Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
121 - 145
مولانا علی طحان لکھتے ہیں:
قرائۃ المولد الشریف والقیام فیہ مستحب ومن انکر ذٰلک فھو جحودلایعرف مراتب الرسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔۳؎
مولدشریف پڑھنا اوراس میں قیام کرنا مستحب ہے اورمنکرہٹ دھرم ہے جسے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی قدرمعلوم نہیں۔(عہ۲)
عہ۲:  منکرکورسالت کی قدرنہیں۔
 (۳؎ )
مولانا محمدبن داؤد بن عبدالرحمن لکھتے ہیں:
مستحب یثاب فاعلہ ولاینکرہ الا متبدع۔۴؎
مستحب کرنے والاثواب پائے گا اورمنکربدعتی ہوگا۔
 (۴؎ )
مولانا محمدبن عبداﷲ لکھتے ہیں:
قرائۃ المولد الشریف والقیام عند ذکرولادۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وکل شیئ فی السوال حسن بتعظیم المصطفٰی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ومن یستحق التعظیم غیرہ۔۵؎
مولدشریف پڑھنا اورذکرولادت نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے وقت قیام کرنا اورجتنی باتیں سوال میں مذکورہیں یہ سب تعظیم مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے حسن ہیں اورحضورکے سواتعظیم کامستحق کون ہے۔
 (۵؎ )
مولانا احمدبن خلیل لکھتے ہیں:
ھوالصواب اللائق بتعظیم المصطفٰی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فعلٰی حاکم الشریعۃ المطھرۃ زجر من انکر وتعزیرہ۱؎۔
یہی حق ہے اورتعظیم مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے مناسب۔ پس حاکم شریعۃ مطہرہ پرلازم کہ منکرکوجھڑکے اورسزادے۔(عہ۱)
عہ۱: منکرواجب التعزیرہے۔
 (۱؎)
مولانا عبدالرحمن بن علوی حضرمی لکھتے ہیں:
استحسنو القیام تعظیمالہ اذاجاء ذکرمولدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وماصار تعظیمالہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فوجب علینا اداؤہ والقیام بہ ولاینکر ماذکرنا الامبتدع مخالف عن طریق اھل السنۃ والجماعۃ لااستماع واصغاع لکلامہ وعلٰی حاکم الاسلام تعزیرہ۔۲؎
علماء نے فتوٰی وقت ذکرولادت نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حضورکی تعظیم کے لئے قیام مستحسن سمجھا اوجوچیز حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم ٹھہری تواس کااداکرنا اوربجالانا ہم پرواجب ہوگیا اوراس کاانکارنہ کرے گا مگربدعتی مخالف طریقہ اہلسنت وجماعت جس کی بات نہ سننے کے قابل نہ توجہ کے لائق، اورحاکم اسلام پر اس (عہ۲) کی تعزیرواجب ہے۔
عہ۲:  منکرواجب التعزیرہے۔
 ( ۲؎)
بالجملہ سردست اس قدرکتب فتاوٰی وافعال واقوال علماء ائمہ سے اس قیام مبارک کے استحسان واستحباب کی سند صریح حاضرہے جس میں سو سے زائدائمہ وعلماء کی تحقیق وتصدیق روشن وظاہر اوررسالہ غایۃ المرام میں علمائے ہند کے فتوے چھپے ہیں پچاس سے زیادہ مہرودستخط ہیں اب منصف انصاف کرے آیا اس قدرعلماء مکہ معظمہ ومدینہ منورہ وجدہ وحدیدہ وروم وشام ومصرودمیاط ویمن و زبیدوبصرہ وحضرموت وحلب وحبش وبرزنج وبرع وکرد وداغستان واندلس وہند کااتفاق قابل قبول ارباب عقول نہ ہوگا، یامعاذاﷲ یہ عمائد شریعت صدہاسال سے آج تک سب کے سب مبتدع وبدمذہب، اورایک بدعت ضلالت کے مستحب ومستحسن ماننے والے ٹھہریں گے، تعصب نہ کیجئے توہم ایک تدبیربتائیں ذرا اپنے دل کو خیالات اِیں وآں سے رہائی دیجئے اورآنکھیں بند کرکے گردن جھکاکریوں دل میں مراقبہ کیجئے کہ گویایہ سیکڑوں اکابرسب کے سب ایک وقت میں زندہ موجودہیں اوراپنے اپنے مراتب عالیہ کے ساتھ ایک مکان عالیشان میں جمع ہوئے ہیں اوران کے حضور مسئلہ قیام پیش ہوا ہے اوران سب عمائدنے ایک زبان ہوکربلندآوازسے فرمایاہے، بیشک مستحب ہے، وہ کون ہے جواسے براکہتاہے، ذراہمارے سامنے آئے، اس وقت ان کی شوکت وجبروت کوخیال کیجئے اورمشتے چندمانعین ہندوستان میں ایک ایک کامنہ چراغ لے کر دیکھئے کہ ان میں سے کوئی بھی اس عالی شان مجمع میں جاکر ان کے حضور اپنی زبان کھول سکتاہے اوریوں تو: ؎
