Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
119 - 145
واما قیام اھل الاسلام عند ذکر ولادتہ علیہ الصّلٰوۃ والسلام فی ذٰلک المحفل اشاعۃ للتعظیم واظھار الاحترام فقد صرح فی انسان العیون المشھور بالسیرۃ الحلبیۃ باستحسانہ کذٰلک وقال العلامۃ البرزنجی فی رسالۃ المولد قداستحسن القیام عند ذکر مولدہ الشریف ائمۃ ذو درایۃ وروایۃ فطوبٰی لمن کان تعظیمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم غایۃ مرامہ ومرماہ۱؎ انتھی بلفظہ
یعنی ذکرولادت حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے وقت اس محفل میں اہل اسلام کا اشاعت تعظیم واظہاراحترام کے لئے قیام کرنا بتصریح انسان العیون مشہوربہ سیرت حلبیہ مستحسن ہے۔ اورعلامہ برزنجی رسالہ مولد میں فرماتے ہیں قیام وقت ذکرمولدشریف ائمہ ذودرایت وروایت کے نزدیک مستحب ہے توخوشی ہواسے جس کی غایت مرادومرام تعظیم حضورسیدالانام علیہ الصلوٰۃ والسلام ہے انتہی
 (۱؎ عقدالجوھر فی مولدالنبی الازھر للبرزنجی(مترجم بالاردویۃ) جامعہ اسلامیہ لاہور    ص۲۵و۲۶)
اما الحکم بحرمۃ ذٰلک التعظیم ومما نعتہ بدلیل عدم ذکرہ بالخصوص فی السنۃ فھو فاسدعندجمہورالمحققین قال فی عین العلم والاسراربالمساعدۃ فیمالم ینہ عنہ وصار معتادابعد عصرھم حسنۃ وان کان بدعۃ۲؎ الخ اقول:  والدلیل علٰی ھذا ماروی ابن مسعودرضی اﷲ تعالٰی عنہ مرفوعاً وموقوفاً ماراٰہ المسلمون حسنًا فھو عنداﷲ حسن۳؎
اور اس تعظیم کو بدیں وجہ کہ اس خصوصیت کے ساتھ حدیث میں مذکورنہیں حرام وممنوع کہناجمہور محققین کے نزدیک فاسد ہے۔ عین العلم میں فرماتے ہیں جس چیز سے شروع میں نہی نہ آئی اوربعدزمانہ سلف کے لوگوں میں جاری ہوئی اس میں موافقت کرکے مسلمانوں کادل خوش کرنابہترہے اگرچہ وہ چیز بدعت ہی ہو الخ میں کہتاہوں اس پردلیل وہ حدیث ہے جوحضرت عبداﷲ بن مسعودرضی اﷲ تعالٰی عنہ نے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد اورخود ان کے قول سے مروی ہوئی کہ اہل اسلام جس چیز کو نیک جانیں وہ خدا کے نزدیک بھی نیک ہے ۔
 (۲؎ عین العلم     الباب التاسع فی الصمت واٰفات اللسان    امرت پریس لاہور    ص۴۱۲)

(۳؎ المستدرک للحاکم     کتاب معرفۃ الصحابۃ     دارالفکربیروت    ۳/ ۷۸)
وقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام خالقوا الناس باخلاقھم رواہ الحاکم وقال صحیح علٰی شرط الشیخین۴؎، وقال الامام حجۃ الاسلام فی الاحیاء الادب الخامس موافقۃ القوم فی القیام اذاقام واحد منھم فی وجد صادق غیرریاء اوتکلف اوقام باختیار من غیر وجد فلابد من الموافقۃ فذٰلک من ادب الصحبۃ ولکل قوم رسم ولابد من مخالقۃ الناس باخلاقھم کما ورد فی الخبر لاسیما اذاکانت اخلاقاً فیھا حسن العشرۃ و تطییب القلب وقول القائل ان ذٰلک بدعۃ لم یکن فی الصحابۃ فلیس کل مایحکم باباحتہ منقولاً عن الصحابۃ وانما المحذور بدعۃ تراغم سنۃ ماثورۃ ولم ینقل النھی عن شیئ من ھذا وکذٰلک سائرانواع المساعدات اذا قصد بھا تطییب القلب، و اصطلح علیھا جماعۃ، فالاحسن المساعدۃ الافیما ورد فیہ نھی لایقبل التاویل۱؎ انتھی کلام الامام حجۃ الاسلام باختصار المرام۔
