Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
116 - 145
امام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب مستطاب میزان الشریعۃ الکبرٰی میں فرماتے ہیں:
مافصّل عالم مااجمل فی کلام من قبلہ من الادوار الاللنور المتصل من الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فالمنۃ فی ذٰلک حقیقۃ لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الذی ھو صاحب الشرع لانہ ھوالذی اعطی العلماء تلک المادۃ التی فصلوا بھاما اجمل فی کلامہ کما ان المنۃ بعدہ لکل دورعلٰی من تحتہ فلوقدر ان اھل دورتعدوا من فوقھم الی الدورالذی قبلہ لانقطعت وصلتھم بالشارع ولم یھتدوا لایضاح مشکل ولاتفصیل مجمل، وتامل یااخی لولاان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فصل بشریعتہ مااجمل فی القراٰن لبقی القراٰن علٰی اجمالہ کما ان الائمۃ المجتھدین لولم یفصلوا ما اجمل فی السنۃ لبقیت السنۃ علٰی اجمالھا وھکذا الٰی عصرناھذا، فلولاان حقیقۃ الاجمال ساریۃ فی العالم کلّہ ماشرحت الکتب ولاترجمت من لسان الٰی لسان ولاوضع العلماء علٰی الشروح حواشی کالشروح للشروح۔۱؎
جس کسی عالم نے اپنے سے پہلے زمانے کے کسی کلام کے اجمال کی تفصیل کی ہے وہ اسی نور سے ہے جوصاحب شریعت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اسےملا تو حقیقت میں رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہی کاتمام امت پراحسان ہے انہوں نے علماء کویہ استعداد عطافرمائی جس سے انہوں نے مجمل کلام کی تفصیل کی۔ یونہی ہرطبقہ ائمہ کااپنے بعد والوں پراحسان ہے اگرفرض کیاجائے کہ کوئی طبقہ اپنے اگلے پیشواؤں کوچھوڑکر ان سے اوپر والوں کی طرف تجاوز کرجائے توشارع علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جوسلسلہ ان تک ملاہواہے وہ کٹ جائے گا اوریہ کسی مشکل کی توضیح مجمل کی تفسیرپرقادرنہ ہوں گے۔ برادرم! غورکر، اگررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اپنی شریعت سے مجملات قرآن عظیم کی تفصیل نہ فرماتے قرآن عظیم یونہی مجمل رہ جاتا۔ اسی طرح ائمہ مجتہدین اگرمجملات حدیث کی تفصیل نہ فرماتے حدیث یونہی مجمل رہ جاتی، اسی طرح ہمارے زمانے تک، تواگریہ نہیں کہ حقیقت اجمال سب میں سرایت کئے ہوئے ہے تونہ متون کی شرح لکھی جاتی نہ ترجمے ہوتے نہ علماء شرحوں کی شرح (حواشی) لکھتے۔
 (۱؎ میزان الشریعۃ الکبرٰی    فصل وممایدلک علی صحۃ ارتباط جمیع اقوام علماء الشریعۃ الخ     مصطفی البابی مصر ۱/ ۳۷)
اب یہیں دیکھئے کہ کتب ظاہرالروایۃ ونوادرائمہ تھیں پھرکتب نوازل وواقعات تصنیف فرمائی گئیں پھرمتون وشروح وحواشی وفتاوٰی وقتاً فوقتاً تصنیف ہوتے رہے اورہرآئندہ طبقہ نے گزشتہ پراضافہ کئے اورمقبول ہوتے رہے کہ سب اسی اجمال قرآن وسنت کی تفصیل ہے ۔
نصاب الاحتساب وفتاوٰی عالمگیری زمانہ سلطان عالمگیراناراﷲ تعالٰی برہانہ کی تصنیف ہیں ان میں بہت ان جزئیات کی تصریح ملے گی جو کتب سابقہ میں نہیں کہ وہ جب تک واقع ہی نہ ہوئے تھے، اورکتب نوازل وواقعات کاتوموضوع ہی حوادث جدیدہ کے احکام بیان فرماناہے اگرکوئی شخص ان کی نسبت کہے کہ صحابہ تابعین سے اس کی تصریح دکھاؤ یاخاص امام اعظم وصاحبین کانص لاؤ تو وہ احمق مجنون یاگمراہ مفتون، پھرعالمگیری کے بھی بہت بعد اب قریب زمانہ کی کتابیں فتاوٰی اسعدیہ وفتاوٰی حامدیہ وطحطاوی علی مراقی الفلاح وعقودالدریہ وردالمحتار ورسائل شامی وغیرہا کتب معتمدہ ہیں کہ تمام حنفی دنیامیں ان پراعتماد ہورہاہے دواول کے سوایہ سب تیرہویں صدی کی تصنیف ہیں مانعین بھی ان سے سندیں لاتے ہیں ان میں صدہاوہ بیان ملیں گے جوپہلے نہ تھے اورمانعین کے یہاں توفتاوٰی شاہ عبدالعزیز صاحب بلکہ مائۃ مسائل واربعین تک پراعتماد ہورہاہے کیامائۃ مسائل واربعین کے سب جزئیات کی تصریح صحابہ وتابعین وائمہ تو بہت بالاہیں عالمگیری وردالمحتار تک کہیں دکھاسکتے ہیں اب ان کے بعد بھی ریل، تار، برقی، نوٹ، منی آرڈر، فوٹوگراف وغیرہ وغیرہ ایجادہوئے اگرکوئی شخص کہے کہ صحابہ تابعین یاامام ابوحنیفہ یایہ نہ سہی ہدایہ یادرمختاریایہ بھی نہ سہی عالمگیری وطحطاوی وردالمحتار یایہ سب جانے دوشاہ عبدالعزیز صاحب ہی کے فتاوے میں دکھاؤ، تواسے مجنون سے بہتر اورکیالفظ کہاجاسکتاہے، ہاں اس ہٹ دھرمی کی بات جداہے کہ اپنے آپ توتیرہویں صدی کی اربعین تک معتبرجانیں اوردوسروں سے ہرجزئیہ پرخاص صحابہ وتابعین کی سندمانگیں۔ خطبہ(عہ) میں ذکرعمین شریفین حادث ہے مگرجب سے حادث ہے علماء نے اس کے مندوب ہونے کی تصریح فرمائی،
عہ:  ان کابیان کہ حادث ہوکرمستحب ٹھہریں۔
درمختارمیں ہے:
یندب ذکر الخلفاء الراشدین و العمّین۔۱؎
خطبہ میں چاروں خلفاء کرام اوردونوں عم کریم سیدالانام علیہ الصلوٰۃ والسلام کاذکرفرمانا مستحب ہے۔
 (۱؎ درمختار    کتاب الصلوٰۃ    باب الجمعہ مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۱۱۱)
اورحضرت شیخ مجددالف ثانی صاحب نے توایک خطیب پراپنے مکتوبات میں اس لئے کہ اس نے ایک خطبہ میں خلفاء کرام کاذکرنہ کیاتھا سخت نکیرفرمائی اور اسے خبیث تک لکھا۔ اذان کے بعد حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرصلاۃ وسلام عرض کرنا جس طرح حرمین طیبین میں رائج ہے ۔
درمختارمیں فرمایا:
التسلیم بعدالاذان حدث فی ربیع الاٰخر سنۃ سبع مائۃ واحدی وثمانین فی عشاء لیلۃ الاثنین ثم یوم الجمعۃ ثم بعد عشر سنین حدث فی الکل الاالمغرب ثم فیھا مرتین وھو بدعۃ حسنۃ۔۲؎
اذان کے بعد صلوٰۃ بھیجنا ربیع الآخر ۷۸۱ھ؁ کی عشاء شب دوشنبہ میں حادث ہواپھر اذان جمعہ کے بعد بھی صلوٰۃ کہی گئی پھر دس برس بعد مغرب کے سواسب اذانوں کے بعدپھرمغرب میں بھی دوبارکہنی شروع ہوئی اوریہ ان نوپیدا باتوں سے ہے جوشرعاً مستحب ہیں۔
 (۲؎درمختار    کتاب الصلوٰۃ    باب الجمعہ        مطبع مجتبائی دہلی      ۱/ ۶۴)
