Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
122 - 145
لطیفہ نظیفہ: (ف۲) ہمارے فرقہ اہلسنت وجماعت پررحمت الٰہیہ کی تمامی سے ہے کہ اس مسئلہ میں بہت منکرین کواپنے گھربھی جائے دست وپا زدن باقی نہیں وہ بزورزبان قیام کو بدعت وناجائز کہے جاتے ہیں مگران کے امام تومولٰی ومرشد وآقامجتہد الطائفہ میاں نذیرحسین صاحب دہلوی کہ آج وہابیہ ہندوستان کے سروسرداراوران کے یہاں لقب شیخ الکل فی الکل کے سزاوار ہیں جن کی نسبت وہابیہ ہند کی ناک طائفہ بھرکے بڑے متکلم بیباک کشورتوہب کے افسرفوجی میاں بشیرالدین صاحب قنوجی نے اپنے رسالہ ممانعت مجلس وقیام مسمّٰی بہ غایۃ الکلام میں لکھا:
زبدۃ المحققین وعمدۃ المحدثین ومولاناسیدنذیرحسین شاہجہاں آبادی ازاولیائے عصرواکابرعلمائے این زمان ست۱؎ الٰی آخرالہذیان۔
محققین میں افضل اورمحدثین کے معتمد مولاناسیدنذیرحسین شاہجہاں آبادی اس زمانے کے اولیاء واکابرعلماء میں سے ہیں۔ خرافات کے آخر تک۔(ت)
(۱؎ غایۃ الکلام         بشیرالدین القنوجی )
ف۲: ایک بڑے وہابی میاں نذرحسین دہلوی کاکلام اوراس سے ڈنکے کی چوٹ ثبوت قیام۔
یہ حضرت من حیث لایشعر جوازواستحباب قیام تسلیم فرماچکے، امام اجل عالم الامہ کاشف الغمہ سیدنا تقی الملۃ والدین سبکی اوران کے حضارمجلس کانعت وذکر حضور اصطفاعلیہ افضل التحیۃ والثناء سن کرقیام فرمانا توہم اوپرثابت کرآئے اور اس سے ملامجتہد دہلوی بھی انکارنہیں کرسکتے کہ خود اسی مسئلہ میں ان کے مستند علامہ شامی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے بھی سبل الہدٰی والرشاد میں یہ حکایت نقل فرمائی اب سنئے کہ مجتہد بہادر اپنے ایک دستخطی مہری مصدقہ فتوٰی میں کہ فقیر کے پاس اصلی موجودہے کیاکچھ تسلیم فرماتے ہیں ان امام ہمام کی نسبت لکھاہے: تقی الدین سبکی کے اجتہادپرعلماء کااجماع ہے۔
امام علامہ مجتہد ابن حجرمکی ان کی تعریف میں لکھتے ہیں:
الامام المجمع علی جلالتہ واجتہادہ۲؎۔
وہ امام جن کی جلالت واجتہاد پراجماع ہے۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی حدیثیہ  مطلب فیماجری من ابن تیمیہ الخ  مطبع جمالیہ مصر ص۸۵)
یہاں سے صاف ثابت ہواکہ امام تقی الدین کامجتہدہونا ان تیرہ صدی کے مجتہد کومقبول ہے اور اسی فتوے میں ہے جب ایک امام صحیح الاجتہاد نے ایک کام توکیاضرور ہے کہ اس کااجتہاد اس کی طرف مؤدی ہواوراجتہاد بیشک حجت شرعیہ ہے۔ اب کیاکلام رہاکہ اس قیام کے جواز پرحجت شرعیہ قائم، اورسنئے اسی فتوٰی میں ہے جیسے ائمہ اربعہ کاقول ضلالت نہیں ہوسکتا ایسے ہی کسی مجتہد کامذہب بدعت نہیں ٹھہرسکتا، جوایساکہے وہ خبیث خودبدعتی احبارورہبان پرست ہے کہ مجتہدچاہے اگلاہو یاپچھلاوہ  تومظہرحکم خداہے، نہ مثبت۔ اب تومانناپڑے گا کہ جوشخص قیام کوبدعت وضلالت کہے وہ خود خبیث بدعتی احبارورہبان پرست ہے۔ اورسنئے تمام لطائف جوایسی جگہ اس خبط پرناز کرتاتھا کہ یہ قیام حادث ہے اورحدیث میں محدثات کی مذمت وارد۔ مجتہد صاحب نے یہ دروازہ بھی بندکردیا کہ اسی فتوے میں ہے خدانے مجتہدوں کواس لئے بنایاہے کہ جوواقعہ تازہ پیداہو اس کاحکم بیان کریں تواس کااماموں پرطعنہ بعینہٖ قرآن وحدیث پرطعن ہے اورایسی جگہ حدیث من احدث الخ پڑھنااول توجھوٹ دوسرے کتنابے محل الخ اس مقام کازیادہ احقاق وکمال اوردلائل مانعین کا ازہاق وابطال فقیرغفراﷲ تعالٰی لہ کے
رسالہ الصارم الالٰھی علٰی عمائد المشرب الواھی
پر محمول کہ رَ دفتوائے مولوی نذیرحسین دہلوی میں زیر قصدتالیف ہے وہاں ان شاء اﷲ العزیز فیض الٰہی نئے طور سے بندہ اذل ارذل کے لئے کارفرمائے عنایت ہوگا جوکچھ لکھاجائے گا محض اقرار واعتراف عمائد فرقہ سے مثبت ہوگا،
واﷲ الموفق والمعین ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم
 (اﷲ تعالٰی ہی توفیق دینے والااورمدد کرنے والاہے۔ بلندی وعظمت والے معبود کی توفیق کے بغیرنہ توگناہ سے بچنے کی طاقت ہے اورنہ ہی نیکی کرنے کی۔ت)
مقام دوم: اس مقام کی شرح وتفصیل مفضی نہایت اطناب وتطویل کہ اگراس کاایک حصہ بیان میں آئے تو کتاب مستقل ہوجائے معہذا ہمارے علمائے عرب وعجم بحمداﷲ اس سے فارغ ہوچکے کوئی دقیقہ احقاق حق وابطال کا اٹھانہ رکھاعلی الخصوص حضرت حامی سنن وماحی الفتن حجۃ اﷲ فی الارضین معجزۃ سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حضرت سیدی خدمت والدم روّح اﷲ روحہ و نوّر ضریحہ نے کتاب مستطاب
اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد
میں وہ تحقیقات بدیعہ وتدقیقات منیعہ ارشاد فرمائیں جن کے بعد ان شاء اﷲ تعالی حق کے لیے نہیں مگر غایت انجلاء بیان باطل کو نصیب نہیں مگر بے موت بے امان ، والحمد للہ رب العالمین، لہٰذا فقیریہاں چنداجمالی نکتوں پربرسبیل اشارہ وایماء اکتفاکرتا ہے اگر اسی قدرچشم انصاف میں پسندآیا فبہاورنہ ان شاء اﷲ تعالٰی فقیر تفصیل وتکمیل کے لئے حاضر
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم
 (اورنہیں ہے طاقت گناہ سے بچنے کی، اورنہ ہی نیکی کرنے کی مگربلندی، عظمت اور قدرت والے معبود کی توفیق سے۔ت)
نکتہ ۱(ف): اصل اشیاء میں اباحت ہے یعنی جس چیزکی ممانعت شرع مطہرہ سے ثابت اور اس کی برائی پردلیل شرعی ناطق، صرف وہی ممنوع ومذموم ہے،باقی سب چیزیں جائزومباح رہیں گی،خاص ان کاذکر جوازقرآن وحدیث میں منصوص ہویا ان کاکچھ ذکرنہ آیا ہوتو جو شخص جس فعل کوناجائزوحرام یامکروہ کہے اس پرواجب کہ اپنے دعوے پردلیل قائم کرے اورجائزومباح کہنے والوں کوہرگزدلیل کی حاجت نہیں کہ ممانعت پرکوئی دلیل شرعی نہ ہونایہی جواز کی دلیل کافی ہے۔
ف: نکتہ۱: اصل اشیاء میں اباحت ہے ۔
جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ ومستدرک حاکم میں سلمان فارسی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الحلال مااحل اﷲ فی کتابہ والحرام ماحرّم اﷲ فی کتابہ وماسکت عنہ فھو مما عفاعنہ۔۱؎
حلال وہ ہے جوخدانے اپنی کتاب میں حلال کیا اورحرام وہ ہے جوخدانے اپنی کتاب میں حرام فرمادیااور جس کاکچھ ذکرنہ فرمایا وہ اﷲ کی طرف سے معاف ہے یعنی اس کے فعل پر کچھ مواخذہ نہیں۔
 (۱؎ جامع الترمذی     ابواب اللباس     باب ماجاء فی لبس الفراء     امین کمپنی دہلی         ۱/ ۲۰۶)

(سنن ابن ماجہ         ابواب الاطعمہ     باب اکل الجبن والسمن     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ص۲۴۹)

(المستدرک للحاکم     کتاب الاطعمہ     دارالفکربیروت    ۴/ ۱۱۵)
مرقاۃ میں فرماتے ہیں:
فیہ ان الاصل فی الاشیاء الاباحۃ۔۲؎
اس حدیث سے ثابت ہواکہ اصل سب چیزوں میں مباح ہوناہے۔
 (۲؎ مرقاۃ المفاتیح    کتاب الاطعمہ        تحت حدیث ۴۲۲۸    المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ    ۸/ ۵۷)
شیخ شرح میں فرماتے ہیں:
وایں دلیل ست برآنکہ اصل دراشیاء اباحت است۔۳؎
یہ دلیل ہے اس بات پرکہ اشیاء میں اصل اباحت ہے۔(ت)
 (۳؎ اشعۃ اللمعات     کتاب الاطعمہ الفصل الثانی   تحت حدیث ۴۲۲۸  نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۰۶)
نصرکتاب الحجۃ میں امیرالمومنین عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
قال اﷲ عزوجل خلقکم وھو اعلم بضعفکم فبعث الیکم رسولا من انفسکم وانزل علیکم کتابا وحدلکم فیہ حدودا امرکم ان لاتعتدوھا وفرض فرائض امرکم ان تتبعوھا وحرم حرمات نھاکم ان تنتھوھا وترک اشیاء لم یدعھا نسیئًا فلاتکلفوھا وانما ترکھا رحمۃ لکم۔۱؎
بیشک اﷲ عزوجل نے تمہیں پیداکیا اور وہ تمہاری ناتوانی جانتاتھا توتم میں تمہیں میں سے ایک رسول بھیجا، اورتم پرایک کتاب اتاری اور اس میں تمہارے لئے کچھ حدیں باندھیں اورتمہیں حکم دیا کہ ان سے آگے نہ بڑھو اورکچھ فرض کئے اورتمہیں حکم کیاکہ ان کی پیروی کرواورکچھ چیزیں حرام فرمائیں اورتمہیں ان کی بے حرمتی سے منع فرمایا اورکچھ چیزیں اس نے چھوڑدیں کہ بھول کر نہ چھوڑیں ان میں تکلف نہ کرو اور اس نے تم پر رحمت ہی کے لئے انہیں چھوڑاہے۔
 (۱؎ کتاب الحجۃ)
امام عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی فرماتے ہیں:
لیس الاحتیاط فی الافتراء علی اﷲ باثبات الحرمۃ والکراھۃ الذین لابدلھما من دلیل بل فی القول بالاباحۃ التی ھی الاصل۔۲؎
یہ کچھ احتیاط نہیں ہے کہ کسی چیزکوحرام یا مکروہ کہہ کرخدا پرافتراء کردوکہ حرمت وکراہت کے لئے دلیل درکارہے بلکہ احتیاط اس میں ہے کہ اباحت مانی جائے کہ اصل وہی ہے۔
 (۲؎ ردالمحتار     بحوالہ الصلح بین الاخوان     کتاب الاشربہ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۹۶)
مولاناعلی قاری رسالہ اقتداء بالمخالف میں فرماتے ہیں:
من المعلوم ان الاصل فی کل مسئلۃ ھوالصحۃ واما القول بالفساد اوالکراھۃ فیحتاج الٰی حجۃ من الکتاب والسّنّۃ اواجماع الامۃ۔۳؎
یقینی بات ہے کہ اصل ہرمسئلہ میں صحت ہے اورفساد یاکراہت ماننایہ محتاج اس کاہے کہ قرآن یاحدیث یااجماع امت سے اس پردلیل قائم کی جائے۔
 (۳؎ رسالہ الاقتداء بالمخالف )
اوراس کے لئے بہت آیات وحدیث سے یہ مطلب ثابت اوراکابر ائمہ سلف وخلف کے کلام میں اس کی تصریح موجود، یہاں تک کہ میاں نذیرحسین دہلوی کے فتوائے مصدقہ مہری دستخطی میں ہے ''اومدہوش بے عقل، خدااوررسول کاجائزنہ کہنااوربات ہے اورناجائز کہنااوربات۔ یہ بتاؤ کہ تم جوناجائز کہتے ہو خدااوررسول نے ناجائز کہاں کہاہے۔۴؎'' الخ  اھ ملخصًا۔
 (۴؎ فتاوٰی نذیرحسین دہلوی )
پس مجلس میلادوقیام وغیرہا بہت امورمتنازع فیہا کے جوازپر ہمیں کوئی دلیل قائم کرنے کی حاجت نہیں، شرع سے ممانعت نہ ثابت ہوناہی ہمارے لئے دلیل ہے توہم سے سندمانگنا سخت نادانی اوربحکم مجتہد بہادرعقل وہوش سے جدائی ہے، ہاں تم جوناجائزوممنوع کہتے ہوتم ثبوت دوکہ خداورسول نے ان چیزوں کوکہاں ناجائزکہاہے اورثبوت نہ دوان شاء اﷲ تعالٰی ہرگزنہ دے سکوگے تواقرارکروکہ تم نے شرع مطہر پرافتراء کیا،
ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون۱؎o
بیشک جولوگ اﷲ تعالٰی پرجھوٹ باندھتے ہیں ان کابھلانہ ہوگا۔(ت)سبحان اﷲ الٹا سندکامطالبہ ہم سے۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۱۶/ ۱۱۶)
Flag Counter