Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
113 - 145
مسئلہ ۲۵۹: ازملک بنگال ضلع فریدپور موضع پٹورا کاندے مرسلہ شمس الدین صاحب 

قرآن پاک میں
لایموت فیھا ولایحٰیی۱؎
 (نہ اس میں جئیں گے اور نہ مریں گے۔ت) اہل نار کی حالت لکھی ہے حالانکہ انسان کوحیات یاممات کاہونا ضروری ہے، پس بعد اثبات وجود کے ارتفاع نقیضین کیونکر جائزہوسکتاہے؟
 (۱؎ القرآن الکریم    ۲۰/ ۷۴    و۸۷/ ۱۳)
الجواب

قرآن عظیم محاورہ عرب پراُتراہے،
قال اﷲ تعالٰی فورب السماء والارض انہ لحق مثل ماانکم تنطقون۲؎o
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: توآسمان اور زمین کے رب کی قسم بیشک یہ قرآن حق ہے ویسی ہی زبان میں جوتم بولتے ہو۔(ت)
(۲؎القرآن الکریم    ۵۱/ ۲۳)
اورعرب بلکہ تمام عرب وعجم کامحاورہ ہے کہ ایسی کرب شدید ومصیبت مدید کی زندگی کویوں ہی کہتے ہیں کہ نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں،
لاحیی فیرجی ولامیت فیرثی
 (نہ زندہ ہے کہ امیدرکھی جائے اورنہ مردہ ہے کہ مرثیہ کہاجائے۔ت) اس کابیان دوسری آیت کریمہ میں ہے کہ:
یاتیہ الموت من کل مکان وماھو بمیت۳؎ط
اسے ہرطرف سے موت آئے گی اورمرے گانہیں۔
 (۳؎القرآن الکریم  ۱۴/ ۱۷)
یاتیہ الموت من کل مکان یہ ''لایحٰیی'' اور ماھو بمیت یہ ''لایموت فیھا''
ہوا، اورموت وحیات نقیضین نہیں کہ انسان نہ موت ہے نہ حیات، بلکہ ان میں تقابل تضادہے اگرموت وجودی ہے اورعدم وملکہ اگرعدمی۔
والاول ھو الصحیح عندی الظاھر قولہ تعالٰی خلق الموت والحٰیوۃ۴؎ والحدیث ذبح الکبش یوم القٰیمۃ۱؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اوراول ہی میرے نزدیک صحیح ہے اﷲ تعالٰی کے ظاہرفرمان کی وجہ سے کہ اس نے موت اور حیات کوپیداکیا، اورقیامت کے دن مینڈھے کوذبح کرنے والی حدیث کی وجہ سے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 (۴؎القرآن الکریم   ۶۷/ ۲)

(۱؎ روح البیان     تحت الآیۃ وفدیناہ بذبح عظیم     ۲۳/ ۴۷۷    ومرقاۃ المفاتیح     تحت الحدیث ۵۵۹۱،   ۹/ ۵۵۵ )
مسئلہ۲۶۰: ازمیرٹھ چماردروازہ لنگڑی مسجد مکان جناب قاری مولوی محمداسحاق صاحب مسئولہ محمدیعقوب صاحب ۳شعبان ۱۳۳۱ھ
آیت فلما اخذتھم الرجفۃ۲؎
 (جب ان کورجفہ نے پکڑا۔ت) میں ایک شخص رجفہ کے معنی ''کڑکڑانے'' کے کہتاہے، اورایک شخص کہتاہے کڑکڑانے کے معنی نہیں ہیں بلکہ رجفہ کے معنی زلزلہ کے ہیں جلالین شریف میں اوردیگرتفاسیر میں اورلغت کی کتابوں میں رجفہ کے معنی زلزلہ کے ہیں کڑکڑانے کے نہیں ہوسکتے۔ ۔ وہ شخص پہلایہ کہتاہے کہ درایت اس کوچاہتی ہے کہ رجفہ کے معنی کڑکڑانے کے ہوں اوریہی ہیں کیونکہ ان کاکڑکڑانا عذاب کاسبب ہواتھا اس واسطے رجفہ کے معنی کڑکڑانے کے ہیں۔ اب عرض یہ ہے کہ پہلے کاقول صحیح ہے جورجفہ کے معنی کڑکڑانے کے کرتاہے یاثانی کاجواب کہ معنی زلزلہ کے کہتاہے صحیح ہے؟ اورپہلاشخص
من فسر برائہ۳؎
 (جس نے اپنی رائے سے تفسیرکی۔ت) کامصداق ہوسکتاہے یانہیں؟ اوررجفہ کے معنی زلزلہ کے کہتاہے صحیح ہے؟ اہلسنت وجماعت کے موافق جائزہے یانہیں؟
 (۲؎ القرآن الکریم     ۷/ ۱۵۵)

