Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
110 - 145
اور اس علم کاغنی نہ ہونا خودبدیہی کہ ایک بے جان آلے کی بودگی پرہے جب تک آلہ نہ تھا توڈاکٹرصاحب کچھ نہ کہہ سکتے تھے کہ میم صاحب کے پیٹ میں مس میڈیم ہے یاباوالوگ، ازلی ابدی واجب کیسے کہہ سکتے ہوجب تم خود ہی حادث فانی باطل ہو، ازلی بڑی چیزہے ایام حمل ہی مدتوں اپنے جہل وعجزکااقرارکرناپڑے گا جب تک نطفہ صورت نہ پکڑے پانی کی بوند یاخون بستہ یاگوشت کاٹکڑا رہے، ڈاکٹرصاحب کی ڈاکٹری کچھ نہیں چل سکتی کہ نرنظرآتا ہے یامادہ۔ کیاتمہارا علم ثابت وناقابل نقصان وزیادت ہے استغفراﷲ قبل مشاہدہ کی حالت کومشاہدہ اجمالی، مشاہدہ اجمالی کو نظرتفصیلی، نظرتفصیلی بالائی کونظربعد تصریح عملی سے ملاؤ۔ حالت التفات وذہول کافرق دیکھو پھرطریان نسیان توسرے سے ارتفاع ہے۔ کیاتمہارا علم کامل ہے، حاش ﷲ اضافات بتانے کی کیاقدرت کہ وہ غیرمتناہی ہیں مثلاً اس کے بدن کاکوئی ذرہ لے لیجئے اور اس کی ماں کے بدن اورتمام اجسام عالم میں جتنے نقطے فرض کئے جاسکتے ہیں اس کے بدن کے ہرذرے کا اس ہرنقطہ ارضی وسماوی وشرقی وغربی وجنوبی وشمالی ونزدیک ودوروموجود وحال وماضی واستقبال سے بعد بتاؤ  یہ لاتعدولاتحصٰی خطوط جوہرنقطہ جسم جنین سے تمام نقاط عالم تک نکل کر بے حدوبے شمار زاویے بناتے آئے ہرزاویے کی مقداربولو، نہ سہی یہی بتادو کتنے خطوط پیداہوں گے، نہ سہی یہی کہہ دو کہ تمام اجسام جہان میں کتنے نقطے نکلیں گے، نہ سہی اتناہی کہو کہ صرف جنین کے بدن میں کس قدر نقاط مانے جائیں گے اورجب یہ ادنٰی علم جوعلوم الٰہیہ متعلقہ بجنین کے کروڑہاکروڑحصوں سے ایک حصہ بھی نہیں ایک جنین میں بھی اس قلیل کے اقل القلیل حصے کاجواب نہیں دے سکتے اگرچہ دنیابھر کے ڈاکٹروپادری اکٹھے ہوجاؤ توباقی علوم کی کیاگنتی ہے حالانکہ واﷲ العظیم یہ تمام علوم تمام نسبتیں تمام خطوط تمام نقاط تمام زاویے تمام مقادیرگزشتہ وموجودہ وآئندہ تمام جن وبشر وحیوانات کے تمام حملوں میں رب العزت آن واحد میں معاً تفصیلاً ازلاً ابداً جانتا ہے اور یہ اس کے بحار علوم سے ایک قطرہ بلکہ بے شمار یم سے ادنٰی نم ہے اوریہ سب کاسب مع ایسے ایسے ہزارہاعلوم کے جن کی اجناس کلیہ تک بھی وہم بشری نہ پہنچ سکے شمارافراد درکنار سب انہیں دوکلموں کے سرخ میں داخل ہیں کہ
یعلم مافی الارحام
جانتاہے جوکچھ پیٹ میں ہے۔ تمہاری تنگ نظری کوتاہ فہمی دولفظ دیکھ کرایسے سستے سمجھ لئے کہ ایک آلے کی ناچیزوبے حقیقت ہستی پرعلم ارحام کے مدعی بن بیٹھے، ہاں نصب و اضافات کوجانے دوکہ نامتناہی معدود ومحدود ہی اشیاء بتاؤ اوروہ بھی کسی ایک جنین کی نسبت اوروہ بھی خاص اپنے گھر کے کہ آدمی کوگھرکاحال خوب معلوم ہوتاہے اپنا اوراپنی جوروکاواقعہ توخود اسی پرگزرا اس کے سامنے ہی گزرا اوراوپر سے مدددینے کو آلہ موجودکوئی پادری صاحب آلہ لگاکر بولیں کہ جس وقت ان کی میم صاحب کوپیٹ رہانطفہ کتنے وزن کا گراتھا اس میں کتنے حیوان منوی تھے گرتے وقت رحم کے کس حصہ پرپڑا، رحم میں کتنی