Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
107 - 145
رسالہ

الصمصام علٰی مشکک فی اٰیۃ علوم الارحام(۱۳۱۵ھ)

(کاٹنے والی تلوار اس شخص کی گردن پرجوعلوم ارحام سے تعلق رکھنے والی آیتوں میں شک ڈالنے والاہے)
مسئلہ ۲۵۸ :  ازعظیم آباد پٹنہ محلہ لودی کٹرہ مرسلہ مولانا مولوی قاضی محمدعبدالوحیدصاحب حنفی فردوسی نہم جمادی الاولٰی ۱۳۱۵ھ

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم
استفتاء

حضرت اقدس قبلہ وکعبہ مدظلہ دست بستہ تسلیم، اس کے بعد التجاہے ایک ضروری مسئلہ جلد اندرہفتہ مدلل ومکمل عقلی ونقلی طورپرلکھ کرایک مسلمان کی جان بلکہ ایمان کی حفاظت کیجئے، عنداﷲ ماجورہوں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اﷲ پاک قرآن میں فرماتاہے کہ پیٹ کاحال کوئی نہیں جانتا کہ بچہ ذکورسے ہے یااناث سے، حالانکہ ایک آلہ نکلاہے جس سے سب حال معلوم ہوجاتاہے اورپتاملتاہے۔ 