(۳؎ جامع الترمذی    ابواب التفسیر     باب ماجاء فی الذی یفسرالقرآن برأیہ     امین کمپنی دہلی          ۲/ ۱۱۹)

(احیاء العلوم     کتاب آداب تلاوۃ القرآن     الباب الرابع     مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ    ۱/ ۲۸۹)
الجواب : رجفہ کے معنی یہ کڑکڑانا محض باطل وبے اصل ہے جس پرنہ لغت شاہدنہ تفسیر، تویہ ضرور تفسیربالرائے ہے اور اس کاحصرکرنا کہ یہی ہیں حضرت عزت پرافتراء اوراس کااستدلال کہ وہ سبب استدلال آیت میں دوسری تحویل اورلفظ کوحقیقت سے مجاز کی طرف تبدیل ہے کہ اخذعذاب حقیقت ہے اور سبب کی طرف اسناد مجاز یابحذف مضاف تقدیر وبال کی جائے، بہرحال محض بلاوجہ بلکہ بلامجال وحی عدول بہ مجاز ہے کہ باطل ونامجازہے۔ اسی قصہ میں دوسری جگہ
فاخذتکم الصاعقۃ۱؎
 (توتم کو صاعقہ نے پکڑا۔ت) فرمایا صاعقہ کے معنی میں بھی اسی دلیل سے یہی کڑکڑانا ہوگا بلکہ جہاں جہاں قرآن عظیم نے اقوال کفارپرنار یاحمیم یاغساق وغیرہا کاذکرفرمایاہے ان سب کے معنی میں یہی کڑکڑانا آئے گا کہ یہی اس عذاب کاسبب ہوا ایسی بات علم تو علم عقل سے بعیدہے۔
وھوسبحٰنہ وتعالٰی اعلم
 (۱؎ القرآن الکریم     ۲/ ۵۵)
مسئلہ ۲۶۱: ازاحمد آباد گجرات دکن محلہ جمالپور مرسلہ مولوی عبدالرحیم صاحب ۱۵/رجب ۱۳۳۶ھ 

اخرج محمد بن جریر الطبری عن محمد بن ابراھیم قال کان النبی یأتی قبور الشھداء علی رأس کل حول فیقول سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار وابوبکر وعمر وعثمٰن۔
محمدبن جریرطبری نے محمدبن ابراہیم سے تخریج کی کہ نبی اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہرسال کے اختتام پرشہداء کی قبروں پرتشریف لاتے اوریوں فرماتے: سلامتی ہوتم پرتمہارے صبرکا بدلہ توپچھلا گھرکیاہی خوب ملا۔ اسی طرح ابوبکر، عمراورعثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہم بھی کرتے تھے۔(ت)

یہ روایت تفسیرابن جریر میں اور تفسیردرمنثور میں اور تفسیرکبیرمیں کس آیت کی تفسیر میں ہے؟
الجواب

درمنثور جلد۴صفحہ۵۸: اخرج ابن المنذر وابن مردویہ عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یأتی اُحد اکل عام فاذا تفوہ الشعب سلم علی قبور الشھداء فقال سلٰم علیکم بماصبرتم فنعم عقبی الدار وابوبکر وعمروعثمٰن رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔۱؎
ابن منذر اورابن مردویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے سیدنا حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے تخریج کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہرسال اُحد میں تشریف لاتے تھے۔ جب گھاٹی کی فراخی میں داخل ہوتے تو قبورشہداء پرسلام کہتے ہوئے یوں فرماتے: سلامتی ہو تم پرتمہارے صبرکابدلہ توپچھلا گھرکیاہی خوب ملا۔ سیدنا ابوبکر، حضرت عمر اورحضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہم بھی ایساہی کرتے تھے۔(ت)
 (۱؎ الدرالمنثور        تحت آیت ۱۳/ ۲۴    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۶۸۔۵۶۷)
ابن جریر جلد۱۳ص۸۴: حدثنی المثنی ثنا سوید قال اخبرنا ابن المبارک عن ابراھیم بن محمد عن سھیل بن ابی صالح عن محمدبن ابراھیم قال کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یأتی قبور الشھداء علی رأس کل حول فیقول السلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار وابوبکر وعمروعثمٰن رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔۲؎
مجھے مثنی نے بحوالہ سوید حدیث بیان کی۔ سویدنے کہاہمیں ابن المبارک نے خبردی، انہوں نے ابراہیم بن محمد سے، انہوں نے سہیل بن ابوصالح سے، انہوں نے محمدبن ابراہیم سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہرسال کے اختتام پرشہداء کی قبروں پرتشریف لاتے اور یوں فرماتے: تم پرسلامتی ہوتمہارے صبرکابدلہ توپچھلا گھرکیاہی خوب ملا۔ ابوبکر، عمراورعثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہم بھی ایساہی کرتے تھے۔(ت)
(۲؎ جامع البیان (تفسیرابن جریر)  تحت آیت ۱۳/ ۲۴     المطبعۃ المیمنۃ مصر        ۱۳/ ۸۴)
تفسیرکبیرجلد۵ص۲۹۵: عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ کان یأتی قبور الشھداء رأس کل حول فیقول السلام علیکم بماصبرتم فنعم عقبی الداروالخلفاء الاربعۃ ھکذا کانوا یفعلون رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔۳؎
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہرسال کے اختتام پرشہیدوں کی قبروں پرتشریف لاتے اوریوں فرماتے: سلامتی ہوتم پر تمہارے صبرکابدلہ توآخرت کاگھر کیاہی خوب ملا۔ خلفاء اربعہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم بھی ایساہی کرتے تھے۔(ت)
(۳؎ مفاتیح الغیب (التفسیرالکبیر)  تحت آیت ۱۳/ ۲۴     المطبعۃ المیمنۃ مصر   ۱۹/ ۴۵)
تفسیرنیشاپوری جلد۱۳ص۹۲: وروی عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ کان یأتی قبورالشھداء علٰی رأس کل حول فیقول سلٰم علیکم بماصبرتم فنعم عقبی الدار۱؎۔ فقط
نبی انورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہرسال کے اختتام پرشہیدوں کی قبروں پرتشریف لاتے اور یوں فرماتے: سلامتی ہوتم پرتمہارے صبر کا بدلہ توپچھلا گھر کیاہی خوب ملا۔(ت)
 (۱؎ غرائب القرآن     تحت آیۃ ۱۳/ ۲۴    مصطفی البابی مصر    ۱۳/ ۸۳)
مسئلہ ۲۶۲:  ازشاہجہان پور    بازارسبزی منڈی    مرسلہ محمدامین تاجر ۹جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تقسیم قرآن شریف برائے فیض پیرائے حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ تیس پارہ پرہے، کوئی پارہ سورت سے شروع ہوااور کوئی رکوع سے اورکوئی درمیان رکوع سے، اورکوئی پارہ بڑاہے کوئی چھوٹا، اس کے واسطے کوئی قاعدہ ہے جس کی رعایت ہرپارہ میں ہے یابلارعایت قاعدہ کلیہ مقرر کردی ہے؟ الحمدکوپارہ اول سے علیحدہ رکھاہے اور ربما سے ایک آیت چھوڑدی شروع سورت سے اس کا سراورجوکچھ اوراس میں مرعی ہے حضورہی بیان فرماسکتے ہیں اورہم جہلا کی تسکین حضورپرنورہی کے قلم سے ہوسکتی ہے۔
الجواب : پاروں پرتقسیم امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے نہ کی نہ کسی صحابی نہ کسی تابعی نے۔ معلوم نہیں اس کی ابتدا کس نے کی، یہ بہت حادث ہے، ظاہرایسامعلوم ہوتاہے کہ جس شخص نے اس کی ابتداء کی اس نے اپنے پاس کے مصحف شریف کو تیس حصوں پرکہ باعتبارعدداوراق مساوی تھے تقسیم کرلیا اوریہ تقسیم ان ان مواقع پرآکے واقع ہوئی، اوریہی ان بلاد میں رائج ہوگئی،سب جگہ اس پراتفاق بھی نہیں بلکہ شام وغیرہ کی تقسیم اس سے کچھ مختلف ہے۔ بہرحال یہ کچھ ضروری بات نہیں نہ اس کے ماننے میں حرج۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۶۳:  ازبارکپور محلہ مرغی محال     متصل کنجڑا م حال     مرسلہ حافظ محمد جعفر پیش امام ۱۰/شعبان ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کلام مجید بااعراب خداوندکریم کی طرف سے رسول مقبول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرنازل ہوا کرتاتھا یااعراب بعد رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے درست کیاگیا؟
الجواب: حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرقرآن عظیم کی عبارت کریمہ نازل ہوئی عبارت میں اعراب نہیں لگائے جاتے حضورکے حکم سے صحابہ کرام مثل امیرالمومنین عثمٰن غنی وحضرت زیدبن ثابت وامیرمعاویہ وغیرہم رضی اﷲ تعالٰی عنہم اسے لکھتے ان کی تحریر میں بھی اعراب نہ تھے یہ تابعین کے زمانے سے رائج ہوئے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۶۴:  ازموضع پاکڑی ضلع گوڑگانوہ ڈاکخانہ ڈہنیہ مسئولہ محمدٰیسین خاں ۱۰/رمضان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ تفسیرقادری معتبرہے یاغیرمعتبر؟

الجواب : یہ اُردوکتاب ہے میں نے نہیں دیکھی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter