فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
123 - 145
نکتہ۲(ف): عموم واطلاق سے استدلال زمانہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے آج تک علماء میں شائع وذائع یعنی جب ایک بات کوشرع نے محمود فرمایا توجہاں اورجس وقت اور جس طرح وہ بات واقع ہوگی ہمیشہ محمودرہے گی تاوقتیکہ کسی صورت خاصہ کی ممانعت خاص شرع سے نہ آجائے، مثلاً مطلق ذکرالٰہی کی خوبی قرآن وحدیث سے ثابت توجب کبھی کہیں کسی طورپرخدا کی یاد کی جائے گی بہترہی ہوگی، ہرہرخصوصیت کاثبوت شرع سے ضرورنہیں مگرپاخانہ میں بیٹھ کرزبان سے یادالٰہی کرناممنوع کہ اس خاص صورت کی برائی شرع سے ثابت، غرض جس مطلق کی خوبی معلوم اس کی خاص خاص صورتوں کی جداجداخوبی ثابت کرنا ضرورنہیں کہ آخروہ صورتیں اسی مطلق کی توہیں جس کی بھلائی ثابت ہوچکی بلکہ کسی خصوصیت کی برائی ماننایہ محتاج دلیل ہے۔
ف: نکتہ۲: مطلق حکم اس کی تمام خصوصیتوں میں جاری رہتاہے۔
مسلم الثبوت میں ہے:
شاع وذاع احتجاجھم سلفاً وخلفاً بالعمومات من غیرنکیر۔۲؎
متقدمین ومتاخرین کاعمومات سے استدلال کرنا بغیرکسی انکار کے معروف اوررائج ہے(ت)
(۲؎ مسلم الثبوت الفصل الخامس مسئلۃ للعموم صیغ مطبع انصاری دہلی ص۷۳)
اسی میں ہے:
العمل بالمطلق یقتضی الاطلاق۔۳؎
مطلق پرعمل کرنا اطلاق کاتقاضاکرتاہے (ت)
(۳؎مسلم الثبوت فصل المطلق مادل علی فرد منتشر مطبع انصاری دہلی ۱۱۹)
تحریرالاصول علامہ ابن الہمام اوراس کی شرح میں ہے:
العمل بہ ان یجری فی کل ماصدق علیہ المطلق۔۱؎
اس پرعمل کرنایہ ہے کہ وہ ہر اس چیزمیں جاری ہو جس پر مطلق صادق آتاہے(ت)
(۱؎)
یہاں تک کہ خود فتوائے مصدقہ نذیریہ میں ہے: ''جب عام ومطلق چھوڑا تویقینا اپنے عموم واطلاق پررہے گا عموم واطلاق سے استدلال برابرزمانہ صحابہ کرام سے آج تک بلانکیر رائج ہے۔''۲؎
(۲؎ فتاوٰی نذیرحسین دہلوی )
اب سنئے ذکرالٰہی کی خوبی شرع سے مطلقاً ثابت،
قال اﷲ تعالٰی اذکروااﷲ ذکراً کثیرا۳؎o
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا:) خداکویادکرو بہت یاد کرنا۔
(۳؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۴۱ )
اورنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بلکہ تمام انبیاء (ف) واولیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی یادمیں خداکی یادہے کہ ان کی یادہے تواسی لئے کہ وہ اﷲ کے نبی ہیں، یہ اﷲ کے ولی ہیں،
ف: نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاذکربعینہٖ اﷲ تعالٰی کاذکرہے۔
معہذا نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی یادمجالس ومحافل میں یونہی ہوتی ہے کہ حضرت حق تبارک وتعالٰی نے انہیں یہ مراتب بخشے یہ کمال عطافرمائے، اب چاہے اسے نعت سمجھ لویعنی ہمارے آقا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایسے جنہیں حق سبحانہ وتعالٰی نے ایسے درجے دئیے اس وقت یہ کلام کریمہ
ورفع بعضھم درجات۴؎
(اورکوئی وہ ہے جس کو سب پردرجوں بلند کیا۔ت)کی قبیل سے ہوگا، چاہے حمدسمجھ لویعنی ہمارامالک ایساہے جس نے اپنے محبوب کویہ رتبے بخشے اس وقت یہ کلام کریمہ
سبحٰن الذی اسرٰی بعبدہ۵؎
(پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کوراتوں رات لے گیا۔ت)
وآیۃ کریمہ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی۶؎
( وہ وہی ہے جس نے اپنے رسول کوہدایت کے ساتھ بھیجا۔ت) کے طورپر ہوجائے گا۔
( ۴؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۵۳)(۵؎القرآن الکریم ۱۷/ ۱ )( ۶؎ القرآن الکریم ۹/ ۳۳)
حق سبحانہ وتعالٰی اپنے نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم سے فرماتاہے:
ورفعنا لک ذکرک۱؎
(اوربلندکیا ہم نے تمہارے لئے تمہاراذکر۔) امام علامہ قاضی عیاض رحمہ اﷲ تعالٰی شفاشریف میں اس آیۃ کریمہ کی تفسیر سیدی ابن عطاقدس سرہ العزیز سے یوں نقل فرمایا:
جعلتک ذکرامن ذکری فمن ذکرک ذکرنی۔۲؎
یعنی حق تعالٰی اپنے حبیب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے فرماتاہے میں نے تمہیں اپنی یاد میں سے ایک یادکیاتوجوتمہارا ذکرکرے اس نے میراذکرکیا۔
(۱؎ القرآن الکریم ۹۴/ ۴)
(۲؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الاول الفصل الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۱/ ۱۵)
بالجملہ کوئی مسلمان اس میں شک نہیں کرسکتاکہ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی یادبعینہ خدا کی یادہے پس بحکم اطلاق جس جس طریقہ سے ان کی یاد کی جائے گی حسن ومحمود ہی رہے گی اورمجلس میلاد وصلوٰۃ بعداذان وغیرہما کسی خاص طریقے کے لئے ثبوت مطلق کے سوا کسی نئے ثبوت کی ہرگزحاجت نہ ہوگی ہاں جوکوئی ان طرق کوممنوع کہے وہ ان کی خاص ممانعت ثابت کرے، اسی طرح نعمت الٰہی کے بیان واظہارکاہمیں مطلقاً حکم دیاگیا،
قال اﷲ تعالٰی وامّا بنعمۃ ربک فحدّث۳؎
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا:) اپنے رب کی نعمت خوب بیان کرو۔
(۳؎ القرآن الکریم ۹۳/ ۱۱)
اورولادت اقدس حضورصاحب لولاک صلی اﷲ تعالٰی تعالٰی علیہ وسلم تمام نعمتوں کی اصل ہے تو اس کے خوب بیان واظہار کانص قطعی قرآن سے ہمیں حکم ہو اوربیان واظہارمجمع میں بخوبی ہوگا توضرورچاہئے کہ جس قدرہوسکے لوگ جمع کئے جائیں اورانہیں ذکرولادت باسعادت سنایاجائے اسی کانام مجلس میلادہے، علٰی ہذالقیاس نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر مسلمان کاایمان ہے اور اس کی خوبی قرآن عظیم سے مطلقاً ثابت،
اے نبی! ہم نے تمہیں بھیجاگواہ اورخوشخبری دینے والا اورڈرسنانے والاتاکہ اے لوگو! تم خدااوررسول پر ایمان لاؤ اوررسول کی تعظیم کرو۔
(۴؎ القرآن الکریم ۴۸/ ۸و۹)
وقال تعالٰی ومن یعظم شعائراﷲ فانھا من تقوی القلوب۱؎۔ قال ومن یعظم حرمٰت اﷲ فذٰلک خیر عند ربہ۔۲؎
(اﷲتعالٰی نے فرمایا) جوخدا کے شعاروں کی تعظیم کرے تو وہ بیشک دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا) جوتعظیم کرے خدا کی حرمتوں کی تویہ بہترہے اس کے لئے اس کے رب کے یہاں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲۲/ ۳۲ ) ( ۲؎ القرآن الکریم ۲۲/ ۳۰)
پس بوجہ اطلاق آیات حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم جس طریقے سے کی جائے گی حسن ومحمود رہے گی اورخاص خاص طریقوں کے لئے ثبوت جداگانہ درکارنہ ہوگا۔ ہاں اگر کسی خاص طریقہ کی برائی بالتخصیص شرع سے ثابت ہوجائے گی تو وہ بیشک ممنوع ہوگا جیسے حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کوسجدہ کرنا یاجانوروں کوذبح کرتے وقت بجائے تکبیر حضورکانام لینا، اسی لئے علامہ ابن حجرمکی جوہرمنظم میں فرماتے ہیں:
تعظیم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بجمیع انواع التعظیم التی لیس فیہا مشارکۃ اﷲ تعالٰی فی الالوھیۃ امر مستحسن عند من نوراﷲ ابصارھم۳؎۔
یعنی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم تمام اقسام تعظیم کے ساتھ جن میں اﷲ تعالٰی کے ساتھ الوہیت میں شریک کرنانہ ہو ہرطرح امرمستحسن ہے ان کے نزدیک جن کی آنکھوں کواﷲ نے نوربخشاہے۔
(۳؎ الجوہرالمنظم مقدمہ فی آداب السفر الفصل الاول المکتبۃ القادریۃ فی الجامعۃ النظامیہ لاہور ص۱۲)
پس یہ قیام (ف۱ ) کہ وقت ذکرولادت شریفہ اہل اسلام محض بنظرتعظیم واکرام حضورسیدالانام علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام بجالاتے ہیں بیشک حسن ومحمود ٹھہرے گا تاوقتیکہ مانعین خاص اس صورت کی برائی کاقرآن وحدیث سے ثبوت نہ دیں
وانّٰی لھم ذٰلک
(اوریہ ان کے لئے کہاں سے ہوگا۔ت)
ف۱: نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم کانفیس طریقہ۔
تنبیہ: یہاں سے ثابت ہواکہ تابعین وتبع تابعین تودرکنار خودقرآن عظیم سے مجلس وقیام کی خوبی ثابت ہے۔