کمترین خادمان

عبدالوحید حنفی الفردوسی منتظم تحفہ عفا اﷲ تعالٰی عنہ
فتوٰی

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم

الحمدﷲ الذی لایخفٰی علیہ شیئ فی الارض ولافی السماء ھوالذی یصوّرکم فی الارحام کیف یشاء، والصّلٰوۃ والسلام علی خاتم الانبیاء، الآتی بکتاب مبین فیہ رحمۃ و شفاء وماحظّ الکٰفرین منہ الانقمۃ وشقاء وعلٰی اٰلہٖ وصحبہ البررۃ الاتقیاء، الزین ھم فی بطون امھاتھم سعداء ماجَنّ جنین فی ظلمٰتٍ ثلٰثٍ بین غشاء وغطاء، اٰمین!
تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں جس پرزمین وآسمان کی کوئی چیزپوشیدہ نہیں۔ وہ وہی ہے جو تمہاری صورت بناتاہے ماں کے پیٹ میں جیسے چاہے، اوردرودوسلام ہوخاتم الانبیاء پرجوروشن کتاب لے کر تشریف لانے والے ہیں، جس میں رحمت وشفاء ہے، کافروں کااس سے سوائے انتقام اوربدبختی کے کچھ نہیں، اورآپ کے آل واصحاب پرجونیک اورمتقی ہیں، اوروہ ماؤں کے پیٹوں میں سعادتمند ہوئے، جبکہ جنین تین تاریکیوں میں پردے اوراندھیرے کے درمیان پوشیدہ رہے۔آمین!(ت)
مولٰینا حامی سنت ماحی بدعت اکرکم اﷲ تعالٰی۔ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ اﷲ تعالٰی جل وعلاسورہ آل عمران شریف میں ارشاد فرماتاہے:
انّ اﷲ لایخفی علیہ شیئ فی الارض ولافی السماءo ھو الذی یصوّرکم فی الارحام کیف یشاء ط لاالٰہ الا ھو العزیز الحکیم۱؎o
بیشک اﷲ پرکوئی چیزچھپی نہیں زمین میں اورنہ آسمان میں، وہی ہے جوتمہارا نقشہ بناتاہے ماں کے پیٹ میں جیساچاہے، کوئی سچامعبود نہیں مگروہی زبردست حکمت والا۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۳ /۵ و۶)
سورہ رعدشریف میں فرماتاہے:
اﷲ یعلم ماتحمل کل انثٰی وماتغیض الارحام وماتزدادط وکل شیئ عندہ بمقدارo عٰلم الغیب والشھادۃ الکبیر المتعال۱؎o
اﷲ جانتاہے جوکچھ پیٹ میں رکھتی ہے ہرمادہ اورجتنے سمٹتے ہیں پیٹ اور جتنے پھیلتے یاجوکچھ گھٹتے ہیں اورجوکچھ بڑھتے اورہرچیز اس کے یہاں ایک اندازے سے ہے جاننے والا نہاں وعیاں کاسب سے بڑا بلندی والا۔
 (۱؎ القرآن الکریم    ۱۳/ ۸ و ۹  )
سورہ حج شریف میں فرماتاہے:
ونقر فی الارحام مانشاء الٰی اجل مسمّی۲؎۔
اورہم ٹھہرائے رکھتے ہیں مادہ کے پیٹ میں جوکچھ چاہیں ایک مقرروعدے تک۔
 ( ۲؎ القرآن الکریم    ۲۲/ ۵)
سورہ لقمان شریف میں فرماتاہے:
ان اﷲ عندہ علم الساعۃ ج وینزل الغیث ج ویعلم ما فی الارحام ط و ماتدری نفس ماذاتکسب غدا ط وماتدری نفس بای ارض تموت ط ان اﷲ علیم خبیر۔۳؎
بیشک اﷲ ہی کے پاس ہے علم قیامت کا اور اتارتاہے مینہ اورجانتاہے جوکچھ کسی مادہ کے پیٹ میں ہے اورکوئی جی نہیں جانتا کہ کل کیاکرے گا اور کسی کواپنی خبرنہیں کہ کہاں مرے گا بیشک اﷲ ہی جاننے والاخبردار۔
 (۳؎القرآن الکریم    ۳۱/ ۳۴ )
اورسورہ ملٰئکہ شریف میں فرماتاہے:
واﷲ خلقکم من تراب ثم من نطفۃ ثم جعلکم ازواجا ط وماتحمل من انثٰی ولاتضع الابعلمہ ط ومایعمر من معمر ولاینقص من عمرہ الا فی کتب ط ان ذٰلک علی اﷲ یسیر۴؎o
اﷲ نے بنایا تمہیں مٹی سے پھرمنی سے پھرکیاتمہیں جوڑے جوڑے اورنہیں گابھن ہوتی کوئی مادہ اورنہ جنے مگر اس کے علم سے اور نہ کوئی عمروالاعمردیاجائے اورنہ گھٹایاجائے اس کی عمر سے مگر یہ سب لکھاہے ایک نوشتہ میں بیشک یہ سب اﷲ کوآسان ہے۔
(۴؎القرآن الکریم    ۳۵ / ۱۱)
سورہ حم السجدہ شریف میں فرماتاہے:
الیہ یرد علم الساعۃ ط وماتخرج من ثمراتٍ من اکمامھا وماتحمل من انثٰی ولاتضع الا بعلمہ ط۱؎۔
اﷲ ہی کی طرف پھراجاتا ہے علم قیامت کا اورنہیں نکلتاکوئی پھل اپنے غلاف سے اورنہ پیٹ رہے کسی مادہ کواورنہ جنے مگر اس کی آگاہی سے۔
 (۱؎ القرآن الکریم    ۴۱/ ۴۷)
اورسورہ والنجم شریف میں فرماتاہے:
ھواعلم بکم اذ انشاءکم من الارض واذانتم اجنّۃ فی بطون امھٰتکم ط فلاتزکّوا انفسکم ط ھو اعلم بمن اتقٰی۔۲؎
اﷲ خوب جانتاہے تمیں جب اس نے بنایا تم کو زمین سے اور جب تم چھپے ہوئے تھے ماں کے پیٹ میں۔ توآپ اپنی جان کوستھرانہ کہو، اسے خوب خبرہے کون پرہیزگارہوا۔
 (۲؎القرآن الکریم    ۵۳/ ۳۲)
آیات کریمہ میں مولٰی سبحٰنہ وتعالٰی اپنے بے پایان علوم کے بیشمار اقسام سے ایک سہل قسم کابہت اجمالی ذکر فرماتاہے کہ ہرمادہ کے پیٹ میں جوکچھ ہے سب کا ساراحال پیٹ رہتے وقت اور اس سے پہلے اورپیداہوتے اورپیٹ میں رہتے اورجوکچھ اس پرگزرا اورگزرنے والاہے، جتنی عمرپائے گا جوکچھ کام کرے گا جب تک پیٹ میں رہے گا، اس کااندرونی بیرونی ایک ایک عضو ایک ایک پرزہ جوصورت دیاگیاجودیاجائے گا ہرہررونگٹاجومقدارمساحت وزن پائے گا، بچے کی لاغری، فربہی، غذا، حرکت خفیفہ زائدہ، انبساط، انقباض اورزیادت وقلت خون، طمث وحصول فضلات وہوا و رطوبات وغیرہا کے باعث آن آن پرپیٹ جوسمٹتے پھیلتے ہیں غرض ذرّہ ذرّہ سب اسے معلوم ہے ان میں کہیں نہ تخصیص ذکورت وانوثت کاذکرنہ مطلق علم کی نفی وحصر، تویہ مہمل ومختل اعتراض پادرہوا کہ بعض پادریان پادربندہوا کی تازہ گھڑت ہے اس کااصل منشا معنی آیات میں بے فہمی محض یاحسب عادت دیدہ ودانستہ کلام الٰہی پرافتراء وتہمت ہے۔ قرآن عظیم نے کس جگہ فرمایاہے کہ کوئی کبھی کسی مادہ کے حمل کو کسی طرح تدبیرسے اتنامعلوم نہیں کرسکتا کہ نرہے یامادہ۔ اگرکہیں ایسافرمایاہوتو نشان دو۔ اورجب نہیں توبعض وقت بعض اناث کے بعض حمل کابعض حال بعض تدابیر سے بعض اشخاص نے بعض جہل طویل وعجز مدید بعض آلات بیجان کافقیرومحتاج ہوکراس فانی وزائل وبے حقیقت نام کے ایک ذرہ علم وقدرت سے(کہ وہ بھی اسی بارگاہ علیم وقدیر سے حصہ رسد چندروز سے چندروز کے لئے پائے اورا ب بھی اسی کے قبضہ واقتدار میں ہیں کہ بے اس کے کچھ کام نہ دیں) اگرصحراسے ذرہ سمندرسے قطرہ معلوم کرلیاتو یہ آیات کریمہ کے کس حرف کاخلاف ہوا،
وہ خود فرماتاہے:
یعلم مابین ایدیھم وماخلفھم ج ولایحیطون بشیئ من علمہ الا بماشاء ۱؎
اﷲ جانتاہے جوان کے آگے ہے اورجوکچھ پیچھے اوروہ نہیں پاتے اس کے علم سے کسی چیزکو مگرجتنی وہ چاہے۔

تمام جہان میں روزاول سے ابدالآباد تک جس نے جوکچھ جانایاجانے گا سب اسی الا بماشاء کے استثناء میں داخل ہے جس کے لاکھوں کروڑوں سربفلک کشیدہ پہاڑوں سے ایک نہایت قلیل وذلیل وبے مقدار ذرہ یہ آلہ بھی ہے، ایساہی اعتراض کرناہوتو بے گنتی گزشتہ وآئندہ باتوں کاجوعلم ہم کو ہے اسی سے کیوں نہ اعتراض کرے جوصیغہ یعلم مافی الارحام میں ہے کہ اﷲجانتاہے جوکچھ مادہ کے پیٹ میں ہے بعینہٖ وہی صیغہ یعلم مابین ایدیھم وماخلفھم۲؎ میں ہے کہ اﷲ جانتاہے جوکچھ گزرا اورجوکچھ ان کے پیچھے ہے۔ جب ان بے شمار علوم تاریخی وآسمانی ملنے میں کسی عاقل منصف کے نزدیک اس آیت کاکچھ خلاف نہ ہوا نہ تیرہ سوبرس سے آج تک کسی پادری صاحب کوان علوم کے باعث اس آیہ کریمہ پرلب کشائی کاجنون اچھلاتواب ایک ذرا سی آلیانکال کر اس آیت کاکیابگاڑ متصورہوسکتاہے، ہاں عقل نہ ہو توبندہ مجبورہے یاانصاف نہ ملے تو انکھیارابھی کور ہے
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
 (۱، ۲؎ القرآن الکریم    ۲/ ۲۵۵)
Flag Counter