چوں شیراں برفتند ازمرغزار        زندروبہ لنگ لاف شکار۱؎۔
 (جب جنگلات اورسبزہ زار سے شیر چلے جائیں تولنگڑی لومڑی بھی شکار کی ڈینگیں مارنے لگتی ہے۔ت)
 (۱؎ )
جسے چاہئے کہہ دیجئے کہ وہ کیاتھا ہم ان کی کب مانتے ہیں، ان کاقول کیاحجت ہوسکتاہے، یہ بھی نہ سہی، بالفرض اگران سب اکابر سے بیان مسئلہ میں غلطی وخطاہوجائے تونقل وروایت میں تو معاذاﷲ کذب وافتراء نہ کریں گے، اب اوپر کی عبارتیں دیکھئے کہ کتنے علمائے اہلسنت وجماعت وعلمائے بلاددارالاسلام کااس فعل کے استحباب واستحسان پراجماع نقل کیاہے، کیا اجماع اہلسنت بھی پایہ قبول سے ساقط، اورہنوزدلیل وسند کی حاجت باقی ہے، اچھایہ بھی جانے دو، اورچندہندیوں کاخلاف کہ وہ بھی جب یہاں کسی طرح کادینی بندوبست ونظام نہ رہا اورہرایک کو جومنہ پرآئے بک دینے کااختیار ملاوقت وموقع پاکربہک اٹھے ہیں، قادح اجماع جانو، تاہم ہماری طرف سواداعظم میں توشک نہیں، اورحضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتبعوا السوادالاعظم فانہ من شذ شذ فی النار۔۲؎
بڑے گروہ کی پیروی کرو کہ جواکیلارہااکیلادوزخ میں گیا۔
 (۲؎ المستدرک للحاکم     کتاب العلم     دارالفکر بیروت    ۱/ ۱۶۔۱۱۵)
اورفرماتے ہیں:
انما یاکل الذئب القاصیۃ۔۳؎
بھیڑیا اسی بکری کوکھاتاہے جوگلہ سے دورہوتی ہے۔
 (۳؎ السنن الکبرٰی     کتاب الصلوٰۃ     باب فرض الجماعۃ فی غیرالجمعہ علی الکفایۃ     دارصادربیروت    ۳/ ۵۴)
انصاف کیجئے توحضرت امام اجل محقق اعظم سیدنا تقی الملۃ والدین سبکی اوراس وقت کے اکابرعلماء واعیان قضاۃ ومشائخ اسلام کاقیام ہی مسلمانوں کے لئے حجت کافیہ تھا جس کے بعد اورسند کی احتیاج نہ تھی، جیساکہ علامہ جلیل علی بن برہان حلبی وعلامہ انباری وغیرہما علماء نے تصریح فرمائی نہ کہ ان ائمہ کے بعد یہ قیام تمام بلاددارالاسلام کے خواص وعوام میں صدہاسال سے شائع وذائع ہے اورہزارہاعلماء واولیاء اس پراتفاق واجماع فرمائیں جب بھی آپ صاحبوں کے نزدیک لائق تسلیم نہ ہو، صدحیف ہزارافسوس کہ قرنہاقرن سے علمائے امت محمدیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سب معاذاﷲ بدعتی وگمراہ وخطاکارٹھہریں اورسچے پکے سنی بنیں تویہ چندہندی جنہیں اس ملک میں احکام اسلام جاری نہ ہونے نے ڈھیلی باگ کردی
انّا ﷲ وانّا الیہ راجعون۱؎
 (ہم اﷲ کے مال ہیں اورہمیں اسی کی طرف پھرناہے۔ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۲/ ۱۵۶)
 (ف۱) یہ مجمل تحقیق استحباب قیام پرصرف ایک دلیل کی، اس کے سوا دلائل متکاثرہ وحجج باہرہ وبراہین قاہرہ قرآن وحدیث واصول وقواعد شرع سے اس پرقائم ہیں جن کی تفصیل وتوضیح اورشبہات مانعین کی تذلیل وتفضیح پرطرزبدیع ونہج نجیح حضرت حجۃ الاسلام بقیۃ السلف تاج العلماء راس الکملاسیدی ومولائی خدمت والد ماجد حضرت مولانا محمدنقی علی خاں صاحب قادری برکاتی احمدی قدس اﷲ تعالٰی سرہ الزکی نے رسالہ
مستطابہ اذاقۃ الاٰثام لمانعی عمل المولد والقیام
میں بمالامزید علیہ بیان فرمائی، جسے تحقیق عدیل وتدقیق بے مثیل دیکھنے کی تمناہو اسے مژدہ دیجئے کہ اس پاک مبارک رسالہ کے مائدہ فائدہ سے زلہ رباہو، رہایہ کہ قیام ذکرولادت شریف کے وقت کیوں ہے، اس کی وجہ نہایت روشن، اولاً صدہاسال سے علماء کرام وبلاددارالاسلام میں یونہی معمول، ثانیاً ائمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ ذکرپاک صاحب لولاک صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم مثل ذات اقدس کے ہے اورصورتعظیم سے ایک صورت قیام بھی ہے اوریہ صورت وقت قدوم معظم بجالائی جاتی ہے اورذکرولادت شریف حضورسیدالعالمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے عالم دنیامیں تشریف آوری کاذکر ہے تویہ تعظیم اسی ذکرکے ساتھ مناسب ہوئی، واﷲ تعالٰی اعلم۔
ف۱: تحقیقی ذکرولادت شریفہ
Flag Counter