جنگ یمامہ میں بہت صحابہ حاملان قرآن شہیدہوئے توصدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے مجھے بلوایا، میں حاضرہوا توفرمایا حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ میرے پاس آئے ہیں اورانہوں نے کہاہے کہ یمامہ میں بہت حفاظ قرآن شہیدہوئے اورمیں ڈرتاہوں کہ اگرحاملان قرآن تیزی سے شہیدہوتے گئے توقرآن کاایک بڑا حصہ ختم ہوجائے گا میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن مجید کے جمع کرنے اورایک جگہ لکھنے کاحکم دیں، صدیق اکبر نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے تو یہ کام کیاہی نہیں تم کیونکر کروگے۔ فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایااگرچہ حضوراقدس سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نہ کیامگرخداکی قسم کام توخیرہے۔ صدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں پھر عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ مجھ سے اس معاملہ میں بحث کرتے رہے یہاں تک کہ خداتعالٰی نے میراسینہ اس امرکے لئے کھول دیا اورمیری رائے عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ کی رائے سے موافق ہوگئی۔ زیدبن ثابت نے کہاابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا نوجوان مردعاقل ہو ہم تمہیں متہم بھی نہیں کرتے ہیں کیونکہ تم جناب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی وحی لکھاکرتے تھے پس قرآن تلاش کرو اور اس کوجمع کرو، اﷲ کی قسم! اگرمجھے کسی پہاڑ کواٹھانے کی تکلیف دیتے توقرآن جمع کرنے سے جس کاانہوں نے مجھے حکم دیاتھا زیادہ بھاری نہ ہوتا، میں نے کہاوہ کام تم کیسے کرو گے جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا اﷲ کی قسم یہ اچھاکام ہے، ابوبکرصدیق میرے ساتھ بحث کرتے رہے حتی کہ اﷲ نے اس کے لئے میراسینہ کھول دیا جس کے لئے ابوبکرصدیق اورعمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہما کاسینہ کھولاتھا پھرمیں نے قرآن تلاش کرنا اورجمع کرناشروع کیا۔ الحدیث۔
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب فضائل القرآن     باب جمع القرآن    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۷۴۵)
دیکھو زیدبن ثابت نے صدیق اکبراورصدیق اکبر نے فاروق اعظم پراعتراض کیاتوان حضرات نے یہ جواب نہ دیاکہ یہ نئی بات نکالنے کی اجازت نہ ہونا توپچھلے زمانہ میں ہوگا ہم صحابہ ہیں ہمارازمانہ خیرالقرون سے ہے، بلکہ یہی جواب دیاکہ اگرحضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کام نہ کیا پروہ کام تواپنی ذات میں بھلائی کاہے پس کیونکر ممنوع ہوسکتاہے۔ اور اسی پرصحابہ کرام کی رائے متفق ہوئی اور قرآن عظیم باتفاق حضرات صحابہ جمع ہوا۔ اب غضب کی بات ہے ان حضرات کو سودااچھلے اورجوبات کہ صحابہ کرام میں طے ہوچکی پھراکھیڑیں۔
نکتہ ۱۰( ف): جواعتراض ہم پرکرتے ہیں کہ تم کیاصحابہ  تابعین اورتبع تابعین سے محبت وتعظیم میں زیادہ ہوکہ جوکچھ انہوں نے نہ کیا تم کرتے ہوئے، لطف یہ ہے کہ بعینہٖ وہی اعتراض اگرقابل تقسیم ہوتوتبع تابعین پرباعتبار تابعین اورتابعین پرباعتبارصحابہ اورصحابہ پرباعتباررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واردمثلاً جس فعل کوحضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وصحابہ وتابعین کسی نے نہ کیااورتبع تابعین کے زمانہ میں پیداہوا توتم اسے بدعت نہیں کہتے، ہم کہتے ہیں اس کام میں بھلائی ہوتی تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وصحابہ وتابعین ہی کرتے تبع تابعین کیااس سے زیادہ دین کااہتمام رکھتے ہیں جوانہوں نے نہ کیایہ کریں گے اسی طرح تابعین کے زمانہ میں جوکچھ پیداہو اس پروارد ہوگا کہ بہترہوتاتورسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وصحابہ کیوں نہ کرتے تابعین کچھ ان سے بڑھ کرٹھہرے علٰی ہذالقیاس جونئی باتیں صحابہ نے کیں انہیں بھی تمہاری طرح کہاجائے گا ؎
بزہد وورع کوش وصدق وصفا    ولیکن میفزائے برمصطفی
 (زہد، تقوٰی، سچائی اورصفائی میں کوشش کرلیکن مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرمت بڑھا۔ت)
ف: نکتہ ۱۰: اس کارَد کہ تم کیا اگلوں سے محبت وغیرہ میں زیادہ ہو۔
کیارسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کومعاذاﷲ ان کی خوبی نہ معلوم ہوئی یاصحابہ کو افعال خیر کی طرف زیادہ توجہ تھی۔ غرض یہ بات ان مدہوشوں نے ایسی کہی جس کی بناء پر عیاذاً اﷲ عیاذاً باﷲ تمام صحابہ وتابعین بھی بدعتی ٹھہرے جاتے ہیں مگر اصل وہی ہے کہ نہ کرنا اوربات ہے اورمنع کرنااورچیز۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اگرایک کام نہ کیا اوراس کومنع بھی نہ فرمایا تو صحابہ کوکون مانع ہے کہ اسے نہ کریں اورصحابہ نہ کریں توتابعین کوکون عائق، وہ نہ کریں توتبع پرالزام نہیں، وہ نہ کریں توہم پرمضائقہ نہیں۔ بس اتنا ہوناچاہئے کہ شرع کے نزدیک وہ کام برانہ ہو۔ عجب لطف ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اورصحابہ وتابعین کاقطعاً نہ کرناتوحجت نہ ہوااورتبع کو باوجود ان سب کے نہ کرنے کے اجازت ملی مگر تبع میں وہ خوبی ہے کہ جب وہ بھی نہ کریں توا ب پچھلوں کے لئے راستہ بندہوگیا اس بے عقلی کی کچھ بھی حد ہے اس سے تواپنے یہاں کے ایک بڑے امام نواب صدیق حسن خاں شوہر ریاست بھوپال ہی کامذہب اختیار کرلو توبہت اعتراضوں سے بچو کہ انہوں نے بے دھڑک فرمایا ''جوکچھ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نہ کیا سب بدعت وگمراہی ہے''۔ اب چاہے صحابہ کریں خواہ تابعین کوئی ہوبدعتی ہے یہاں تک کہ بوجہ ترویج تراویح امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کومعاذاﷲ گمراہ ٹھہرایا اوراعدائے دین کے پیرومرشدعبداﷲ بن سبا کی روح مقبوح کوبہت خوش کیا،
انّا ﷲ وانّا الیہ راجعون
 (بے شک ہم اﷲ تعالٰی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ت)

مجلس وقیام کاانکارکرتے کرتے کہاں تک نوبت پہنچی اﷲ تعالٰی اپنے غضب سے محفوظ رکھے۔آمین!
Flag Counter