فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
115 - 145
مقام اوّل: اﷲ عزوجل نے شریعت غرا، بیضا، زہرا، عامہ، تامہ، کاملہ، شاملہ اتاردی اوربحمدہٖ تعالٰی ہمارے لئے ہمارادین کامل فرمادیا اور اس کے کرم نے اپنے حبیب اکرم حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے صدقہ میں اپنی نعمت ہم پرتمام فرمادی۔
تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں جوتمام جہانوں کاپروردگار ہے اوردرودنازل ہو اس ذات پر جس کے صدقے اﷲتعالٰی نے دین ودنیا کی نعمتیں ہمیں عطافرمائیں۔ اوران کے طفیل ان شاء اﷲ ابدالآباد تک آخرت کی نعمتیں بھی ہمیں عطاہوں گی۔(ت)
الحمدﷲ ہماری شریعت مطہرہ کاکوئی حکم قرآن عظیم سے باہرنہیں، امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
حسبنا کتاب اﷲ۱؎۔
(ہمیں قرآن عظیم بس ہے)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب العلم باب کتابۃ العلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۲)
مگرقرآن (عہ) عظیم کاپوراسمجھنا اورہرجزئیہ کاصریح اس سے نکال لیناعام کونامقدور ہے اس لئے قرآن کریم نے دومبارک قانون ہمیں عطافرمائے: اوّل:
مااٰتٰکم الرسول فخذوہ ومانھٰکم عنہ فانتھوا۲؎۔
جوکچھ رسول تمہیں دیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں بازرہو۔
(۲؎ القرآن الکریم ۵۹/ ۷ )
عہ: قرآن امام حدیث ہے، حدیث امام مجتہدین، مجتہدین امام علما، علماء امام عوام الناس۔ اس سلسلہ کاتوڑنا گمراہ کاکام۔
اقول: (میں کہتاہوں۔ت) لوصیغہ امرکاہے اورامروجوب کے لئے ہے توپہلی قسم واجبات شرعیہ ہوئی اورباز رہو نہی ہے اورنہی منع فرمانا ہے یہ دوسری قسم ممنوعات شرعیہ ہوئی۔ حاصل یہ کہ اگرچہ قرآن مجید میں سب کچھ ہے:
ونزلناعلیک الکتٰب تبیاناً لکل شیئ۔۳؎
اے محبوب ہم نے تم پریہ کتاب اتاری جس میں ہرشیئ ہرچیزہرموجود کاروشن بیان ہے۔
مگرامت اسے بے نبی کے سمجھائے نہیں سمجھ سکتی ولہٰذا فرمایا:
وانزلنا الیک الذکر لتبیّن للناس مانُزِّل الیھم۴۔
اے محبوب ہم نے تم پریہ قرآن مجید اتاراکہ تم لوگوں کے لئے بیان فرمادو جوکچھ ان کی طرف اُتراہے۔
(۳؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۸۹) (۴؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۴۴)
یعنی اے محبوب! تم پرتو قرآن حمید نے ہرچیزروشن فرمادی اس میں جس قدر امت کے بتانے کو ہے وہ تم ان پر روشن فرمادو، لہٰذا آیۃ کریمہ اولٰی میں
نزلنا علیک
فرمایا جوخاص حضور کی نسبت ہے اور آیۃ کریمہ ثانیہ میں مانزّل الیھم فرمایا جو نسبت بہ امت ہے۔
دوم: فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون ۱ ؎(عہ)۔
علم والوں سے پوچھو جوتمہیں نہ معلوم ہو۔
عہ: اس آیہ کریمہ کے متصل ہی کریمہ ثانیہ ہے:
بالبیّنٰت والزبر وانزلنا الیک الذکر۲؎ الاٰیۃ۔
روشن دلیلیں اورکتابیں لے کر اوراے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری۔(ت)
مصنف نے یہاں معالم التنزیل کے حاشیہ پرتحریرفرمایا:
اقول: ھذا من محاسن نظم القراٰن العظیم امرالناس ان یسئلوا اھل العلم بالقراٰن العظیم وارشد العلماء ان لایعتمدواعلی اذھانھم فی فھم القراٰن بل یرجعوا الی مابیّن لھم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فردالناس الی العلماء والعلماء الی الحدیث والحدیث الی القراٰن وان الی ربک المنتھٰی فکما ان المجتھدین لوترکوا الحدیث ورجعوا الی القراٰن فضلواکذٰلک العامۃ لوترکواالمجتھدین ورجعوا الی الحدیث فضلوا ولھذا قال الامام سفٰین بن عیینۃ احد ائمۃ الحدیث قریب زمن الامام الاعظم والامام المالک رضی اﷲ تعالٰی عنھم الحدیث مضلۃ الاالفقھاء نقلہ عنھم الامام ابن الحاج مکی فی مدخل۔۳؎