کتب میں اس کے صدہا نظائرملیں گے اسی وقت کے علماء معتمدین سے ان کے جزئیہ کی تصریح مل سکتی ہے مجلس میلاد مبارک وقیام کوجاری ہوئے بھی صدہاسال ہوئے مگر صحابہ وتابعین وائمہ مجتہدین کے کلام میں ان کے نام کی تصریح مانگنی اسی جنون پرمبنی ہوگئی ان پرانہیں علماء کرام کی تصریحات سے استناد ہوگا جن کے زمانہ میں ان کاوجودتھا جیسے مجلس مبارک کے لئے امام حافظ الشان ابن حجر عسقلانی وامام خاتم الحفّاظ جلال الدین سیوطی وامام خطیب احمدقسطلانی وغیرہم اکابررحمہم اﷲ تعالٰی جن کے نام وکلام کی تصریح باربارکردی گئی۔ یونہی مسئلہ قیام میں ان علماء کرام کی سندلی جائے جن کاذکرشریف آیا ہے وباﷲ التوفیق بحمداﷲ تعالٰی موافقین اہل حق وانصاف ودین کے لئے یہ کافی ہوگا۔ رہامخالفین کا نہ ماننا ان کی پروا کیا۔ وہ اورہی کسے مانتے ہیں کہ ان علماء کرام کومانیں ان کے غیرمقلدین توعلانیہ امام اعظم وجملہ ائمہ دین پرمنہ آتے اوراپنے مہمل افہام واوہام کے آگے ان کے اجتہادات عالیہ کو باطل بتاتے اوران کے ماننے والوں کومعاذاﷲ مشرگ گمراہ بتاتے ہیں، جو ان میں بظاہر نام تقلید لیتے ہیں وہ بھی غیرمقلدین کی طرح اپنے اہوائے باطلہ کے سامنے قرآن وحدیث کی توسنتے نہیں پھرائمہ کی کیاگنتی ان کے منہ سے تقلیدامام اوران سب کے منہ سے قرآن وحدیث کانام محض برائے تسکین عوام ہے کہ کھلامنکرنہ جانیں ورنہ حالت وہ ہے جوان کے مذہبی قرآن تفویۃ الایمان سے ظاہر جوکہے ''اﷲ ورسول نے غنی کردیا'' وہ مشرک۱؎، حالانکہ خود قرآن عظیم فرماتاہے:
اغنٰھم اﷲ ورسولہ من فضلہ۲؎۔
اﷲ ورسول نے انہیں دولتمندکردیااپنے فضل سے۔
 (۱؎ تقویۃ الایمان)		(۲؎ القرآن الکریم     ۹/ ۷۴ )
محمدبخش، احمدبخش نام رکھنا شرک حالانکہ خود قرآن حمیدفرماتاہے کہ جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم جب حضرت سیدتنا مریم کے پاس آئے کیاکہا یہ کہ:
انّما انا رسول ربّک لاھب لک غلٰماً زکیّا۔۳؎
میں تمہارے رب کارسول ہوں اس لئے کہ میں تم کو ستھرابیٹادوں۔
 ( ۳؎ القرآن الکریم     ۱۹/ ۱۹)
صرف محمدبخش نام شرک ہوا حالانکہ وہ معنی عطامیں متعین بھی نہیں، بخش بہروحصہ کو کہتے ہیں توجبریل کہ صریح لفظوں میں اپنابیٹا دیناکہہ رہے ہیں دین اسمٰعیلی میں کیسے مشرک نہ ہوں گے اورقرآن عظیم کہ اس شرک وہابیت کوذکرفرماکرمقرررکھتاہے کیوں نہ اسے شرک پسند کتاب ٹھہرائیں گے۔ اس کی مثالیں بہت ہیں کہ وہابیہ کے شرک سے نہ ائمہ محفوظ نہ صحابہ نہ انبیاء نہ جبریل نہ خودرب العٰلمین جل وعلاوصلی اﷲ تعالٰی علٰی الحبیب وعلیہم وسلم۔ یہ بحث فقیرکے اور رسائل (عہ) میں مفصل ملے گی، یہاں تواتناکہناکافی ہے کہ مخالفین کی نہ ماننے کی پروا کیاہے انہوں نے اورکسے ماناہے کہ علماء ہی کومانیں گے لہٰذا اس مقام اول میں روئے سخن موافقین اہل حق ویقین کی طرف کریں واﷲالموفق والمعین وبہ نستعین وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا محمدوآلہٖ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین آمین۔ مولٰی عزوجل توفیق دے تویہاں منصف غیرمتعصب کے لئے اسی قدرکافی کہ یہ فعل مبارک اعنی قیام وقت ذکرولادت حضورخیرالانام علیہ وعلٰی آلہٖ افضل الصلوٰۃ والسلام صدہاسال سے بلاددارالاسلام میں رائج ومعمول، اوراکابر ائمہ وعلماء میں مقررومقبول، شرع میں اس سے منع مفقود اوربے منع شرع منع مردود۔
عہ: خصوصاً کتاب مستطاب ''اکمال الطامہ علٰی شرک سوی بالامورالعامہ'' مصحح ۱۲۔
Flag Counter