فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
109 - 145
توکوئی اندھے سے اندھا بھی کسی آیت کایہ مطلب نہیں کہہ سکتا کہ بایں معنی مطلق علم کو غیرسے نفی فرمایاہے ہاں اس معنی پرعلم مطلق غیر سے ضرور مسلوب، اوریہ وجہ ہفتم حصروتخصیص کی ہے یعنی تمام موجودات وممکنات ومفہومات وذوات وصفات ونصب واضافات وواقعیات و موہومات غرض ہرشیئ ومفہوم کو علم کاعام وتام ومحیط ومستغرق ہوناکہ غیرمتناہی معلومات کے غیرمتناہی سلاسل اورہرسلسلے کے ہرفردسے غیرمتناہی علوم متعلق اوریہ سب نامتناہی نامتناہی نامتناہی علوم معاً حاصل ہوں جن کے احاطے سے کوئی فرد اصلاً خارج نہ ہو جسے فرماتاہے:
وانّ اﷲ قد احاط بکل شیئ علما۔۲؎
بیشک اﷲ کا علم ہرچیز کومحیط ہوا۔
(۲؎ القرآن الکریم ۶۵/ ۱۲)
اورفرماتاہے:
عٰلم الغیب ج لایعزب عنہ مثقال ذرۃ فی السمٰوٰت ولافی الارض ولااصغر من ذٰلک ولااکبر الا فی کتٰب مبین۳؎o
جاننے والا ہرچھپی چیزکا اس سے چھپی نہیں کوئی ذرہ بھرچیزآسمانوں میں نہ زمین میں اور نہ اس سے چھوٹی اورنہ بڑی مگرسب ایک روشن کتاب میں ہے۔
(۳؎ القرآن الکریم ۳۴/ ۳)
ایساعلم بھی غیر کے لئے محال اوردوسرے کے واسطے اس کااثبات کفروضلال
میں بیان کردیاہے۔ت) مانحن فیہ میں مولاسبحانہ وتعالٰی نے اس وجہ ہفتم کی طرف اشارہ فرمایا کل انثٰی میں کلمہ کل اور ماتحمل من انثٰی میں نکرہ منفیہ پھرتاکید بہ من اور
مافی الارحام عموم ما
اورلام استغراق سے، وعلٰی ہذالقیاس۔ اب آلہ محدثہ کی طرف چلئے، فقیراس پرمطلع نہ ہوا، نہ کسی سے اس کا کچھ حال سنا، ظاہرایسی صورت میسرنہیں کہ جنین رحم میں بحال
وفی ظلمٰت ثلث۱؎
تین اندھیریوں میں رہے
(۱؎ القرآن الکریم ۳۹/ ۶)
اوربذریعہ آلہ مشہود ہوجائے اس کاجسم بالتفصیل آنکھوں سے نظرآئے کہ بعد علوق فم رحم سخت منضم ہوجاتاہے جس میں میل سرمہ بدقت جائے اوراس جائے تنگ وتارمیں جنین محبوس ہوتاہے وہ بھی یوں نہیں بلکہ خود اس پرتین غلاف اورچڑھے ہوتے ہیں اورایک غشائے رفیق ملاقی جسم مبین جس میں اس کا فضلہ عرق جمع ہوتاہے اس پرایک اورحجاب اس سے کثیف ترمسمّٰی بہ غشائے لفافی جس میں فضلہ بول مجتمع رہتاہے اس پرایک اورغلاف اکثف کہ سب کو محیط ہے جسے شیمہ کہتے ہیں، ایسی حالتوں میں بدن نظرآنے کاکیامحل ہے، توظاہراً آلے کامحصل صرف بعض علامات وامارات ممیزہ منجملہ خواص خارجیہ کابتاناہوگا جن سے ذکورت وانوثت کاقیاس ہوسکے، جیسے رحم کی تجویف ایمن یاایسرمیں حمل کاہونا یا اوربعض تجربیات کہ تازہ حاصل کئے گئے ہوں، اگراسی قدرہے جب توکوئی نئی بات نہیں پہلے بھی مجربین قیاسات فارقہ رکھتے تھے جیسے دہنی یابائیں طرف جنین کی بیشتر جنبش، یا حاملہ کی پستان راست یا چَپ کے حجم میں اقرایش، یاسرہائے پستان میں سرخی یا ادواہٹ آنا، یارنگ روئے زن پرشادابی یاتیرگی چھانا، یاحرکات زن میں خفت یاثقل پانا، یا قارورے میں اکثر اوقات حمرت یابیاض غالب رہنی، یاعورت کے خلاف عادت بعض اطعمہ جیدہ یاردیہ کی رغبت ہونی، یاپشم کبود میں زرادند مدقوق بعسل سرشتہ کاصبح علی اریق حمول اور ظہرتک مثل صائم رہ کرمزہ دہن کاامتحان کہ شیریں ہوایاتلخ،
الٰی غیرذٰلک مما یعرفہ اھل الفن ولکل شروط یراعیھا البصیر فیصیب الظن
(اس کے علاوہ جس کو اہل فن جانتاہے اورعقلمند تمام شرائط کوملحوظ رکھتاہے توگمان درست ہوتاہے۔ت)
اورعجائب صنع الٰہی جلت حکمتہ سے یہ بھی محتمل کہ کچھ ایسی تدابیر القافرمائی ہوں جن سے جنین مشاہدہ ہی ہوجاتاہو مثلاًبذریعہ قواسر پانچوں حجابوں (عہ) میں بقدر حاجت کچھ توسیع وتفریح دے کر روشنی پہنچاکر کچھ شیشے ایسی اوضاع پرلگائیں کہ باہم تادیہ عکوس کرتے ہوئے زجاج عقرب پر عکس لے آئیں یازجاجات متخالفۃ الملاایسی وضعیں پائیں کہ اشعہ بصریہ کو حسب قاعدہ معروضہ علم مناظر الغطاف دیتے ہوئے جنین تک لے جائیں جس طرح آفتاب کاکنارہ کہ ہنوزافق سے دوراورمقابلہ نظرسے محجوب ومستورہوتاہے بوجہ اختلاف ملاوغلظت عالم نسیم ہمیں محاذات بصرسے پہلے ہی نظرآجاتا اورطلوع مرئی کہ وہی ملحوظ فی الشرع ہے پیشترہوتاہے یوں ہی جانب غروب بعد زوال محاذات ووقوع حجاب میں کچھ دیرتک دکھائی دیتااورغروب مرئی معتبر فی الشرع غروب حقیقی کے بعد ہوتاہے،
تین مذکورہ پردے اوران پراوپرنیچے دوطبقے زہد کے ایک دوسرے پر غلاف ہیں۔۱۲(ت)
ولہٰذا فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ نے جب کبھی موامرات زیجیہ سے محاسبہ کیا اوراسے مشاہدہ بصری سے ملایا ہے ہمیشہ نہارعرفی کونہارنجومی پراس سے بھی زائدپایاہے جوطرفین طلوع وغروب میں تفاوت افقین حسی وحقیقی بحسب ارتفاع قامت معتدلہ انسانی وتفاضل نیم قطر فاصل میان حاجت و مرکز کامقتضٰی ہے نیز اسی لئے فقیرکامشاہدہ ہے کہ قرص شمس تمام وکمال بالائے افق مشہورہونے پر بھی ظلمت شب مطلع ومغرب میں نظرآتی ہے حالانکہ مخروط ظلی وشمس میں ہرگز نیم دورسے کم فصل نہیں اوراختلاف منظرآفتاب غایت قلت میں ہے کہ مقدارعسرقطرتک بھی نہیں پہنچتا۔ خیرکچھ بھی ہوہم یہی صورت فرض کرتے ہیں کہ مجردکسی امارت خارجہ کی بناپر قیاس ہی نہیں بلکہ بذریعہ آلہ اعضائے جنیں باچناں وچنیں حجابات وکمیں مشہود ہوجاتے ہیں بہرحال آخرتمام منشاومبنائے اعتراض مہمل صرف اس قدرکہ جوعلم قرآن عظیم نے مولٰی سبحٰنہ وتعالٰی کے لئے خاص ماناتھا ہمیں اس آلے سے حاصل ہوجاتاہے حالانکہ
لاواﷲ کبرت کلمۃ تخرج من افواھم ط ان یقولون الاکذبا۱؎o
کیابڑا بول ہے جو ان کے منہ سے نکلتاہے وہ تونہیں کہتے مگرجھوٹ۔ ہم پوچھتے ہیں اس آلے سے تم کو اُتناہی علم دیاجووجہ ہشتم عام وشامل میں ہے جس کاباری عزوجل سے خاص جاننا محال اورخودبحکم قرآن عظیم کفروضلال تھا جب تواعتراض کتنامالیخولیااورکس درجہ کاجنون ہے کہ سرے سے مبنی ہی باطل وملعون ہے اس قسم علم یعنی دانستن کواگرچہ کیساہی ہو حضرت عزت عزت عظمتہ سے قرآن عظیم نے کب خاص ماناتھا اس قسم کے کروڑوں علم عام انسان بلکہ حیوانات کوروزملتے رہتے ہیں اورقرآن عظیم خود غیرخدا کے لئے انہیں ثابت فرماتاہے ایک اس کے ملنے میں کیانئی شاخ نکلی کہ آیت الٰہی کاخلاف ہوگیا یہ بھی اس
علّم الانسان مالم یعلم۲؎
(انسان کوسکھایاجووہ نہیں جانتاتھا)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۸/ ۵ ) (۲؎ القرآن الکریم ۹۶/ ۵)
کے ناپیدکنارصحراؤں سے ایک ذلیل ذرہ ہے کہ اﷲ تعالٰی نے سکھایا آدمی کو جو اسے معلوم نہ تھا، دیکھو ابھی تمہیں آیت سناچکاہوں کہ اﷲ نے تمہیں نکالا ماں کے پیٹ سے نرے جاہل کہ کچھ نہ جانتے تھے پھرتمہیں عقل وہوش وچشم وگوش دئیے کہ اس کاحق مانو، تم نے اچھا حق ماناکہ اسی کی برابری کرنے لگے، اوراگریہ مقصود کہ اس سے تمہیں ان سات وجوہ مخصوصہ بحضرت باری عزوجل سے کسی وجہ کاعلم مل گیا تو یہ اس سے بھی لاکھوں درجہ بدترجنون ہے۔ کیایہ علم تمہاراذاتی ہے، عطائے الٰہی سے نہیں؟ اہل کتاب کہلاتے ہو شاید، ایساخدائی دعوٰی تونہ کرو۔ ابھی چندروزہوئے تم اس آلے سے جاہل تھے اﷲ عزوجل نے تمہیں تمہاری بساط کے لائق عقل دی، ریاضی سکھائی ، دنیاکمانے کی راہ بتائی، تمہارے ذہن میں اس کا طریقہ ڈالا، آنکھیں ہاتھ جوارح دئیے جن کے ذریعہ سے کام کرسکو، جس چیزکاکوئی آلہ بناؤ اورجس چیز پراسے استعمال میں لاؤ انہیں تمہارے لئے مسخرکیااسباب مہیاکرکے تمہارے دل میں اس کاخیال ڈالاپھر تمہارے جوارح کو کام کی طرف مصروف فرمایا پھر محض اپنی قدرت کاملہ سے بنادیا اوراس کابننا تمہارے ہاتھوں پرظاہرہواتم سمجھے ہم نے اپنی قدرت اپنے علم سے بنالیا اندھے ہمیشہ ایساہی سمجھاکرتے ہیں جوظاہری سبب کے غلام اورحلقہ بگوش اورمسبب وخالق وعالم وقادر حقیقی سے غافل وبیہوش ہیں
کذٰلک یطبع اﷲ علٰی کل قلب متکبر جبار۱؎
(اﷲتعالٰی یونہی مہرکردیتاہے متکبرسرکش کے سارے دل پر۔ت) جیسے قارون ملعون جسے اﷲ عزوجل نے بے شمارخزانے دئیے دنیابھرکی نعمتیں بخشیں جب اس سے کہاگیا
احسن کما احسن اﷲ الیک۲؎
بھلائی کرجیسے اﷲ نے تیرے ساتھ بھلائی کی، تو کافرکیابکتا ہے
انما اوتیتہ علٰی علم عندی۳؎
یہ تومجھے ایک علم سے ملاہے جومجھے آتا ہے۔ پھر بدلا دیکھا کس مرنے کاچکھا:
فخسفنا بہ وبدارہ الارض ۔ فماکان لہ من فئۃ ینصرونہ من دون اﷲ ق وماکان من المنتصرین۔۴؎
دھنسادیاہم نے اسے اور اس کے گھر کوزمین میں پھرنہ ہوئے اس کے کچھ یارکہ اسے بچالیتے اﷲ کی گرفت سے اورنہ وہ مدد لاسکا۔
(۱؎ القرآن الکریم ۴۰/ ۳۵ ) ( ۲؎ القرآن الکریم ۲۸/ ۷۷)
(۳؎القرآن الکریم ۲۸/ ۷۸ ) ( ۴؎ القرآن الکریم ۲۸/ ۸۱)