دیربعد کون سی خمل ونقرہ میں مستقرہوا، جب سے اب تک کتناخون حیض اس کے کام آیا، یہ اصل نطفہ کس کس غذا کے کس کس کے جز اورکتنے وزن کافضلہ تھا وہ کہاں کی مٹی سے پیداہوئی تھی کھانے کے کتنی دیربعد اس نے صورت نطفیہ اخذ کی تھی جب سے اب تک ایک ایک منٹ کے فاصلہ پر اس کی وزن ومساحت وہیأت میں کیاکیا اورکتنا کتناتغیر ہوا، حوادث مذکورہ بالا کے باعث جب سے اب تک میم صاحبہ کی رحم شریف کئی بار اورکتنی کتنی دیر کو اور کس کس قدر سمٹی پھیلی، بچہ کتنی دفعہ اور کس کس قدر اورکدھر کدھر کوپُھرپھرایا، ہرجنبش پروضع اعضا میں کیاکیا تغیرہوا، یہی سب احوال اب سے پیدا ہونے تک کس کس طرح گزریں گے منٹ منٹ پروضع ووزن ومساحت ومکان وحرکت وسکون وغذا واحوال جنین ورحم میں کیاکیا تغیرات ہوں گے، باوالوگ رحم شریف میں کب تک بسیں گے، کس گھنٹے منٹ سکنڈرتھڈپربرآمدہوں گے، پہلے کون ساعضو آگے بڑھائیں گے، اس وقت کتنے فربہ کتنے درازہوں گے، دروازہ برآمد کی وسعت کس مقدار مخصوص تک چاہیں گے، آسانی گزرکوکتنی رطوبت کی پچکاریاں ساتھ لائیں گے، آپ کئی بارزورلگائیں گے، میم صاحبہ سے کتنے کرائیں گے، کون سی چیخ پر باہرآئیں گے، برآمدبھی ہوں گے یاکچے ہی گرجائیں گے، جی بچے توکیا عمرپائیں گے، کہاں کہاں بسیں گے، کیاکیاکھائیں گے، کس کس مشن میں لونڈے پڑھائیں گے،
الی غیر ذٰلک مما لایعدولایحصی
 (اس کے علاوہ جن کی گنتی اورشمارنہیں کیاجاسکتا۔ت)
واﷲ کہ تمام عالم کی تمام ماضی وموجود ومستقبل حملوں رحموں کے ایک ایک ذرہ احوال مذکورہ وغیرمذکورہ گزشتہ وموجودہ وآئندہ کو رب العزت عزوجل کاعلم ازلاً ابداً معاً تفصیلاً محیط ہے اوریہ سب انہیں دوپاک کلمہ
یعلم ما فی الارحام
 (جانتاہے جوکچھ پیٹوں میں ہے۔ت) کی شرح میں داخل۔ تم اپنے ہی گھر کے ایک ہی پیٹ کے مختصراحوال کے کروڑوں حصوں سے ایک حصہ کابھی ہزارواں حصہ نہیں بتاسکتے اورعالم ارحام بننے کے مدعی نہ سہی ماضیہ وآتیۃ کوبھی جانے دو، صرف موجودہ ہی لو اورحالات میں بھی فقط موجودہ ہی پرقناعت کرو۔ کیاانہیں کوتمہارا علم عام ہے سبحان اﷲ اوّلاً ان کابھی علم بالفعل کہاں تمام عالم میں جتنے حمل اس وقت موجود ہیں سب کی گنتی توکوئی بتاہی نہیں سکتا سب کے حال پر اطلاع کجا۔ ثانیاً اچھاعلم بالفعل سے بھی گزر وصرف بذریعہ آلہ امکان علم ہی پرقناعت کروکہ گوہمیں کچھ معلوم نہیں مگرجوپاس آئے اورقدرت ملے توآلہ لگاکرجان سکتے ہیں اگرچہ صاف ظاہرکہ یہ علم نہ ہوا کھلاجہل واقرارجہل ہوا، تاہم موجود حملوں میں آدمی کے حمل اورہرگونہ جانورطیرووحش وسباع وبہائم وہوام سب کے سب گابھ داخل، ذرا کوئی پادری صاحب آلہ آپ لگاکر یاکسی ڈاکٹرصاحب سے لگواکر بتائیں توکہ چیونٹی کے پیٹ میں کَے انڈے ہیں، ان میں کتنی چیونٹیاں کتنے چیونٹے ہیں۔ ایک چیونٹی کیا خفاش کے سب پرند اورنیزمچھلیاں، سانپ، گرگٹ، گوہ ، ناکا، سقنقور وغیرہالاکھوں جانور کَے انڈے دیتے ہیں پادری صاحب کی حکمت سب جگہ بیکار ہے کیا یہ یعلم مافی الارحام میں داخل نہ تھے۔ ثالثاً اوراتروں فقط بچے ہی والوں پرقناعت سہی کیا ان سب کے پیٹ آلے کے قابل ہیں۔ رابعاً خامساً تاعاشراً وغیرہ، اس سے بھی درگزروں فقط قابل آلہ فقط انسان بلکہ فقط امریکا یاانگلستان بلکہ فقط پادریان بلکہ فقط پادری فلاں بلکہ ان کے گھرکابھی فقط ایک ہی پیٹ بلکہ وہ بھی فقط اسی وقت جب بچہ خوب بن لیا اوراپنی نہایت تصویر کوپہنچ چکا اور وہ بھی فقط اتنی ہی دیرکے لئے جبکہ میم صاحبہ کے پیٹ میں آلہ لگاہواہے کلام کروں اب لو لاکھوں عموم کے دریاسمٹ کر صرف بالشت بھرکی ایک ہی گھڑیاکی تلاش رہ گئی کیوں پادری صاحب کیاآپ کے مافی الرحم میں صرف بچہ کاآلہ تناسل داخل ہے کہ نرمادہ بتایا اور
یعلم ما فی الارحام
صادق آیا اس کے اعضائے اندرونی کیارحم میں نہیں جنین کے دل ودماغ گردے شش سپرز مثانے تلخے امعامعدے رگ پٹھے عظم عضلے ایک ایک پرزے کاوزن مقدار مساحت طول عرض عمق فربہی لاغری کے اختلافات غرض سب حالات صحیح صحیح محقق مفصل نہ فقط شرابی کی زق زق یااندھے کی اٹکل بیان کرو۔ اچھاجانے دو اندرونی اعضائے آلہ وآلہ پرست سب کورے کورہیں بیرونی ہی سطح کاحصہ سہی۔ بولومیس میڈم جو پیٹ میں جلوہ آراہیں، ان کے سرپرکتنے بال ہیں، ہربال کاطول کس قدر، عرض کتنا، عمق کس قدر، وزن کتنا، جلد میں مسام کتنے ہیں، ہرسوراخ کے ابعادثلثہ کیاکیاہیں، ان میں کتنے باہم ایک دوسرے سے ۱۳/ ۹ کی نسبت رکھتے ہیں ہرایک باقی سے کتنا متفاوت ہے بغل اورسینے اورران اورپیراوردونوں لب بالا چاروں لب زیرین وغیرہا جوڑوں وصلوں میں ہرایک کازاویہ کس حدونہایت تک پھیل سکتاہے۔ کئی درجے دقیقے ثانیے عاشرے وغیرہا تک پہنچتاہے دس تجاویف (عہ) ظاہرہ میں طبعاً وقسراً کہاں تک پھیلنے کی قابلیت ہے کہ اس سے ذرہ بھرقسرزائد واقع ہو توقطعاً خارق ہو اور اس حد تک یقینا تحمل کے قابل ولائق ہو تجاویف حاصلہ وتجاویف صالحہ میں ہرجگہ کتناتفرقہ ہے۔
الٰی غیر ذٰلک من الاحوال الزاھرۃ فی السطوح الظاھرۃ
 (اس کے علاوہ روشن احوال، ظاہرسطحوں میں۔ت)
عہ: پنج درنصف بالاصماخین ومنخرین ودہن وپنج درنصف زیریں ثقبہ درقلہ جبل الزہرہ کہ سترہ وناف تامندوسہ دردامان ازانہا دو در ابرۃ الزہرہ کہ بطرد نوف خوانندہ یکے پائینش کہ مہبل گویند کہ وپنجم فرجہ پسین ۱۲۔
پانچ اوپروالے نصف میں، دوکانوں کے اندر، دوناک کے اندراورایک منہ۔ اسی طرح پانچ نیچے والے نصف میں، جبل الزہرہ کے بالائی حصہ میں سوراخ جسے سرہ اورناف کہاجاتاہے اور تین اس کے دامان میں ہیں جن میں سے دوابرہ زہرہ میں جن کانام بطر اورنوف ہے اورنیچے کی طرف جسے مہبل کہتے ہیں اورپانچواں سوراخ پیچھے کی طرف۔۱۲۔(ت)
یہ تمام تفاصیل تو
یعلم ما فی الارحام
کے لاکھوں سمندروں سے ایک خفیف قطرہ بھی نہیں اسی کوبتادو۔
فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقواالنار التی وقودھا الناس والحجارۃ اعدّت للکٰفرین۱؎۔
پھراگرنہ بتاؤ اورہرگز نہ بتاسکو گے توڈرو اس آگ سے جس کاایندھن ہیں آدمی اورپہاڑ، تیاررکھی ہے کافروں کے لئے۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۲/ ۲۴)
Flag Counter