| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
(پھرمیں کہتاہوں اورتوفیق اﷲ سے ہے۔ت) مفصلاً حق واضح کو واضح ترکروں۔ اصل یہ ہے کہ کسی علم کی حضرت عزت عزوجل سے تخصیص اوراس کی ذات پاک میں حصر اور اس کے غیر سے مطلقاً نفی چندوجہ پرہے: اوّل علم کاذاتی ہونا کہ بذات خود بے عطائے غیرہو۔ دوم علم کاغنا کہ کسی آلہ جارحہ وتدبیر وفکرونظر والتفات وانفعال کااصلاً محتاج نہ ہو۔ سوم علم کا سرمدی ہوناکہ ازلاً ابداً ہو۔ چہارم علم کاوجوب کہ کبھی کسی طرح اس کاسلب ممکن نہ ہو۔ پنجم علم کااثبات واستمرار کہ کبھی کسی وجہ سے اس میں تغیر وتبدل فرق تفاوت کاامکان نہ ہو۔ ششم علم کااقصٰی غایات کمالات پرہونا کہ معلوم کی ذات ذاتیات اعراض احوال لازمہ مفارقہ ذاتیہ اضافیہ ماضیہ آیۃ موجودہ ممکنہ سے کوئی ذرہ کسی وجہ پرمخفی نہ ہوسکے۔
ان چھ وجہ پرمطلق علم حضرت احدیت جل وعلا سے خاص اوراس کے غیر سے قطعاً مطلقاً منفی یعنی کسی کو کسی ذرہ کاایساعلم جوان چھ وجوہ سے ایک وجہ بھی رکھتاہو حاصل ہونا ممکن نہیں جوکسی غیرالٰہی کے لئے عقول مفارقہ ہوں خواہ نفوس ناطقہ ایک ذرے کاایساعلم ثابت کرے یقینا اجماعاً کافرمشرک ہے۔ ان تمام وجوہ کی طرف آیات کریمہ میں باطلاق کلمہ یعلم اشارہ فرمایاکہ یہاں علم کومطلق رکھااور مطلق فردکامل کی طرف منصرف اورعلم کامل بلکہ علم حقیقی حق الحقیقہ وہی ہے جوان وجوہ ستہ کاجامع ہو اسی لحاظ پرہے وہ جو قرآن عظیم میں ارشاد ہوا:
یوم یجمع اﷲ الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لاعلم لنا۱؎۔
جس دن اﷲ عزوجل رسولوں کوجمع کرکے فرمائے گا تمہیں کیاجواب ملاعرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۵/ ۱۰۹)
کفارکے پاس ان محبوبان خداصلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہم کاتشریف لاناہدایت فرمانا ان ملاعنہ کاتکذیب وانکار واصرارواستکباروبیہودہ گفتار سے پیش آنا کسے نہیں معلوم مگرحضرات انبیاء عرض کریں گے لاعلم لنا ہمیں اصلاً علم نہیں، لانفی جنس کا ہے سلب مطلق فرمائیں گے یعنی وہی علم کامل کہ بحقیقت حقیقہ علم اسی کانام ہے اصلاً اس کاکوئی فرد ہمیں حاصل نہیں، حق حقیقت تو یہ ہے جب اس سے تجاوز کرکے حقیقت عرفیہ یعنی مطلق دانستن کی طرف چلئے خواہ بالذات ہو یابغیر ہو غنی ہو یامحتاج سرمدی ہو یاحادث ابدی ہو یافانی واجب ہو یاممکن ثابت ہویامتغیر تام ہو یاناقص بالکنہ ہو یابالوجہ بایں معنی مطلق علم کہ ایک آدھ چیزکے جاننے سے بھی صادق زنہار مختص بحضرت عزت عزت عظمتہ نہیں، نہ معاذاﷲ قرآن عظیم نے ہرگز کہیں اس کادعوٰی کیابلکہ جس طرح معنی اول کاغیرکے لئے اثبات کفرہے اس معنے کی غیرسے نفی مطلق بھی کفرہے کہ یہ خود صدہا نصوص قرآن عظیم بلکہ تمام قرآن عظیم بلکہ تمام ملل وشرائع وعقل ونقل وحس سب کی تکذیب ہوگی قرآن عظیم نے اپنے محبوبوں کے لئے بے شمار علوم عظیمہ عطافرمائے اوران کے عطاسے منت رکھی۔
0 قال تعالٰی وعلمک مالم تکن تعلم ط وکان فضل اﷲ علیک عظیما۔۱؎
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا) اورسکھادیا اﷲ نے تجھے اے نبی! جوتجھے معلوم نہ تھا اور اﷲ کافضل تجھ پر بہت بڑا ہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۱۳ )
0 وبشروہ بغلٰم علیم۔۲؎
اورفرشتوں نے ابراہیم کو مژدہ دیا علم والے لڑکے کا۔
(۲؎ القرآن الکریم ۵۱/ ۲۸)
0وانہ لذوعلم علّمنٰہ۔۳؎
اوربیشک یعقوب علم والاہے ہمارے علم عطافرمانے سے۔
(۳؎القرآن الکریم ۱۲/ ۶۸ )
0وعلم اٰدم الاسماء کلھا۔۴؎
سکھادئیے آدم کو سب نام۔
( ۴؎ القرآن الکریم ۲/ ۳۱)
0واذکر عبدنا ابراھیم واسحٰق ویعقوب اولی الایدی والابصار۵؎
اوریاد کرہمارے بندوں ابراہیم واسحق ویعقوب قدرت والوں اورعلم والوں کو۔
(۵؎القرآن الکریم ۳۸/ ۴۵)
یرفع اﷲ الذین اٰمنوا منکم والذین اوتواالعلم درجٰت ط ۶؎
بلند کرے گا اﷲ تعالٰی تمہارے ایمان والوں کو اوران کوجنہیں علم عطاہوا درجوں میں۔
( ۶؎ القرآن الکریم ۵۸/ ۱۱)
بلکہ عام بشرکوفرماتاہے:
o الرحمٰنo علم القراٰنo خلق الانسانo علّمہ البیانo۷؎ o علّم الانسان مالم یعلم۔۸؎o واﷲ اخرجکم من بطون امّھٰتکم لاتعلمون شیئا وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ لعلکم تشکرونo۹؎
رحمان نے سکھایا قرآن، بنایا آدمی، اسے بتایابیان۔سکھایاآدمی کوجونہ جانتاتھا۔ اﷲ نے نکالا تمہیں ماں کے پیٹ سے نرے ناداں اوردئیے تمہیں کان اورآنکھیں اور دل شاید تم حق مانو۔
(۷؎القرآن الکریم ۵۵/ ۱تا۴ ) ( ۸؎ القرآن الکریم ۹۶/ ۵)(۹؎القرآن الکریم ۱۶/ ۷۸)
بلکہ عام ترفرماتاہے:
o الم تر ان اﷲ یسبح لہ من فی السمٰوٰت والارض والطیر صفت ط کل قد علم صلاتہ وتسبیحہ ط واﷲ علیم بما یفعلون۱؎o
کیاتونے نہ دیکھا کہ اﷲ کی پاکی بولتے ہیں جو آسمان وزمین میں ہیں اور پرندے پراباندھے سب نے جان لی ہے اپنی اپنی نمازوتسبیح، اوراﷲ کوخوب خبرہے جووہ کرتے ہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲۴/ ۴۱)