اور وہ حدیث کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں سے ان کی عادتوں کے مطابق برتاؤ کرو۔ حاکم نے اسے روایت کیااورکہاکہ بخاری ومسلم کی شرط پرصحیح ہے، اور امام حجۃ الاسلام غزالی رحمہ اﷲ تعالٰی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں: ''پانچواں ادب قوم کی موافقت کرناہے قیام میں جب کوئی ان میں سے سچے وجد میں بے نمائش وتکلف یابلاوجد اپنے اختیار سے کھڑاہوتوضرور ہے کہ سب حاضرین اس کی موافقت کریں اور کھڑھے ہو جائیں کہ یہ آداب صحبت سے ہے، اور ہرقوم کی ایک رسم ہوتی ہے اورلوگوں سے ان کی عادتوں کے موافق برتاؤکرنا لازم ہے جیساکہ حدیث میں واردہوااورخصوصاً جب ان عادتوں میں اچھابرتاؤ اوردلوں کی خوشنودی ہواورکہنے والے کایہ کہنا کہ یہ بدعت ہے صحابہ سے ثابت نہیں، تو یہ کب ہے کہ جس چیزکے جوازکاحکم دیاجائے وہ صحابہ سے منقول ہو، بری تو وہ بدعت ہے جوکسی سنت ماموربہاکاکاٹ کرے اوران باتوں سے نہی کہیں نہ آئی اورایسے ہی سب مساعدتیں جب ان کے دل خوش کرنامقصود ہو اورایک جماعت نے اس پراتفاق کرلیا ہوتوبہتریہی ہے کہ ان کی موافقت کی جائے، مگران باتوں میں جن سے ایسی صریح نہی وارد ہوئی کہ لائق تاویل بھی نہیں''۔ یہاں تک امام حجۃ الاسلام غزالی کاارشادتھا کہ باختصار منقول ہوا، انتہٰی۔
 (۴؎ اتحاف السادۃ المتقین، بحوالہ الحاکم، کتاب السماع والوجد     الباب الثانی المقام الثالث دارالفکر بیروت    ۶/ ۵۷۲)

 (۱؎ احیاء العلوم         کتاب السمع والوجد    الباب الثانی         المقام الثالث     مطبعۃ المشہد الحسینی قاھرہ    ۲/ ۳۰۵)
آخرروضۃ النعیم میں جوفتوائے علماء کرام مطبوع ہوئے ان میں فتوائے ۸ حضرات علماء مدینہ منورہ میں بعد اثبات حسن وخوبی محفل میلاد شریف مذکور:
والحاصل ان مایصنع من الولائم فی المولد الشریف وقرائتہ بحضرۃ المسلمین وانفاق المبرات والقیام عند ذکرولادۃ الرسول الامین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ورش ماء الورد والقاء البخوروتزیین المکان وقرأۃ شیئ من القراٰن والصلٰوۃ علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واظھار الفرح والسرور فلاشبھۃ فی انہ بدعۃ حسنۃ مستحبۃ وفضیلۃ شریفۃ مستحسنۃ اذلیس کل بدعۃ حرامًا، بل قدتکون واجبۃ کنصب الادلۃ للرد علی الفرق الضالۃ وتعلم النحو وسائرالعلوم المعینیۃ علٰی فھم الکتاب والسنۃ کما ینبغی، ومندوبۃ کبناء الربط والمدارس، ومباحۃ کالتوسع فی الماکل والمشارب اللذیذۃ والثیاب کما فی شرح المناوی علی جامع الصغیر عن تھذیب النووی فلاینکرھا الامبتدع لااستماع لقولہ بل علی حاکم الاسلام ان یعزرہ واﷲ تعالٰی اعلم۔
یعنی خلاصہ مقصودیہ ہے کہ میلادشریف میں ولیمے کرنااورحال ولادت مسلمانوں کوسنانا اورخیرات ومبرات بجالانا اورذکرولادت رسول امین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے وقت قیام کرنا اورگلاب چھڑکنا اورخوشبوئیں سلگانا اورمکان آراستہ کرنا اورکچھ قرآن پڑھنا اورنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پردرودبھیجنااورفرحت وسرور کا ظاہرکرنابیشک بدعت حسنہ مستحبہ فضیلت اورشریفہ مستحسنہ ہے کہ ہربدعت حرام نہیں ہوتی بلکہ کبھی واجب ہوتی ہے جیسے گمراہ فرقوں کے رَد کے لئے دلائل قائم کرنا اورنحووغیرہ وہ علوم سیکھنا جن کی مدد سے قرآن وحدیث بخوبی سمجھ میں آسکیں اورکبھی مستحب ہوتی ہے جیسے سرائیں اورمدرسے بنانا، کبھی مباح جیسے لذیذکھانے پینے اورکپڑوں میں وسعت کرنا جیساکہ علامہ مناوی نے شرح جامع صغیر میں تہذیب امام علامہ نووی سے نقل کیاتوان امورکاانکاروہی کرے گا جوبدعتی ہوگا، اس کی بات سننا نہ چاہئے بلکہ حاکم اسلام پرواجب ہے کہ اسے سزادے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ روضۃ النعیم )
اس فتوٰی پرمولٰینا عبدالجبار وابراہیم بن خیار وغیرہما تیس علماء کی مہریں ہیں اورفتوائے علمائے مکہ معظمہ  میں میلادوقیام کااستحباب علمائے سلف سے نقل کرکے فرماتے ہیں:
فالمنکر لھذا مبتدع بدعۃ سیئۃ مذمومۃ لانکارہ علی شیئ حسن عند اﷲ والمسلمین کماجاء فی حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال ماراٰہ المسلمون حسنا فھو عنداﷲ حسن والمراد من المسلمین ھٰھنا الذین کملواالاسلام کالعلماء العالمین وعلماء العرب والمصروالشام والروم والاندلس کلھم رواہ حسنا من زمان السلف الی الاٰن فصارالاجماع والامرالذی ثبت بہ اجماع الامۃ فھو حق لیس بضلال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتجتمع امتی علی الضلالۃ فعلی حاکم الشرع تعزیرالمنکر۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔۱؎
پس مجلس وقیام کامنکربدعتی ہے اوراس منکر کی بدعت سیئہ ومذمومہ کہ اس نے ایسی چیزپر انکارکیاجوخدااوراہل اسلام کے نزدیک نیک تھی جیساکہ حدیث ابن مسعودرضی اﷲ تعالٰی عنہ میں آیاہے کہ جس چیز کومسلمان نیک اعتقاد کریں وہ خدا کے نزدیک نیک ہے اور یہاں مسلمانوں سے کامل مسلمان مراد ہیں جیسے علمائے باعمل، اوراس مجلس وقیام کوعرب ومصروشام وروم واندلس کے تمام علمائے سلف نے آج تک مستحسن جاناتواجماع ہوگیا اورجو امراجماع امت سے ثابت ہو وہ حق ہے گمراہی نہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم  فرماتے ہیں: میری امت گمراہی پراجتماع نہیں کرتی۔ پس حاکم شرع پرلازم ہے کہ منکر کو سزادے۔ واﷲ تعالٰی اعلم انتہی۔
 (۱؎ روضۃ النعیم )
Flag Counter