فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
120 - 145
اس فتوٰی پرحضرت سیدالعلماء احمددحلان مفتی شافعیہ وجناب مستطاب شیخنا وبرکتنا سراج الفضلا مولانا عبدالرحمن سراج مفتی حنفیہ ومولانا حسن مفتی حنابلہ ومولانا محمدشرقی مفتی مالکیہ وغیرہم پینتالیس علماء کی مہریں ہیں اورفتوائے علماء جدہ( عہ: فتاوٰی ۱۰ازعلمائے جدہ) میں مجیب اول مولاناناصربن علی بن احمد مجلس میلاد اوراس میں قیام وتعیّن یوم وتزئین مکان واستعمال خوشبو وقرأت قرآن واظہار سرورواطعام طعام کی نسبت فرماتے ہیں:
بھٰذہ الصورۃ المجموعۃ من الاشیاء المذکورۃ بدعۃ حسنۃ مستحبۃ شرعًا لاینکرھا الامن فی قلبہ شعبۃ من شعب النفاق والبغض لہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وکیف یسوغ لہ ذٰلک مع قولہ تعالٰی ومن یعظم شعائر اﷲ فانھا من تقوی القلوب۱؎۔
جس مجلس میں یہ سب باتیں کی جائیں وہ شرعاً بدعت حسنہ ہے جس کاانکارنہ کرے گا مگروہ جس کے دل میں نفاق کی شاخوں سے ایک شاخ اورنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی عداوت ہے اوریہ انکار اسے کیونکر رواہوگا حالانکہ حق تعالٰی فرماتاہے جوخداکے شعائروں کی تعظیم کرے تو وہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہیں۔(عہ۱:)
عہ۱: فتوٰی ۹ علماء مکہ معظمہ ومفتیان مذاہب اربعہ ۔
(۱؎ )
مولانا عباس بن جعفربن صدیق فرماتے ہیں:
مااجاب بہ الشیخ العلامۃ فھو الصواب لایخالفہ الا اھل النفاق ومافی السوال فھو حسن کیف وقد قصد بذٰلک تعظیم المصطفٰی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاحرمنا اﷲ تعالٰی من زیارۃ فی الدنیا ولامن شفاعۃ فی الاخرٰی ومن انکر من ذٰلک فھو محروم منھما۔۲؎
شیخ علامہ ناصربن احمد بن علی نے جوجواب دیاوہی حق ہے اس کے خلاف نہ کریں گے مگرمنافقین، اور جوکچھ سوال میں مذکورہے سب حسن ہے، اورکیوں نہ حسن ہو کہ اس سے مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم ہوتی ہے، اﷲ تعالٰی ہمیں محروم نہ کرے ان کی زیارت سے دنیامیں اورنہ ان کی شفاعت سے آخرت میں، اورجو اس سے انکارکرے گا وہ ان دونوں سے محروم ہے۔(عہ۲)
عہ۲: منکرزیارت وشفاعت سے محروم ہے۔
(۲؎)
مولانا احمدفتاح لکھتے ہیں:
اعلم ان ذکر ولادۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ماوقع من المعجزات والحضور لسماعہ سنۃ بلاشک وریب لکن من ھٰذہ الصورۃ المجموعۃ من الاشیاء المذکورۃ کما ھو المعمول فی الحرمین الشریفین وجمیع دیارالعرب بدعۃ حسنۃ مستحبۃ یثاب فاعلھا ویعاقب منکرومانعھا۱۔
جان توکہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ولایت ومعجزات کاذکراور اس کے سننے کوحاضرہونا بیشک سنت ہے مگریہ ہیئت مجموعی جس میں قیام وغیرہ اشیائے مذکورہ ہوتی ہیں جیساکہ حرمین شریفین اورتمام دیارعرب کامعمول ہے اوریہ بدعت حسنہ مستحبہ ہے جس کے کرنے والے کو ثواب اورمنکرومانع پرعذاب۔
(۱؎ )
مولانا محمدبن سلیمان لکھتے ہیں:
نعم اصل ذکرالمولد الشریف وسماعہ سنۃ وبھٰذہ الکیفیۃ المجموعۃ بدعۃ حسنۃ مستحبۃ وفضیلۃ عظیمۃ مقبولۃ عنداﷲ تعالٰی کما جاء فی اثر عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ ماراٰہ المسلمون حسناً فھو عنداﷲ حسن، والمسلمون من زمان السلف الی الاٰن من اھل العلم والعرفان کلھم رواہ حسنا بلانقصان فلاینکر ولایمنع من ذٰلک الامانع الخیروالاحسان وذٰلک عمل الشیطٰن۔۲؎
ہاں اصل ذکرمولدشریف اوراس کاسننا سنت ہے اوراس کیفیت مجموعی کے ساتھ جس میں قیام وغیرہ ہوتاہے بدعت حسنہ مستحبہ اوربڑی فضیلت پسندیدہ خداہے کہ حدیث عبداﷲ بن مسعود میں وارد''جسے مسلمان نیک سمجھیں وہ خداکے نزدیک نیک ہے'' اورمسلمان سلف سے آج تک علماء اولیاء سب اسے مستحسن بلانقصان سمجھتے آئے تو اس سے منع وانکارنہ کرے گا مگروہ کہ خیراوربھلائی سے روکنے والاہوگا اوریہ کام شیطان کاہے۔
(۲؎ )
مولانا احمدجلیس لکھتے ہیں:
الحمدﷲ وکفٰی والصلٰوۃ علی المصطفٰی نعم ذکرولادۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ومعجزۃ وحلیۃ والحضور لسماعہ وتزیین المکان ورش ماء الورد والبخور بالعود تعین الیوم والقیام عند ذکرولادتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واطعام الطعام وتقسیم التمروقرائۃ شیئ من القراٰن کلھا مستحبۃ بلاشک وریب واﷲ تعالٰی اعلم بالغیب۔۱؎
خداکوحمد ہے اوروہ کافی ہے مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پردرود۔ ہاں ولادت ومعجزات وحلیہ شریفہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاذکرکرنا اور اس کے سننے کوحاضرہونا اورمکان سجانا اورگلاب چھڑکنا اوراگربتی سلگانا، اوردن مقررکرنااورذکرولادت نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے وقت قیام کرنا اورکھاناکھلانا اورخرمے بانٹنا اورقرآن مجید کی چندآیتیں پڑھنا بلاشک وشبہہ مستحب ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم بالغیب۔
(۱؎ )
مولانا محمدصالح لکھتے ہیں:
امّۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من العرب والمصروالشام والروم والاندلس وجمیع بلادالاسلام مجتمع علی استحبابہ واستحسانہ۲؎۔
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی امت عرب ومصروشام وروس وروم واندلس وتمام بلاداسلام اس کے استحباب واستحسان پراجماع واتفاق کئے ہوئے ہے۔
(۲؎ )
اوراسی طرح احمدبن عثمان واحمد بن عجلان ومحمد صدقہ وعبدالرحیم بن محمد زبیدی نے لکھااورتصدیق کیاتھا، فتاوائے علمائے جدّہ میں مولانا یحیٰی بن اکرم فرماتے ہیں:
الّف فی ذٰلک العلماء وحثوا علٰی فعلہ فقالوا لاینکرھا الامبتدع فعلٰی حاکم الشریعۃ ان یعزرہ۔۳؎
علماء نے اس بارے میں کتابیں تالیف فرمائیں اوراس کے فعل پررغبت دی اورفرمایا اس کاانکارنہ کرے گا مگربدعتی، توحاکم شرع پراس کی تعزیرلازم۔
(۳؎ )
مولانا علی شامی فرماتے ہیں:
لاینکرھذا الا من طبع اﷲ علٰی قلبہ وقد نص علماء السنۃ علٰی ان ھذا من المستحسن المثاب علیہ وردّ واردالحسن علٰی منکرہ۱؎ الخ۔
اس کاانکارنہ کرے گا مگروہ جس کے دل پر خدانے مہرکردی اوربیشک علمائے اہلسنت نے صریح فرمائی کہ یہ مستحسن و کارثواب ہے منکرکاخوب رَد فرمایا۔