فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
118 - 145
پھرارشاد ہوا:
قداجتمعت الامۃ المحمدیۃ من اھل السنۃ والجماعۃ علی استحسان القیام المذکور وقدقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتجتمع امتی علی الضلالۃ۔۱؎
بیشک امت مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ سے اہلسنت وجماعت کااجماع واتفاق ہے کہ یہ قیام مستحسن ہے اوربیشک نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: میری امت گمراہی پرجمع نہیں ہوتی۔
(۱؎ اثبات القیام )
امام علامہ مدالقی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:
جرت عادۃ القوم بقیام الناس اذا انتھٰی المداح الٰی ذکرمولدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھی بدعۃ مستحبۃ لما فیہ من اظھار السرور التعظیم الخ نقلہ المولی الدمیاطی۔۲؎
یعنی عادت قوم کی جاری ہے کہ جب مدح خواں ذکرمیلاد حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تک پہنچتاہے تولوگ کھڑے ہوجاتے ہیں اور یہ بدعت مستحبہ ہے کہ اس میں نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی پیدائش پرخوشی اورحضور کی تعظیم کااظہارہے الخ (مولٰینا دمیاطی نے اس کو نقل فرمایا۔ت)
(۲؎اثبات القیام )
علامہ ابوزید رسالہ میلادمیں لکھتے ہیں:
استحسن القیام عند ذکر الولادۃ۔۳؎
ذکرولادت کے وقت قیام مستحسن ہے۔
(۳؎ رسالۃ المیلاد للعلامہ ابی زید )
خاتمۃ المحدثین زین الحرم عن الکرم مولانا سیداحمد زین دحلان مکی قدس سرہ الملکی اپنی کتاب مستطاب الدررالسنیہ فی الرد علی الوہابیہ میں فرماتے ہیں:
من تعظیمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الفرح بلیلۃ ولادتہ وقرأۃ المولد والقیام عند ذکرولادتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واطعام الطعام وغیرذٰلک ممّا یعتاد الناس فعلہ من انواع البرفان ذٰلک کلہ من تعظیمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وقد افردت مسئلۃ المولد ومایتعلق بھابالتالیف واعتنی بذٰلک کثیرمن العلماء فالفوافی ذٰلک مصنفات مشحونۃ بالادلّۃ والبراھین فلاحاجۃ لنا الی الاطالۃ بذٰلک۔۱؎
یعنی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم سے حضور کی شب ولادت کی خوشی کرنا اورمولدشریف پڑھنا اورذکرولادت اقدس کے وقت کھڑاہونااورمجلس شریف میں حاضرین کوکھانادینا اوران کے سوااورنیکی کی باتیں کہ مسلمانوں میں رائج ہیں کہ یہ سب نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم سے ہیں اوریہ مسئلہ مجلس میلاد اوراس کے متعلقات کاایساہے جس میں مستقل کتابیں تصنیف ہوئیں اوربکثرت علماء دین نے اس کا اہتمام فرمایا اوردلائل وبراہین سے بھری ہوئی کتابیں اس میں تالیف فرمائیں تو ہمیں اس مسئلہ میں تطویل کلام کی حاجت نہیں۔
(۱؎ الدررالسنیہ فی الرد علی الوہابیہ دارالشفقۃ استانبول ترکیا ص۱۸)
شیخ مشائخنا خاتمۃ المحققین امام العلماء سیدالمدرسین مفتی الحنفیۃ بمکۃ المحمیہ سیدنا برکتنا علامہ جمال بن عبداﷲ بن عمرمکی اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں:
القیام عندذکر مولدہ الاعطر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم استحسنہ جمع من السلف فھو بدعۃ حسنۃ۔۲؎
ذکرمولد اعطرحضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے وقت قیام کو ایک جماعت سلف نے مستحسن کہاتو وہ بدعۃ حسنہ ہے۔
(۲؎ فتاوٰی جمال بن عمر المکی )
پھرعلامہ انباری کی مواردالظمآن سے نقل فرماتے ہیں:
قام الامام السبکی وجمیع من بالمجلس وکفی بمثل ذٰلک فی الاقتداء۳؎ اھ ملخصاً۔
امام سبکی اورتمام حاضرین مجلس نے قیام کیا اوراس قدراقتداء کے لئے بس ہے۔
(۳؎فتاوٰی جمال بن عمر المکی )
