فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
125 - 145
نکتہ ۶( ف): اگرکسی زمانے کی تعریف اوراس کے مابعد کانقصان احادیث میں مذکورہونا اسی کومستلزم ہوکہ اس زمانہ کے محدثات خیرٹھہریں اورمابعد کے شرتو اکثرصحابہ وتابعین سے بھی ہاتھ اٹھارکھئے۔
ف: نکتہ ۶: حدیث خیرالقرون کی دوسری طرح سے بحث۔
اخرج الحاکم وصححہ عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال بعثنی بنو المصطلق الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقالوا سل لنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الی من ندفع صدقاتنا بعدک، فقال الٰی ابی بکرقال فان حدث بابی بکر حدث فالی من، فقال الٰی عمر قالوا فان حدث بعمر حدث، فقال الٰی عثمان قالوا فان حدث بعثمٰن حدث فقال ان حدث بعثمان حدث فتبالکم الدھر تبا۱؎ اھ ملخصًا۔
امام حاکم نے تخریج وتصحیح فرمائی کہ حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں مجھے بنی مصطلق نے حضورسرور دوعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھیجا کہ حضورسے پوچھوں حضورکے بعد ہم اپنے اموال کی زکوٰۃ کسے دیں، فرمایا ابوبکرکو، عرض کی اگرابوبکر کوکوئی حادثہ پیش آئے، فرمایا عمر کو۔ عرض کی اگرعمر کوکوئی حادثہ پیش آئے،فرمایا عثمان کو۔ عرض کی اگرعثمان کوکوئی حادثہ منہ دکھائے فرمایااگر عثمان کابھی واقعہ ہوتو، فرمایاخرابی ہوتمہارے لئے ہمیشہ پھر خرابی ہے اھ ملخصًا۔
(۱؎ المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ امرالنبی صلی اﷲ علیہ وسلم لابی بکربامامۃ الناس فی الصلوٰۃ دارالفکربیروت ۳/ ۷۷)
واخرج ابونعیم فی الحلیۃ والطبرانی عن سھل بن ابی حثمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی حدیث طویل قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا اتی علی ابی بکر اجلہ وعمراجلہ وعثمٰن اجلہ فان استطعت ان تموت فمت۱؎۔
(ابونعیم نے حلیہ میں اورطبرانی نے سہل بن ابی حثمہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے ایک طویل حدیث میں تخریج فرمائی۔ت) حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب انتقال کریں ابوبکروعمروعثمان تواگرتجھ سے ہوسکے کہ مرجائے تومرجانا۔
(۱؎ ازالۃ الخفا بحوالہ سہل بن ابی حثمہ فصل پنجم مقصداول سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۱۲۴)
اخرج الطبرانی فی الکبیر عن عصمۃ بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ویحک اذامات عمر فان استطعت ان تموت فمت۲؎۔ حسنہ الامام جلال الدین وفی الحدیث قصۃً۔
(طبرانی نے کبیرمیں عصمہ بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے تخریج فرمائی، فرمایا:) رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پرافسوس جب عمرمرجائیں تواگرمرسکے تومرجانا۔ (امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے اس کو حسن قراردیا، اوراس حدیث میں ایک قصہ ہے۔ت)
اب تمہارے طورپرچاہئے کہ زمانہ پاک حضرات خلفائے ثلٰثہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم بلکہ صرف زمانہ شیخین رضی اﷲ تعالٰی عنہما تک خیررہے، پھر جوکچھ حادث ہو اگرچہ عین خلافت حقہ راشدہ سیدنا ومولٰینا امیرالمومنین علی المرتضٰی کرم اﷲ وجہہ میں وہ معاذاﷲ سب شروقبیح ومذموم وبدعت ضلالت قرارپائے، خداایسی بری سمجھ سے اپنی پناہ میں رکھے، اورمزہ یہ ہے کہ ان احادیث کے مقابل حدیث خیرالقرون بھی نہیں لاسکتے کہ تمہارے امام اکبر مولوی اسمٰعیل دہلوی صاحب کے دادا اور دادا استاد اورپردادا پیرشاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی انہیں احادیث اوران کے امثال پرنظر کرکے حدیث خیرالقرون کے معنی ہی کچھ اوربتاگئے ہیں، دیکھئے ازالۃ الخفامیں کیاکچھ فرمایاہے،
حدیث خیرالقرون ذکرکرکے لکھتے ہیں: بنائے ایں استدلال برتوجیہ صحیحی ست کہ اکثراحادیث شاہدآنست کہ قرن اول اززمانہ ہجرت آنحضرت ست صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تازمانہ وفات وی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وقرن ثانی از ابتدائے خلافت حضرت صدیق تاوفات حضرت فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہما وقرن ثالث قرن حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ و ہرقرنے قریب بہ دوازدہ سال بودہ است قرن درلغت قوم متقارنین فی السن بعد ازاں قومے راکہ درریاست وخلافت مقترن باشد قرن گفتہ شد چوں خلیفہ دیگر باشند ووزرائے حضوردیگر وامرائے امصار دیگر ورؤسائے جیوش دیگر وسپاہان دیگر وحربیان دیگروذمیان دیگرتفاوت قرون بہم می رسد۱؎۔
اس استدلال کی بنیاد ایک صحیح توجیہ پرہے جس پراکثراحادیث شاہدہیں وہ یہ ہے کہ قرن اول حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ہجرت کے زمانے سے آپ کی وفات کے زمانے تک ہے، اورقرن ثانی حضرت صدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ کی ابتدائے خلافت سے وفات فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ تک ہے، اورقرن ثالث سیّدنا حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کازمانہ خلافت ہے اورہرقرن تقریباً بارہ سال کاہے۔ قرن لغت میں اس قوم کوکہتے ہیں جوعمر میں قریب قریب ہوں، پھر اس کااطلاق اس قوم پرہونے لگاجو ریاست وخلافت میں مقترن ہو۔ جب خلیفہ دوسرا ہو، اس کے وزراء وامراء، سپہ سالار، فوج، حربی اورذمی دوسرے ہوں توقرن بدل جاتاہے۔(ت)
(۱؎ ازالۃ الخفاء فصل چہارم سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۷۵)
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
قرن اول زمان آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بودازہجرت تاوفات وقرن ثانی زمان شیخین وقرن ثالث زمان ذی النورین بعدازاں اختلافہا پدیدآمد وفتنہا ظاہرگردیدند۲؎۔
قرن اول سرکاردوعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ہجرت سے وصال تک کا زمانہ ہے اور قرن ثانی شیخین یعنی صدیق وعمررضی اﷲ تعالٰی عنہما کازمانہ ہے اورقرن ثالث سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کازمانہ ہے اس کے بعد اختلافات نمودارہوئے اورفتنے ظاہرہوئے۔(ت)
(۲؎ازالۃ الخفاء فصل چہارم سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۱۲۱)
بالجملہ اس قدرمیں توشک نہیں کہ یہ معنی بھی حدیث میں صاف محتمل اوربعداحتمال کے تمہارا استدلال یقینا ساقط۔
والحمدﷲ رب العالمین۔
نکتہ ۷( ف): اگرکسی زمانہ کی تعریف حدیث میں آنااسی کاموجب ہوکہ اس کے محدثات خیرقرار پائیں توبسم اﷲ وہ حدیث ملاحظہ ہوکہ امام ترمذی نے بسندحسن حضرت انس اور امام احمدنے حضرت عماربن یاسراورابن حبان نے اپنی صحیح میں عماربن یاسر وسلمان فارسی رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کی اورمحقق دہلوی نے اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں بنظرکثرت طرق اس کی صحت پرحکم دیاکہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مثل امتی مثل المطرلایدری اولہ خیر ام اٰخرہ۔۱؎
میری امت کی کہاوت ایسی ہے جیسے مینہ کہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کااگلا بہترہے یاپچھلا۔
ف: نکتہ۷: حدیث قرن کاتیسراجواب۔
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الامثال ۲/ ۱۱۰ ومسنداحمدبن حنبل عن انس بیروت ۳/ ۱۴۳)
شیخ محقق شرح میں لکھتے ہیں:
کنایہ است ازبودن ہمہ اُمت خیرچنانکہ مطرہمہ خیرونافع ست۔۲؎
یہ تمام امت کے خیرہونے کی طرف اشارہ جیساکہ بارش تمام کی تمام خیراورفائدہ مند ہوتی ہے۔(ت)
(۲؎ اشعۃ اللمعات کتاب المناقب والفضائل باب ثواب ھذہ الامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۷۵۳)
امام مسلم اپنی صحیح میں حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے راوی:
لاتزال طائفۃ من امتی قائمۃ بامراﷲ لایضرھم من خذلھم اوخالفھم حتی یاتی امراﷲ وھم ظاھرون علی الناس۔۳؎
میری امت کاایک گروہ ہمیشہ خداکے حکم پر قائم رہے گا انہیں نقصان نہ پہنچائے گا جو انہیں چھوڑے گا یاان کاخلاف کرے گا یہاں تک کہ خداکاوعدہ آئے گا اس حال میں کہ وہ لوگوں پر غالب ہوں گے۔
(۳؎ صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتزال طائفۃ من امتی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۴۳)
یہ گمان مت کرکہ برے زمانے کے سب لوگ برے ہوتے ہیں اورعنایات الٰہی ان کی تہذیب نفوس میں بیکار ثابت ہوتی ہے بلکہ اس جگہ عجیب رازہیں۔
شراب کے تمام عیوب توتم نے بیان کردئیے کچھ اس کی خوبی بھی بیان کرو۔
عامی کادل رکھنے کے لئے حکمت کابالکل انکارنہ کرو۔
قدرت ہرزمانے میں بندگان خداکے ایک گروہ کو انواروبرکات کامرکز بناتی ہے۔(ت)
(۴؎ ازالۃ الخفاء فصل پنجم تنبیہات تتمہ مقصد بالا سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۱۴۵)
کہئے اب کدھر گئی ان قرون کی تخصیص، اورکیوں نہ خیرٹھہریں گے وہ امورجوعلماء وعرفائے مابعد میں بلحاظ اصول عموم واطلاق شائع ہوئے، والحمدﷲ۔