میں کہتاہوں کہ یہ عبارت قرآن عظیم کی خوبیوں سے ہے لوگوں کوحکم دیا کہ علماء سے پوچھو جوقرآن مجید کا علم رکھتے اورعلماء کوہدایت فرمائی کہ قرآن کے سمجھنے میں اپنے ذہن پراعتماد نہ کریں بلکہ جوکچھ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بیان فرمایااس کی طرف رجوع لائیں تولوگوں کوعلماء کی طرف پھیرا اور علماء کوحدیث کی طرف اورحدیث کو قرآن کی طرف اوربیشک تیرے رب ہی کی طرف انتہاء ہے توجس طرح مجتہدین اگرحدیث چھوڑدیتے اورقرآن کی طرف رجوع کرتے بہک جاتے یونہی غیرمجتہد اگرمجتہدین کوچھوڑکر حدیث کی طرف رجوع لائیں توضرور گمراہ ہوجائیں، اسی لئے امام سفیان بن عیینہ نے کہاکہ امام اعظم وامام مالک کے زمانہ کے قریب حدیث کے اماموں سے تھے فرمایا کہ حدیث بہت گمراہ کردینے والی ہے مگر فقہاء کو، اسے امام ابن حاج مکی نے مدخل میں نقل فرمایا ۱۲مصحح غفرلہ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۴۳) ( ۲؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۴۴)
(۳؎ تعلیقات المصنف علٰی معالم التنزیل تحت الآیۃ ۱۶/ ۴۳،۴۴)
حوادث غیرمتناہی ہیں احادیث میں ہرجزئیہ کے لئے نام بنام تصریح احکام اگر فرمائی بھی جاتی ان کا حفظ وضبط نامقدور ہوتاپھرمدارج عالیہ مجتہدان امت کے لئے ان کے اجتہاد پررکھے گئے وہ نہ ملتے نیز اختلافات ائمہ کی رحمت ووسعت نصیب نہ ہوتی۔ لہٰذا حدیث نے بھی جزئیات معدودہ سے کلیات حاویہ مسائل نامحدودہ کی طرف استعارہ فرمایا اس کی تفصیل وتفریع وتاصیل مجتہدین کرام نے فرمائی اور احاطہ (ف) تصریح نامتناہی کے تعذرنے یہاں بھی حاجت ایضاح مشکل وتفصیل مجمل وتقیید مرسل باقی رکھی جو قرناً فقرناً طبقۃً فطبقۃً مشائخ کرام وعلمائے اعلام کرتے چلے آئے ہرزمانہ کے حوادث تازہ احکام اس زمانے کے علماء کرام ،حاملان فقہ و حامیان اسلام نے بیان فرمائے اوریہ سب اپنی اصل ہی کی طرف راجع ہوئے اورہوتے رہیں گے
حتی یاتی امراﷲ وھم علٰی ذٰلک
(یہاں تک کہ اﷲ تعالٰی اپناامرلے آئے اور وہ لوگ اسی حال پرہوں۔ت)
ف: حوادث کاپیداہوتے رہنا اوران کے احکام کا۔ اورایک یہ کہ جوہربات پرکہے صحابہ تابعین کی سندلاؤ۔ یاامام ابوحنیفہ کا قول دکھاؤ، وہ مجنون ہے یاگمراہ۔
درمختارمیں ہے:
ولایخلوا الوجود عمن یمیز ھذا حقیقۃ لاظنا وعلٰی من لم یمیزان یرجع لمن یمیز لبرائۃ ذمتہ۱؎۔
زمانہ ان لوگوں سے خالی نہ ہوگا جویقینی طورپرنہ محض گمان سے اس کی تمیزرکھیں اورجسے اس کی تمیزنہ ہو اس پرواجب ہے کہ تمیز والے کی طرف رجوع کرے کہ بری الذمہ ہو۔(ت)
جزم بذٰلک اخذ امما رواہ البخاری من قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتزال طائفۃ من امتی ظاھرین علی الحق حتی یاتی امراﷲ قولہ وعلٰی من لم یمیز عبر بعلی المفیدۃ للوجوب للامربہ فی قولہ تعالٰی فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون۔۱؎
شارح علامہ نے اس پرجز فرمایا اس حدیث سے لےکرجوصحیح بخاری میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیشہ میری امت کا ایک گروہ غلبہ کے ساتھ حق پررہے گا یہاں تک کہ حکم الٰہی آئے، اورجسے اس کی تمیز نہ ہو اس پرعلماء کی طرف رجوع لانے کو اس لئے واجب کہا کہ قرآن عظیم میں اس کا حکم فرمایا ہے کہ علماء سے پوچھو اگرتمہیں نہ معلوم ہو۔
(۱؎ ردالمحتار مقدمۃ الکتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۵۳)