مولانا جمال عمرقدس سرہ کے اس فتوٰی پرموافقت فرمائی مولاناصدیق بن عبدالرحمن کمال مدرس مسجد حرام اورحضرت علامۃ الوری علم الہدٰی مولانا وشیخنا وبرکتنا السید السند احمدوزین دحلان شافعی اورمولٰینا محمدبن محمدکتبی مکی اورمولٰینا حسین بن ابراہیم مکی مالکی مفتی مالکیہ وغیرھم اکابرعلمانے
نفعنا اﷲ تعالٰی بعلومہم آمین۔
یہی مولانا حسین دوسری جگہ فرماتے ہیں:
استحسنہ کثیر من العلماء وھو حسن لما یجب علینا تعظیمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۱؎۔
اسے بہت علماء نے مستحسن رکھا، اوروہ حسن ہے کہ ہم پرنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم واجب ہے۔
نعم یجب القیام عند ذکر ولادتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذ یحضرروحانیتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فعند ذٰلک یجب التعظیم والقیام۲؎۔
ہاں ذکرولادت حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے وقت قیام ضرور ہے کہ روح اقدس حضورمعلی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جلوہ فرما ہوتی ہے تواس وقت تعظیم وقیام ضرورہوا۔
قولہ رحمہ اﷲ تعالٰی یجب القیام الخ اقول: اراد التاکد فی محل الادب کقول القائل لحبیبہ حقک واجب علیّ وھو من المحاورات الشائعۃ بینھم کمالایخفی علٰی من تتبع کلماتھم واما حضور روحانیتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فعلی مافصل ونقح ابی ومولائی مقدام العلماء الکرام فی کتابہ اذاقۃ الاٰثام واﷲ تعالٰی اعلم۔
مولانا علیہ الرحمہ کاقول کہ قیام واجب ہے الخ میں کہتاہوں اس سے مولانا موصوف نے محل ادب میں تاکیدکاارادہ فرمایا ہے جیسے کوئی اپنے دوست کوکہے کہ تیراحق مجھ پرواجب ہے، یہ عربوں میں مشہورمحاورات میں سے ہے، جیساکہ ان کے کلام کے تتبع کرنے والے پرمخفی نہیں، رہاحضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی روحانیت کاجلوہ گرہونا، تو اس کی تفصیل وتنقیح علماء کے پیشوا میرے آقا ووالدگرامی نے اپنی کتا ب اذاقۃ الآثام میں کردی ہے، واﷲ تعالٰی اعلم
مولٰینا عبداﷲ بن محمد مفتی حنفیہ فرماتے ہیں:
استحسنہ کثیرون۳؎
(اسے بہت علماء نے مستحسن رکھاہے)
(١؎ ) (۲؎ ) (۳؎ )
شیخ مشائخنا مولانا الامام الاجل الفقیہ المحدث سراج العلماء عبداﷲ سراج مکی مفتی حنفیہ فرماتے ہیں:
توارثہ الائمۃ الاعلام واقرہ الائمۃ والحکام من غیرنکیر منکرو ردّراد ولھذا کان حسنا ومن یستحق التعظیم غیرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ویکفی اثرعبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنھما ماراٰہ المسلمون حسنا فھو عنداﷲ حسن۱؎۔
یہ قیام مشہوربرابراماموں میں متوارث چلاآتاہے اوراسے ائمہ وحکام نے برابررکھااورکسی نے رَدّوانکارنہ کیا لہٰذا یہ مستحب ٹھہرا اورنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے سوا اورکون مستحق تعظیم ہے اورسیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث کافی ہے کہ جس چیزکو اہل اسلام نیک سمجھیں وہ اﷲ تعالٰی کے نزدیک بھی نیک ہے۔
اسی طرح مفتی عمربن ابی بکر شافعی نے اس کے استحباب واستحسان پرتصریح فرمائی۔
(۱؎ )
فتوائے علمائے حرمین محترمین جس پرمفتی مکہ معظمہ مولٰینا محمدبن حسین کتبی حنفی اور رئیس العلماء شیخ المدرسین مولاناجمال حنفی اورمفتی مالکیہ مولانا حسین بن ابراہیم مکی اورسیدالمحققین مولانا احمدبن زین شافعی اورمدرس مسجدنبوی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مولانا محمدبن محمد غرب شافعی اورمولاناعبدالکریم بن عبدالحکیم حنفی مدنی اورفقیہ جلیل مولانا عبدالجبار حنبلی بصری نزیل مدینہ منورہ اورمولانا ابراہیم بن محمدخیار حسینی شافعی مدنی کی مہریں ہیں اوراصل فتوٰی مزیّن بخطوط ومواہیر علماء ممدوحین فقیرنے بچشم خود دیکھا اور مدتوں فقیرکے پاس رہاجس میں اکثر مسائل متنازع فیہا پربحث فرمائی ہے اوردلائل باہرہ مذہب وہابیت کوسراسرباطل ومردودٹھہرایاہے، اس میں دربارہ قیام مذکورہے: