| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
بالجملہ اس اعتراض کی ایک بہت ناقص نظیریہ ہوسکتی ہے کہ بادشاہ تمام روئے زمین اپنی مدح کرے، میں ہوں مالک خزائن عامرہ میں ہوں صاحب اموال متکاثرہ، میرے لئے ہیں بلاد وقری کے محصول، پہاڑوں کے حاصل، صحراؤں کی کانیں، دریاؤں کے محاصل، یہ سن کر ایک بے ادب، گستاخ، فقیر، قلاش، گدیہ گر، بے معاش، لنجھا، بولا، اندھا، ہیولے چوتڑوں کے بل گھسٹتا بادشاہ ہی کے کسی گاؤں میں بادشاہ ہی کی رعیت سے ہاتھ پاؤں جوڑکربادشاہ ہی کے دئیے ہوئے مال سے ایک پھوٹی کوڑی مانگ لائے اورسربازار تالیاں بجائے کہ لیجئے بادشاہ تواپنے ہی آپ کومالک خزائن واموال ومحاصل معادن وبحار وجبال بتاتاتھا یہ دیکھو مدتوں مصیبت جھیل کر پاپڑبیل کرہم نے بھی ایک کانی کوڑی پائی ہے کیوں ہم بھی مالک خزائن ومحاصل بحارہوئے یا نہیں مسلمانوں نہ فقط مسلمانوں ہرقوم کے عاقلوں کیا اس اندھے کاہلکاسالقب مجنون نہ ہوگا کیا اس سے نہ کہاجائے گاکہ اوبے عقل اندھے کیابادشاہ نے کہیں یہ فرمایاتھا کہ ہمارے خزانہائے عامرہ کے سواممکن نہیں کسی کے پاس کوئی پھوٹی کوڑی نکل سکے اگرچہ ہماری عطا کی ہوئی ہو، حاش ﷲ سلطان نے توجابجاصاف فرمادیاہے کہ ہم نے اپنی رعایاکوبہت اموال کثیرہ عطایائے عزیزہ انعام فرمائے ہیں اورہمیشہ فرمائیں گے، ہاں اصل مالک ہمارے سوا کوئی نہیں نہ ہمارے برابر کسی کاخزانہ ہو، اومجنون اندھے! کیایہ بھیک کی کوڑی لاکر تواس کا ذاتی مالک بے عطائے سلطان ہوگیا یااس پھوٹی کوڑی سے تیرامال خزائن شاہی کے برابرہولیااور جب کچھ نہیں تو کس ملعون بناء پرفرمان شاہی کی تکذیب کرتااورقہرجبّار قہار سے نہیں ڈرتاہے۔ ہاں ہاں یہ پادری معترض اس اندھے سے بھی بہت بدترحالت میں ہے اندھافقیر اوروہ بادشاہ کبیردونوں ان باتوں میں کانٹے کی تول برابرہیں کہ دونوں مالک بالذات نہیں، دونوں مالک حقیقی نہیں، دونوں کی ملک مجازی حادث، دونوں کی ملک فانی زائل، دونوں حقیقت میں نرے محتاج، دونوں بے شمار خزانوں کے مجازاً بھی مالک نہیں، پھراس کوڑی کواس کے خزائن سے ایک نسبت ضرورکہ دونوں محدود اورہرمتناہی کودوسری متناہی سے کچھ نسبت ضروردے سکتے ہیں اگرچہ نسبت نما میں ہزارصفرلگا، بخلاف علم حقیقی خالق وعلم اسمی مخلوق جن میں اصلاً کوئی تناسب ہی نہیں وہ ذاتی یہ عطائی، وہ غنی یہ محتاج، وہ ازلی یہ حادث، وہ ابدی یہ فانی، وہ واجب یہ ممکن، وہ ثابت یہ متغیر، وہ کامل یہ ناقص، وہ محیط یہ قاصر، وہ ازلاً ابداً نامتناہی درنامتناہی درنامتناہی، یہ ہمیشہ ہروقت معدودومحدود، پھرمتناہی کونامتناہی سے کوئی نسبت بتاہی نہیں سکتے کہ یہ اس کافلاں حصہ ہے، بھلا اس اندھے کو توہرعاقل مجنون کہتاان اندھوں کوکیاکہاجائے، یہ تومجنون سے بھی کئی لاکھ درجے بدترہوئے، اوراندھے پن میں بھی اس سے کہیں بڑھ کر، اس کی آنکھیں توباقی ہیں اگرچہ بے نورہیں، یہاں آنکھوں کانشان تک نہیں، ہاں ہاں کون سی آنکھیں، یہ دوچتلی کوڑیاں نہیں جو خروخوک سب کے منہ پرلگی ہوتی ہیں بلکہ ھیئے کی،
جنہیں قرآن عظیم میں فرماتاہے:
فانھا لاتعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور۱؎۔
توہے یوں کہ ان کافروں کی آنکھیں اندھی نہیں وہ دل اندھے ہیں جوسینوں میں ہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲۲ / ۴۶)
والعیاذباﷲ رب العٰلمین ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
خیرکسی کافرسے کیاشکایت مجھے تو ان ناسمجھ مسلمانوں سے تعجب آتاہے جومہمل وبے معنے شکوک واہیہ سن کرمتحیرہوتے ہیں،
سبحان اﷲ اﷲ اﷲاﷲ کہاں اﷲ رب السمٰوٰت والارض عالم الغیب والشہادہ سبحٰنہ وتعالٰی
اورکہاں کوئی بے تمیز بونگاہیولی ہبنقہ ناپاک ناشتہ کھڑے ہوکر مُوتنے والا ع
ببیں کہ ازکہ بریدی وباکہ پیوستی
(دیکھا کہ تونے کس سے قطع تعلق کیا اورکس کے ساتھ منسلک ہواہے۔ت)
خداراانصاف، وہ عقل کے دشمن، دین کے رہزن، جنم کے کودن کہ ایک اورتین میں فرق نہ جانیں، ایک خدا کے تین مانیں، پھران تینوں کوایک ہی جانیں، بے مثل بے کفو کے لئے جوروبتائیں، بیٹا ٹھہرائیں، اس کی پاک باندی ستھری کنواری پاکیزہ بتول مریم پرایک بڑھئی کی جوروہونے کی تہمت لگائیں، پھرخاوند کی حیات خاوند کی موجودگی میں بی بی کے جوبچہ ہو اسے دوسرے کاگائیں، خداکابیٹا ٹھہراکر ادھر کافروں کے ہاتھ سے سولی دلوائیں، ادھرآپ اس کے خون کے پیاسے لوٹیوں کے بھوکے روٹی کواس کاگوشت بناکردَردَر چبائیں، شراب ناپاک کو اس پاک معصوم کاخون ٹھہراکر غٹ غٹ چڑھائیں، دنیا یوں گزری ادھر موت کے بعد کفارکو اسے بھینٹ کابکرابناکرجہنم بھجوائیں، لعنتی کہیں ملعون بنائیں، اے سبحان اﷲ اچھا خداجسے سولی دی جائے، عجب خدا جسے دوزخ جلائے۔ طرفہ خدا جس پرلعنت آئے جوبکرا بناکربھینٹ دیاجائے، اے سبحان اﷲ باپ کی خدائی اوربیٹے کوسولی، باپ خدا بیٹا کس کھیت کی مولی، باپ کی جہنم کوبیٹے ہی سے لاگ، سرکشوں کوچھٹی بے گناہ پرآگ، امتی ناجی رسول ملعون، معبودپرلعنت بندے مامون۔ تف تف وہ بندے جواپنے ہی خدا کاخون چکھیں، اسی کے گوشت پردانت رکھیں، اف اف وہ گندے جوانبیاء ورسل پروہ الزام لگائیں کہ بھنگی چماربھی جن سے گھن کھائیں، سخت فحش بیہودہ کلام گھڑیں اورکلام الٰہی ٹھہراکر پڑھیں، زِہ زِہ بندگی خَہ خَہ بندگی خَہ خَہ تعظیم، پَہ پَہ تہـذیب قَہ قَہ تعلیم (مثال کے لئے دیکھوبائبل پرانا عہدنامہ یسعیاہ نبی کی کتاب باب ۲۳ ورس(عہ۱) ۱۵ تا۱۸) خداکامعاذاﷲ زناکی خرچی کومقدس ٹھہرانا اوراپنے مقربوں کے لئے اسے چن رکھاکہ کھائیں اورمستائیں۔
عہ۱: وہ عبارت یہ ہے (۱۵) اس دن ایساہوگا کہ صورکسی بادشاہ ایام کے مطابق ستربرس تک فراموش ہوجائیں گی،اورستربرس کے پیچھے صورکوچھنال کے مانندگیت گانے کی نوبت ہوگی۔ (۱۶) اوچھنال جوکہ فراموش ہوگئی ہے بربط اٹھالے اورشہرمیں پھراکر تارکوخوب چھیڑ اوربہت سی غزلیں گا تاکہ تجھے یاد کریں (۱۷) کیونکہ ستربرس کے بعد ایساہوگا کہ خداوند صورکی خبرلینے آئے گا اورپھروہ خرچی کے لئے جائے گی اورروئے زمین کی ساری مملکتوں سے زناکرے گی (۱۸)لیکن اس کی تجارت اوراس کی خرچی خداوند کے لئے مقدس ہوگی اس کامال ذخیرہ نہ کیاجائے گا اوررکھ چھوڑاجائے گا بلکہ اس کی تجارت کاحاصل ان کے لئے ہوگا جوخداوند کے حضوررہتے ہیں کہ کھا کے سیرہوں اور نفیس پشاک پہنیں۔
ایضاً کتاب پیدائیش باب ۱۹ ورس(عہ۲) ۳۰تا ۳۸ سیدنالوط علیہ الصلوٰۃ والسلام کامعاذاﷲ اپنی دختروں سے زناکرنا بیٹیوں کاباپ سے حاملہ ہوکر بیٹے جننا۔
عہ۲: (۳۰) لوط اپنی دونوں بیٹیوں سمیت پہاڑ پرجارہا (۳۱) پہلوٹھی نے چھوٹی سے کہا(۳۲) آؤہم باپ کومے پلائیں اوراس سے ہم بسترہوں(۳۳) پہلوٹھی اندرگئی اوراپنے باپ سے ہم بسترہوئی۔(۳۴) دوسرے روز پہلوٹھی نے چھوٹی سے کہادیکھ کل رات میں اپنے باپ سے ہمبسترہوئی آؤ آج رات بھی اس کو مے پلائیں اورتوبھی جاکے اس سے ہم بسترہو(۳۵) سو اس رات چھوٹی اس سے ہمبسترہوئی (۳۶) سولڑکی دونوں بیٹیاں اپنے باپ سے حاملہ ہوئیں (۳۷)اوربڑی ایک بیٹاجنی اس کانام موآب رکھا وہ موآبیوں کاجو اب تک ہیں باپ ہو (۳۸) اورچھوٹی بھی ایک بیٹا جنی اس کانام بنی عمی رکھا وہ بنی عمون کاجو اب تک ہیں باپ ہو اھ مختصراً ۱۲۔
ایضاً کتاب دوم اشمویل نبی باب ۱۱ ورس (عہ۱) ۲ تا ۵ سیدناداؤدعلیہ الصّٰلوٰۃ والسلام کااپنے ہمسائے کی خوبصورت جَوروکوننگی نہاتے دیکھ کر بلانا اورمعاذاﷲ اس سے زنا کرکے پیٹ رکھانا،
عہ۱:(۲) ایک دن شام کو داؤد چھت پر ٹہلنے لگا وہاں سے اس نے ایک عورت کو دیکھا جونہارہی تھی اور وہ عورت نہایت خوبصورت تھی (۳) تب داؤد نے اس عورت کاحال دریافت کرنے آدمی بھیجے انہوں نے کہا حتی اوریاہ کی جورو(۴) داؤد نے لوگ بھیج کے اس عورت کوبلالیا اور اس سے ہمبسترہوا وہ اپنے گھرچلی گئی (۵) اوروہ عورت حاملہ ہوگئی سو اس نے داؤد کے پاس خبربھیجی کہ میں حاملہ ہوں اھ مختصراً۔