فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
124 - 145
نکتہ ۳(ف۲): ہم پوچھتے ہیں تمہارے نزدیک کسی فعل کے لئے رخصت یاممانعت ماننا اس پرموقوف کہ قرآن وحدیث میں اس کانام لے کر جائزکہایامنع کیا ہو یااس کی کچھ حاجت نہیں بلکہ کسی عام یامطلق مامور بہ یاعام یامطلق منہی عنہ کے تحت میں داخل ہوناکفایت کرتاہے برتقدیراول تم پرفرض ہواکہ بالخصوص مجلس وقیام مجلس کے نام کے ساتھ قرآن وحدیث سے حکم ممانعت دکھاؤبرتقدیر ثانی کیاوجہ کہ ہم سے خصوصیت کاثبوت مانگتے ہو اوربآنکہ یہ افعال اطلاقات ذکروتحدیث وتعظیم وتوقیر کے تحت میں داخل ہیں جائزنہیں مانتے۔
ف۲: نکتہ۳: منکروں کی عجیب ہٹ دھرمی۔
نکتہ۴(ف): حضرات مانعین کاتمام طائفہ اس مرض میں گرفتارکہ قرون وزمان کوحاکم شرعی بنایاہے جونئی بات کہ قرآن وحدیث میں بایں ہیئت کذائی کہیں اس کاذکرنہیں جب فلاں زمانے میں ہوتو کچھ بری نہیں اورفلاں زمانے میں ہوتو ضلالت وگمراہی، حالانکہ شرعاً وعقلاً کسی طرح زمانہ کواحکام شرع یاکسی فعل کی تحسین وتقبیح پرقابونہیں، نیک بات کسی وقت میں ہونیک ہے اوربراکام کسی زمانے میں ہوبراہے، آخربلوائے مصروواقعہ کربلا وحادثہ حرہ وبدعات خوارج وشناعات روافض وخباثات نواصب وخرافات معتزلہ وغیرہاامورشنیعہ زمانہ صحابہ وتابعین میں حادث ہوئے مگرمعاذاﷲ اس وجہ سے وہ نیک نہیں ٹھہرسکتے اوربنائے مدارس وتصنیف کتب وتدوین علوم ورَد مبتدعین وتعلیم نحووصرف وطریق اذکار وصوراشغال اولیائے سلاسل قدست اسرارہم وغیرہا امورحسنہ ان کے بعد شائع ہوئے مگرعیاذاً باﷲ اس وجہ سے بدعت نہیں قرارپاسکتے، اس کامدار نفس فعل کے حسن وقبح پرہے، جس کام کی خوبی صراحۃً یااشارۃً قرآن وحدیث سے ثابت وہ بیشک حسن ہوگاچاہے کہیں و اقع ہو اورجس کام کی برائی تصریحاً یاتلویحاً واردوہ بیشک قبیح ٹھہرے گا خواہ کسی وقت میں حادث ہو جمہورمحققین ائمہ وعلمانے اس قاعدے کی تصریح فرمائی اگرچہ منکرین براہ سینہ زوری نہ مانیں۔ امام ولی الدین ابوذرعہ عراقی کاقول پہلے گزراکہ ''کسی چیزکانوپیداہوناموجب کراہت نہیں کہ بہتیری بدعتیں مستحب بلکہ واجب ہوتی ہیں جبکہ ان کے ساتھ کوئی مفسدہ شرعیہ نہ ہو۱؎''۔ اسی طرح امام علامہ مرشد ملت حکیم امت سیدنا ومولانا حجۃ الحق والاسلام محمدغزالی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کاارشاد بھی اوپرمذکور کہ ''صحابہ سے منقول نہ ہونا باعث ممانعت نہیں، بری تو وہ بدعت ہے جوکسی سنت ماموربہاکارَد کرے۲؎''
ف: نکتہ۴: منکرین کی حماقت کہ انہوں نے زمانہ کو حکم بنایاہے۔
(۱؎ اثبات القیام )
(۲؎ احیاء العلوم کتاب السماع والوجد الباب الثانی المقام الثالث مطبع المشہد الحسینی قاہرہ ۲/ ۳۰۵)
اورکیمیائے سعادت میں ارشادفرماتے ہیں:
ایں ہمہ گرچہ بدعت ست وازصحابہ وتابعین نقل نہ کردہ اندلیکن نہ ہرچہ بدعت بودنہ شاید کہ بسیاری بدعت نیکوباشد پس بدعت مذموم آں بود کہ برمخالفت سنّت بود۱؎۔
یہ سب اموراگرچہ نوپیدہیں اورصحابہ وتابعین رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے منقول نہیں ہیں مگرایسابھی نہیں، ہرنئی بات ناجائزہوکیونکہ بہت ساری نئی باتیں اچھی ہیں، چنانچہ مذموم بدعت وہ ہوگی جوسنت رسول کے مخالف ہو۔(ت)
(۱؎ کیمیائے سعادت رکن دوم اصل ہشتم باب دوم انتشارات گنجینہ ایران ص۸۹۔۳۸۸)
امام بیہقی وغیرہ علماء حضرت امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں:
المحدثات من الامور ضربان احدھما احدث مما یخالف کتاباً اوسنّۃً اواثراً اواجماعاً فھٰذہ البدعۃ ضالۃ والثانی ما احدث من الخیر ولاخلاف فیہ لواحد من ھٰذہ وھی غیر مذمومۃ۔۲؎
نوپیداباتیں دوقسم کی ہیں، ایک وہ ہیں کہ قرآن یااحادیث یاآثار اجماع کے خلاف نکالی جائیں یہ توبدعت وگمراہی ہے، دوسرے وہ اچھی بات کہ احداث کی جائے اوراس میں ان چیزوں کاخلاف نہ ہو تووہ بری نہیں۔
(۲؎ القول المفید للشوکانی باب ابطال التقلید ۱/ ۷۸)
امام علامہ ابن حجرعسقلانی فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
والبدعۃ ان کانت مماتندرج تحت مستحسن فی الشرع فھی حسنۃ وان کانت مما تندرج تحت مستقبح فی الشرع فھی مستقبحۃ الافھی من قسم المباح۔۳؎
بدعت اگرکسی ایسی چیزکے نیچے داخل ہو جس کی خوبی شرع سے ثابت ہے تو وہ اچھی بات ہے اوراگرکسی ایسی چیزکے نیچے داخل ہو جس کی برائی شرع سے ثابت ہے تووہ بری ہے اور جودونوں میں سے کسی کے نیچے داخل نہ ہو تووہ قسم مباح سے ہے۔
(۳؎ فتح الباری کتاب التراویح باب فضل من قام رمضان مصطفی البابی مصر ۵/ ۵۷۔۱۵۶)
اسی طرح صدہااکابرنے تصریح فرمائی۔ اب مجلس وقیام وغیرہما امورمتنازع فیہا کی نسبت تمہارایہ کہناکہ زمانہ صحابہ وتابعین میں نہ تھے لہٰذاممنوع ہیں محض باطل ہوگیا، ہاں اس وقت ممنوع ہوسکتے ہیں جب تم کافی ثبوت دوکہ خاص ان افعال میں شرعاً کوئی برائی ہے ورنہ اگر کسی مستحسن کے نیچے داخل ہیں تو محمود، اوربالفرض کسی کے نیچے داخل نہ ہوئے تومباح ہوکرمحمودٹھہریں گے کہ جو مباح بہ نیت نیک کیاجائے شرعاً محمودہوتاہے
کما فی البحرالرائق وغیرہ
(جیساکہ بحرالرائق وغیرہ میں ہے۔ت) کیوں کیسے کھلے طورپر ثابت ہواکہ ان افعال کی سند زمانہ صحابہ وتابعین وتبع تابعین سے مانگنا کس قدرنادانی وجہالت تھا
والحمدﷲ
(اورسب تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں۔ت)
نکتہ ۵(ف): بڑی مستند ان حضرات کی حدیث:
خیرالقرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم۱؎۔
سب سے بہترمیرازمانہ ہے پھراس کے بعد والوں کاپھران کے بعد والوں کا۔(ت)ہے۔
ف: نکتہ۵: حدیث خیرالقرون قرنی کامطلب
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الشہادات امین کمپنی دہلی ۲/ ۵۴)
اس میں بحمداﷲ ان کے مطلب کی بوبھی نہیں، حدیث میں توصرف اس قدرارشادہواکہ میرازمانہ سب سے بہتر ہے پھردوسراپھرتیسرا، اس کے بعدجھوٹ اورخیانت اورتن پروری اور خواہی نخواہی گواہی دینے کاشوق لوگوں میں شائع ہوجائے گا، اس سے یہ کب ثابت ہواکہ ان زمانوں کے بعد جوکچھ حادث ہوگا اگرچہ کسی اصل شرعی یاعام مطلق ماموربہ کے تحت میں داخل ہو شنیع ومذموم ٹھہرے گا، جو اس کے ثبوت کادعوی رکھتاہو بیان کرے کہ حدیث کے کون سے لفظ کایہ مطلب ہے۔ اے عزیز! یہ توبالبداہۃ باطل کہ زمانہ صحابہ وتابعین میں شرمطلقاً نہ تھانہ ان کے بعد خیرمطلقاً رہی، ہاں اس قدرمیں شک نہیں کہ سلف میں اکثرلوگ خداترس متقی پرہیزگار تھے بعد کو فتنے فسادپھیلتے گئے، پھریہ کن میں، یہ انہیں لوگوں میں جو علم ومحبت اکابرسے بہرہ نہیں رکھتے، ورنہ علمائے دین ہرطبقہ اورہرزمانہ میں منبع ومجمع خیررہے ہیں مگر ہوایہ کہ ان زمانوں میں علم بکثرت تھاکم لوگ جاہل رہتے تھے اورجوجاہل تھے وہ علماء کے فرمانبردار، اس لئے شروفساد کوکم دخل ملتاکہ دین متین دامن علم سے وابستہ ہے اس کے بعد علم کم ہوتاگیا، جہل نے فروغ پایا، جاہلوں نے سرکشی وخودسری اختیارکی، لاجرم فتنوں نے سراٹھایا، اب یہ یہیں نہ دیکھ لیجئے کہ صدہاسال سے علمائے دین مجلس وقیام کو مستحب ومستحسن کہتے چلے آتے ہیں تم لوگ ان کاحکم نہیں مانتے، انہیں سرتابیوں نے اس زمانے کوزمانہ شربنادیا۔ تویہ جس قدر مذمتیں ہیں اس زمانہ مابعدکے جہّال کی طرف راجع ہیں ان سے کون استدلال کرتاہے، نہ ہماراعقیدہ کہ جس زمانہ کے جاہل جوبات چاہیں اپنی طرف سے نکال لیں وہ مطلقاً محمودہوجائے گی۔ کلام علماء میں ہے کہ جس امرکویہ اکابرامت مستحب ومستحسن جانیں وہ بے شک مستحب ومستحسن ہے چاہے کبھی واقع ہوکہ علمائے دین کسی وقت میں مصدر ومظہرشرنہیں ہوتے،
والحمدﷲ ربّ العٰلمین
(اورسب تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کاپروردگار ہے۔ت)