Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
114 - 145
محافل ومجالس

(میلادوگیارہویں شریف وغیرہ)

رسالہ

اقامۃ القیامۃ علٰی طاعن القیام لنبی تہامۃ(۱۲۹۹ھ)

(نبی تہامہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے قیام تعظیمی پراعتراض کرنے والے پرقیامت قائم کرنا)
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم
مسئلہ ۲۶۵:  ازریاست مصطفی آباد عرف رامپور بضمن سوالات کثیرہ ۱۲۹۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مجلس میلاد میں قیام وقت ذکر ولادت حضورخیرالانام علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام کیاہے، بعض لوگ اس قیام سے انکار بحث رکھتے اوراسے بدیں وجہ کہ قرون ثلٰثہ میں نہ تھا بدعت سیئہ وحرام سمجھتے اور کہتے ہیں ہمیں صحابہ وتعابعین کی سندچاہئے ورنہ ہم نہیں مانتے۔ ان کے اقوال کاحل کیاہے؟ بیّنواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب : الحمدﷲ الذی باذنہ تقوم السماء والصّلٰوۃ والسلام علٰی من قامت بہ ارکان الشریعۃ الغرّاء سیّدنا ومولانا محمد الذی قامت فی مولدہ ملٰئکۃ العلیا وعلٰی اٰلہ وصحبہ القائمین بآداب تعظیمہ فی الصبح والمساء واشھد ان لاالٰہ الا اﷲ وحدہ، لاشریک لہ وان محمدا عبدہ، ورسولہ، قیم الانبیاء صلوات اﷲ وسلامہ علیہ وعلیھم ماقامت تسبیح القیام اشجار الغبراء وسجدت للحی القیوم نجوم الخضراء اٰمین! قال القائم ببعض الضراعۃ الٰی صاحب المقام المحمود والشفاعۃ عبدالمصطفٰی احمدرضا المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی غفراﷲ لہ واقامہ مقام السلف الکرام البررۃ الکلمۃ اٰمین۔

اللھم ھدایۃ الحق والصواب
تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں جس کے حکم سے آسمان قائم ہے۔ درودوسلام ہو اس ذات پر جس کے ذریعے روشن شریعت کے ارکان قائم ہیں وہ ہمارے آقا محمدمصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہیں جن کے میلاد کے وقت عالی مرتبت ملائکہ نے قیام کیا، اور آپ کی آل واصحاب پر جوصبح وشام آپ کے لئے آداب تعظیم کی بجاآوری میں قائم رہے، میں گواہی دیتاہوں کہ اﷲ تعالٰی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلاہے اس کاکوئی شریک نہیں، اورمحمدصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اﷲ کے بندے اوررسول ہیں، وہ انبیاء کرام کے متولی ونگران ہیں، آپ پراورتمام انبیاء پردرودوسلام ہو جب تک غبار آلود درخت تسبیح کے ساتھ قائم رہیں اورجب تک آسمان کے ستارے بارگاہ حی وقیوم میں سجدے کرتے رہیں، آمین! مقام محمود اورشفاعت کے مالک صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ میں عاجزانہ قیام کرتے ہوئے کہتاہے عبدالمصطفٰی احمدرضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی، اﷲ تعالٰی اس کی مغفرت فرمائے اوراسے سلف صالحین کاقائم مقام بنائے۔آمین۔(ت)

(اے اﷲ! حق اوردرستگی کی ہدایت فرما۔ت)
یہاں دومقام واجب الاعلام ہیں:

اوّلاً اس مقام مبارک پر اپنے طورپر کتب وفتاوائے علماء قدست اسرارھم سے حکم بیان کرنا جس سے بعونہٖ موافقین کے لئے ایضاح حق واضاحت باطل ہو، اورمنصب فتوٰی اپنے حق کو واصل ہو۔
ثانیاً اس مغالطہ کاجواب دینا جو بالفاظ متقاربہ تمام اکابرواصاغرمانعین میں رائج کہ یہ فعل قرون ثلٰثہ میں نہ تھا توبدعت وضلالت ہوا۔ اس میں کچھ خوبی ہوتی تو وہ وہی کرتے اس فعل اوراس کے مثال امورنزاعیہ میں حضرات منکرین کی غایت سعی اسی قدرہے جس کی بناپراہلسنت وسواداعظم ملت وہزاران ائمہ شریعت وطریقت کومعاذاﷲ بدعتی گمراہ ٹھہراتے ہیں اورمطلقاً خوف خدا وترس روزجزادل میں نہیں لاتے۔ مقام افتاء اگرچہ استیعاب مناظرہ کی جانہیں مگرایسی جگہ ترک کلی بھی چنداں زیبانہیں، لہٰذافقیر مقام دوم میں چنداجمالی جملے حاضرکرے گا جن کے مبانی دیکھئے حرفے چند اورمعانی سمجھئے توبس جامع وبلند۔
وباﷲ التوفیق فی کل حین وعلیہ التوکل وبہ نستعین والحمد ﷲ رب العٰلمین۔
Flag Counter